اے لا الٰہ کے وارث!

dani نے 'ادبی مجلس' میں ‏مئی 14, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    اے لا الٰہ کے وارث!


    سید علی گیلانی​



    یہ چند حروف کا کلمہ ، ایک انقلابی مشن اور پروگرام کا عنوان اور دیباچہ ہے۔ لاالٰہ تمام معبودانِ باطل کے خلاف بغاوت کا نعرہ ہے، یعنی نفس، غلط رسم ورواج، نظامِ طاغوت، جو انسان پر اپنی بندگی اور فرماں برداری کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ انسان میں جو خواہشِ نفس رکھی گئی ہے سب سے پہلے وہ مطالبہ کرتی ہے کہ اُس کو خوش رکھا جائے۔ اُس کا ہر مطالبہ صحیح ہو یا غلط پورا کیا جائے۔ کسی قید اور پابندی کے بغیر جو کچھ وہ چاہے اُس کو بلا چوں وچرا قبول کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ یہ نفسِ امّارہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے:

    اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (یوسف12: 53) نفس تو بدی پر اُکساتا ہی ہے، الا یہ کہ کسی پر میرے ربّ کی رحمت ہو۔ بے شک میرا رب بڑا غفور ورحیم ہے۔
    انسان جب نفس کی تابع داری کرتا ہے تو وہ نفس کو الٰہ تسلیم کرتا ہے۔ چاہے وہ زبان سے ایسا نہ کہے اور لاالٰہ دہراتا رہے۔ لیکن اصل اعتبار عمل کا ہے۔ چنانچہ جن انسانوں نے دُنیا کی زندگی میں خواہشات نفس کی پیروی کی ہو، وہ جب آخرت میں شفیع المذ نبین صلی اﷲ علیہ وسلم کی شفاعت کی درخواست کریں گے تو اﷲ تعالیٰ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے خطاب فرمائے گا:

    اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰھَہُ ھَوٰہُ اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًاo (الفرقان 25 : 43) کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنالیا ہو۔ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو۔

    خواہشِ نفس کو خدا بنا لینے سے مراد اُس کی بندگی کرنا ہے اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بُت کو پوجنا، یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ حضرتِ ابوامامہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : اس آسمان کے نیچے اﷲ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جارہے ہیں، اُن میں اﷲ کے نزدیک بدترین معبود خواہشِ نفس ہے جس کی پیروی کی جارہی ہو۔ (تفہیم القرآن: ج 3، ص 452 ۔ 453)

    اس کے بعد آبا واجداد کی پیروی یہ دیکھے بغیر کہ وہ اﷲ اور رسول کے بتائے ہوئے طریقے اور طرزِ عمل کے مطابق ہے کہ نہیں، الٰہ کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ تیسرے مرحلے پر اﷲ کے باغی اور سرکش بندے آتے ہیں۔ جن کے ہاتھوں میں اقتدار، قوت، حکومت، فوج، پولیس، ذرائع تبلیغ، زندگی کی ضرورتیں، تعمیری کام، نظامِ تعلیم، سیاست، معیشت، تہذیب، ثقافت، تمدن سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ اپنے تمام ذرائع اور وسائل اختیار کرتے ہیں کہ لوگ اُن کے احکامات کی اطاعت اور پیروی کریں۔ جو لوگ لاالٰہ تو پڑھتے ہیں مگر زندگی کے اجتماعی اور انفرادی معاملات میں ان تینوں معبودانِ باطل کی پیروی کرتے ہیں، اُن کا لاالٰہ پڑھنا محض چند الفاظ کا دہرانا ہے اور کچھ نہیں۔ انھی حقائق کی طرف حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے ان اشعار میں اُمت کی توجہ مبذول کی ہے:

    نکتۂ می گویم از مردانِ حال
    اُمتاں را لَا جلال اِلاَّ جمال
    لاَ وَ اِلاَّ احتسابِ کائنات
    لاَ وَ اِلاَّ فتحِ بابِ کائنات
    ہر دو تقدیرِ جہانِ کاف و نون
    حرکت از لا زاید از اِلاَّ سکوں
    تانہ رمزِ لا اِلٰہ آید بدست
    بندِ غیراﷲ را نتواں شکست
    درجہاں آغازِ کار از حرفِ لا ست
    ایں نخستیں منزلِ مردِ خداست
    ملتے کز سوزِ اُو یک دم تپید
    از گِل خود خویش را باز آفرید
    پیشِ غیراﷲ لا گفتن حیات
    تازہ از ہنگامۂ اُو کائنات
    از جنونش ہر گریباں چاک نیست
    در خورِ ایں شعلہ ہر خاشاک نیست
    جذبۂ اُو در دلِ یک زندہ مرد
    می کند صد رہ نشیں را رہ نورد
    بندہ را با خواجہ خواہی درستیز؟
    تخمِ لا درمُشتِ خاکِ او بریز
    ہر کرا ایں سوز باشد درجگر
    ہولش از ہولِ قیامت بیش تر
    لاَ مقامِ ضرب ہاے پے بہ پے
    ایں غوِرعد است نے آوازِ نے
    ضربِ اُو ہر بُود را سازد نبود
    تا بروں آئی ز گرِدابِ وجود

    [پس چہ باید کرد]

    میں آپ کو مردانِ حال کے بارے میں کچھ بتاؤں گا [مردانِ حال سے مراد، اﷲ وحدہ لاشریک کی معرفت حقیقی کے امانت دار]۔ اُمتوں کے لیے لا کہنا اور اقرار کرنا، شوکت وعظمت کی دلیل اور آغاز ہے۔ پھر اﷲ واحد کو دیکھنے کا اقرار اُن کے لیے سکونِ قلب اور امن وآشتی کا پیغام لے کر آتا ہے۔ لا اور اِلاَّ دونوں مل کر پوری کائنات کا احتساب ہے۔ لاالٰہ شعور کی بیداری کے ساتھ کہا جائے تو پوری کائنات کو مسخر کرنے کا آغاز ہوتا ہے۔ دونوں لا اور اِلاَّ کاف و نون سے وجود پذیر ہونے والی دُنیا کی تقدیر ہے۔ اشارہ ہے لفظ کُن، فیکون، ہم نے کہا ہوجا اور دُنیا وجود میں آگئی۔ لا کہنے سے انقلاب کی حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور اِلاَّ سے سکون وجود پاتا ہے۔ جب تک انسان کو لا الٰہ کا اصل مفہوم، مدعا، مقصد اور راز معلوم نہ ہوجائے وہ ماسوا اﷲ کی قید، بندشوں اور غلامی کے چنگل سے آزاد نہیں ہوسکتا ہے۔ دُنیا میں انقلاب لانے کا آغاز صرف لا کے اعلان سے ہوتا ہے۔ معبوددانِ باطل کے خلاف اعلانِ جنگ لا ہے۔ اﷲ کے مخلص اور یکسو بندوں کے لیے انقلاب لانے کی یہ پہلی منزل ہے۔

    وہ ملت جو لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کے سوز سے تپش محسوس کرتی ہے، وہ آب وگل کے وجود سے اپنے حقیقی وجود کی بازیافت کرتی ہے، یعنی شعور کی بیداری کے ساتھ لا الٰہ کا اعلان اُس کو اپنے اصل منصب اور مقام کی شناخت پیدا کرتا ہے۔ اﷲ کی بندگی اور حاکمیت کے مقابلے میں معبودانِ باطل کے سامنے لا کا نعرہ اور اعلان اصل زندگی اور حیات ہے۔ اس کے نتیجے میں جو ہنگامہ اور انقلاب پیدا ہوگا، وہ پوری کائنات کی زندگی اور حیات ہے۔ لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کا انقلابی نعرہ بلند کرنا ہر ایک کے نصیب کی بات نہیں ہے۔ خس وخاشاک کا ہر ذرہ اور تنکا اس انقلابی شعلے کے اہل نہیں ہوسکتا ہے-

    ایں سعادت بزور باز و نیست
    تانہ بخشد خدائے بخشندہ

    لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کا جذبہ اور جنون اگر ایک زندہ مرد کے دل میں موج زن ہوجائے، وہ سیکڑوں راہ نشینوں کو سرگرم سفر بناسکتا ہے

    آگ اُس کی پھونک دیتی ہے برنا وپیر کو
    لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیں

    [ضربِ کلیم]

    کیا تم غلاموں کو جابر اور ظالم حکمرانوں اور آقاؤں کے خلاف برسرپیکار بنا دینا چاہتے ہو؟ اُن کی مشتِ خاک میں لا الٰہ کے بیج بو دو [اس کے بغیر اُن میں حقیقی اور پاے دار انقلاب کا ولولہ اور شوق پیدا نہیں ہوسکتا۔ لا الٰہ کی بنیاد کے بغیر جو بھی انقلاب لائیں گے، وہ صرف آقاؤں کے ہاتھ اور چہرے بدلنے کا انقلاب ہوگا۔ بندوں کی غلامی سے نکل کر ایک اﷲ کی بندگی کا قلادہ گردن میں نہیں ہوگا]۔ جس انسان کے جگر اور دل میں لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کا سوز اور ولولہ پیدا ہوگا، اس کا ہول، ہنگامہ اور تَہ وبالا قیامت سے بھی زیادہ ہوگا۔ لا، پے بہ پے ضرب لگانے کا مقام ہے۔ یہ نہیں کہ ایک باطل الٰہ کے خلاف، ایک دفعہ آپ نے لا کا نعرہ لگایا اور بس! نہیں، یہ مسلسل اور تواتر کے ساتھ کرنے کا کام ہے۔ لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کا نعرہ بجلی کا کڑکا ہے۔ یہ بانسری کی آواز نہیں ہے

    ضربتِ پیہم سے ہوجاتا ہے آخر پاش پاش
    حاکمیت کا بُتِ سنگیں دل و آئینہ رُو

    [ارمغانِ حجاز]

    غوِّ ر عد پر مولانا الطاف حسین حالی کی مُسدس کے یہ اشعار حسبِ حال ہیں:

    وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
    عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
    نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی
    اک آواز میں سوتی بستی جگا دی
    پڑا ہر طرف غل یہ پیغامِ حق سے
    کہ گونج اُٹھے دشت وجبل نامِ حق سے

    لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کی ضرب ہر باطل بود کو نابود بنادیتی ہے اور اسی نعرے کی برکت سے انسان باطل معبودوں کے گرداب سے نجات حاصل کرلیتا ہے:

    باتو مے گویم ز ایّامِ عرب
    تا بدانی پُختہ و خامِ عرب
    ریز ریز از ضربِ اُو لات و منات
    در جہات آزاد از بندِ جہات
    ہر قبائے کہنہ چاک از دستِ اُو
    قیصر وکسریٰ ہلاک از دستِ اُو
    گاہ دشت از برق و بارانش بدرد
    گاہ بحر از زورِ طوفانش بدرد
    عالمے در آتشِ اُو مثلِ خس
    ایں ہمہ ہنگامۂ لا بود و بس
    اندریں دیرِ کہن پیہم تپید
    تاجہانے تازۂ آمد پدید
    بانگِ حق از صبح خیز یہائے اوست
    ہر چہ ہست از تخم ریز یہائے اوست
    اینکہ شمعِ لالہ روشن کردہ اند
    از کنارِ جوے اُو آوردہ اند
    لَوحِ دل از نقشِ غیر اﷲ شُست
    از کفِ خاکش دو صد ہنگامہ رُست

    [پس چہ باید کرد]

    میں آپ کو عرب کی تاریخِ بتاؤں گا تاکہ تم عرب کے لوگوں میں سے کچے اور پختہ لوگوں کے کردار کو جان سکو۔ عربوں سے جان پہچان اس لیے ضروری ہے کہ لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کے وارث تھے جن کو آخری رسول کی وساطت سے اس انقلابی پیغام کا وارث بنایا گیا۔ انھوں نے جس خلوص اور یکسوئی کے ساتھ رسول اﷲ کو یہ انقلابی پیغام پھیلانے، عام کرنے اور غالب کرنے میں مال، جان اولاد، اعزہ و اقربا اور قلب وذہن کی بھرپور آمادگی کے ساتھ تعاون دیا، وہ اسلامی تاریخ کازرّیں اور بے مثال باب ہے۔ ان لوگوں نے کسی بھی آزمایش اور معرکہ آرائی کے مرحلے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتیوں کی طرح یہ نہیں کہا:

    فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنo (المائدہ 5: 24) آپ اور آپ کا ربّ جائیں اور ان دشمنوں کے ساتھ لڑیں۔ ہم یہاں بیٹھ کر انتظار کریں گے۔

    جنگ بدر کے موقع پر جب ایک طرف قریش کا تجارتی قافلہ آرہا تھا اور دوسری طرف مکہ سے قریش کا لشکر چلا آرہا تھا، تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو جمع کرکے جاننا چاہا کہ قافلہ اور قریش میں سے کس طرف یہ لوگ جانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پوچھنے پر سب سے پہلے مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن عمرو نے اُٹھ کر کہا:

    یا رسول اﷲ! جدھر آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے اُسی طرف چلیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ جس طرف بھی آپ جائیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ جاؤ تم اور تمھارا خدا دونوں لڑیں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں، ہم کہتے ہیں کہ چلیے آپ اور آپ کا خدا، دونوں لڑیں اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک کہ ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کررہی ہے۔

    مہاجرین کا عندیہ دیکھ کر آپ نے انصار کی طرف رُخ فرمایا۔ انصار اب تک کسی معرکہ آرائی میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ چنانچہ انصاری حضرت سعد بن معاذ اُٹھے اور انھوں نے عرض کیا شاید حضور کا روے سخن ہماری طرف ہے؟ فرمایا: ہاں۔ انھوں نے کہا:

    ہم آپ پر ایمان لائے ہیں، آپ کی تصدیق کرچکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں۔ پس اے اﷲ کے رسول جو کچھ آپ نے ارادہ فرمالیا ہے اُسے کر گزریے۔ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اگر آپ ہمیں لے کر سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اُس میں اُتر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ کودیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کر دشمن سے جابھڑیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے، مقابلے میں سچی جان نثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اﷲ آپ کو ہم سے وہ کچھ دِکھوادے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں۔ پس اﷲ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں۔(تفہیم القرآن، ج 2، ص 124، 125)

    یہ اقتباسات میں نے تفہیم القرآن جلد دوم، سورۂ انفال کے دیباچے سے صرف اس لیے نقل کیے ہیں، تاکہ علامہ مرحوم نے عربوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار اپنے اشعار میں کیا ہے، اُس کے پس منظر سے ہم آگاہ ہوجائیں اور اس حقیقت کا ادراک کریں کہ نبی آخر الزماں صلی اﷲ علیہ وسلم فداہُ ابّی و اُمّی کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے سرفروشوں کی وہ جماعت عطا کی تھی، جو اپنے وعدوں اور قول وقرار کی پابند تھی اور جس چیز کو وہ حق سمجھ چکے تھے اُس پر اپنا سب کچھ، حتیٰ کہ جانِ عزیز تک قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ اِنھی لوگوں کے ایثار، قربانیوں، جان نثاریوں اور سرفروشیوں کی برکت سے اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔ حالانکہ وہ تعداد میں زیادہ نہ تھے۔ معرکہ بدر میں ایک اور تین کی نسبت تھی، مگر وہ موت کے خوف سے بالاتر ہوکر نکلے اور اﷲ تعالیٰ نے فی الواقع رسولِ رحمت کو وہ کچھ دکھایا، جن سے آپ کو آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوئی۔

    آج مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 60 کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے، مگر آج کا مسلمان حُبِ دُنیا اور کراہیت الموت کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اس لیے وہ پوری دُنیا میں غلامی، ذلت، اِدبار، محکومیت اور مظلومیت کا شکار ہے۔ جب تک آج کے مسلمانوں میں دورِاوّل کے مسلمانوں کی طرح اسلام کے احیا اور غلبے کے لیے سرفروشی کا جذبہ پیدا نہ ہوجائے، وہ اس پستی اور ذلت کی زندگی سے نجات حاصل نہیں کرسکیں گے۔ نہ ملت دنیوی اور اُخروی فلاح سے ہم کنار ہوگی اور نہ بنی نوع انسان سامراجی قوتوں کے پنجۂ استبداد سے نجات حاصل کرسکے گی

    غیرِ حق چوں ناہی و آمر شود
    زور ور بر ناتواں قاہر شود

    [جاوید نامہ]

    عربوں نے جب لا الٰہ اِلاَّ اللّٰہ کا کلمہ شعور کی بیداری کے ساتھ پڑھا، اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ڈھانچا تشکیل دیا تو اُن کی ضربِ پیہم سے لات اور منات کے بُت ریزہ ریزہ ہوگئے۔ ملک کی حدود میں رہتے ہوئے بھی وہ آفاقی اور ہمہ جہت بن گئے۔ اُن کے ہاتھوں سے پرانی قبائیں اور عبائیں چاک ہوگئیں، نیز جاہلانہ رسم و رواج اور سماجی بندھنوں کے تاروپود بکھر کر رہ گئے۔ اُن کے ہاتھوں سے قیصر وکسریٰ کی سامراجیت اور ظلم و سفاکیت ختم ہوگئی۔ اُن کی بجلیوں سے کبھی دشت لرز اُٹھے اور کبھی سمندر اُن کے طوفانوں سے تلاطم خیز بن گئے۔ پوری دُنیا اُن کے ایمان ویقین کی آگ میں گھاس کے تنکوں کی طرح بھسم ہوکر رہ گئی۔ یہ سب کچھ کلمہ لا الٰہ کی تاثیر اور پیغام کی وسعت و گہرائی تھی اور کچھ نہیں!

    اس پرانی دُنیا میں وہ مسلسل سرگرمِ عمل رہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنے نظریۂ حیات کے مطابق نئی دُنیا تعمیر کی۔ حق وصداقت کی آواز اُن کی سحر خیزیوں کی برکت سے ہے۔ جوکچھ ہم ایمان وعمل کے نظارے اور مناظر دیکھ رہے ہیں، یہ اُنھی کی تخم ریزی کے نتائج اور ثمرات ہیں۔ انھوں نے گلِ لالہ کی شمع روشن کی، یعنی کلمہ توحید کا نعرہ بلند کیا اور گردوپیش کی دُنیا کو اُس کی آبجو کے کنارے پر جمع کردیا۔ انھوں نے دل کی تختیوں سے ماسوا اﷲ کے، دیگر تمام نقش دھوڈالے۔ اُن کی کفِ خاک سے سیکڑوں ہنگامے اور واردات وجود پاگئے:

    ہم چناں بینی کہ در دورِ فرنگ
    بندگی باخواجگی آمد بجنگ
    روس را قلب و جگر گردیدہ خوں
    از ضمیرش حرفِ لاَ آمد بروں
    آں نظامِ کہنہ را برہم زدست
    تیز نیشے بررگِ عالم زِداست
    کردہ ام اندر مقاماتش نگہ
    لاَ سلاطیں، لاَ کلیسا، لاَ الٰہ
    فکرِ اُو در تُند بادِ لاَ بماند
    مرکبِ خود را سوئے اِلاَّ نراند
    آیدش روزے کہ از زورِ جنوں
    خویش را زیں تند باد آرد بروں
    درمقامِ لاَ نیاساید حیات
    سُوے اِلاََّ می خرامد کائنات
    لاَ و اِلاَّ ساز و برگِ اُمتّاں
    نفی بے اثبات مرگِ اُمتّاں
    در محبت پختہ کے گردد خلیل
    تا نگردد لاَ سوئے اِلاَّ دلیل
    اے کہ اندر حجرہ ہا سازی سخن
    نعرۂ لاَ پیش نمرودے بزن
    ایں کہ می بینی نیر زد باد و جَو
    از جلالِ لاَ اِلٰہ آگاہ شو
    ہرکہ اندر دستِ او شمشیرِ لاَ ست
    جملہ موجودات را فرمانرواست

    [پس چہ باید کرد]

    ایسا ہی کچھ تم دیکھ رہے ہو کہ انگریزوں کے دورِ اقتدار میں بندگی نے خواجگی کے ساتھ معرکہ آرائی اور جنگ شروع کردی۔ روس کے لوگوں میں انقلاب کی لہر دوڑ گئی۔ دل وجگر خون میں لت پت ہوگئے۔ اُن کے دلوں سے لا کا نعرہ بلند ہُوا۔ لا کا مطلب یہ تھا کہ پرانا نظامِ زندگی، جو شاہی اور خاندانی راج کی شکل میں تھا، اُس کو درہم برہم کردیا گیا۔ عالمی سطح پر انھوں نے خنجر سے انقلاب لانے کا آغاز کیا۔ ان اشعار میں علامہ محمد اقبال مرحوم نے روس میں 1917ء میں کمیونزم انقلاب کی طرف اشارہ کیا تھا۔ میں نے جب انقلاب کے اندر جھانکنے کی کوشش کی کہ اس کی روح اور بنیادی ستون کیا ہے تو معلوم ہوا کہ اس نظام میں کوئی بادشاہت یا کوئی مذہب اور کوئی الٰہ تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ گویا اس سرخ انقلاب کی بنیاد الحاد ہے۔ اس انقلاب کے فکر اور فلسفے نے نفی کی تیز ہواؤں میں پناہ لی۔ یہ اپنی سواری لا سے اِلاَّ اﷲ کی طرف نہ لے جاسکا۔ علامہ فرماتے ہیں کہ کوئی دن ضرور آئے گا کہ یہ سرخ انقلاب اپنے زور جنون سے یا خود کو اس تیز ہوا کی گرفت سے باہر نکالے گا۔ اس لیے کہ لا، یعنی نفی الحاد کا فلسفہ اور نظریۂ حیات کائنات کو امن وسکون نہیں دے سکتا ہے۔

    کائنات دھیرے دھیرے اِلاَّ اﷲ کی زندہ حقیقت کی طرف گام زن ہے جو واحد نظام ہے۔ یہ امن وآشتی، عدل وانصاف، انسانی اور اخلاقی اقدار کا محافظ اور امانت دار نظام ہے۔ لا اور اِلاَّ اُمتوں کے لیے سامانِ زیست ہے۔ اِلاَّ اﷲ کے بغیر محض لا پر فلسفۂ زندگی کی بنیاد رکھنا امتوں کے لیے موت کا پیغام ہے، جیسا کہ آج کی دُنیا میں دیکھا جارہا ہے کہ لادینیت کے نام پر کس طرح قوموں، ملکوں اور عام انسانوں کو طاقت کے بل بوتے پر غلام بناکر اُن کے بنیادی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ بم برسائے جارہے ہیں۔ ایٹم بم، ہائیڈروجن بم، میزائل اور ہلاکت آفرین ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور سب کچھ امن، ترقی، جمہوریت اور آزادی کے نام پر کیا جارہا ہے۔ یہ ساری دَین ’لا‘ کے فلسفۂ زندگی کی ہے۔

    حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اﷲ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ اُن کی محبت اور وابستگی کیسے پختہ اور مستحکم ہوسکتی تھی، اگر نفی سے وہ اثبات کی طرف رہنمائی حاصل نہ کرلیتے، یعنی جب انھوں نے تاروں، چاند اور آفتاب کی ربوبیت سے انکار کیا تو لَا کے تقاضے پورے ہوگئے۔ اگر وہ یہاں ہی رُک جاتے تو اﷲ تعالیٰ کی معرفت اور اُس کی حاکمیت اور معبودیت کا ادراک اور یقین اُن کو کیسے حاصل ہوجاتا۔ چنانچہ انھوں نے مظاہر کائنات کی آقائیت سے انکار کرکے اعلان کیا:

    اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ o (الانعام 6: 79) میں اپنا رُخ اُس ذاتِ اقدس کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین اور آسمان کو وجود بخشا ہے۔ میں یکسو ہوکر اُس کا بندہ ہوں۔ میں اُس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیراتا ہوں۔

    علامہ محمد اقبال مرحوم لا سے اِلاَّ اﷲ کی طرف ذہناً اور عملاً بڑھنا ہی ملت کی زندگی اور بقا کے لیے لازم قرار دیتے ہیں۔ اب وہ لاالٰہ کہنے والے مسلمان سے فرماتے ہیں: اے حجروں، مسجدوں اور خانقاہوں میں سخن سازی کرنے والے مسلمان! تیرا فریضہ تو یہ ہے کہ تو وقت کے نمرودوں کے خلاف نعرہ ’لا‘ بلند کر۔ یہ نہیں کہ وقت کے فرعونوں، نمرودوں، ہامانوں اور یزیدوں کے ساتھ تو ساز باز کرکے، خلوت گاہوں میں بیٹھ کر لا الٰہ کی تسبیحات جپتا رہے تاکہ وقت کے طاغوت کے ساتھ تیری معرکہ آرائی نہ ہو۔ جب تک لا الٰہ کہنے والا، وقت کے نظامِ باطل کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند نہ کرے، وہ لا الٰہ کہنے میں مخلص اور یکسو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال تم کو یہ حقیقت سمجھاتے ہیں کہ جس دُنیا پر تو فریفتہ ہورہا ہے، تیرے دین، ایمان، یقین اور مقصدِ آخرت کے مقابلے میں اس کی قیمت جَو کے دو دانوں کے برابر بھی نہیں ہے۔ کاش! تو.ُ لا الٰہ کے جلال اور سطوت ودبدبے سے آگاہ ہو جائے۔

    جس فرد کے ہاتھ میں ’لا‘ کی شمشیر اور تلوار ہے، وہ ساری کائنات میں فرماں روائی کا مقام حاصل کرسکتا ہے، مگر:

    اے لا الٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
    گفتارِ دلبرانہ ، کردارِ قاہرانہ
    تیری نگاہ سے دل، سینوں میں کانپتے تھے
    کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ

    [بالِ جبریل]

    بشکریہ ۔۔۔ ترجمان القرآن ۔
     
  2. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    جزاک اللہ خیرا dani بھائی
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    اے لا الٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
    گفتارِ دلبرانہ ، کردارِ قاہرانہ

    واہ ، بہت خوب ۔ ۔ سید علی گیلانی بہت عمدہ لکھتے ہیں ماشاء اللہ ۔ اتنی تکلیفوں بھری زندگی میں بھی علمی اور ادبی ذوق برقرار ہے ۔ماشاء اللہ ولاقوہ الا باللہ ۔


    بہت عمدہ ۔
     
  4. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    میں حیران ہوں کہ کس کی بات صحیح سمجھوں۔
    ایک طرف رسول کا اسوہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ڈرانے ولے اور خوشخبری دینے والے تھے۔
    دوسری طرف اوپر کا مضمون،جس میں وقت کے طاغوت کے ساتھ تیری معرکہ آرائی نہ ہو۔ جب تک لا الٰہ کہنے والا، وقت کے نظامِ باطل کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند نہ کرے، وہ لا الٰہ کہنے میں مخلص اور یکسو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پیغام ہے
    کیا رسول کو اور قرآن کو اسی لئے نازل کیا گیاتھا کہ وہ پوری دنیا میں اسلامی نظام کو قائم کریں؟؟؟
    یا پھر اس لئے تھا کہ وہ آخرت کے دن سے لوگوں کو ڈرائیں،انہیں ان کی کمر پکڑ پکڑ کر جہنم کی آگ سے بچائیں۔

    مجھے بس اس کا تشفی بخش جواب چاہئے۔
     
  5. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667

    دوستو کسی نے بھی میرے سوالات کے جوابات نہیں دئے۔ آئیے میں خود آپ کو سمجھا تا ہوں کہ کیوں مجھ میں یہ سوالات پیدا ہوے۔

    جو عبارت نشان زدہ ہے ،اس عبارت سے ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد کیا نکلتا ہے۔ یہی کہ اسلامی حکومت قائم کرنا چاہئے۔ یہ زمین اللہ کی زمین ہے۔اس میں کسی دوسرے کے اصول و ضوابط قوانین و فرامین نہیں چل سکتے۔وغیرہ۔اگر اس کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا جائے تو مسلمان کبھی دعوتی کام نہیں کرسکیں گے۔اس لئے کہ ان کامقصد حکومت حاصل کر کے اسے اسلام کے مطابق چلاناہے۔اور یہ ناممکن ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئےانہیں لڑائی چھیڑنی پڑےگی یہ سلسلہ چلتا رہےگایہاں تک کہ صدیاں گزرجائیں گی پھر بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔لیکن اس درمیان لڑائی بھڑائی میں جو جانیں ضائع ہوں گی ان کا کیا ہوگا۔؟؟؟
    مسلمان جن کو ختم کریں گے وہ غیر مسلم ہوں گے۔اور ایمان کے بغیر موت حزب شیطان میں اضافہ ہوگا جو شیطان کا اللہ سے وعدہ ہے۔شیطان اپنا یہ وعدہ کسی طرح سے بھی پورا کررہاہے اور یہ رسول اللہ کی بعثت کے منافی ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کو ناکام بنانا یہ شیطان کا مقصد ہے۔اور شیطان ان غیرمسلموں پر حاوی ہوکر اپنا یہ مقصد پورا کررہاہے،شیطان خود تو آکر مسلمانوں سے لڑائی نہیں کرسکتا۔وہ تو آدم کی اولاد ہی سے اپنا یہ مقصد پورا کرےگا۔اب عقلمندی کی بات کیا ہے؟ کیا اس مقصد کو جس کو پورا کرنے کےلئے شیطان اولاد آدم کو استعمال کررہاہےاس کو ناکام بنایا جائے یا پھر اولاد آدم کو ہی قتل کرکے جہنم رسید کیاجائے۔؟؟؟

    اس بارے میں زیادہ تفصیل سے جاننے کے لئے میں یہ دو کتاب کے لنک دے رہا ہوں اس کا مطالعہ کریں۔پھر کوئی سوال ہو تو ضرور استفسار کریں۔

    دین کی سیاسی تعبیر

    تعبیر کی غلطی
     
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067

    السلام علیکم
    سمجھ سمجھ کی بات ہے۔
    ڈیفرنٹ انڈرسٹانڈنگ۔
    مجھے یہ تحریر سے تو یہ سبق ملا ہے کہ۔۔۔۔۔اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے سوا کسی کی حکمرانی ہو تو اسکے لئے مرد مومن اور مجاہد کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وقت کے طاغوت یعنی وہ ، جو اللہ سے بغاوت کرکے اپنی حکمرانی چلارہے ہیں، انکے خلاف ایک ایسی زبردست جد و جہد کریں‌کہ یا تووہ دعوت کو سمجھ کر مان لیں‌یا پھر انکے خلاف ضرورت پڑنے پر۔۔۔۔جدوجہد کی انتہا کی پہنچنا چاہیئے ، اور یہ کام صرف قانقاہوں‌میں‌بیٹھ کر نہیں‌ہوسکتا، بلکہ اسکے لئے مجاہدانہ طرز عمل اور روش کی ضرورت ہوتی ہے۔
    یہ تمام کا مقصد لاالہ الاللہ کو سمجھانا مطلوب لگا مجھے۔۔۔! جسکے ذریعہ ہم توحید کے حقیقی مفہوم کو سمجھ کر کہ۔۔۔اللہ کے سوا اکسی ذات میں‌کوئی شریک نہیں، اسکی زمین پر حکومت و فرمانروائی بھی اسکی اور قانون بھی اسکا۔۔۔اور اسکے لئے جد و جہد کی عمدہ مثال۔۔۔خود رسول پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ جسکے مختلف ادوار ہمیں، سبق دیتے ہیں‌کہ دعوت، سے لیکر جہاد تک۔۔تمام مراحل ضرورت پڑنے پر آسکتے ہیں، ہئ مقصد صرف اللہ کا قانون نافذ کردینا نہیں‌بلکہ یہ سب ، آخرت کی کامیابی میں‌معاون چیزیں‌ہیں۔۔۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    1ـدین کی سیاسی تعبیر

    2ـتعبیر کی غلطی

    دور جدید کا چیلنج

    یہ سب کتابیں اتنی باسی ہو چکی ہیں کے ان کے جواب میں لکھی گئی کتابیں بھی اب پرانی ہو گئی ہیں ۔

    جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نکال کر دین اسلام کو بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش آج تک کامیاب ہو سکی ہے نہ ہو سکے گی ۔فریضہ ء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور فریضہء جہاد تا قیامت باقی رہے گا ۔ اس کو جھٹلانے والے نام نہاد فلسفی اور دانش ور ہمیشہ منہ کی کھائیں گے ۔

    ان فلسفوں کے رد کے لیے سورہ الانفال اور سورہ توبہ ہی کافی ہیں ۔
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    جزاکم اللہ خیرا پر خلوص بھائی ۔ میرے پاس شکریہ کا آپشن کام نہیں کر رہا ۔۔۔

    کچھ لوگ اسلام کو محض عبادات واخلاقيات كے مذہب تك محدود كردینا چاہتے ہیں حالانکہ اسلام مكمل نظام حيات ہے جسے زندگی كے ہر گوشے پر نافذ کرنے کی كوشش كرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ مدينہ كى اسلامى رياست سے لے كر خلفائے راشدين كے عہد تك ہمارے ليے بہترین نمونہ موجود ہے ۔
     
  9. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    عین باجی اور پرخلوص بھائی، اللہ آپ دونوں کو جزائے خیر دے۔۔۔
    اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے، کیا ہم جہاد ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، اور اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کو الگ الگ کر سکتے ہیں؟؟؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔۔ جب ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرانا ہے، جب ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے انہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر جھنم سے بچانا ہے، تو یہ بھی تو "جہاد"، "امربالمعروف اور نہی عن المنکر" اور "اسلامی نظام کے نفاذ" کی کوشش کے تحت ہی آتا ہے۔ مرحبا بھائی، آپ نے ان باتوں کو کس فلسفے کی تحت الگ الگ کر دیا؟؟؟

    پرخلوص بھائی نے بالکل ٹھیک کہا، اس کی مثال تو ہمیں خود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو پہلی اسلامی ریاست نہیں بنایا تھا؟؟
     
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    بالکل صحیح کہا۔۔

    عین باجی، یہ جہاد کا فلسفہ بگاڑنے والے ہی تو ایسے فلسفے پیش کرتے ہیں، کہ جن کو پڑھ کر ایک عام آدمی بھی اس بات میں کنفیوز ہے کہ کیا "خود کش حملہ کر کے بے گناہ لوگوں کو مارنا بھی جہاد ہے یا کچھ اور؟؟"۔۔۔ یہ میں نے ایک سادہ سی مثال دی ہے، اصل مقصد کہنے کا یہی ہے، "جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نکال کر دین اسلام کو بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش آج تک کامیاب ہو سکی ہے نہ ہو سکے گی" ان شاءاللہ۔۔۔
     
  11. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    عین نےلکھا ہے۔"جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نکال کر دین اسلام کو بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش آج تک کامیاب ہو سکی ہے نہ ہو سکے گی ۔فریضہ ء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور فریضہء جہاد تا قیامت باقی رہے گا ۔ اس کو جھٹلانے والے نام نہاد فلسفی اور دانش ور ہمیشہ منہ کی کھائیں گے "
    آپ کے قول کے مطابق یہ بتائیے کہ جو جملے آپ نے لکھے ہیں وہ کس کتاب سے لئے گئے ہیں۔ کیا کبھی ان لوگوں نے جن کا تذکرہ آپ نے کیا ہے کسی کتاب میں لکھا ہے کہ ہم جہاد کے منکر ہیں۔ہم مذہب اسلام کو(بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش ) کررہے ہیں۔ یا پھر وحی کے ذریعہ آپ کو بتایا گیاہے؟؟؟
    آپ آزاد ہیں ۔قلم آپ کے ہاتھ میں ہےاسی کے ساتھ اللہ کی طرف سے دی گئی آزادی بھی۔جس کے بارے میں جیسا چاہیں ،جو چاہیں لکھ سکتے ہیں۔مگر قیامت کے دن اس کے برے انجام سے آپ اپنے آپ کو بچانہیں سکتیں۔اس لئے کہ آپ نے اپنی طرف سے کوئی جملے لکھےاور ان کو دوسروں کی طرف منسوب کیا۔ یا پھر ان کی نیتوں کے بارے میں جھوٹا دعوی کیا کہ ان کا مقصد "جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نکال کر دین اسلام کو بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش " اسلئے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ بتایا تو نہیں گیا کہ ان لوگوں کا مقصد یہ اور یہ ہے۔اور آپ قول فیصل کی طرح لکھتی چلی جائیں۔

    دوسری بات یہ کہ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسول اسلامی حکومت کےلئے بےچین رہتےتھے۔یا اس کی فکر میں گھلے جاتے تھے۔البتہ یہ بات ضرور ہے اللہ کے رسول کافروں کے غم میں اتنا زیادہ گھلے جارہےتھے کہ اس سے آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاتھا۔اللہ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ کا کام آخرت سے لوگوں کو باخبر کر نا ہے۔اللہ کا پیغام پہونچانا ہے۔ہدایت یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔لعللک باخع نفسک ان لایکونوا مومنین۔(الشعراء: 3)
    ہے کوئی جو مذکورہ باتوں کوا جواب دےسکے۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    میرے عزیز برادار
    جزاک اللہ کہ آپ کو میری بات صحیح‌لگی۔۔۔اور ہوسکتا تھا کہ۔۔۔میری بات غلط ہوتی بھی (میں‌انسان ہوں)، لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں‌ایک بات لکھوں (اپنی سمجھ کے مطابق ) اور اسے آپ سے کہوں‌کے بس یہی صحیح‌ہے۔۔(کیونکہ میں جو سوچونگا، وہ میرے ذہن کے مطابق اور میری استعداد کے مطابق۔۔۔اور آپ کی سوچ اور سمجھ مختلف(
    بس یہی معاملے سوچ اور سمجھ کو ہوتے ہیں
    جزاک اللہ خیر۔۔
    ایسے ہی کئی عام معاملوں‌میں ہوتا ہے
    اسلام ایک مکمل مذہب ہے۔۔۔۔اور جیسا کہ فرمایا گیا۔۔۔مفہوم ہے۔۔۔

    "تمہارہے لئے طریقہ زندگی اسلام ہے" (پسندیدہ)
    "تم نیکی پھیلاتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو"
    "کیا تم قران پر غور و فکر نہیں‌کرتے"
    "تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاو"
    "جن لوگوں‌نے اللہ کے نازل کردہ فیصلوں‌ کے مطابق فیصلے نہیں‌کرینگے وہی کافر، ظالم اور فاسق ہونگے"
    "تم اس دین میں‌تفرقہ میں نہ پڑو، اور اللہ کی رسی مضبوطی سے پکڑلو"
    "تمہیں اسلئے پیدا کیا گیا کہ، تم عبادت کرو"

    مختلف موقعوں پر انسان کو سمجھنے کے ہزاروں‌انداز، جس میں ایک ہی بات نظر آتی ہے۔۔کہ۔۔دنیا میں اللہ نے انسان کو امتحان کی غرض‌سے بھیجا، اور اسکی آزمائش ہورہی ہے، اور ہر کوئی اتنا ہی مکلف ہے، جتنا اللہ نے اسے آزمایا، اور بہت سی چیزیں انسان کے ذہن کے دریچوں‌میں‌گھس نہیں‌پاتیں۔۔ایسے میں۔۔۔ انسان کار خیر کو اپنا شیوہ بنا کر۔۔۔عمل خیر، اور سمجھ بوجھ کر پھونک پھونک۔۔۔اور دوچیزوں کو خاص طور پر۔۔۔بچاے رکھ کر جس شرمگاہ اور زبان ہیں (اب زبان میں پرنٹ میڈیا بھی ) آگیا ہے۔۔۔ہم سمجھتے ہیں‌کہ ہم نے دعوت و تبلیغ کا کام انجام دے دیا، اور یہی اگر کسی انسان کے لئے۔۔۔باعث آزار ہو۔۔تو کیا فائدہ ایسی دعوت و تبلیغ اور ایسے انداز کے۔۔۔!

    ہر معاملے میں اسوۃ‌حسنہ۔۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاۃ مبارکہ ہے۔۔اور انسان اسکے مطابق کوشش کرتا چلا جائے، اور اپنے ذہن کو تعصب سے پاک رکھے، اور اپنے آپ کو ہمیشہ ہر لمحہ احتساب کرتا رہا، کہ دوسروں‌پر انگنشت نمائی آسان ہے، لیکن کیوں اسکو شیوہ بنائیں‌۔۔۔بجائے اسکے عمل خیر کرتے جایں، اور انداز اصلاحی ہو تو ان شااللہ تعالی کی رحمت کے دروازے ایسے کھلینگے کہ۔۔۔۔توفیق اور عمل خیر لوگوں کے لئے بہت آسان ہوجائیگا۔۔ان شااللہ۔

    فرد سے لیکر اجتماعیت تک۔۔۔ہر کسی کی سمجھ بوجھ مختلف ہوتی ہے۔
    اجتماعتیں بنتی ہی۔۔۔مختلف سوچ رکھنے والوں سے۔۔
    اور یہ مختلف سوچیں۔۔تھوڑے بہت اندرسٹانڈنگ کے فرق سے بننے کی وجہ سے ۔۔۔الگ الگ ہوتی ہیں۔۔لیکن ہر جگہ کچھ خامیاں اور کچھ اچائیاں‌ہوتی ہیں۔۔کہ انسانوں‌میں‌کوئی بھی پرفیکٹ نہیں‌سوائے۔۔۔(انہیں جنہیں‌اللہ نے اپنے امان میں رکھ کر معصوم کردیا یا رکھ دیا )۔۔!پھر کیوں‌ہم نیک ٹو نیک جاکر۔۔۔ایسے خیر کے کام کریں‌کہ فتنہ اورفساد کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے۔۔۔

    ہمیں ہوش کے ناخن لینا چاہئے۔۔

    کفار کے ساتھ۔۔حضور صلی اللہ کے برتاو میں تو ہمیں ایسا ملتا ہے کہ
    "ایک بوڑھی خاتوں کا بوجھ اپنے ہاتھوں‌میں اٹھائے ہوئے ہیں"
    ایک یہوں‌دی کے گھر عیادت فرمارہے ہیں"
    اور کفار میں‌بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاو حکیمانہ، اور ایسا ہے کہ نہ ماننے والے بھی آپکو امین، صادق اور بہتر انسان مانیں

    داعی کا کردار ایسا ہونا چاہئے۔
    وہ پرنٹ میڈیا ہو
    تقریریں‌ہو
    یا عمل کے ذریعہ۔۔۔ہم سب انسانوں‌کے ساتھ۔۔۔ایک سا برتاو رکھ کر۔۔مثال بننا چاہئے اور ذہن کو ہمیشہ اوپن رکھ کر سوچنا چاہئے کہ۔۔۔۔
    میں میرے ذہن سے سوچ رہا ہوں‌اسلئے مجھے ایسا سمجھ آتا ہے۔
    اور دوسرا دوسرے ذہن سے۔۔(یہاں‌پر میں‌صرف حق کی بات کر رہا ہوں)۔۔۔
    تب۔۔
    بہتر سوسائیٹی کی ترتیب سے لیکر۔۔۔ملکی نظام میں تبدیلی تک اور فرد سے لیکر اجتماعیت، اور ملکوں‌سے لیکر ساری دنیا تک اسلام کا پیغام عام کرسکتے ہیں (اور اسکا مطلب کیا ہمارا یہ مقصد تھا) ایسا سوچ کر اپنے ذہن کی انرجیز ضائع نہیں‌کرنا چاہئے۔۔بس مثبت اقدار پر کام کرتے چلے جائین۔۔۔۔۔اور عبادتوں‌سے لیکر سیاست، معیشت، معاشرت، حکومت، سماجیات، سب کچھ۔۔کو اسلامی چغہ پہناکر۔۔۔بالآخر۔۔اپنے لئے روز آخرت۔۔۔سرخروئی مطلوب ہے۔۔۔۔ان شااللہ
     
  13. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    جذبات سے اتنا زیادہ مغلوب ہونا کہ دوسروں کی غلطی بتانے خود خدا کے پاس غلط ٹہرنا یہ کونسی عقلمندی کا کام ہے۔؟؟؟​
     
  14. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    السلام علیکم
    مرحبا بھائی، ایک بات کو کنفیوز کرنا آسان ہوتا ہے، پھر اس کی تشریح کے لیے لمبی لمبی وضاحت ہی دینی پڑتی ہے ۔ آپ نے اپنی پہلی تحریر میں کہا کہ :
    "کیا رسول کو اور قرآن کو اسی لئے نازل کیا گیاتھا کہ وہ پوری دنیا میں اسلامی نظام کو قائم کریں؟؟؟
    یا پھر اس لئے تھا کہ وہ آخرت کے دن سے لوگوں کو ڈرائیں،انہیں ان کی کمر پکڑ پکڑ کر جہنم کی آگ سے بچائیں
    ۔"
    اب پڑھنے والے نے تو یہی سمجھنا ہے نا کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، اور جس نے بھی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشش کی اس نے تو گویا قرآن و حدیث کی نفی کر دی۔

    پھر آپ نے دوبارہ کہا:
    جو عبارت نشان زدہ ہے ،اس عبارت سے ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد کیا نکلتا ہے۔ یہی کہ اسلامی حکومت قائم کرنا چاہئے۔ یہ زمین اللہ کی زمین ہے۔اس میں کسی دوسرے کے اصول و ضوابط قوانین و فرامین نہیں چل سکتے۔وغیرہ۔اگر اس کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا جائے تو مسلمان کبھی دعوتی کام نہیں کرسکیں گے۔اس لئے کہ ان کامقصد حکومت حاصل کر کے اسے اسلام کے مطابق چلاناہے۔اور یہ ناممکن ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئےانہیں لڑائی چھیڑنی پڑےگی یہ سلسلہ چلتا رہےگایہاں تک کہ صدیاں گزرجائیں گی پھر بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔لیکن اس درمیان لڑائی بھڑائی میں جو جانیں ضائع ہوں گی ان کا کیا ہوگا۔؟؟؟

    جو بھی اسلامی نظام کے لیے کوشش کرے گا، اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہو گا کہ وہ صرف حکومت حاصل کر کے اسے اسلام کے مطابق چلائے، بلکہ وہ ایک منظم طریقے کے تحت پہلے لوگوں کی تربیت کرے گا، جو کہ بہت ضروری ہے، اسکے بغیر تو اسلامی حکومت کے قیام کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کوششوں کو ہی ترک کر دے۔۔۔ اس مقصد کے لیے لڑائی وہی لوگ کریں گے جو کہ یا تو اسلامی نظام حکومت سرے سے چاہتے ہی نہیں، یا ان کی تربیت اس طرح نہیں ہوئی جو کہ اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے ضروری ہے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ پھر وہی کہوں گا۔۔۔ اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کوششوں کو ہی ترک کر دے

    آپ کو اپنی کہی ہوئی بات پر جو جواب ملا، وہ تو ملنا ہی تھا، یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس پر نہ تو کسی فلسفے کی ضرورت ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ بس ہاں یا نا میں بات ہوتی ہے۔ اب آپ دوبارہ یہ کہہ رہے ہیں:
    دوسری بات یہ کہ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسول اسلامی حکومت کےلئے بےچین رہتےتھے۔یا اس کی فکر میں گھلے جاتے تھے۔البتہ یہ بات ضرور ہے اللہ کے رسول کافروں کے غم میں اتنا زیادہ گھلے جارہےتھے کہ اس سے آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاتھا۔اللہ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ کا کام آخرت سے لوگوں کو باخبر کر نا ہے۔اللہ کا پیغام پہونچانا ہے۔ہدایت یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔لعللک باخع نفسک ان لایکونوا مومنین۔(الشعراء: 3)

    واقعی پورے قرآن میں تو کہیں بھی یہ بات نہیں ہے، پورے قرآن میں تو یہ بات بھی نہیں ہے کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، یہ سب تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا نا۔ قرآن میں اللہ نے کہا کہ :
    واقیموالصلوٰٰۃ واتوالزکاۃ۔۔ اب نماز کیسے قائم کرنی تھی یہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا نا۔ تو اسی طرح کیا مدینہ کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثالی اسلامی ریاست نہیں بنایا تھا کیا؟ کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا کرکے نہیں دکھایا؟؟ آج کے زمانے میں ایسی کوشش کا کوئی فائدہ کیوں نہیں؟؟؟
     
  15. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہت عمدہ انداز میں تشریح‌کی ہے برادر آپ نے۔
    بات بالکل واضح‌ہے۔

    اور اصل مسئلہ کچھ چیزوں‌کو اپنے سمجھ سے دین کے باہر سمجھنا اور کچھ چیزوں‌کو اپنے حساب سے دین کی جز سمجھنا ہے۔۔۔ جبکہ دین اسلام ایک مکمل دین ہے۔

    پھر وہی بات کہ۔۔۔اسلام ایک ایسا طریقہ زندگی ہے جس میں زندگی کے تمام شعبہ ہائے جات کا احاطہ ہوجاتا ہے۔۔۔حیات مبارکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اسکی مکمل تشریح ہے۔
     
  16. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    پہلی بات یہ کہ محترمہ عین نے لکھا تھا کہ (جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نکال کر دین اسلام کو بدھ ازم جیسابے ضرر دھیانی گیانی مذہب بنانے کی کوئی کوشش آج تک کامیاب ہو سکی ہے نہ ہو سکے گی ۔فریضہ ء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور فریضہء جہاد تا قیامت باقی رہے گا ۔ اس کو جھٹلانے والے نام نہاد فلسفی اور دانش ور ہمیشہ منہ کی کھائیں گے ) یہ اختراعی جملے ان کے اپنے نفس امارہ کے ہیں۔جذبات سے مغلوب ہوکر انہوں نے اپنے جی میں جو آیا لکھ ڈالا۔ اس پر مستزاد ان اختراعی جملوں کو دوسروں کا مقصد قرار دیا۔جب کہ اس قسم کا مقصد کسی بھی کتاب میں نہیں ہے۔پھر کس بنیاد پر محترمہ نے لکھا۔؟؟؟
    کیا وحی و الہام کے ذریعہ ان کو خبر دی گئی؟؟؟

    (واقعی پورے قرآن میں تو کہیں بھی یہ بات نہیں ہے، پورے قرآن میں تو یہ بات بھی نہیں ہے کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، یہ سب تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا نا۔)
    آپ نے شاید غور سے اس آیت کا مطالعہ نہیں کیا؟قرآن نے آپ کی زندگی ہی کی ترجمانی کی ہے کہ الل ٹپ کوئی بات نہیں کہہ دی۔آپ کی پوری زندگی کا محور اللہ کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانا تھا۔اسی میں وہ صبح وشام کرتے تھے۔اسی حال میں وہ اس دنیا سے بھی چلے گئے۔

    (بلکہ وہ ایک منظم طریقے کے تحت پہلے لوگوں کی تربیت کرے گا، جو کہ بہت ضروری ہے، اسکے بغیر تو اسلامی حکومت کے قیام کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔۔۔۔ )
    آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ حکومت حاصل کرکے دین کی تبلیغ نہیں ہو سکتی اور یہ سنت رسول کے خلاف بھی ہے۔اسلامی حکومت کے لئے اطاعت والا ذہن چاہئے۔ ورنہ ہر گروہ ایک دوسرے کو غیر اسلامی حکومت کا نعرہ لگا کر خود حکومت پر قبضہ کرنے کی مہم چلائےگا۔سو وہ آج ہورہاہے۔
    حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ ابوبکر اور عمر کے زمانے میں اتنا زیادہ خلف و انتشار نہیں تھا اور آپ کے زمانے میں کیوں ایسا ہے؟؟؟پتہ ہے کیا جواب دیا تھا علی نے۔ کہا ابوبکر و عمر کے زمانے میں ہم جیسے لوگ رعایا تھے اور میرے زمانے میں آپ جیسے لوگ ہیں۔

    دوسری اہم بات یہ کہ مسلمانوں کا اقتدار چھین جاناان کے کمزریءایمان کی سبب ہے نہ کہ کسی کی سازش کا نتیجہ ۔
    اسلامی حکومت کے لئے صحیح طریقہ تو یہ تھا کہ خود اپنی کمزوریوں پر نظر جاتی،دوبارہ اپنے اندر وہ اسپرٹ پیدا کرتے جو اللہ کی شرط کے مطابق ہوتی۔[ar]وعد اللہ الذین آمنوا وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم و لیمکنن لہم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعدخوفھم امنا۔[/ar]

    اسلامی حکومت کا قیام اللہ کے رسول کے زمانے میں آیا کیسے؟؟؟
    آپ نے پہلے دعوتی کام کے ذریعہ ان کے اندر ایمان و اخلاق پیدا کیا۔انہیں پہلے مسلمان بنایا۔پھر اس کے بعد اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔یہی سنت رسول ہے۔آج بھی اسی سنت رسول کی پیروی کرتے ہوے ہمیں پہلے دعوتی کام کے ذریعہ ایمان و اخلاق پیدا کرنا چاہئے۔اس کے بعد اسلامی ریاست کے قیام کی بات آئےگی ۔جیسے نبی نے مدینہ میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی اسی طرح سے کرنا صحیح سنت رسول کی پیروی ہے ورنہ وہ اقتدار و حکومت کا نشہ ہے نہ کہ اسلامی حکومت کا منصوبہ۔ پہلے حکوت پر قبضہ پھر لوگوں کی تربیت ـ یہ سنت رسول کے خلاف طریقہ ہے۔
    جاسم منیر بھائی آپ کی ساری بحث خلاف سنت عمل کی تشریح میں ہوی ہے۔
     
  17. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    السلام علیکم
    لگتا ہے مرحبا بھائی، آپ نے میری اس بات پر غور ہی نہیں کیا اور بس جذبات میں آ کر لکھتے ہی چلے گئے:
    "جو بھی اسلامی نظام کے لیے کوشش کرے گا، اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہو گا کہ وہ صرف حکومت حاصل کر کے اسے اسلام کے مطابق چلائے، بلکہ وہ ایک منظم طریقے کے تحت پہلے لوگوں کی تربیت کرے گا، جو کہ بہت ضروری ہے، اسکے بغیر تو اسلامی حکومت کے قیام کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ وہ اسلامی نظام کے لیے کوششوں کو ہی ترک کر دے"

    اور آپ نے جتنی بھی باتیں کیں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے میری یہ بات تو ان کا خلاصہ ہے۔۔۔
    اگر آپ کو نہیں پتہ کہ تربیت کیا ہوتی ہے، تو پھر میں آگے بات نہیں کر سکتا، "کیونکہ میری بات تو خلاف سنت جا رہی ہیں نا"۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 18, 2010
  18. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    آپ کا یہ کہنا ہی بےمعنی ہے کہ (ایک منظم طریقے کے تحت پہلے لوگوں کی تربیت کرے گا، جو کہ بہت ضروری ہے،)۔اسلئے کہ اسلامی ریاست کے قیام کے لئے دعوتی کام کیا جائےگا۔ پھر اسلامی حکومت کی بات آئےگی۔
    اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا نام لیکر غیر اسلامی طریقہ سے نفاذ اسلام کا نعرہ لگانا اپنی کم علمی کی دلیل ہے۔سنت رسول کے مطابق مدینہ میں پہلے دعوتی کام کیا گیا ۔پھر اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 18, 2010
  19. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    میرے خیال سے ابھی تک آپ کو تربیت کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔
    میری ہی بات کو صرف آپ اپنے الفاظ میں بیان کر رہے ہیں، اور جذبات میں آ کر آپ کو اس کی سمجھ نہیں لگ رہی۔۔۔۔
     
  20. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اور دعوتی کام کرتے ہوئے تو توحید کی بات سامنے آتی ہے۔۔۔اور توحید کا مکمل اقرار کا مطلب ہی تو غیر اسلامی ریاست میں بے چینی محسوس کرنا ہے، اور یہ بے چینی ہی تو کسی اسلامی نظام کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔۔۔ورنہ توحید کا مکمل اقرار کرنے کے بعد چپ سادھ لینا تو مکمل اقرار کرلینا نہیں‌ہے نا۔۔۔! بات صرف سمجھنے کی ہے۔۔۔!!!

    اگر ایسا کوئی کر رہے ہوں‌تو واقعی غلط ہے۔۔۔لیکن ایسا کر رہے ہیں، یہ ہماری اپنی سوچ اور ہماری اپنی انڈرسٹانڈنگ ہے یا ہوسکتی ہے۔۔کیونکہ جسکو آپ غیر اسلامی سمجھ رہے ہوں، ہوسکتا کہ دوسرے کی سوچ کے مطابق وہی حکمت پر مبنی طریقہ ہوگا۔۔۔۔(کیونکہ۔۔۔۔قران و حدیث جو ہدایت کے مآخذ ہیں سے ہمیں‌، ہدایت کا راستہ ملتا ہے۔۔لیکن مختلف حالات میں‌ کیا طریقہ ہو، یہ تو منظم اجتماعیتیں۔۔۔اپنے اجتہاد پر ۔۔۔وقت کو مناسب قرار دیکر کہ کب دعوت کا وقت ہے، اور کب دعوت کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔اقتدار کی بات بھی ہو، اور کیا۔۔۔یہ تمام ایک کے بعد ایک کرنے کے ہے۔۔۔۔!نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں‌تو وہ خود بذات خود موجود رہکر۔۔انکے 23سالہ دور میں دعوت سے لیکر جہاد تک۔۔پھر اسلامی ریاست کی تشکیل عمل میں‌آئی۔۔۔۔اور اس وقت کے حالات کے من و عن اگر آج ہمیں‌کرنا ہوتو۔۔۔پھر 23 سالہ پلاننگ ہی بنانی چاہئے۔۔۔۔!!! یہ بات کسی بھی ذی عقل کی سمجھ میں‌آسکتی ہے کہ۔۔۔مختلف حالات کے تحت مختلف اسٹاڈیجیس ہوسکتے ہیں۔۔۔اور یہ خود اپنی سوچ اور سمجھ اور ضرورت کے مطابق۔۔۔۔ہدایت کے سرچشمہ قران و حدیث کے تحت قوانین سے لیکر فرد سے لیکر اجتماعیتوں‌کی تمام ضرورتوں کا معاملہ۔۔۔۔۔۔۔۔سیاست،معیشت،معاشرت،سب کچھ۔۔متوزی چلنے کا متقاضی ہوتب۔۔دعوت کےساتھ ساتھ۔۔۔ضرورت پڑنے پر۔۔۔۔اقتدار کا حصول بھی۔۔۔۔ ربانی قانوں‌ کے نفاذ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔۔۔جسکے ہم۔۔۔انسانیت کی خدمت، اور انکو جہنم کی آگ سے بچانے کا عمل۔۔۔اور سہل انداز میں کرسکتے ہیں۔۔۔! سب کچھ حالات اور ضرورت کے مطابق ڈیسائیڈ ہوتا ہے۔۔۔۔اسلئے کھلے ذہنوں‌کے ساتھ۔۔۔دوسروں‌کے بھی مکاتب کو سمجھ کر۔۔۔۔ موجودہ حالات میں کیا بہتر ہے کی پالیسی بہتر ہے۔۔۔! اور یہ سب کچھ اسلامک چغہ میں‌ہو تب۔۔۔۔دنیا میں رہکر۔۔۔۔آخرت کا سودا بھی ہوگا۔۔۔اور فرض منصبی کی ادائیگی۔۔۔بھی۔۔!
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں