اہل بیت پاک

khuram نے 'نقطۂ نظر' میں ‏اگست 1, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    آیہء کریمہ میں لفظ”إنّما“ فقط اورانحصارپردلالت کرتاہے۔

    ا یت میں لفظ ”انّما“ استعمال کیا گیا جو حصر کے معنی میں ہے جس کے معنی ”صرف“ ہوتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہٴ شریفہ میں آل ِنبی (ص)کے لئے جو خاص عظمت قرار دی گئی ہے وہ کسی دوسرے کے لئے نہیں ہے۔یاد رہے کہ اِنما عربی زبان میں حصرا اور محدود کرنے کے لئے آتا ہے یعنی لفظ”إنما“ حصر پر دلالت کرتا ہے .ابن منظورنے کہاہے:اگر ”إنّ“ پر”ما“ کا اضافہ ہو جائے تو تعیین وتشخیص پر دلالت کرتاہے۔جیسے اللہ کا قول ہے:<إنّماالصدقات للفقراء والمساکین۔۔۔۱ چونکہ اس کی دلا لت اس پر ہے کہ حکم مذکور کو ثابت کرتا ہے اوراس کے غیر کی نفی کرتا ہے۔۲ جیسے ۔ انما لک عندی درھم ، یا انما فی الدار زید یعنی میرے پاس تمہارے لئے سوائے ایک درھم کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ یا گھر میں زید کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آیہ شریفہ میں مصداق اہل بیت کو محدود اور محصور کردیا ہے.جوہری نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے۔۳.فیروزآبادی نے کہاہے:”اٴنّما“،”إنّما“ ہے مانند مفید حصرہے۔اور یہ دونوں لفظ آیہء شریفہء:<قل إنّمایوحی إلیّ اٴنّماإلٰہکم إلٰہ واحد>۴میں جمع ہوئے ہیں۔۵.ابن ہشام نے بھی ایساہی کہا ہے۔۶
     
  2. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    آیہء کریمہ میں اللہ کے ارادہ سے مراد ’’ارادہ تکو ینی‘‘ ہے نہ کہ ’’ارادہ تشریعی‘‘۔
    اللہ کے ارادے دوقسم کے ہیں:
    ۱۔ارادہ تکوینی: لفظ یریداللہ میں ارادہ تکوینی ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون ۔(سورة یس ۔ آیة ٢٨) س چیز کی شان تو یہ ہے کہ جب کسی چیز کو (پیدا کرنا ) چاہتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جاتو ( فورا ) ہو جاتی ہے
    یا جیسے، اللہ نے ارادہ کیاکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام پرآگ ٹھنڈی اورسالم)بے ضرر)ہو جائے توایساہی ہوا۔

    ۲۔ارادہ تشریعی: یہ ارادہ انسانوں کی تکالیف سے متعلق ہے۔واضح ر ہے کہ اس قسم کے ارادہ میں ارادہ اپنے مراداورمقصودکے لئے لازم وملزوم نہیں ہے۔خداوندمتعال نے چاہاہے کہ تمام انسان نماز پڑھیں، لیکن بہت سے لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں۔تشریعی ارادہ میں مقصود اور مراد کی خلات ورزی ممکن ہے، اس کے برعکس تکوینی ارادہ میں ارادے کی اپنے مراد اور مقصود سے خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔
    اللہ کا فرمان ہے :
    یرید اللہ بکم الیسر ولایرید العسر.....(سورہ بقرہ ۔ آیة ٥٨ا)
    اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا ۔
    ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔
    مایرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھر کم و لیتم نعمتہ علیکم ...(سورة مائدہ ۔ آیہ٦)
    اللہ تو یہ چاہتا ہی نہیں کہ تم پر کسی طرح کی تنگی کرے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ پاک و پاکیزہ کردے اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردے

    لیکن آیہء تطہیرمیں اللہ کے ارادے سے مراد ارادہ تکوینی ہے اور اس کے معنی یہ ہے کہ اللہ نے ارادہ کیاہے کہ اہل بیت)علیہم اسلام)کو مادی اور ظاہری لحاظ سے بھی ہرقسم کی ناپاکی من جملہ گناہ و معصیت سے محفوظ رکھے اورانھیں پاک و پاکیزہ قراردے یعنی کوئی نجاست خود بھی قریب نہی آسکے یا یہ کہیں کہ جس میں نجاست ہو یا جس کے زہن و گمان میں رجس ہو وہ محمد ص و اہلبیت ع کے نزدیک آبھی نہی سکتا .

    اگر مراد ارادہ تشریعی ہو تو کیا وجہ ہے اور کیوں ایت کو محصور کیا اور کیوں محدودیت بیان ہوئی ہے
    یعنی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تمام انسان یا مسلمان تقوی الہی اختیار کریں اور برائیوں سے دور ہوجائیں تو پھر اس میں محدود اورمحصور کرنے کی کیابات ہے ؟
    اللہ کے اس ارادہ کے ساتھ ہی اہل بیت اطہار مادی اور ظاہری لحاظ سے بھی ناپاکیاں دور ہوگیں نیزمعنوی طہارت اور پاکیزہ گی محقق ہوگئی اور مستقل اور دائمی طور پر ہی پر بھی یہی چاہتا ہے کہ آپ لوگوں کو مقام عصمت عطا کرے اس طریقے سے کہ اعتقاد باطل اور عمل باطل کو آپ حضرات ع سے دور رکھ کر عصمت عطا کردی جائے تا کہ کسی بھی قسم کا باطل خیال اور کوئی باطل خیال والہ بھی اپ لوگوں کے نزدیک نہ آنے پائے .

    اللہ کا وہ ارادہ تو تشریعی ہوسکتا ہے جس میں وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان ناپاکیوں سے محفوظ رہیں اورطہارت وپاکیزگی کے مالک بن جائیں۔
    جبکہ آیہ تطہیرسے یہ استفادہ ہوتاہے کہ یہ ارادہ صرف نبی اکرم (ص)کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے اور یہ اس کلمہ حصر کی وجہ سے ہے.



    آیہ تطہیر میں ارادہ کے تکوینی ہونے کے دیگر دلائل:
    آیہ شریفہ اہل تشیع اور اہل سنت کی تفسیرواحادیث کی کتا بوں میں مذکوربے شمار احادیث اورروایتوں کے مطابق اہل بیت نبی اکرم (ص)کی فضیلت وستائش کی ضامن ہے۔ اگرآیہ شریفہ میں ارادہ الہی سے مراد،ارادہ تشریعی ہوتاتویہ آیت فضیلت وستائش کی حامل نہیں ہوتی۔اس بناپر،جوکچھ ہمیں اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتاہے،وہ اہل بیت نبی (ص)سے مخصوص طہارت و پاکیزگی کا ارادہ الٰہی کے تحقق سے مر بوط ہے۔اوریہ ان منتخب انسانوں کے بارے میں خداکی جانب سے عصمت ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 6, 2011
  3. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    3-’’سیاق آیہء تطہیر‘‘
    مختصرا
    یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ یہ آیہٴ شریفہ ازواج نبی اکرم ص کی شان میں نازل ہو نے والی آیات کے درمیان واقع ہے، لیکن اس آیت کا انداز بدلا ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا ایک دوسرا مقصد ہے، کیونکہ اس سے پہلی اور بعد والی آیات میں ”جمع موٴنث“ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں لیکن اس آیت میں ”جمع مذکر“ کا صیغہ استعمال ہوا ہے!
    آیت کے شروع میں ازواج نبی اکرم (ص) کو خطاب کیا گیا اور ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں ،اور عرب کی جاہلیت کے رسم و رواج کی طرح لوگوں کے سامنے نہ نکلیں، عفت کی رعایت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں نیز خدا اور رسول کی اطاعت کریں،
    <وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ وَلاَتَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْاٴُولَی وَاٴَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِینَ الزَّکَاةَ وَاٴَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَہُ>
    آیت کے اس حصہ میں تمام چھ ضمیریں ”جمع موٴنث“ کی استعمال ہوئی ہیں۔ (غور کیجئے )


    اس کے بعد لہجہ بدل جاتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ”صرف“ ارادہ یہ ہے کہ تم اہل بیت سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں مکمل طور پر پاک رکھے“،< إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا>
    آیت کے اس حصہ میں دونوں ضمیریں جمع مذکر کے لئے استعمال ہوئی ہیں۔


    یہ بات صحیح ہے کہ عام طور پر آیت کا سیاق و سباق ایک مطلب کو بیان کرتا ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کے برخلاف کوئی قرینہ اور شاہد نہ ہو، لہٰذا جو لوگ آیت کے اس حصہ کو بھی ازواج نبی (ص) کی شان میں سمجھتے ہیں ان کا نظریہ ظاہر آیت اور اس میں موجود قرینہ کے برخلاف ہے، یعنی ان دونوں حصوں میں ضمیریں مختلف ہیں لہٰذا دو جدا جدا مطلب ہیں

    اس کے علاوہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں بڑے بڑے سنی اور شیعہ علمانے خود نبی اکرم (ص) سے متعدداحادیث نقل کی ہیں، اور فریقین کے معتبر منابع و مآخذ میں اس کو قبول کیا گیا ہے، اور ان روایات کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

    آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث
    شیعہ اور اہل سنت کے منابع میں بڑی تعداد میں ذکر ہونے والی احادیث سے واضح طور پریہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آیہ تطہیر میں”اہل بیت“سے مراد صرف پنجتن پاک) علیہم السلام) ہیں اور ان میں نبی اسلام (ص) کی ازواج کسی جہت سے شامل نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں مذکورہ منابع میں اتنی زیادہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ حاکم حسکانی ۱نے اپنی کتاب”شواہد التنزیل“ کے صفحہ۱۸سے لیکر۱۴۰تک انہی احادیث سے مخصوص کیا ہے۔

    ۲اہل سنت کی یہ تمام روایات اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ مذکورہ آیہٴ شریفہ نبی اکرم (ص)، حضرت علی،حضرت فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، جیسا کہ بعد میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔


    ۱۔ذہبی،تذکرةالحافظ،ج۲،ص۱۲ ۰۰پر کہتے ہیں :حاکم حسکانی علم حدیث کے کامل عنایت رکھنے والاایک محکم اورمتقن سند ہے۔

    ۲۔ اسدالغابة/ج۵ص۵۲۱/داراحیائ التراث العربی ،بیروت، الاصابة/ج۲/ص۵۰۹/دارالفکر، اضوائ البیان /ج۶/ص۵۷۸/عالم الکتب بیروت، انساب الاشراف/ج۲/ص۳۵۴/دارالفکر، بحار الانوار،ج۳۵،ازص۲۰۶،باب آیة تطہیر تاص۲۳۲ مؤسسة الوفائ بیروت، تاریخ بغداد /ج۹/ص۱۲۶/ وج۱۰/ص۲۷۸/دارالفکر، تاریخ مدینہ دمشق/ج۱۳/ص۲۰۳و ۲۰۶و۲۰۷وج۱۴/ ص۱۴۱و۱۴۵، تفسیر ابن ابی حاتم /ج۹/ص۳۱۲۹/المکتبة المصربة بیروت، تفسیر ابی السعود/ ج۷/ ص۱۰۳/دارالحیائ التراث العربی بیروت، تفسیر البیضاوی/ج۲۳/ص ۳۸۲/دارالکتاب العلمیة، تفسیر فرات الکوفی/ج۱/ص۳۳۲ تا۳۴۲/مؤسسة النعمان، تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر/ج۳/ص۵۴۸/دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر اللباب ابن عادل دمشقی/ج۱۵/ص۵۴۸/ دارالکتاب العلمیة بیروت، تفسیر الماوردی/ج۴/ص۴۰۱/دارالمعرفة بیروت، التفسیر المنبر/ج۲۳/ص۱۴/دارالفکرالمعاصر، تھذیب التھذیب/ج۲/ص۲۵۸/دارالفکر، جامع البیان/ طبری/ج۲۲/ص۵/دارالمعرفة بیروت، جامع احکام القرآن/ قرطبی/ج۱۴/ص۱۸۳/دارالفکر، الدار المنثور/ج۶/ص۶۰۴/دارالفکر، ذخائر العقبی/ص۲۱تا۲۴، روح البیان/ج۷/ص۱۷۱/داراحیائ التراث العربی، روح المعانی/ آلوسی/ج۲۲/ص۱۴/دار احیائ التراث العربی/الریاض النضرة/ج۲)۴-۴)/ص۱۳۵/دار الندوة الجدیدة بیروت، زاد المسیر/ ابن جوزی/ج۶/ص۱۹۸/ دارالفکر، سنن الترمذی/ج۵/ص۳۲۸-۳۲۷و ۶۵۶/ دارالفکر، السنن الکبری / بیھقی/ ج۲ / ص۱۴۹/ دارالمعرفة بیروت، سیر اعلام النبلاء/ ذہبی/ج۳/ص۲۵۴و ۲۸۳/ مؤسسة الرسالة بیروت، شرح السنة بغوی/ج۱۴/ص۱۱۶/المکتب الاسلامی بیروت، شواہد التنزبل/ج۲/ص۸۱-۱۴۰/ موسسة الطبع و النشر لوزرارة الارشاد، صحیح ابن حبان/ج۱۵/ص۴۴۲ الٰی ۴۴۳/موسسة الی سالة بیروت، صحیح مسلم/ج۵/ص۳۷/ کتاب الفضائل باب فضائل / مؤسسة عزالدین بیروت، فتح القدیر/ شوکانی/ج۴/ص۳۴۹تا۳۵۰/ دار الکتاب العلمیة بیروت، فرائد السمطین/ جوینی/ج۱/ص۳۶۷/مؤسسة المحمودی بیروت، کفایة الطالب/ص۳۷۱تا۳۷۷/داراحیاء تراث اہل البیت، مجمع الزوائد/ج۹/ص۱۶۶-۱۶۹/دارالکتب العربی بیروت، المستدرک علی الصحیحین /ج۲/ص۴۱۶وج۳/ص۱۴۷/دارالمعرفة بیروت، مسند ابی یعلی/ج۱۲/ ص۳۴۴و۴۵۶/ دار الہامون للتراث، مسند احمد/ج۴/ص۱۰۷وج۶/ص۲۹۲/دارصادر بیروت، مسند اسحاق بن راہویہ/ ج۳/ص۶۷۸/مکتبة الایمان مدینة المنورة، مسندطیالسی/ص۲۷۴/ دارالکتب اللبنانی، مشکل الآثار/ طحاوی/ج۱/ص۳۳۵/دارالباز، المعجم الصغیر/طبرانی/ج۱/ص ۱۳۵/ دارالفکر، المعجم الاوسط/طبرانی/ج۲/ص۴۹۱/ مکتبة المعارف ریاض، المعجم لکبیر/طبرانی/ ج۲۳/ ص۲۴۵و۲۸۱و ۲۸۶و ۳۰۸و۳۲۷و۳۳۰و۳۳۳و۳۳۴و۳۳۷و۳ ۵۷و۳۹۳و۳۹۶، المعرفة و التاریخ بسوی/ ج۱/۳۹۸، المنتخب من مسند عبد بن حمید/ص۱۷۳ و ۳۶۷/عالم الکتب قاہرہ مناقب ابن مغازلی/ص۳۰۱-۳۰۲/ المکتبةالاسلامیة
     
  4. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    آپ نے یہ دلیل کہاں سے پکڑی ہے
     
  5. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    اہل تشیع اس ایت کو ایسی پیراے میں دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں

    اگر غلطی ہے تو ضرور نشاندہی کریں مگر ایسا ہوگا نہی کہ غلطی ہو سواے انسانی غلطیوں کے جو سب سے ہوتی ہیں تحریر میں یا الفاظ کے چناو میں جو کہ اردو زبان کی مجبور ی بھی ہے
     
  6. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    برادر ،
    اسلام میں کسی کے سمجھنے سے شریعت نہیں بنتی ،شارع نبی علیہ السلام ہیں اور صاحب قرآن بھی اس لیے جن پر قرآن نازل ہوا کرتا تھا وہی اس کی تشریح بھی کیا کرتے تھے اس لیے جو موقف آپ نے پیش کیا ہے وہ کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتا
     
  7. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    صحیح بخاری
    کتاب فضائل اصحاب النبی
    باب: حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان

    حدیث نمبر: 3751
    حدثني يحيى بن معين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وصدقة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالا أخبرنا محمد بن جعفر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن شعبة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن واقد بن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال قال أبو بكر ارقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم في أهل بيته‏.‏
    مجھ سے یحییٰ بن معین اور صدقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں واقد بن محمد نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی خوشنودی) کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ (محبت و خدمت کے ذریعہ) تلاش کرو۔

    اردو حدیث سرچ انج، صحیح بخاری سے حدیث تلاش کریں۔ صرف چند کلک میں اپنی مطلوبہ حدیث تلاش کریں۔
     
  8. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39

    ٹھیک ہے ایسا ہی ہے مگر اپکی بات صحیح ہے یا قران و سنت کی
    کیونکہ دونوں طرف قرانی آیات کی بات اور احادیث پاک کی بات ہورہی ہے

    اپ یہ بتاینں کہ کیا غلط ہے ؟؟/
    ورنہ جو اپ نےکہا ہے وہی جملہ میں اپکے لیے بھی کہہ سکتا ہے کہ اپکی باتیں غلط ہیں اس وجہ سے کہ اپ نے پوری بات نہی سمجھائی

    اپ نے ابھی تک عام لوگوں کو یہی نہی بتاچلنے دیا کہ یہ آیت تطہیر
    عورتوں سے متعلق ہے ہی نہی بلکہ مردوں کےمتعلق ہے کیونکہ اس میں صیغہ مونث نہی بلکہ مذکر ہے یعنی بات صاف تھی کہ نبی س کے گھر کے مذکر افراد کی بات ہورہی ہے نہ کہ کسی عورت کی
    اور اگر عورت کو شامل بھی رکھا جائے تو وہ مردوں سے زیادہ نہی ہوسکتیں
    یعنی خود رسول اکرم ص کے بعد امام حسن و حسین بھی شمار کیے جائیں جو کہ یقین دیتا ہے کہ
    گھر میں عورتیں ان تین سے بھی کم ہیں تب ہی اللہ نے مردوں سے مخاطب ہوکر ایت قران میں نازل کی


    یا تو اپ جانتے نہی تھے یا پھر چپھایا ۔۔۔دونوں صورتوں میں مجرم ہوئے
     
  9. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    جمہور علماء اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کوتمام اہل بدر اور تمام بیعت رضوان والوں اور مہاجرین و انصار سابقین اولین سے افضل و اشرف سمجھتے ہیں
    اور جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دنیاوی مال و متاع سے بے رغبتی اور زہد کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس میں بھی سب سے آگے ہیں حتٰی کہ زہد کے میدان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر بھی سبقت حاصل ہے اہلسنت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے قتال کرنے والوں کی بجائے ان لوگوں سے ذیادہ محبت رکھتے ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ نہیں کی اہلسنت کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت و موالات رکھنا واجب ہے اہلسنت کے نزدیک حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مظلوم ہیں اور ان کو ظلماً قتل کیا گیا آپ رضی اللہ عنہ مرتبہ شہادت پر فائز ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کے قاتل ظالم اور جابر ہیں جس کسی نے بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں حصہ لیا اس سلسلہ میں باغیوں اور ظالموں کی مدد کی یا اس مجرمانہ اقدام پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا اس پر اللہ تعالٰی کی اس کے فرشتوں کی اور تمام مخلوق کی لعنت ہے اللہ تعالٰی کل قیامت کے دن اس سے کسی قسم کا فدیہ یا عذر قبول نہیں فرمائے گا ۔
     
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    [AR]حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر ـ رضى الله عنهما ـ قال كنا نخير بين الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فنخير أبا بكر، ثم عمر بن الخطاب، ثم عثمان بن عفان رضى الله عنهم‏.‏[/AR]
    ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میںجب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قراردیتے ، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ۔

    تشریح : حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے مذہب جمہور کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فضیلت حاصل ہے۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے اور خلف میں سے بھی اکثر نے یہی کہا ہے۔ بعض محققین ایسا بھی کہتے ہیں کہ خلفاء اربعہ کو باہم ایک دوسرے پر فضیلت دینے میں کوئی نص قطعی نہیں ہے، لہذا یہ چاروں ہی افضل ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تمام صحابہ میں یہ چاروں افضل ہیں اور ان کی خلافت جس ترتیب کے ساتھ منعقد ہوئی اسی ترتیب سے وہ حق اور صحیح ہیں اور ان میں باہم فضیلت اسی ترتیب سے کی جاسکتی ہے۔ بہر حال جمہور کے مذہب کو ترجیح حاصل ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دوسرے صحابہ پر فضیلت کا بیان


    الحمدللہ ہمیں سب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت ہے۔ الحمدللہ ہم کسی سے بغض نہیں رکھتے، کسی کو گالی دینا تو دور کی بات، کسی کو گالی دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ الحمدللہ، الحمدللہ۔
     
  11. علی....Ali

    علی....Ali -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 17, 2009
    پیغامات:
    39
    مجھے سمجھ نہی آتا اپ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ص کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر ر تھے
    جبکہ ثقیفہ میں ان کے والد نے پوچھا کہ ان کو یعنی ابو بکر ر کو خلیفہ کیوں بنارہے ہیں تو بتایا گیا کہ یہ سب سے بزرگ ہیں اس لیے
    حضرت ابو قحافہ ،،،، حضرت ابوبکر ر کے والد نے کہا بوڑھا ہونے کی وجہ سے بنایا جارہاہے تو پھر میں تو اس سے زیادہ بوڑھا ہوں کیونکہ میں اس کا باپ ہوں ۔ ۔ ۔ ۔


    خیر یہ تو تھی ایک تاریخ پر ہلکی سی نظر ۔ ۔ ۔

    اگر حضرت عمر ر سے رسول اکرم ص نے کہا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ر ہوتا
    یہ حدیث اپ صحح ماننے ہیں
    تو پھر اپ یا تو رسول اکرم ص کی بات کا انکار کرتے ہیں یا پھر یہ بات تھی ہی نہی
    کیونکہ اگر ایسی بات ہوتی تو پھر اپ یہ نہ کہتے کہ حضرت ابو بکر ر سب سے افضل ہیں
    بلکہ یہ کہنا چاہیے تھا کہ چونکہ حضرت عمر ر کو رسول اکرم ص نے کہا تھا کہ اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ر ہوتا
    اس لیے سب سے افضل حضرت عمر ر ہوے نہ کہ کوئی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  12. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    میں نے جو تحریر یہاں پوسٹ کی ہے آپکی پوسٹ پڑھ کر مجھے لگا کہ آپ ان خیالات سے متفیق نہیں ہیں
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں