شعر معر

عائشہ نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏مئی 18, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    ميں نے سنا ہے آپ شعر معر بھی کہتے ہیں ؟

    يہ عجيب وغريب سوال مجھے خيالوں كى دنيا سے باہر لے آیا ۔ميرے سامنے چیئر مین خليل کھڑے تھے ۔
    ــ آپ كو یہ كس نے بتايا؟

    ــ اجمل نے بتايا ہے ۔

    انہوں نے اپنے ساتھ كھڑے ايك حسين وجميل نوجوان كی طرف اشارہ كر کے کہا ۔

    ـــ ميں جى ان كا نياز مند ہوں ۔ اجمل نے مصافحے كے ليے ميرى طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ لاہور ميں ہال روڈ پر ميرى دكان ہے ۔

    ــ میں نے ابھی ابھی ايك نظم کہی ہے ۔سوچا آپ سے اصلاح لے لوں ۔چیئر مین نے ارشاد فرمايا۔

    ــ آپ پہلے بھی شاعری کرتے رہے ہیں ؟ ميں نے پوچھا ۔

    ــ آپ ان سے اتنے مشكل سوال نہ پوچھیں ۔ اجمل كے چہرے پر ايك شرير سى مسكراہٹ دوڑ رہی تھی ۔

    ـــ انہوں نے شاعری آپ كو ديكھ کر صرف پانچ منٹ پہلے شروع كى ہے ۔

    ـــ واقعى ؟

    ـــ ہاں جی آپ نظم سنیں ۔چئیر مین بولے اور پھر زبانی رواں ہو گئے ۔
    ََ
    تم مجھ سے پوچھتے ہو میں کون ہوں ؟

    میں وہی ہوں جس کے متعلق تم پوچھتے ہو

    کہ میں کون ہوں ؟

    جہاز كے شور سے ميرے کان ميں کھجلی ہونے لگی ہے

    اور تم پوچھتے ہو کہ میں کون ہوں ؟

    میں نے ائیر ہوسٹس سے اس كا نام پوچھا

    اس نے مجھ سے پوچھا تم كون ہو ؟

    ميں نے کہا میں وہی ہوں جس كے متعلق تم صديوں سے ہر ايك سے پوچھتی آ رہی ہو کہ میں كون ہوں ؟

    ـــ سبحان اللہ ! ميں نے موقع پر داد دے کر نظم كو ايمر جنسى بريك لگائی ۔

    ـــ قاسمى صاحب ! آپ مجھے اپنى شاگردى ميں لے لیں ۔

    ـــ شاگردى ميں ايسے ہی نہیں لے ليا جاتا، اجمل نے درميان ميں مداخلت كى۔ اس كے ليے پہلے استاد كى خاطر خدمت كرنا پڑتی ہے ۔

    ـــ ميں ہر خدمت كو تيار ہوں ۔ چیئر مین خليل نے کہا ۔ " ويسے قاسمى صاحب، يہ بتائيں نظم كيسى ہے؟ اور كيا ميں شاعر بن سكتا ہوں ؟

    ــ نظم سن كر ميرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ، شاعر بننے كا كيا سوال؟ آپ شاعر بن چکے ہیں ! مبارك باد قبول فرمائيں ۔ان دنوں ہمارے ہاں اسى قسم كى شاعرى ہو رہی ہے ۔ويسے اب سو جانا چاہیے ۔ابھی سفر بہت پڑا ہے ۔

    ـــ اسے اب نيند كہاں آنی ہے قاسمى صاحب ؟ اجمل نے كہا ۔ آپ تو اسے شاعر قرار دے كر آرام سے سونے كى تيارياں كرنے لگے ہیں، یہ اپنے ساتھ اب ہمارى بھی نينديں حرام كرے گا !


    (اقتباس: دنيا خوب صورت ہے ۔ عطاء الحق قاسمى)
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  2. سعد

    سعد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    129
    مفید اقتباس ہے، مزید اقتباسات بھی ضرور کمپوز کجئے گا۔
     
  3. اکیلا

    اکیلا -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 26, 2010
    پیغامات:
    13
    بہت عمدہ جناب۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. انصاری آفاق احمد

    انصاری آفاق احمد -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 5, 2010
    پیغامات:
    405
    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
    بہت خوب
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,323
    :00032:
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    مزيد اقتباس :

    ۔۔۔ بس چلنے سے پہلے چئیرمین خلیل اپنی نئی نظم كے ساتھ ميرے پاس آئے ۔ انہیں شاعر بنے آٹھ دس گھنٹوں سے زيادہ نہيں ہوئے تھے اور اتنے قليل عرصے ميں نہ صرف يہ كہ يہ ان كى دوسرى نظم تھی بلكہ وہ شعر سنانے كے آداب سے بھی واقف ہو گئے تھے۔ انہوں نے عرض كيا ہے كہہ كر اپنى نظم آغاز كى ، ميں نے كسى مصرعے پر داد جى تو انہوں نے از خود " مكرر ارشاد فرماؤں ؟ " كہہ كر وہ مصرعہ دوبارہ سنايا يہ نظم كچھ اس طرح تھی:
    میں برسبین ائر پورٹ پر ہوں
    ميرے چاروں طرف ہوائیں شاں شاں كرتى ہيں
    لوگ كہتے ہيں آسٹريليا بڑا ترقى يافتہ ملك ہے
    اگر يہ ترقى يافتہ ہے تو يہاں فيصل آباد كا جہانگیری پلاؤ
    كيوں نہيں ملتا ؟
    يہاں وہ نہر كيوں نہيں ہے جہاں کاکے ننگ مننگے نہاتے ہیں
    اور بیبیاں کپڑے دھوتی ہیں
    ميں نہيں مانتا کہ آسٹریلیا ترقی یافتہ ملک ہے
    اس كى تو ہوائيں بھی شاں شاں كرتى ہيں
    باں باں كرتى ہيں

    " كمال كر ديا چئر مين صاحب آپ نے چند گھنٹوں ميں دوسرى نظم ؟ " ميں نے داد دى ۔
    " يہ دوسرى نظم كہاں ہے قاسمى صاحب ؟ " اجمل نے قريب آ كر كہا " يہ اس كى بارھويں تيرہويں نظم ہے سارى رات يہی كام كرتا آيا ہے ۔ اس كى نظميں سن سن كر ميرا تو ايك كان بند ہو گيا ہے۔ "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    ویسے عمیق نظروب سے دیکھا جائے تو دوسری، نہیں نہیں، بارہویں تیرہویں نظم میں کمال کی پختہ کاری نظر آتی ہے۔

    آگے کا ایپی سوڈ؟
     
  8. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,119
    بھلا ھو آپ کا خوب ھنسایا
    ویسے ایک بات ھے اسطرح بات کہنے سے لمبی بات مختصرانداز میں کہی جا سکتی ھے جب میں نے -آؤ سب مل کر چلیں- لکھی تو میاں صاحب سے پوچھا کہ کیسی ھے جواب ملا کہ وزن نہیں ھےمیں نے کہا کہ نہ توشاعرہ کہلوانےکا شوق ھے اور نہ ھی کوئی شعری مجموعہ چھپوانے کا شوق ھے اس لیےمیرا ایساکچھ لکھا ھوا پڑھیں تو مہربانی کرکے اس شاعری نہیں بلکہ مختصر الفاظ سمجھ کر پڑھیں-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    واہ کمال کی نظم ہے دل خوش کر دیا آپ نے :)
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    :smile: آپ سب كا شكريہ اگلى قسط ذرا صحت بہتر ہونے پر ، لمبى ہے۔
     
  11. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    اللہ آپ کو جلد صحت یاب کرے آمییییییییییییییین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479

    شاعر ہوں ، بے وقوف نہیں

    ۔۔۔ چئیر مين مجھ سے مخاطب ہوئے : قاسمى صاحب آپ نے ميرى شاعرى پر تبصرہ نہيں كيا ؟
    ميں نے جواب ميں كہا : سچی بات يہ ہے كہ آپ كى شاعرى اب تبصرے كى محتاج نہيں رہی ، اس ميں اگر چہ وزن اور مربوط معنى نہيں ہيں ليكن اگر غور كيا جائے تو اس ميں بہت كچھ ہے ۔ آپ نے مجھ سے شاگرد بننے كى خواہش كا اظہار كيا تھا ، آج سے ميں آپ كو اپنا استاد تسليم كرتا ہوں ۔ چنانچہ اب آپ چئير مين خليل نہيں بلكہ استاد خليل فيصل آبادى ہيں ۔

    ميں آپ سے متفق ہوں ۔ اجمل نے كہا ۔ ميں خود بھی اس نتيجے پر پہنچا ہوں کہ فيصل آباد کے گھنٹہ گھر كے قرب و جوار ميں استاد خليل سے بڑا شاعر كوئى نہيں ۔

    اطہر حليم اور مرزا عبدالقيوم اس گفتگو كے دوران خاموشى سے کھانا كھاتے رہے صرف ان كے چہرے پر مسكراہٹ آتى ۔ استاد خليل اپنى خالى پليٹ كو دوبارہ بھرنے گئے تو اطہر حليم نے كہا : آپ نے ہمارے كامياب ڈيلر كو كس كام پر لگا ديا ہے ، يہ نہ واپسى پر يہ كاروبار سميٹ كر شہر بہ شہر مشاعرے پڑھنے نكل کھڑے ہوں ۔

    اور قاسمى صاحب شاعرى چھوڑ كر اليکٹرانكس كا كاروبار سنبھال ليں ۔ قيوم نے ہنستے ہوئے لقمہ ديا ۔

    استاد خليل نے غالبا يہ گفتگو سن لى تھی ۔ انہوں نے اپنى نشست سنبھالتے ہوئے کہا : " حضرات ميں شاعر ہوں ، بے وقوف نہيں ۔يہ سب كچھ تو آپ كا دل بہلانے كے ليے ہے ۔"

    ******************​

    استاد کی آمد
    ۔۔۔ بورڈنگ كارڈ ، كسٹم اور اميگريشن کے مراحل سے فراغت پا كر ہم نے گيٹ نمبر 33 كى طرف لانگ مارچ كا آغاز كيا جہاں ہمارا جمبوجيٹ " لنگر انداز" تھا اور جس نے ہميں سنگا پور لے جانا تھا ۔۔۔
    بوريت كے ان لمحات ميں استاد خليل فيصل آبادى اپنے "ہمزاد" اجمل كے ساتھ سامنے سے آتے دکھائى دئے تو ميرے چہرے پر رونق سى آ گئی ۔۔۔

    " قاسمى صاحب ، شاعرى ميں کچھ ركاوٹ سی پڑ گئی ہے ! " استاد نے آتے ہی كہا ۔

    - اللہ خير کرے طبيعت تو ٹھيک ہے ؟ ميں نے كہا ۔

    - " اس كى طبيعت تو ٹھيک ہے " _ اجمل نے درميان ميں مداخلت كى _ " آپ اس كے سامعين كى فكر كريں ۔ "

    - " آپ اس بدذوق انسان كى باتوں پر نہ جائيں " استاد نے فرمايا ۔ " ميں پريشان ہوں گزشتہ تين چار گھنٹوں سے كوئى نظم تخليق نہيں ہوئى ۔ " ۔۔۔

    - " خليل صاحب يہ رکاوٹ تو ہم ايسے لوگوں كو پيش آتى ہے جو فطرى شاعر نہيں ہيں ۔ آپ کے متعلق مجھے يقين ہے كہ جس طرح بعض لوگ منہ ميں سونے كا چمچہ لے كر پيدا ہوتے ہيں اسى طرح آپ منہ ميں شاعرى كا چمچہ لے كر پيدا ہوئے ہيں ۔ "

    - کڑچھا سر ، کڑچھا ! اجمل نے مداخلت كى ۔

    - "آپ ان كى باتوں پر نہ جائيں ۔" ميں نے استاد كو مشورہ ديا ۔ " اس طرح کے لوگ ہميشہ نئے ٹيلنٹ كى حوصلہ شكنى كرتے ہيں ، ان كا منہ بند كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ آپ ابھی نظم كہيں ۔ "

    - " سر يہ تو كوئى مشكل بات نہيں ، اصل مسئلہ تو معيار كا ہے ، نظم كا كيا ہے وہ آپ سن ليں ۔ "

    يہ كہہ كر استاد نے چند لمحوں کے ليے آنکھيں بند كيں ، مجھے اندازہ ہو گيا كہ فکرِ سخن ميں مشغول ہيں اور پھر ايك مختلف سى نظم ارشاد فرمائى ،

    زمانہ بہت چالاک ہے

    يہ دوسروں كو بے وقوف سمجھتا ہے

    اور جنہيں يہ بے وقوف سمجھتا ہے

    وہ زمانے سے زيادہ چالاك ہيں

    اے خليل اس بے وقوف زمانے كو بتا دو

    کہ بے وقوف وہ ہوتے ہيں

    جو دوسروں كو بے وقوف سمجھتے ہيں

    نظم سنا كر استاد نے اجمل كو مخاطب كيا اور كہا : " يہ نظم تمہارى نذر ہے" ۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  13. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    بہت خوب
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    اجمل نے مجھے مخاطب كيا اور كہا : " استاد خليل كے بارے ميں ميں نے كافى غور كيا ان كى شاعرى آسٹريليا ، بنكاك اور سنگا پور كى فضاؤں ميں ابھی تك گونج رہی ہے "۔ ہاں يہ بات تو ہے " ميں نے كہا " ليكن آپ كيا كہنا چاہتے ہيں ؟"
    "كہنا ميں يہ چاہتا ہوں کہ استاد كى اس بين الاقوامى حيثيت كے بعد انہيں فيصل آبادى كہنا ان كے مقام اور مرتبے كو محدود كرنے كے مترادف ہے۔ "
    " تو پھر كيا كيا جائے ؟ " قيوم صاحب نے خاصى سنجيدگی سے پوچھا ۔
    " اب انہيں استاد خليل سنگاپورى اور بنكاكوى وغيرہ كہنا مناسب ہے ۔ ان شہروں کے حوالے سے انسان ذرا بين الاقوامى سا لگتا ہے ۔ علامہ اقبال كو نوبل پرائز محض اس ليے نہ مل سكا كہ ايران والے انہيں اقبال لاہورى كہتے تھے ۔"
    ميں نے اجمل كى بات سے اتفاق كيا ليكن يہ امر ميرى قومى انا كے منافى تھا كہ استاد كو ہم فيصل آبادى صرف اس ليے نہ كہيں کہ كہيں ہمارا يہ بڑا شاعر نوبل پرائز سے محروم نہ ہو جائے ۔ استاد كو نوبل پرائز ملنا ہو گا تو مل كر رہے گا ورنہ پاكستانى قوم اپنے اس عظيم شاعر كا خود بندوبست دوامى كرے گی۔
    استاد اس سارى گفتگو كے دوران خاموش رہے تھے ۔ ظاہر ہے انہيں خاموش ہی رہنا چاہیے تھا كہ انكسار كا تقاضا يہى ہے ويسے بھی شاعر اپنا تاثر ہميشہ اپنی شاعرى ميں ريكارڈ كرواتا ہے۔


     
  15. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,494
    کہتے ہیں کسی مشاعرے میں ایک نوآموز شاعر اوٹ پٹانگ شعر سنا رہے تھے۔لوگ خاموش تھے مگر جگر مراد آبادی بڑی داد دے رہے تھے۔
    قریب بیٹھے کسی دوست نے ان سے دریافت کیا ،جناب آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟جواب دیا ؛منافقت ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. مریم

    مریم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2012
    پیغامات:
    844
    واہ سسٹر عین واہ!
    بھت عرسے بعد کوئی تحریر پڑھ کر ھنسی آئی۔۔ورنہ لوگ تو مزاح کے نام پہ رلا دیتے ھیں۔خلیل صاحب کی آڑ میں در اصل آپ نے میرا بھاندہ پھوڑا ھے۔۔ابتسامہ
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    یعنی آپ میں شاعری کے جراثیم ہیں، آپ باقاعدہ سیکھنا شروع کر دیں۔ اور اس صلاحیت کا اللہ کے لیے استعمال کریں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں