رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے : کلیم عاجز

الطحاوی نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏مارچ 17, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    کلیم کی عاجز کی غزل سے پہلے کچھ ان کا تعارف کرادوں۔

    کلیم عاجز صاحب کا پورا خاندان ١٩٤٦/٤٧ کے اندوہ ناک فسادات میں شہید کر دیا گیا. اپنے گاؤں سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے .جب لوٹے تو پورا کے پورا گاؤں مقتل بنا ہوا تھایہ تقریباہندوپاک کی تقسیم کا زمانہ تھااس زمانہ میں بہار کے گاؤں کے گاؤں ہندوظالموں اورشرپسندوں نے‌صاف کردیاتھا۔ایسے ہی سینکڑوں گاؤں میں سے ایک کلیم عاجز کا بھی گاؤں تھا جہاں کے مردوں نے تو جام شہادت نوش کیا اورعورتوں نے کنویں میں کود کر جان دے دی۔
    یہ تمام واقعات کلیم عاجز صاحب نے اپنی کتاب "وہ جو شاعری کا سبب ہوا " میں تحریر کئے ہیں .
    اس کتاب میں انہوں نے یہ واقعات اتنے دل دوز طریقے سے بیان کئے ہیں کہ پڑھ کر بے ساختہ آنسو نکل آتے ہیں۔
    ا س جانکاہ حادثے کی وجہ سے کلیم عاجز برسہا برس خاموش رہے. اور پھر جب گویا ہوئے تو میر کی زبان، میر کا لہجہ اور میر کا درد ایک اک الفاظ سے ٹپکنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں جوسوز وگداز اوردھیمی آنچ کااحساس ہے وہ کسی دوسرے شاعر کے یہاں نہیں ہے۔
    ان کے چند مشہور اشعار ذیل میں درج ہیں۔


    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
    ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے
    ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو
    -------------
    یہ پکار سارے چمن میں تھی' وہ سحر ہوئی وہ سحر ہوئی
    میرے آشیاں سے دھواں اٹھا تو مجھے بھی اسکی خبر ہوئی
    ------------
    دن ایک ستم' ایک ستم رات کرو ہو
    وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

    جنابِ شیخ! اپنی فکر کیجئے ، کہ اب یہ پیغامِ برہمن ہے
    'بتوں کو سجدہ نہیں کرو گے، تو بتکدے سے نکال دیں گے'

    اب لیجئے غزل سے کام دہن کو لذت بخشئے یہ ان کی کتاب ’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘اس کی پہلی غزل ہے۔
    رات جی کہول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
    اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے

    اور وہ چیز نہ دولت نہ مکاں ہے نہ محل
    تاج مانگا ہے نہ د ستا ر وقبا مانگی ہے

    نہ تو قدموں تلے فرش گہر مانگا ہے
    اور نہ سر پر کلہ بال ھما مانگی ہے

    نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے
    نہ صداے جرس وبانگ درا مانگی ہے

    نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا
    اور نہ مانند خضر عمر بقا مانگی ہے

    نہ کوئ عہدہ نہ کرسی نہ لقب مانگاہے
    نہ کسی خدمت قومی کی جزا مانگی ہے

    نہ تو مہمان خصوصی کا شرف مانگا ہے
    اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے

    میکدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بھار
    جام وساغر نہ مئے ہوش ربا مانگی ہے

    نہ تو منظر کوئی شاداب وحسیں مانگا ہے
    نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے

    محفل عیش نہ سامان طرب مانگا ہے
    چاندنی رات نہ گھنگھور گھٹا مانگی ہے

    بانسری مانگی نہ طاؤوس نہ بربط نہ رباب
    نہ کوئی مطربہ شیریں نوا مانگی ہے

    چین کی نیند نہ آرام کا پہلو مانگا
    بخت بیدار نہ تقدیر رسا مانگی ہے

    نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات
    اور نہ اپنے مرض دل کی شفا مانگی ہے

    نہ غزل کے لئے آھنگ نیا مانگا ہے
    نہ ترنم کی نئی طرز ادا مانگی ہے


    سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں ارباب چمن
    آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے

    آ، تیرے کان میں کہدوں اے نسیم سحری!
    سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے کیا مانگی ہے

    وہ سراپائے ستم جس کا میں دیوانہ ہوں
    اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفامانگی ہے

    كليم عاجز
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں