فتح البارى از حافظ ابن حجر رح سے قاضى بدر الدين عينى رح كى بلاحواله نقل

ابن داود نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 11, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

    قاضی محمود بن احمد بدرالدین حنفی، جو حافظ ابن حجر کا ہم عصر بلکہ رشتہ دار تھا، نہایت متعصب شخص تھا، جس پر مولوی عبدالحی حنفی مرحوم کو بھی کہنا پڑا کہ:[qh]"لو لم يكن فيه رائحة التعصب المذهبي لكان أجود و أجود " (الفوائد البهية :۷۶ )[/qh]
    "اگر اس میں مذہبی تعصب کی بو نہ ہوتی، تو نہایت عمدہ شخص تھا۔"

    جب حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری کی تالیف شروع کی، تو عینی کو نہایت حسد ہوا، لیکن خود فن حدیث میں اتنی استعداد نہیں رکھتا تھا کہ حدیث اور خصوصاً بخاری کی شرح لکھے، حافظ کے ایک معمولی شاگرد برہان بن خضر نامی کو ساٹ کر فتح الباری کے اجزاء منگواتا اور زیادہ تر اس سے اور کچھ رکن الدین احمد محمد قریمی کی شرح سے چرا کر عمدۃالقاری شرح بخاری تیار کرتا، جیسا کہ ملا کاتب چلپی لکھتے ہیں:
    [qh]واستمد فيه من فتح الباري بحيث ينقل منه الورقة بكمالها، و كان يستعيره من البرهان بن خضر، وتعقبه في مواضع ، وطوله بما تعمد الحافظ ابن حجر حذفه من سياق الحديث بتمامه ..... الخ[/qh]
    (كشف الظنون ١/ ٣٦٧ مصرى ) (كشف الظنون ۱/ ۵۴۱

    " اور عینی نے اپنی شرح میں فتح الباری سے مضامین لئے ہیں، اس طرح پر کہ سارے ورق کی پوری طورسے نقل کی ہے اور فتح الباری برہان الدین بن خضر کے ذریعہ سے ہوتھ لگتی تھی، عینی نے اپنی شرح میں (بوجہ منافرت و معاصرت) فتح الباری پر بعض جگہ تعاقب کیا ہے، جس کو حافظ ابن حجر نے قصداً حذف کردیا تھا، اس کو بیان کرکے مضمون کو طول دےدیاہے۔"

    فتح الباری سے نقل کرنا میع تو نہیں، لیکن عینی کا منقول عنہ کا حوالہ دینا ضروری تھا، بخلاف اس کے عینی فتح الباری کا ذکرتک نہیں لاتے۔ علاوہ بریں ملا چلپی نے ایک حکایت نقل کی ہے کہ بعض فضلاء نے حافظ ابن حجر سے کہا کہ عینی کی شرح نوادرات میں آپ کی شرح سے ترجیح لے گئی، تو حافظ نے اس وقت فرمایا:
    [qh]هذا شيء نقله من شرح لركن الدين، وقد كنت و قفت عليه قبله، ولكن تركت النقل منه لكونه لم يتم، إنما كتب منه قطعه ... إلى قوله: ولذا لم يتكلم العيني بعد تلك القطعة بشيءٍ من ذالك ... انتهى [/qh]
    (كشف الظنون ۱/ ۳۶۸(
    عینی نے سب کچھ رکن الدین کی شرح سے نقل کیا ہے، جس پر میں پہلے ہی سے واقف تھا، لیکن چونکہ وہ شرح پوری نہ تھی، اس لئے میں نے اس سے کچھ نقل نہیں کیا (اور نہ مجھے ضرورت ہے) رکن الدین نے تو صرف ایک ٹکڑا کی شرح لکھی تھی اسی وجہ سے اس ٹکڑے کے بعد عینی کچھ نہ لکھ سکے۔"

    معلام ہوا کہ اگر فتح الباری بھی تکمیل کو نہ پہنچتی، تو عینی کی شرح بھی ناتمام رہ جاتی، چہ جائیکہ عینی کو حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ کا مرہون منت ہونا چاہئے تھا، لیکن ہم زمانہ ہونے کی وجہ سے ایسی منافرت ہوئی کہ حافظ پر ہاتھ چھوڑ دیا اور جس سے مضمون لیا اسی پر اعتراض کر دیا۔ اسی کو کہتے ہیں جس برتن میں کھائے اس میں سوراخ کرے!

    اقتباس بحوالہ: دفاع صحیح بخاری ۔ حل مشکلات بخاری از شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    حافظ عینی پر سرقہ کے الزام کی حقیقت

    ابن داؤد نے ایک مراسلہ پوسٹ کیاہے جو کسی مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی کاہے، موصوف کاعلمی حدود اربعہ کیاہے ہمیں نہیں معلوم ،لیکن زیر نظرمضمون سےمضمون نگار کی بے تحاشاعلمی قابلیت آشکاراہورہی ہے۔ویسے رمضان کا مبارک مہینہ اس قسم کے مسلکی جھگڑوں کیلئے قطعاًمناسب نہیں لیکن مضمون نگار نے اپنے مضمون میں جو خیانتیں کی ہیں اس کی بناء پر ضروری محسوس ہواکہ ان مغالطات کو واضح کیاجائے۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہ مضمون خود اس کاحقدار ہے کہ اسے علمی خیانت میں شامل کیاجائے۔ جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔اس سے پہلے کچھ باتیں۔
    مصنف کے طرز تحریر سے صاف معلوم ہورہاہے کہ وہ احناف کے خلاف سخت تعصب میں مبتلاہیں اورتنکابھی انہیں شہتیر دکھائی دے رہاہےاورحافظ بدرالدین عینی کو کم علم اورجاہل سمجھاہےاوریہ گمان کیاہے کہ اگرحافظ ابن حجرفتح الباری نہ لکھتے توحافظ بدرالدین عینی میں بذات خود اتنی قابلیت نہیں تھی کہ وہ بخاری کی شرح لکھ سکتے ۔
    قاضی محمود بن احمد بدرالدین حنفی، جو حافظ ابن حجر کا ہم عصر بلکہ رشتہ دار تھا، نہایت متعصب شخص تھا، جس پر مولوی عبدالحی حنفی مرحوم کو بھی کہنا پڑا کہ:"لو لم يكن فيه رائحة التعصب المذهبي لكان أجود و أجود " (الفوائد البهية :۷۶ )
    "اگر اس میں مذہبی تعصب کی بو نہ ہوتی، تو نہایت عمدہ شخص تھا۔"

    حافظ بدرالدین عینی کے بارے میں یہ مضمون نگارلکھتاہے نہایت متعصب شخص تھا اورثبوت کے طورپر علامہ لکنوی کا حوالہ پیش کیاہے۔علامہ لکنوی کے قول کا ترجمہ تو اس نے صحیح کیاہے کہ اگراس میں مذہبی تعصب کی بونہ ہوتی تو نہایت عمدہ شخص تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مضمون نگار نے یہاں پر خیانت کی ہے۔کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے اندر مذہبی تعصب کی بوہے،اس سے ہمیشہ یہ مراد لیاجاتاہے کہ اس کے اندرخفیف ساتعصب ہے اگریہی لکھناہو کہ نہایت متعصب تھا تواس کیلئے دوسرے الفاظ ہیں،کسی کے بارے میں کسی صفت بیان کرکے کے لکھناکہ اس کی بواس میں پائی جاتی ہے یہ مراد ہوتاہے کہ اس کے اندرخفیف اورہلکی سی یہ بات ہے۔لیکن مضمون نگار علامہ لکنوی کے اس حوالہ سے یہ نتیجہ نکالتاہے کہ نہایت متعصب شخص تھا۔
    جب حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری کی تالیف شروع کی، تو عینی کو نہایت حسد ہوا، لیکن خود فن حدیث میں اتنی استعداد نہیں رکھتا تھا کہ حدیث اور خصوصاً بخاری کی شرح لکھے، حافظ کے ایک معمولی شاگرد برہان بن خضر نامی کو ساٹ کر فتح الباری کے اجزاء منگواتا اور زیادہ تر اس سے اور کچھ رکن الدین احمد محمد قریمی کی شرح سے چرا کر عمدۃالقاری شرح بخاری تیار کرتا، جیسا کہ ملا کاتب چلپی لکھتے ہیں:
    حقیقت یہ ہے کہ مضمون کایہی ٹکرااس مضمون کو علمی خیانت کا شاہکار بنارہاہے۔اولاتو مضمون نگار نے یہ دعویٰ کیاہے کہ جب حافظ ابن حجر نے فتح الباری کی بخاری لکھنی شروع کی تو عینی کونہایت حسد ہوا۔اس کی فاضل مضمون نگار کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اورنہ میں نے یہ بات کہیں اورکسی تذکرہ وغیرہ میں دیکھی ہے ۔حافظ عینی نے خود ہی لکھاہے کہ جب وہ شمال مصر کے بعض علاقوں میں بخاری شریف لے کر گئے تووہاں انہیں بخاری شریف کے شرح وایضاح کے تعلق سے بعض نوادرات ملے جس کی وجہ سے انہوں نےبخاری شریف کی شرح لکھنے کاارادہ کیا۔
    میں واقعتایہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ سیف بنارسی نے کیوں اورکس طرح یہ الفاظ لکھاکہ

    اس مضمون میں اس نے ایساالزام عائدکیاہے جو اس سے پہلے کسی بھی قابل ذکر مصنف نے نہیں کئے اوراس پر طرہ یہ ہے کہ اس مضمون مین کشف الظنون کاحوالہ دینے میں بڑی خیانت کی ہے جس سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ مضمون نگار نہ صرف یہ کہ حافظ عینی کے احوال وسیرت سے ناواقف ہے بلکہ سخت خائن بھی ہے۔ثبوت دیکھئے۔اس مضمون نگار نے کشف الظنون کاحوالہ دیاجس میں لکھاتھا
    جب کہ کشف الظنون کی اصل عبارت ہے
    واستمد فیہ من فتح الباری بحیثیت ینقل منہ الورقۃ بکمالھا وکان یستعیرہ من البرہان بن خضر باذن مصنفہ لہ وتعقبہ في مواضع ، وطولہ بما تعمد الحافظ ابن حجر حذفہ من سياق الحديث بتمامہ
    (کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون،داراحیاء التراث العربی بیروت،لبنان المجلدالاول،314)
    جیساکہ دیکھاجاسکتاہے کہ کشف الظنون کی عبارت میں باذن مصنفہ کاجو اہم لفظ تھا اس کوحذف کردیا اورپھر لگے امام عینی پر طعن وتشنیع کرنے کہ انہوں نے حافظ ابن حجر کے ایک شاگرد کو ساٹ لیا اورحافظ کی کتاب سے چوری کرکے لکھنے لگے۔حقیقت یہ ہے کہ اس مضمون نگار نے باذن مصنفہ کالفظ حذف کرکے اپنی خیانت کا انتہائی واضح ثبوت پیش کردیاہے
    مضمون نگار کی یہ خیانت دیکھ کر دلاورفگار کا ایک شعر یاد آگیا۔
    جومطلب کی عبارت تھی اسے پنجوں سے گھس ڈالا
    کبوترلے کے آیاہے میرے خط کا جواب آدھا
    لگتاہے کہ مضمون نگار نے عمدۃ القاری کی جانب قطعی رجوع نہیں کیاہے اوراپنے علماء کی تقلید کرتے ہوئے یہ لکھ مارا۔یہ صحیح ہے کہ نام نہیں لیاہے لیکن بسااوقات قال بعضھم کہہ کہ حافظ ابن حجر کی جانب اشارہ کیاہے اوریہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔آخر امام بخاری نے بھی تواحنا ف کے سلسلہ میں قال بعضھم کہہ کرہی اشارہ کیاہے اگرچہ اس سے صرف احناف ہی مراد نہیں ہیں جیساکہ کشف الالتباس میں مذکور ہےاسی طرح امام ترمذی بھی امام ابوحنیفہ کانام لئے بغیر صرف اشارہ سے ان کاذکرکرتے ہیں،امام محمد بن نصرالمروزی اپنی کتاب اختلاف العلماء میں ایک جگہ بھی احناف کانام نہیں لیاہے ہرجگہ بعض اہل الکوفہ یااہل الرای کا نام لیاہے۔اگراشارتاذکر کرناعیب ہے توپھران حضرات کے بارے میں کیاارشاد ہوتاہے۔
    علاوہ بریں ملا چلپی نے ایک حکایت نقل کی ہے کہ بعض فضلاء نے حافظ ابن حجر سے کہا کہ عینی کی شرح نوادرات میں آپ کی شرح سے ترجیح لے گئی، تو حافظ نے اس وقت فرمایا:
    حقیقت یہ ہے کہ اس عبارت کا بھی صحیح مطلب سمجھناچاہئے۔حافظ ابن حجر نے پوری فتح الباری میں ایک ہی انداز برقرارکھاہے جوشرح وایضاح کا انداز ابتداء میں تھا وہ آخر میں بھی ہے برخلاف حافظ عینی کےشروع میں توبہت مطول ہے آخر میں اختصار ہے۔اگرکوئی شرح مکمل نہیں ہے لیکن اس کی نسبت اس کے مصنف کی جانب صحیح ہے توپھراس سے اخذ کرنے میں کیاحرج ہے۔حافظ نے نہیں کیاوہ انکا اپنانقطہ نظر ہے ،حافظ عینی نے لیاہے وہ ان کی اپنی رائے ہے۔پھر مضمون نگار کا یہ لکھناکہ اس ٹکرے کے بعد عینی کچھ نہ لکھ سکے،کیامراد ہے اپنی شرح ختم کردی اورلکھنابند کردیا۔ظاہر سی بات ہے کہ اگرکوئی ناتمام شرح سے اخذ واستفادہ کرتاہے توجہاں تک وہ شرح ساتھ دیتی ہے وہیں تک استفادہ کرے گا۔ویسے بھی رکن الدین کی شرح نامکمل ہے حافظ عینی کی شرح تونامکمل نہیں اوریہی بات یہ کہنے کیلئے کافی ہے کہ مکمل طورپر رکن الدین کی شرح سے استفادہ نہیں کیاہے۔ویسے اس جاہل مضمون نگار کو معلوم ہوناچاہئے کہ حافظ عینی شاگرد ہیں حافظ علاء الدین مغلطائی کے جنہوں نے خود بخاری کی ایک شرح لکھی تھی جیساکہ خود کشف الظنون میں مذکور ہے ۔
    یہ بھی اس مضمون نگار کااپناجاہلانہ استنباط ہے ۔جس نے بھی عمدۃ القاری پر کچھ لکھاہے وہ جانتاہے کہ عمدۃ القاری لکھنے کا ایک ایک بڑامحرک حافظ عینی کایہ بھی تھاکہ حافظ ابن حجر نے اپنی شرح میں جہاں جہاں احناف پراعتراضات کئے ہیں اس کے جوابات دیئے جائیں۔اوراسی وجہ سے وہ ابن خضر سے حافظ ابن حجر کی اجازت سے فتح الباری کے تیارشدہ ورق منگاتے اورجہاں جہاں ابن حجر نے احناف پراعتراضات کئے ہیں اس کاجواب دیتے یاجہاں کہیں انہیں لگتا کہ حافظ کی بات غلط ہے توپھر حافظ پر رد کرتے ہیں۔اس کو اس سے تعبیر کرنا کہ جس برتن میں کھائے اس میں سوراخ کرے یہ بات تومضمون نگار پر زیادہ طورپر صادق آرہی ہےویسے بھی مضمون نگار نے جو خیانت کی ہے اس کے بعد اس کی علمی حیثیت ہی مشتبہ ہوچکی ہے۔
    حافظ ابن حجر کی فتح الباری اورحافظ عینی کی عمدۃ القاری کے بارے میں بہترین محاکمہ علامہ انورشاہ کشمیری نے کیاہے اوراس سلسلے میں عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیاہے دیکھئے ان کی رائے اس بارے میں یہ ہے۔
    فمن شروح الحنفیہ شرح للحافظ قطب الدین الحلبی وشرح للحافظ علاء الدین المغلطائی وشرح للحافظ العینی والموجود فی ایدینا ھوالاخیر فقط ،ومن احسن شروح الشافعیۃ فتح الباری الحافظ الدنیا المشہور بابن حجر العسقلانی وکان شرحی العینی والحافظ صارا مسندین لمن شرحہ بعدھما کالخیرالجاری الملامحمدیعقوب وکالقسطلانی ثم شرح الحافظ افضل الشروح باعتبار صنعۃ الحدیث والاعتبار وحسن التقریر واتساق النظم وبیان المراد،واماشرح العینی فاحسنہا للالفاظ شرحا واتمہاتفسیراواکثرھا لنقول الکبارجمعا لکنہ منتشر لیس فی اتساق النظم کالحافظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وشرح الحافظ مقدم علی شرح العینی
    وھذاالشرح قد بلغ الی العینی باجازۃ مصنفہ فلمارای تعقباتہ علی الحنفیہ تعقب فی شرحہ علی الحافظ فی غیرواحد من المواضع ،فلما بلغ شرحہ الی الحافظ رضی اللہ عنہ،صنف لجوابہ کتاباآخرسماہ انتقاض الاعتراض وقدرایت نسخۃ خطیۃ فجمع فیہ جمیع اعتراضات العینی رضی اللہ عنہ واجاب عن بعضھا وترک الجواب بعضھابیانا فدل علی تحیرہ فی جوابہ وحیثماارادالجواب لم یشدد فی الکلام ولاریب انہ قد اجاب عن بعضھا جواباشافیا الاان الحافظ رضی اللہ عنہ لم یتاخر الی اتمامہ حتی ضرب علیہ بالرحیل وھناک شروح اخر کلہاکالعیال لھذین الشرحین
    فیض الباری جلد1ص64[/color

    آخر میں کچھ مزید وضاحتیں۔
    کچھ لوگ جیساکہ میں پہلے بھی لکھ چکاہوں اس سرزمین پر ایسے بھی پائے جاتے ہیں جن کاایک نکاتی مشن بغض احناف ہوتاہے اوریہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتاہے لیکن بات وہی ہے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا
    اس جاہل مضمون نگار نے محض اپنے ذہنی تصورات اورکشف الظنون کی عبارت میں قطع وبرید کرکے جس طرح حافظ عینی پر کیچڑ اچھالاہے وہ ان کے قابلیت کی منتہاتوہے ہی لیکن اسی کے ساتھ یہ وضاحت کرناضروری ہے کہ حافظ ابن حجر اورحافظ عینی دونوں میں معاصرت تھی اوراسی نتیجہ میں ایک گونہ منافرت اورمنافست بھی تھی جس کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے پرچوٹیں کرتے رہتے تھے جو کہ کتب سیروسوانح میں مذکور ہیں ۔اگرحافظ ابن حجر بذات خود بھی یہ دعوی کرتے یاحافظ سخاوی جوحافظ ابن حجر کے خاص شاگرد ہیں یاکوئی دوسرا شخص اگرلکھے کہ حافظ عینی کی عمدۃ القاری فتح الباری سے ماخوذ ہے توبھی ایک طالب علم کیلئے زیبانہیں ہے کہ وہ فوراًاس کا ڈھنڈوراپیٹنے لگے ۔ایک طالب علم کی نمایاں خصوصیت اس کی تفتیش،تحقیق اورجستجو ہوتی ہے اورپورے مسئلہ کے مالہ وماعلیہ پرغورکرناہوتاہے اگرمحض یہ بات کسی کو علمی سرقہ کاملزم بنانے کے لئے کافی ہوکہ فلاں نے دعویٰ کیاہے کہ فلاں نے جوکتاب لکھی ہے وہ سرقہ ہے توپھر متقدمین میں ہمیں ایسے کئی حوالے ملتے ہیں توکیاان کی بنیاد پر ان کو بھی متہم کیاجائے گا۔
    امام دارقطنی کی جلالت شان مسلم ہے ان کے سامنے ایک مرتبہ جب صحیحین کا ذکر چھڑاتوانہوں نے صاف کہہ دیاکہ امام مسلم کا کام ہی کیاہے انہوں نے بس بخاری کو لیا اوراسمیں کچھ حذف واضافہ کردیا۔
    ذکرالحافظ ابن حجر فی النکت 1/285عن الدارقطنی انہ قال فی کلام جری عندہ فی ذکر الصحیحین ''وای شیء صنع مسلم انمااخذ کتاب البخاری ،وعمل علیہ مستخرجا وزاد فیہ زیادات''وھذاالمحکی عن الدارقطنی جزم بہ ابوالعباس القرطبی فی اوکل کتابہ المفھم فی شرح صحیح مسلم۔(الارشاد فی معرفة علماء الحدیث ص963)
    کیامحض امام دارقطنی کے امام مسلم پر اس کلام کی وجہ سے کوئی امام مسلم کو علمی سرقہ اورعلمی خیانت کامرتکب قراردے گا۔بلکہ خود غوروفکر کرے گا اوردیکھے گا کہ امام دارقطنی کے اس کلام میں کتنی صداقت ہے اورجوبات وہ کہہ رہے ہیں وہ کتنی قابل قبول ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ احناف کے تعصب میں اس قدر مبتلاہیں کہ جہاں کسی نے کوئی بات امام ابوحنیفہ کے خلاف لکھ دی تواچھلنے لگے،یاکسی حنفی عالم کے خلاف کوئی بات مل گئی توشورمچانے لگے بجائے اس کے کہ تحقیق کریں اوردیکھیں کہ کیاصحیح اورکیاغلط ہے۔
    امام ابوزرعہ اورابوحاتم فن جرح وتعدیل اورحدیث کے امام ہیں ان پر امام ابواحمد الحاکم الکبیرنے صاف اورواضح الفاظ میں الزام لگایاہے کہ ان دونوں کی "الجرح والتعدیل"امام بخاری کی "التاریخ الکبیر"کاسرقہ ہے۔بس نام ان دونوں نے اپنالگالیاہے۔دیکھئے ان کے اپنے الفاظ ہیں۔
    عن ابی احمد الحاکم انہ ورد الری ،فسمعھم یقرئوں علی ابن ابی حاتم الجرح والتعدیل ،قال فقلت لابن عبدویہ الوراق ''ھذہ ضحکۃ ،اراکم تقرئون کتاب التاریخ للبخاری علی شیخکم وقد نسبتموہ الی ابی زرعہ وابی حاتم؟
    فقال:یاابااحمد ان ابازرعۃ واباحاتم لماحمل الیھما تاریخ البخاری ،قالا ھذا علم لایستغنی عنہ،ولایحسن بنا ان نذکرہ عن غیرنا،فاقعدا عبدالرحمن یسالھما عن رجل بعد رجل وزاد فیہ ونقصاالخ(سیر اعلام النبلاء 16/373و تذکرۃ الحفاظ 3/978)

    ابواحمد الحاکم کہتے ہیں کہ جب وہ ری (شہر کانام)آئے توانہوں نے پایا کہ ابن ابی حاتم پر الجرح والتعدیل کی سماعت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عبدویہ الوراق سے کہاکہ یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ تم بخاری کی التاریخ اپنے شیخ پر پڑھتے ہو،اوراس کتاب کو ابوزرعہ اورابوحاتم کی جانب منسوب کرتے ہو۔تواس نے کہااے ابواحمد! جب ابوزرعہ اورابوحاتم تک بخاری کی تاریخ پہنچی تو ان دونوں نے کہاکہ یہ ایساعلم ہے جس سے بے نیاز نہیں ہواجاسکتا اوریہ بھی مناسب نہیں ہے کہ اس کو ہمارے علاوہ کے نام سے جاناجائے توان دونوں نے عبدالرحمن(ابن ابی حاتم) کو بٹھایاوہ ان دونو ں سے یکے بعد دیگر مختلف رجال حدیث کے بارے میں سوال کرتے اوراس میں ان دونوں نے کچھ زیادتی اورکمی کی(یعنی التاریخ الکبیر میں)
    یہی الزام ابوزرعہ اورابوحاتم پر حافظ ابویعلی الخلیلی نے اپنی تصنیف "الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث"میں بھی لگایاہے چنانچہ وہ کہتے ہیں
    منھم من اخذ کتابہ (التاریخ الکبیر)فنقلہ بعینہ الی نفسہ کابی زرعہ وابی حاتم ،فان عاند الحق معاند فیماذکرت فلیس یخفی صورۃ ذلک علی ذوی الالباب
    الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث ص964)

    بعض وہ ہیں جنہوں نے التاریخ الکبیر کو اپنی جانب سے منسوب کرلیا جیسے کہ ابوزرعہ اورابوحاتم ،کوئی سرکش اس بات کا انکار کرسکتاہے جس کا میں نے ذکر کیالیکن عقل مندوں پریہ پوشیدہ نہیں ہے۔دیکھ سکتے ہیں کہ حافظ ابویعلی توصاف کہہ رہے ہیں ابوحاتم اورابوزرعہ کے امام بخاری کی التاریخ الکبیر سے سرقہ کرنا اتنی واضح بات ہے کہ اس کا انکار کوئی سرکش اورمعاند حق ہی کرسکتاہے
    جیساکہ دیکھاجاسکتاہے کہ وہ تواس حد تک قائل ہیں کہ اس کا انکار کوئی معاند ہی کرسکتاہے ۔
    حد تویہ ہے کہ یہ الزام یعنی التاریخ الکبیر کاسرقہ کرنا،حافظ خطیب بغدادی نے بھی لگایاہے لیکن وہ اسکیلئے ابوزعہ اورابوحاتم کے بجائے ابن ابی حاتم کو موردالزام ٹھہراتے ہیں جیساکہ وہ کہتے ہیں
    من العجب ان ابن ابی حاتم اغارعلی کتاب البخاری ونقلہ الی کتابہ فی الجرح ووالتعدیل وعمدالی ماتضمن من الاسماء ،فسال عنھا اباہ وابازرعہ،ودون عنھماالجواب فی ذلک(موضح اوہام الجمع والتفریق1/7-8)
    ان سب کے بارے میں کیافرمائیں گے سیف بنارسی ۔کیاوہ ان نقولات کی روشنی میں ابوزرعہ ابوحاتم اورابن ابی حاتم کو سرقہ کا متہم قراردیں گے ۔نہیں نا۔بلکہ اس کی مناسب تاویل وتوجیہہ کریں گے اوریہی مناسب بھی ہے توایسی ہی تاویل وتوجیہہ احناف کے بارے میں بھی لکھتے وقت پیش نظررہناچاہئے اوربطور خاص اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ ارشاد یاد رکھناچاہئے۔
    لایجرمنکم شناٰن قوم علی ان لاتعدلوا،اعدلو اھواقرب للتقوی
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 13, 2010
  3. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
    يہ مباحث اس موضوع سے منتقل كيے گئے۔ بحث جارى ركھیے ۔

    اگر آپ رد لكھنے سے پہلے اردو مجلس پر ہی تلاش كر ليتے تو آپ كومعلوم ہو جاتا کہ مولانا ابو القاسم سيف بنارسى رحمت اللہ عليہ كون تھے؟ اور ان كا علمى مقام ومرتبہ كيا تھا؟ اسى سے آپ كى بے تحاشا ذہانت و قابليت آشكار ہو رہی ہے !
    مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ اور تحریکِ پاکستان - URDU MAJLIS FORUM
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    میں پہلے بھی کہہ چکاہوں مجھے اپنے الفاظ پراصرارنہیں ہے اوریہ توصرف ’’جواب آں غزل‘‘ہے اورانتظامیہ چاہے تو دونوں مضامین میں قابل اعتراض جملوں کو حذف کرسکتی ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ زیادہ بہترہوگا۔
     
  5. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    طحاوی صاحب آپ نے جو اندھی تقلید کی عینک پہن رکھی ہے اسے اتاریں گے تو کچھ نظر آئے گا
     
  6. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب! ماشاءاللہ اس بار آپ کی تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اس بار آپ نے میرے مراسلہ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اور امید ہے کہ آئندہ بھی اسی طرز پر جواب ارسال کرتے رہیں گے۔
    الطحاوی صاحب!
    ما اہلحدیثیم دغا را نشاناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست​
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔

    الحمدللہ! آپ نے عینی حنفی کے متعصب ہونے کا اقرار تو کر ہی لیا۔ آپ کو عینی حنفی "انتہائی متعصب" ہونے پر اشکال ہے۔انشاءاللہ وہ بھی دور ہو جائے گا۔ لیکن ایک دشواری ہے ، وہ کہتے ہیں کہ :
    چو بشنوی سخن اهل دل مگو کہ خطاست
    سخن شناس نئی دلبرا خطا اینجاست​

    شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کا عینی کو "انتہائی " متعصب کہنے کی بنیاد مولوی عبدالحی حنفی کا عینی کے متعلق مندرجہ ذیل قول نہیں جیسا کہ آپ گمان کئے ہوئے ہیں۔

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"لو لم يكن فيه رائحة التعصب المذهبي لكان أجود و أجود "[/font]
    "اگر اس میں مذہبی تعصب کی بو نہ ہوتی، تو نہایت عمدہ شخص تھا۔"
    بلکہ اس کی شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کا عینی کو "انتہائی " متعصب کہنے کی بنیاد عینی حنفی کی تحریریں ہیں۔ جس میں سے ایک عمدۃالقاری ہے۔ شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ نے عینی حنفی کو ان کی تحریرات کی بنیاد پر ہی "انتہائی " متعصب لکھا ہے۔ اور مولوی عبدالحی حنفی کا قول یہ بتلانے کو نقل کیا ہے کہ عینی حنفی اس قدر متعصب تھا کہ ان کے حنفی علماء کوبھی اس کی تحریر سے تعصب کی بو محسوس ہوتی ہے۔ الطحاوی صاحب انشاءاللہ اب بات واضح ہو گئی ہو گی۔ عینی حنفی کے انتہائی تعصب کا نمونہ انشاءاللہ آگے ذکر ہو گا ۔

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]واستمد فیہ من فتح الباری بحیثیت ینقل منہ الورقۃ بکمالھا وکان یستعیرہ من البرہان بن خضر باذن مصنفہ لہ وتعقبہ في مواضع ، وطولہ بما تعمد الحافظ ابن حجر حذفہ من سياق الحديث بتمامہ
    (کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون،داراحیاء التراث العربی بیروت،لبنان المجلدالاول،314)
    کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون،داراحیاء التراث العربی بیروت،لبنان المجلدالاول
    [/font] میں عبارت اسی طرح ہے جیسا کہ آپ نے نقل کی مگر صفحہ ۳۱۴ پر نہیں بلکہ ۵۴۸ پر۔ (خیر ایسا تو ہو جاتا ہے کبھی انسان pdf کے صفحہ نمبر کو کتاب کا صفحہ نمبر سمجھ بیٹھتا ہے۔ )
    الطحاوی صاحب! اس عبارت میں "باذن مصنفہ لہ" شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کے بیان کردہ مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ نے یہ نہیں کہا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شرح اپنے شاگردوں کے علاوہ باقی تمام سے چھپائے رکھتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری لکھی ہی اس لئے تھی کہ لوگ اس سے استفادہ کریں۔ ہاں اعتراض یہ ہے کہ اس سے ورق در ورق لکھ کر کوئی اپنے نام سے منسوب کر لے تو بالکل یہ عیب کی بات ہے۔
    آپ کا ایک نکتہ عینی حنفی کی علمی قابلیت باور کرانا ہے۔ الطحاوی صاحب!
    انتہائی متعصب مقلد بھی ہونا اور علمی قابلیت کا حامل بھی ہونا ۔۔۔۔ایں خیال است و محال است و جنوں

    اب اخیرمیں آپ کو عینی حنفی کی "علمی قابلیت"کےچند نمونے پیش کرتا ہوں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آیا عینی حنفی میں اتنی "علمی قابلیت"تھی کہ فتح الباری کی تکمیل کے بغیر عمدۃالقاری کی تکمیل کرپاتے!!!
    میں انشاءاللہ! شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کی کتاب دفاع صحیح بخاری سے ہی بیان کرتا ہوں، اور اصل کتاب سے عبارت بھی درج کئے دیتا ہوں کہ تا کہ آپ پر یہ بھی ظاہر کر دیا جائے کہ شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کوئی نئی بات نہیں لکھ رہے، بلکہ یہ تمام باتیں پہلے سے کتابوں میں درج ہیں ۔ مگر آپ ان کتابوں سے خائف ہیں۔ جیسا کہ آپ نے نعمان بن ثابت ابوحنیفہ کے عیوب سے چشم پوشی کی ہوئی ہے۔
    ۱:۔ حافظ ابن حجر کے عہد میں سلطان وقت نے جب مدرسہ مؤیدیہ بنوایا، تو اس کے میناروں میں سے برج شمالی کی مینار جھک کر گرنے کے قریب ہوئی، سلطان نے اس کو گرا کر اسی وقت دوسری نئی تیار کرنے کا حکم دیا، اس کے نیچے عینی صاحب بیٹھے درس میں مشغول تھے، حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے فی البدیہہ ایک قطعہ نظم کرکے بادشاہ کو سنایا، جس کا آخری مصرع یہ ہے: " فليس على جسمي أضر من العيني" عینی سن کر بڑے غصہ میں ہوا، لیکن خود تو اتنی استعداد نہ تھی کہ اس رباعی کا جواب دے، ایک مشہور شاعر نواجی کو بلوایا اور اس سے حافظ کےقطعہ کا جواب بنوایا۔

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]يحكى ابن العماد الحنبلى فى كتابه (شذرات الذهب فى أخبار مَن ذهب)وهو يؤرِّخ لأحداث سنة 820 هجرية :وفى أواخرها مالت المأذنةُ التى بنُيت على البرج الشمالى بباب زويلة بمصر من جامع المؤيد ،وكادت تسقط ، واشتد خوف الناس منها وتحوَّلوا من حواليها ،فأمر السلطان بنقضها فنقضت بالرفق إلى أن أمِنوا شرَّها ..فقال ابن حجر العسقلانى :
    لجامع مولانـــــــا المؤيِّـدِ رونـــقٌ ****منارتُـه بالحسنِ تزهو وبالزيـــــن
    تقول وقد مالت عن القصد أمهلوا ***** فليس على جسمى أضرَّ من العين​
    فغضب الشيخ بدر الدين العينى ، وظنَّ أن ابن حجر يعرِّض به ،فاستعان بالنواجى الأبرص ،فنظم له بيتين معرضاً بابن حجر ونسبهما العينى لنفسه ..يقول البيتان :

    منارةٌ كعروسِ الحسن إذ جليت وهدمها بقضـاءِ الله والقــــدر
    قالوا أُصيبت بعين قلتُ ذا غلط ما أوجب الهدم إلا خسَّة الحجر​
    [/font]
    ۲:۔صحیح البخاری کتاب الوصایا میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال : " ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده۔"[/font]
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے پاس کچھ مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنی چاہے تو اسے لائق نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔"

    اس حدیث میں لفظ
    "يبيت"[/size][/font] کے محل اعراب میں شرّحِ حدیث کے دو قول ہیں:
    ۱۔ ایک یہ کہ
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"يبيت"[/font] بتقدیر [font="_pdms_saleem_quranfont"]"أن"[/font] مصدریہ مانافیہ کی خبر ہے۔
    ۲۔ دوسرا یہ کہ
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"يبيت"[/font] صفت ہے، [font="_pdms_saleem_quranfont"]"امرئ"[/font] کی یا [font="_pdms_saleem_quranfont"]"مسلمٌ"[/font] کی۔
    چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ فتح الباری میں فرماتے ہیں:

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]" قوله : ( يبيت ) كأن فيه حذفا تقديره أن يبيت ، وهو كقوله تعالى : ﴿ ومن آياته يريكم البرق ﴾ الآية . ويجوز أن يكون " يبيت " صفة لمسلم وبه جزم الطيبي قال : هي صفة ثانية ،" انتهى[/font]
    " [font="_pdms_saleem_quranfont"]يبيت[/font] کے پہلے أن محذوف ہے، جیسے آیت قرآن [font="_pdms_saleem_quranfont"]﴿ وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ ﴾[/font] میں [font="_pdms_saleem_quranfont"]" يريكم"[/font] کے پہلے [font="_pdms_saleem_quranfont"]" أن"[/font] محذوف ہے اور [font="_pdms_saleem_quranfont"]"يبيت"[/font] صفت ہے [font="_pdms_saleem_quranfont"]"مسلمٌ"[/font] کی، اور یہی طیبی نے کہا ہے کہ یہ صفت ثانیہ ہے۔"

    اب دیکھئے کہ عینی (جو علامہ کہلاتے ہیں!) اس کے متعلق کیا لکھتے ہیں:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]" قوله يبيت ليلتين جملة فعلية وقعت صفة أخرى لامرىء وقال بعضهم يبيت كان فيه حذفا تقديره أن يبيت وهو كقوله ومن آياته يريكم البرق ( الروم 42 ) انتهى قلت وهذا قياس فاسد وفيه تغيير المعنى أيضا وإنما قدر أن في قوله يريكم لأنه في موضع الابتداء لأن قوله ومن آياته في موضع الخبر والفعل لا يقع مبتدأ فيقدر أن فيه حتى يكون في معنى المصدر فيصح حينئذ وقوعه مبتدأ فمن له ذوق من العربية يفهم هذا ويعلم تغيير المعنى فيما قال،" انتهى ( عمدة القاري ۱۴\۲۸)[/font]
    " [font="_pdms_saleem_quranfont"]يبيت[/font] جملہ فعلیہ ہے، [font="_pdms_saleem_quranfont"]امرئ[/font] کی صفت ثانیہ واقع ہوئی ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے پہلے [font="_pdms_saleem_quranfont"]أن[/font] پوشیدہ ہے، جیسے آیت [font="_pdms_saleem_quranfont"]"يريكم"[/font] میں ، (عینی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں، یہ قیاس فاسد ہے، نیز اس میں معنی ٰ بدل جاتا ہے، اور يريكم میں أن اس لئے مقدر ہے کہ مبتدا کی جگہ میں ہے اور ومن آياته خبر (مقدم) ہے، اور فعل چونکہ مبتدا نہیں ہوتا، اس لئے اس سے قبل أن مقدر مانا گیا کہ مصدر کے معنی میں ہوکر اس کا مبتدا ہونا صحیح ہو، جس کو عربیت کا ذوق ہوگا، وہ اس کو خوب سمجھ لے گا اور معنی کے بدل جانے کو سمجھے گا۔"
    سبحان اللہ! عینی کو بھی مذاقِ عربیت کا دعویٰ ہوگیا؟ اے لو مننڈکی کو بھی زکام ہوا، ان کی جو خبر سندھی حنفی نے لی ہے اور اس مذاق عربیت پر جو مذاق اڑایا ہے، وہ لطیفہ ہے، جس کو ہم آگے ذکر کریں گے، انشاءاللہ! ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے دو ترکیبیں لکھی ہیں، وہی ترتیب بدل کر لکھ دی ہے، جن میں ایک کو پسند کیا لیکن منقول عنہ کا ذکر نہیں کیااور دوسری پر حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ کی طرف اشارہ کرکے اعتراض کردیاہے، اور تحقیق نہیں کی کہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]" أن"[/font] مقدر رکھا ہے، وہ دوسری جگہ خاص اس حدیث میں بالتصریح مذکور ہے، چنانچہ سنن نسائی اور ابن ماجہ میں ہے:


    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما حق امرئ مسلم له شيء يوصى فيه أن يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده،"[/font]
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس کچھ مال ہو، اس کو بغیر وصیت کئے دو راتیں بھی گذارنی لائق نہیں۔"
    ان دونوں صحاح کی کتابوں کی روایتوں میں " يبيت" سے پہلے
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]" أن" [/font] صراحتاً موجود ہے اور تيسير الوصول میں بھی [font="_pdms_saleem_quranfont"]" أن"[/font] کی تصریح والی روایت کو نقل کیا ہے، اس سے واضح ہوگیا کہ عینی نے اعتراض کے وقت دیگر روایات کو زیرنظر نہیں رکھا اور حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ کی ترکیب پر بوجہ منافرت و معاصرت اعتراض کر دیاہے۔ جو بالکل غلط ہے۔ ع۔
    میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا!​
    دیگر یہ کہ دوسرے شرّاح حدیث نے اس اعتراض میں قاضی عینی کی موافقت نہیں کی، بلکہ بے طرح تردید کی ہے، ہم صرف ایک عینی کے ہم مذہب کا قول ہی پیش کر تے ہیں، یعنی علامہ سندھی حنفی حاشیہ بخاری، مطبوعہ مصر میں اسی حدیث کی ترکیب میں فرماتے ہیں:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"الفعل أعني يبيت بمعنى المصدر خبر عن الحق إما بتقدير أن أو بدونها ومثله قوله تعالى : {ومن آياته يريكم البرق} وعلى القول بتقدير أي يجوز نصبه كما هو شأن أن المقدرة في جواز العمل والباعث على تأويله بالمصدر أن جملة يبيت لا تصلح أن تكون خبراً عن الحق ولا ضمير فيه يرجع إلى الحق ، ويدل على التأويل رواية النسائي أن يبيت فصرّح بأن المصدرية ، وقول العيني إن التأويل بغير المعنى ولا حاجة إليه ناشىء عن قلة التدبر في المعنى والقواعد ، والعجب أنه قال إن من له ذوق بالعربية يفهم ما ذكره مع أن من له ذوق يشهد ببطلان قوله،" (حاشية السندي على البخاري ۲ \ ۲۳۰ )[/font]

    فعل [font="_pdms_saleem_quranfont"]يبيت[/font] مصدر کے معنی میں ہے، اور حق کی خبر ہے، مصدر اس کو اس سے پہلے [font="_pdms_saleem_quranfont"]أن[/font] مقدر مان کر کہا جائے یا [font="_pdms_saleem_quranfont"]أن[/font] کے سوا، أن کی صورت میں مثل قول خدا [font="_pdms_saleem_quranfont"]" يريكم"[/font] کے ہو گا، اور اس حالت میں [font="_pdms_saleem_quranfont"]يبيت[/font] کو نصب پڑھنا جائز ہوگا، جیسا کہ أن مقدرہ کا عمل ہے اور وجہ کو اس کو بتاویل مصدر ماننے کی یہ ہے کہ [font="_pdms_saleem_quranfont"]يبيت[/font] جملہ فعلیہ خبر نہیں ہو سکتا، نہ اس کی ضمیر حق کی طرف لوٹ سکتی، نیز اس تاویل پر نسائی کی روایت [font="_pdms_saleem_quranfont"]"أن يبيت"[/font] مصرحہ [font="_pdms_saleem_quranfont"]بأن[/font] شاہد و دال ہے اور عینی کا قول کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں ہے، اس سے معنی بدل جاتا ہے، یہ ان کے معنی اور قواعد میں تدبر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، اور تعجب ہے کہ فرماتے ہیں: جس کو عربیت کا ذوق ہوگا وہ اس کو سمجھ لے گا، حالانکہ جس کو ذوق عربیت ہے، وہ اس کے بطلان کہ شہادت دیتا ہے۔"

    الطحاوی صاحب ! اب آپ کے پاس یس کے جواب میں کچھ ہو تو پیش کریں، اور عینی حنفی کی " علمی قابلیت" کا ثبوت پیش کریں۔
    باقی آپ کا محدثین کو مختلف اقوال پیش کرنا ، اس پر تو میں اتنا ہی کہوں گا کہ:

    تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو​
     
  7. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825

    اس کاجواب کہاں ہے بزرگ!اگرمحض کسی کے کہنے سے اورتوارد وتشابہ سے علمی سرقہ ثابت ہوتاہے توپھراسے علمی سرقہ ماننے سے کیوں گریز ہے؟کیایہ دوہرامعیار نہیں ہے؟اورجس آسانی سے آپ نے اس کے جواب سے بچ نکلنے کی کوشش کی ہے وہ قابل دید ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مزید براں یہ کہنے سے کہ
    کام نہیں چلنے والاہے۔
    آپ اپنے "شیخ الاسلام "کے کلام غیرصواب کو دوبارہ بغورپڑھیں اورسمجھیں کہ ان کا الزام کیاہے اورآپ کا جواب کیاہے آپ کے شیخ الاسلام توفرماتے ہیں
    کیایہ جملہ کسی شرح وتوضیح کامحتاج ہے اس لئے خواہ مخواہ کے تکلفات نہ کرتے ہوئے یہ مان لیجئے کہ اپ کے شیخ الاسلام نے کشف الظنون کی عبارت میں قطع وبرید کی ہے جو قطعامناسب نہیں تھاخصوصااس شخص کیلئے جوخود دوسروں کو علمی سرقہ کا الزام دینے چلاتھا۔
    جب کشف الظنون میں باذن مصنفہ لہ کا لفظ لکھاہے توپھر اس کو حذف کرنے اورچھپانے کی کیاضرورت تھی اورکیاعلم وتحقیق کی دنیامیں اس کو جائز سمجھاجاتاہے اورکیاایساکرناصحیح ہے۔امید ہے کہ اس کابھی جواب دینے کی زحمت گواراکریں گے۔
    اورجو دوشعر وغیرہ کے بارے میں لکھاہے حافظ عینی نے اس کے سلسلہ میں‌ کسی سے مددلی تھی تو ذرا اپنی نگاہ وسیع کیجئے اگرچہ حافظ ابن حجر نے یہ الزام لگایاہے مگر چونکہ معاصرت اورمنافرت دونوں کے درمیان تھی اس لئے ان کاایساکہناسمجھ میں آتاہے ورنہ مقریزی ،حافظ سیوطی ابن تغری بردی ابن ایاس الحنفی سبھی نے دوشعروالے بیت کی نسبت حافظ عینی کی جانب ہی کی ہے
    دیکھئے الخطط المقریزیۃ2/328،النجوم الزاہرہ14/75،حسن المحاضرہ2/272،بدائع الزہور2/35
    اوریہ کہناکہ اتنی استعداد نہیں رکھتاتھا۔انتہائی جہالت ہے پہلے حافظ عینی پر لکھی گئی دوچار کتابیں پڑھ لیجئے پھر کچھ بولئے توذرا بہترہوتا ورنہ یونہی وقت ضائع کرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔
    عربی ادب میں حافظ عینی کاکیامقام تھااس بارے میں اجلہ علماء کی رائے دیکھئے
    ابن تغری بردی کہتے ہیں
    کان بارعا فی عدۃ علوم عالما بالفقہ والاصول والنحو والتصریف واللغۃ مشارکا فی غیرھامشارکۃ حسنہ اعجوبۃ فی التاریخ حلوالمحاضرۃ محظوظا عندالملوک الاالملک الظاہر جقمق ،کثیرالاطلاع واسع الباع فی المنقول والمعقول لایسنتقصہ الامغرض قل ان یذکر علم الاویشارک فیہ مشارکۃ حسنۃ(المنہل الصافی3/335)
    حافظ سخاوی لکھتے ہیں۔
    کان اماما عالماعلامۃ عارفا بالتصریف والعربیۃ وغیرھا،حافظ للتاریخ واللغۃ کثیرالاستعمال لھا مشارکا فی الفنون لایمل من المطالعۃ والکتابۃ(الضوء اللامع10/132)
    مشہور مورخ ابن ایاس الحنفی کہتے ہیں۔
    کان علامۃ نادرۃ فی عصرہ عالما،فاضلا ،لہ عدۃ مصفنۃ جلیلۃ وکان حسن المذاکرۃ جید النظم ،صحیح النقل فی التواریخ وکان ریساحشما(بدائع الزہورفی وقائع الدہور2/292)
    احمد بن مصطفی المعروف طاش کبرہ زادہ لکھتے ہیں۔
    وکان اماما،عالما علامۃعارفابالعربیۃ والتصریف وغیرھما،حافظا للغۃ کثیر،کثیرالاستعمال لحواشیھا(مفتاح السعادۃ ومصباح السیادۃ1/265)
    اورجس شاعر سے مدد لینے کا حافظ ابن حجر نے الزام لگایاہے دیکھئے وہی شاعر ان کے وفات پر کیاکہہ کہہ رہاہے۔
    لقد حزت یاقاضی القضاۃ مناقبا
    یقصر عنہا منطقی وبیانی
    واثنی علیک الناس شرقا ومغربا
    فلازلت محمودا بکل لسانی
    (نظم العقیان للسیوطی174)
    اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ عینی کا نظم میں پایہ کمزور ہے اورنثر میں جوجولانی اورروانی ان کے قلم میں ہوتی ہے وہ نظم میں نہیں ہے لیکن یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔"وماعلمنہ الشعر وماینبغی لہ"
    لیکن ایسابھی کمزور اورگیاگزرانہیں ہے کہ وہ دوشعرکاایک بیت بھی نہ کہہ سکیں۔
    حافظ عینی کی عربی ادب میں ایک کتاب ہے جس کانام ہے مقاصدالنحویہ فی شرح شواہد شروح الالفیۃ المعروف "الشواہد"یہ کتاب تاحال عربی ادب کے طالب علموں کیلئے دلیل راہ سمجھی جاتی ہے مزید اس کتاب کے بارے میں اپنے اساتذہ کرام یادیگر افراد سے دریافت کرلیجئے گا۔اوراس کے بعد ذرا اپنے مقولہ کہ
    لیکن خود تو اتنی استعداد نہ تھی کہ اس رباعی کا جواب دے
    ایک بارپھر سے نظرثانی کرلیجئے گااوراپنے علماء کی اندھی تقلید مت کیجئے گابلکہ اصل مصادر کی طرف رجوع کیجئے۔
    فليس على جسمي اضر من العيني
    اسے بھی درست کرلیجئے جہاں تک میراخیال ہے جسمی نہیں حسنی ہے۔


    اس سے توواضح ہورہاہے کہ شیخ سندھی کتنے حق گو اورحق پرست ہیں کہ اپنے مسلک کے علماء پر بھی غلط بات میں تنقید کرنے سے گریز نہیں کی اورآپ کی طرح نہیں کہ "شیخ الاسلام"کی جانب سے اصل عبارت میں کتربیونت اورقطع وبرید ثابت ہونے کے بعد ماننے کے بجائے خواہ مخواہ کی توجیہ کررہے ہیں۔
     
  8. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    مذکورہ بالاپوسٹ کی ساری تفصیلات ’’بدرالدین عینی واثرہ فی الحدیث سے ماخوذ ہیں
     
  9. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب! اس کا جواب سیدھا سادھا ہے جو لکھ بھی دیا گیاہے:
    تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو​
    اگرآپ ان محدثین پر سرقے کو قائل ہیں تو کھل کر یہ اعتراض کیجئے۔ پھر دیکھئے کہ ہم آپ کو اس کا کیسا جواب دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی محدثین پر سرقے کے قائل نہیں تو یہ کج بحثی کر کے آپ عینی کو بچانے کی کوشش تو کر سکتے ہیں، مگر بچا نہیں سکتے۔
    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں​
    مگر اپنے تیر چلائے تو سہی!! کرو جرت محدثین پر سرقے کا الزام لگانے کی، اور پھر لو جواب ہم سے

    الطحاوی صاحب! آپ کو غالباً "برہان بن خضر نامی کو ساٹ کر" اور [font="_pdms_saleem_quranfont"]"باذن مصنفہ لہ"
    کے الفاظ میں تضاد نظر آ رہا ہے۔ وہ اس لئے کہ آپ سخن شناس نہیں۔ عینی ضرور "برہان بن خضر نامی کو ساٹا کرتا تھا۔ مگر حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ اس کی اجازت دی تھی۔
    مجھے پھر کہنا پڑ رہا ہے :
    سخن شناس نئی دلبرا خطا اینجاست​
    الطحاوی صاحب ! آپ نے یہ تو تسلیم کر لیا کہ :
    "اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ عینی کا نظم میں پایہ کمزور ہے اورنثر میں جوجولانی اورروانی ان کے قلم میں ہوتی ہے وہ نظم میں نہیں ہے لیکن یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔[font="_pdms_saleem_quranfont"]"وماعلمنہ الشعر وماینبغی لہ"[/font]"
    پھر اتنی کج بحثی چہ معنی دارد؟
    رہی بات نثر کی تو اس کا بھرم توعینی صاحب نے خود ہی توڑدیا۔ [font="_pdms_saleem_quranfont"]"أن"[/font] کی تقدیر کی بحث میں۔
    الطحاوی صاحب! آپ نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے۔ الحمدللہ! جب آپ نے علامہ سندھی حنفی کی بات کو حق کا ساتھ دینے پر جزم کیا ہے۔
    الطحاوی صاحب! جب آپ کو دونو باتیں تسلیم ہیں تو اتنی لمبی چوڑی چوڑی کج بحثی نہیں کرنی چاہئے۔
    رہا آپ کا شیخ سندھی کے حق گو اور حق پرست کہنے کا! تو اس معاملے میں انہوں نے حق گوئی سے ہی کام لیا ہے۔لیکن اس سے ان کا حق پرست ہونا لازم نہیں آتا۔ علامہ سندھی ہمارا موضوع بحث نہیں آپ خواہ مخواہ علامہ سندھی کو بھی بیچ میں کھسیٹ رہے ہیں۔
    الطحاوی صاحب! کہیں ایسا نہ ہو کہ عینی کی طرح علامہ سندھی کی علمی قابلیت بھی ذیر بحث آجائے اور آپ ان کا دفاع کرنے سےبھی قاصر ہوں!!!
    الطحاوی صاحب! یہ مصرع آپ پر صادق آتا ہے:
    ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو​
    [/font]


    ما اہلحدیثیم دغا را نشاناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  10. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    خداکاشکر ہے کہ ہمیں کسی بھی فریق سے بغض اورکینہ نہیں‌ہے جس طرح ایک خاص جماعت فقہائے احناف سے ہے گزارش صرف اتنی ہے کہ آدمی کو ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ہوناچاہئے کسی پر سرقہ کا الزام لگاہو توبلاتحقیق قبول کرلیاجائے اورکسی پر سرقہ کا الزام لگے تواسے بچانے کی ہرممکن جدوجہد کی جائے ۔بلکہ علم اورتحقیق کے ساتھ تفتیش کی جائے۔
    مجھے تو تعجب آپ کی کج بحثی اور ناسمجھی پر ہے کہ باذن مصنفہ لہ کا صاف اورسیدھا مطلب یہ ہے کہ برہان الدین ابن حضرحافظ ابن حجر کی اجازت سے حافظ عینی کے ساتھ وہ نسخہ پہنچاتے تھے اگریہ عبارت سمجھ نہ آرہی ہوتو کسی اچھے عربی جاننے والے سے دریافت کرلیں مجھے لگتاہے کہ شاید آپ اسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ باذن مصنفہ لہ کا مطلب یہ ہے کہ برہان الدین ابن خضر کو اجازت تھی ایسانہیں‌ہے کہ برہان الدین ابن خضر جوورق فتح الباری کے حافظ عینی تک پہنچایاکرتے تھے وہ حافظ ابن حجر کی اجازت سے تھا اوریہی مطلب اس عبارت کا ہے نہ کہ وہ جو آپ نے بزعم خود سمجھ رکھاہے۔
    شعر کے تعلق سے بھی میں حیران ہوں کہ کس طرح اپنی مفید مطلب عبارت لے لی اورجن مورخین نے اس بیت کی نسبت حافظ عینی کی جانب کی ہے ان کی تصریحات چھوڑدی گئں۔
    اورسب سے بڑی بات تویہ ہے کہ اب تک یہ ماننے پر تیار نہیں‌ہیں‌کہ باذں مصنفہ لہ کا لفظ حذف کرکے آپ کے شیخ الاسلام نے صحیح‌کیایاغلط کیا۔اس کا دوٹوک جواب چاہئے۔اورکیاکوئی دوسرابھی ایساکرسکتاہے کہ حوالہ کی عبارت سے کوئی اہم لفظ جملہ حذف کردے۔مجھے امید ہے کہ ادھر ادھرکی باتوں‌کے بجائے دوٹوک جواب ملے گا۔والسلام
     
  11. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    الطحاوی صاحب! آپ کی یہ عبارت آپ کی اپنی سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ لکھتے ہیں:
    "شاید آپ اسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ باذن مصنفہ لہ کا مطلب یہ ہے کہ برہان الدین ابن خضر کو اجازت تھی " اسے آپ میری غلط فہمی گردانتے ہیں۔ حالانکہ اس یہ بات آپ کے مفہوم میں بھی شامل ہے۔
    "ایسانہیں‌ہے کہ برہان الدین ابن خضر جوورق فتح الباری کے حافظ عینی تک پہنچایاکرتے تھے وہ حافظ ابن حجر کی اجازت سے تھا" یہ آپ میں میرے کس جملہ سے اخذ کیا ہے؟ میں تو اس کی وضاحت کر چکا ہوں کہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری لکھی ہی اس لئے تھی کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔
    الطحاوی صاحب ! میں آپ کی کج فہمی کی بنیاد بتا چکا ہوں۔ دوبارہ تحریر کر دیتا ہوں۔
    الطحاوی صاحب! آپ کو غالباً "برہان بن خضر نامی کو ساٹ کر" اور "باذن مصنفہ لہ" کے الفاظ میں تضاد نظر آ رہا ہے۔ وہ اس لئے کہ آپ سخن شناس نہیں۔ عینی ضرور "برہان بن خضر نامی کو ساٹا کرتا تھا۔ مگر حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے اس کی اجازت دی تھی۔
    مجھے پھر کہنا پڑ رہا ہے:
    سخن شناس نئی دلبرا خطا اینجاست
    الطحاوی صاحب بات کو بار بار دہرانے کا کیا فائدہ آپ میری سابقہ تحریر دوبارہ پڑھ لیں۔ اس میں آپ کے ان باتوں کا جواب موجود ہے۔ آپ عینی کی نظم اور نثر دونوں میں "علمی قابلیت" کے فقدان کا اعتراف کر چکے ہیں۔
    اب کوئی بات بنائے نہ بے!!

    الطحاوی صاحب آپ عینی کی "علمی قابلیت" کے فقدان کا اعتراف ذرا کھل کر کیجئے۔
    آپ کو یہ بھی بتلا دیں گے کہ حوالہ درج کرنے کے کیا قواعد و ضوابط ہیں،

    ما اہلحدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  12. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    ما اہلحدیثیم دغا را نشناسیم
    سوال تو یہ تھا کہ یہ لفظ حذف کیوں کئے گئے۔اس کی تاویل اورتوجیہہ تو میں نے نہیں پوچھی تھی اورکسی لفظ کا جو موضوع بحث ہو حذف کرناعلم وتحقیق کی نگاہ میں کیساہے۔اس سوال کا تاحال جواب نہیں ہے۔امید ہے کہ اس بار ہاں‌یاناں میں ایک واضح‌جواب دیں‌گے کہ ایساکرناکیساہے ۔یوں بات بناکر فرار کی کوشش نہیں کریں گے۔
    کیاتاویل اورتوجیہہ ہے۔اسے دیکھ کر تو صرف اتناہی کہاجاسکتاہے ذلک مبلغھم من العلم۔دوبارہ عرض ہے اپنے شیخ الاسلام کی عبارت کا ٹھیک سے مطالعہ کرلیں
    اپنے شیخ الاسلام کی جانب سے دفاع کیجئے اچھی بات ہے لیکن ایسادفاع نہیں کہ جس کی معقولیت کے سرپیر کاکوئی پتہ نہ ہو۔
    اچھی طرح علمی قابلیت معلوم ہے کہ کس کی علمی قابلیت شذرات الذہب پر جاکر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اور علم وتحقیق کے شاندار نمونے بھی دیکھ رہاہوں کہ ایک طرف توصرف زبانی یہ دعویٰ کردیا کہ یہ بیت لکھنے کی صلاحیت نہ تھی اورجب حافظ عینی کے عربی لغت وادب میں مہارت کے بارے میں علماء کی رائے پیش کی گئی اوردیگر مورخین کے حوالے سے کہاگیاہے کہ یہ بیت حافظ عینی کے ہی ہیں توبجائے اس کے کہ اپنی سابقہ تحریر پر آدمی شرمندہ ہواوراپنی غلط بات سے رجوع کرے اورڈھٹائی پر کوئی آمادہ ہوجائے تواس کاکسی کے پاس کیاعلاج ہے۔
    اورجن کی علمی قابلیت کی وسعت شذرات الذہب پر جاکر ختم ہوجاتی ہے ان سے ایسی ہی توقع رہتی ہے۔
    کبھی ’ان‘ کی بحث سے فرصت ملے تو غرانیق والے قصہ کی جانب بھی دھیان دیجئے جس کاحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اثبات کیاہے اورجس کے رد مین آپ کے علامہ البانی صاحب نے ایک رسالہ لکھاہے ۔شاید اس کی آنجناب کو خبرہویانہ ہو۔کیونکہ مبلغ علم ومنتہائے علم تو شذرات الذہب ہے۔
     
  13. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب ! فرار کون ہوتا ہے یہ تو دنیا دیکھی گی۔ انشاءاللہ! آپ مجھے کہتے ہیں کہ جواب نہیں آیا! آپ واقعی سخن شناس نہیں ، اس کا جواب کافی پہلے دیا جا چکا ایک بار پھر اسی عبارت کو لکھ دیتا ہوں۔
    "الطحاوی صاحب! اس عبارت میں "باذن مصنفہ لہ" شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کے بیان کردہ مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ نے یہ نہیں کہا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شرح اپنے شاگردوں کے علاوہ باقی تمام سے چھپائے رکھتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری لکھی ہی اس لئے تھی کہ لوگ اس سے استفادہ کریں۔ ہاں اعتراض یہ ہے کہ اس سے ورق در ورق لکھ کر کوئی اپنے نام سے منسوب کر لے تو بالکل یہ عیب کی بات ہے۔"
    آپ میں اگر اس میں کشف الظنون کی عبارت سے تضاد ثابت کر سکتے ہوں تو جرأت کیجئے۔
    الطحاوی صاحب آپ روایت بالمعنی کے بارےمیں کیا جانتے ہیں؟؟ یہ کن شروط کت ساتھ مقبول ہیں؟ اگر آپ یہ معلوم ہو تو جواب سمجھ آئے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے فقہ حنفی تو پڑھی مگر غالبا حدیث سے کنی کتراتے رہے ہو!!!!

    اورآپ کی اگلی بات کہ :
    حافظ کے ایک معمولی شاگرد برہان بن خضر نامی کو ساٹ کر فتح الباری کے اجزاء منگواتا اور زیادہ تر اس سے اور کچھ رکن الدین احمد محمد قریمی کی شرح سے چرا کر عمدۃالقاری شرح بخاری تیار کرتا،
    بالکلایسا ہی ہے اسی کو مضمون چرانا کہتے ہیں۔

    آپ کا کہنا کہ:
    "اپنے شیخ الاسلام کی جانب سے دفاع کیجئے اچھی بات ہے لیکن ایسادفاع نہیں کہ جس کی معقولیت کے سرپیر کاکوئی پتہ نہ ہو۔"
    الطحاوی صاحب یہ خطاب آپ خود سے کیجئے۔ کہ عینی کا دفاع کیجئے اچھی بات ہے لیکن ایسادفاع نہیں کہ جس کی معقولیت کے سرپیر کاکوئی پتہ نہ ہو۔

    آپ کا یہ کہنا کہ:" ایک طرف توصرف زبانی یہ دعویٰ کردیا کہ یہ بیت لکھنے کی صلاحیت نہ تھی"

    الطحاوی صاحب آپ لکھ کر بھول جاتے ہیں کہ آپ نے اس سے قبل کیا لکھا ہے۔ غالبا آپ حافظے میں بھی اپنے امام کی تقلید کرتے ہیں، یہ بات تو آپ صراحتا تسلیم کر چکے ہیں کہ عینی کے نظم کا پایہ کمزور تھا۔ آپ اپنے الفاظ بھول جاتے ہیں یاد دلائے دیتا ہوں:
    "اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ عینی کا نظم میں پایہ کمزور ہے اورنثر میں جوجولانی اورروانی ان کے قلم میں ہوتی ہے وہ نظم میں نہیں ہے لیکن یہ کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔[font="_pdms_saleem_quranfont"]"وماعلمنہ الشعر وماینبغی لہ"
    "

    جہاں تک بات نژ کی رہی تو عینی کی عربی لغت میں اتنی مہارت تھی کہ حدیث میں وارد تر کیب پر ہی اعتراض کر دیا۔ علامہ سندھی نے عینی کی عربی دانی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ! اور عینی کا عربی لغت پر کتاب لکھنا وہ ان کی عربی دانی کی دلیل نہیں ، آپ کے شیخ الحدیث بھی حدیث کی شرح لکھتے ہیں لیکن اس سے وہ حدیث کے ماہر ثابت نہیں ہوتے کیونکہ ان کی شروحات صحیح نہیں ہوتی ۔ بلکہ اکثر تو منکر حدیث ثابت ہوتے ہیں۔ ایک مثال اور عرض کیئے دیتا ہوں۔ روافض نے قرآن کی بھی بڑی بڑی تفاسیر لکھی ہیں ، کیا اس سے وہ روافض قرآن کے ماہر قرار پائیں گے؟؟ فتدبر!!!!
    اگر اب بھی نہ تم سمجھو تو پھر تم سے خدا سمجھے

    الطحاوی صاحب! آپ کا یہ کہنا:
    "کبھی ’ان‘ کی بحث سے فرصت ملے تو غرانیق والے قصہ کی جانب بھی دھیان دیجئے جس کاحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اثبات کیاہے اورجس کے رد مین آپ کے علامہ البانی صاحب نے ایک رسالہ لکھاہے ۔"
    آپ اعتراض تو کریں، آپ کاحافظ ابن حجر پر اعتراض کریں ، ہم جواب دیں گے۔ ہم کاحافظ ابن حجر کو نہ شیخ البانی کو غلطی سے پاک جانتے ہیں۔ لیکن جرأت ہے تو آپ حافظ ابن حجر کی علمی قابلیت پر اعتراض کریں۔
    نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
    الطحاوی صاحب میں آپ میری علمی قابلیت کی فکر نہ کریں ۔ لیکن اگر آپ کو شوق ہے ہی تو جیسا میں نےایک تھریڈ کےآغاز کرنے کا ارادہ کیا ہے ، حیلہ و فنکاری کے حوالے اس میں دیکھ لیجئے گا کہ فقہ حنفی میں ہم کتنی مہارت رکھتے ہیں۔
    الطحاوی صاحب ! عینی کی علمی قابلیت تو مجرح ثابت ہو گئی۔اگر آپ مناسب سمجھیں تو ایک تھریڈ میں کچھ کلام ملاعلی القاری الحنفی پر بھی ہو جائے!!!
    [/font]


    ما اہلحدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔ ​
     
  14. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اس مصرعہ کے باوجود کسی حوالہ کااہم لفظ چھوڑناتاکہ اپنے مطلب کی عبارت لکھی جائے اس سے بڑی دغا اورکیاہوسکتی ہے مجھے تونہیں معلوم!اورروایت بالمعنی کی جوبات کہی وہ توایسی ہے کہ اس پر ہنسے کو دل چاہ رہاہے تاویل اورتوجیہ کے بھی کچھ شرائط اوراصول ہوتے ہیں اورخودنہ پتہ ہوتودوسروں سے پوچھ لیجئے۔
    اعتراض تو اتناواضح ہے کہ ہر صاحب عقل کوسمجھ مین آئے گالیکن جس نے قسم کھارکھی ہو کہ ہرحال میں دفاع کرنا ہے اوراپنی غلطی نہیں ماننی ہے اس کی ہٹ دھرمی اورضد کاکسی کے پاس علاج نہیں ہے۔
    ہم آپ کی طرح نام نہاد غیرمقلد تونہیں ہیں یعنی بباطن اپنے علماء کے سخت مقلد اوراوپر سے دعوی غیرمقلدیت یہ تضاد آپ کو ہی مبارک ہو۔جس طرح علماء نے لکھاہے کہ حافظ عینی کا پایہ نظم میں کمزور تھا ہمیں اس کابھی اعتراف ہے اورجس طرح دیگر مورخین نے اس بیت کی نسبت حافظ عینی کی جانب کی ہے ایک عاقل اورمنصف کو اس کابھی اعتراف ہوناچاہئے لیکن مسئلہ تب پیداہوتاہے کہ جب کوئی شخص صرف اپنے مطلب کی عبارتیں کتب تاریخ سے ڈھونڈکر سامنے لائے اورجواس کے مطلب کی نہ ہو اسے نظرانداز کردے جیسے آپ نے یاآپ کے شیخ الشیوخ قاسم سیف بنارسی نے کیاہے کہ شذرات الذہب کی عبارت تو لے لی اوردیگر مورخین نے جوکچھ لکھااسے سرے سے نظرانداز کردیا۔
    ضرور ضرور وہاں بھی آپ لوگوں‌کو خیانتیں واضح ہوکر سامنے آئیں گی جس طرح کشف الظنون کی عبارت میں سامنے آئی ہے اوراس سے ان لوگوں کوبھی فائدہ پہنچے گا جو آپ لوگوں کے غیر واقعی پروپیگنڈہ سے متاثرہوکر فقہ حنفی سے بدظن ہیں اورمبلغ علم بھی پتہ چل جائے گا۔
    میرے خیال سے اب ابن دائود کے پاس اس تھریڈ میں کہنے کیلئے کچھ بچانہیں ہے اس لئے اس تھرید میں مزید بحث بیکار ہے پڑھنے والے خود سمجھ جائیں گے کہ کس نے کتنے انصاف اورکس نے دھاندلی سے کام لیاہے۔والسلام
     
  15. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
    الطحاوی نے لکھا: "اس مصرعہ کے باوجود کسی حوالہ کااہم لفظ چھوڑناتاکہ اپنے مطلب کی عبارت لکھی جائے اس سے بڑی دغا اورکیاہوسکتی ہے مجھے تونہیں معلوم!اورروایت بالمعنی کی جوبات کہی وہ توایسی ہے کہ اس پر ہنسے کو دل چاہ رہاہے "

    الحاوی صاحب ! پھر جواب نہ دارد!!!!!! آپ نےکیا اپنے مرشد سے بیعت کی ہوئی ہے کہ کبھی کسی سوال کا جواب نہیں دینا ؟؟ آپ جو ہنسی ہنس رہے ہیں اس کو کھسیانے کی ہنسی کہتے ہیں! مقلد ہمیشہ اپنی خفت مٹانے کو اسی کھسیانے کی ہنسی کا سہارا لیا کرتے ہیں ۔

    الطحاوی نے لکھا : "اعتراض تو اتناواضح ہے کہ ہر صاحب عقل کوسمجھ مین آئے گا"
    الطحاوی صاحب ! آپ کو پھر اردو بھی بھول گئی ہے۔ میں نے آپ کا سے اعتراض کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ تضا د کے ثابت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
    اب آپ کی عقل پر کیا کہیں:
    ضیا کو تیرگی اور تیرگی کو جو ضیا سمجھے
    پڑیں پتھر سمجھ ایسی پہ وہ سمجھے تو کیا سمجھے​
    اعتراض نہیں تو ابو جہل نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا تھا،مگر بلا دلیل ۔
    الطحاوی صاحب !آپ کا اعتراض باطل ہے۔ کیونکہ آپ نے تضاد ثابت نہیں کیا۔ آپ کا اعتراض تو صحیح آحادیث پر بھی ہوتا ہے ، آپ کے اعتراض سے کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ کا اعتراض باطل و مردود جب تک اعتراض کی دلیل بیان نہ کی جائے۔ میں نے آپ سے اعتراض کرنے کو نہیں کہا تھا، وہ تو مجھے معلوم ہے ، میں نےآپ سے آپ کے اعتراض کی دلیل مانگی تھی ، دوبارہ پیش کرتا ہوں :
    "الطحاوی صاحب! اس عبارت میں [font="_pdms_saleem_quranfont"]"باذن مصنفہ لہ"
    شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ کے بیان کردہ مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شیخ الاسلام مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃاللہ علیہ نے یہ نہیں کہا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی شرح اپنے شاگردوں کے علاوہ باقی تمام سے چھپائے رکھتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ نے فتح الباری لکھی ہی اس لئے تھی کہ لوگ اس سے استفادہ کریں۔ ہاں اعتراض یہ ہے کہ اس سے ورق در ورق لکھ کر کوئی اپنے نام سے منسوب کر لے تو بالکل یہ عیب کی بات ہے۔"
    آپ میں اگر اس میں کشف الظنون کی عبارت سے تضاد ثابت کر سکتے ہوں تو جرأت کیجئے۔
    یہ ہے وہ بات جو آپ سے مطلوب ہے۔ اور آپ اس سے قاصر ہیں۔
    میں تضاد ثابت کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوں اور آپ ہیں کہ اعتراض کا گیت گا رہے ہیں۔

    الطحاوی نے لکھا : "لیکن جس نے قسم کھارکھی ہو کہ ہرحال میں دفاع کرنا ہے اوراپنی غلطی نہیں ماننی ہے اس کی ہٹ دھرمی اورضد کاکسی کے پاس علاج نہیں ہے۔"
    الطحاوی صاحب! جی بالکل صحیح بات ہے کہ جس نے قسم کھارکھی ہو کہ ہرحال میں عینی کا دفاع کرنا ہے اوراپنی غلطی نہیں ماننی ہے اس کی ہٹ دھرمی اورضد کاکسی کے پاس علاج نہیں ہے۔
    الطحاوی صاحب! آپ ضعیف فی الحدیث کو امام اعظم بنا کر اس کی تقلید کر سکتے ہیں ، اس ہٹ دھرمی اورضد کاکسی کے پاس علاج نہیں ہے۔آپ عینی کو ،جس کے علمی فقدان کا اعتراف بھی کر چکنے بعد بھی اپنا امام اکبر بنا لیں، اس ہٹ دھرمی اورضد کاکسی کے پاس علاج نہیں ہے۔

    الطحاوی نے لکھا : "ضرور ضرور وہاں بھی آپ لوگوں‌کو خیانتیں واضح ہوکر سامنے آئیں گی جس طرح کشف الظنون کی عبارت میں سامنے آئی ہے اوراس سے ان لوگوں کوبھی فائدہ پہنچے گا جو آپ لوگوں کے غیر واقعی پروپیگنڈہ سے متاثرہوکر فقہ حنفی سے بدظن ہیں اورمبلغ علم بھی پتہ چل جائے گا۔"
    الطحاوی صاحب! ان شاءاللہ ! رمضان کے بعد آپ ذرا سکون سے عید منا لیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ پر عید کے روز بھی خفت کے باعث خفگی طاری ہو اورآپ عید کو روز بھی اہل و عیال اور دوست احباب سے اکھڑے اکھڑے سے ہو جائیں۔

    الطحاوی نے لکھا : "میرے خیال سے اب ابن دائود کے پاس اس تھریڈ میں کہنے کیلئے کچھ بچانہیں ہے اس لئے اس تھرید میں مزید بحث بیکار ہے پڑھنے والے خود سمجھ جائیں گے کہ کس نے کتنے انصاف اورکس نے دھاندلی سے کام لیاہے۔"
    اور اب فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہو۔ اور کہہ دیا کہ ابن داود کے پاس لکھنے کو نہیں۔ان شاءاللہ! کل تک "عینی کی "علمی قابلیت" یعنی کے علمی فقدان پر ایک دلیل اور آپ کو بیان کر دیں گے۔ اور یہ ثابت کر دیں گے کہ لکھنے کو کس کے پاس نہیں بچا؟ اہل الحدیث طالب علم کے پاس یا طحاوی دوراں کے پاس؟
    [/font]


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔ ​
     
  16. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب! حسب وعدہ ہم عینی میں "علمی قابلیت" کے فقدان کا ایک نمونہ اور پیش کر رہے ہیں:
    صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں ہے: [font="_pdms_saleem_quranfont"]"قال أبو عبدالله: إستيأسُو: افتعلوا"
    یعنی امام بخاری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی سورۃیوسف میں جو [font="_pdms_saleem_quranfont"]" إستيأسُو"[/font] وارد ہے وہ دیکھنے میں تو باب استفعال سے ہے، جس کے معنی میں طلب ہوتا ہے، لیکن یہاں مراد طلب نہیں ہے، بلکہ وہ معنی میں باب افتعال کے ہے، چنانچہ فصول اکبری وگیرہ کتب صرف میں بھی مرقوم ہے کہ باب استفعال افتعال کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے [font="_pdms_saleem_quranfont"]"استعصم"[/font] معنی میں [font="_pdms_saleem_quranfont"]"اعتصم"[/font] کے ہے۔ عینی کو کیا غلطی ہوئی کہ سمجھ گئے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کی مراد اظہار وزن و اشتقاق ہے۔ لیکن علم صرف نہ جاننے کے سبب ان سے غلطی ہو گئی، چنانچہ فرماتے ہیں:
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]"و الظاهر أن مثل هذا من قصور اليد في علم التصريف"[/font] ([font="_pdms_saleem_quranfont"]عمدة القاري دار الكتب العلمية بيروت[/font] ۱۵/ ۳۸۸)
    حالانکہ اسی سے ثابت ہوا کہ عینی کا ہاتھ علم صرف میں قاصر ہے، کیونکہ جو بات امام بخاری رحمۃاللہ علیہ فرمارہے ہیں بعینہ وہی بات کتب صرف و لغت میں موجود ہے۔
    عینی کی عربی دانی پر تعجب نہیں ہونا چاہئے، آخرعینی بھی تو اسی شخص کےمقلد ہیں جس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ :
    گاہےسخانش بہ لحن و غلط آمیختہ می شد۔۔۔۔ کبھی اس کاکلام غلطی اور لحن کا آمیزہ ہوتا
    بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے
    ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے​
    [/font]



    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔ ​
     
  17. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    ابن دائود صاحب پہلی بات توکہ آپ کاحوالہ ماشاء اللہ ارقام سے خالی ہوتاہے دوسراکیاسمجھے گاکہ آپ نے کون سی ہجری عاعیسوی نمبر لکھاہے اسلئے براہ کرم پہلے پوسٹ میں رقم نمبرلکھناسیکھ جایئے اوراس کے بعد بات کیجئے۔
    علمی فروگزاشت کسی سے بھی ممکن ہے اس میں حافظ عینی کی کیاتخصیص،کیاحافظ ابن حجر علمی فروگزاشت سے خالی ہیں کیاابن تیمیہ سے کوئی غلطی نہیں‌ہوئی۔امام بخاری کا جومرتبہ جرح وتعدیل میں ہے وہ سب جانتے ہیں اس کے بعد ان سے رایوں کے بارے میں غلطیاں ہوئی ہیں ۔اس لئے براہ کرم اپنی نگاہ اورنظرکوکشادہ کیجئے اوریوں بلاوجہ بحث بند کیجئے ۔
    حافظ عینی سے توزیادہ اپنے نواب صدیق حسن خان کے بارے میں سوچناچاہئے کہ وہ توپوری کی پوری دوسرے کی کتاب پر ہاتھ صاف کردیتے تھے اوردوسری کی لکھی کتاب کو اپنے نام سے منسوب کرکے شائع فرمادیتے تھے ۔اگرآپ کہیں توپورے حوالہ کے ساتھ علمی خیانتوں کے والے تھریڈ میں پیش کردوں۔
    چونکہ یہ چیزیں میری طبیعت سے مختلف نہیں ہیں جولوگ گزرچکے ان کے بارے میں بحث تضییع اوقات ہی سمجھتاہوں لیکن جب کوئی اپنی حد سے گزرنے لگے تواسے اس کی اوقات یاددلانابھی ضروری ہوجاتاہے۔
     
  18. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    سرخ رنگ میں الطحاوی کی تحریر ہے!!!

    ابن دائود صاحب پہلی بات توکہ آپ کاحوالہ ماشاء اللہ ارقام سے خالی ہوتاہے دوسراکیاسمجھے گاکہ آپ نے کون سی ہجری عاعیسوی نمبر لکھاہے اسلئے براہ کرم پہلے پوسٹ میں رقم نمبرلکھناسیکھ جایئے اوراس کے بعد بات کیجئے۔

    الطحاوی صاحب! ہم اہل الحدیث ان ارقام کے تعویذ لکھنے کے قائل نہیں کہ بلا ضرورت ارقام تحریر کرتے رہیں۔ اور میری پچھلی تحریر میں کسی سال صدی کا کوئی ذکر نہیں کہ ہجری یا عیسوی کا تذکرہ کیا جاتا۔ آپ کو غالبا نیند میں یا دوران مراقبہ کچھ نظر آیا ہو گا۔ لگتا ہے آپ کے حواس پر کچھ اثر پڑ گیا ہے۔ آپ کچھ دن آرام فرما لیں۔

    علمی فروگزاشت کسی سے بھی ممکن ہے اس میں حافظ عینی کی کیاتخصیص،
    مگر کوئی "علمی " فروگزاشت ہو!! یہ کیا کہ خود علم و ہنر سے کورا اور تنقید کرے حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ اور امیر المومنین فی الحدیث ، فقہ العصرہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ پر۔ اسے شخص کو جاہل مرکب ہی کہا جاسکتا ہے۔
    کیاحافظ ابن حجر علمی فروگزاشت سے خالی ہیں کیاابن تیمیہ سے کوئی غلطی نہیں‌ہوئی۔امام بخاری کا جومرتبہ جرح وتعدیل میں ہے وہ سب جانتے ہیں اس کے بعد ان سے رایوں کے بارے میں غلطیاں ہوئی ہیں ۔
    بالکل! ہم کسی امتی کا غلطیوں سے پاک نہیں جانتے۔
    اس لئے براہ کرم اپنی نگاہ اورنظرکوکشادہ کیجئے اوریوں بلاوجہ بحث بند کیجئے ۔
    الحمدللہ ہم مقلد نہیں، کہ اپنی نظر صرف ایک امام یا ایک طبقہ کی فقہ تک ہی محدود رکھیں!

    حافظ عینی سے توزیادہ اپنے نواب صدیق حسن خان کے بارے میں سوچناچاہئے کہ وہ توپوری کی پوری دوسرے کی کتاب پر ہاتھ صاف کردیتے تھے اوردوسری کی لکھی کتاب کو اپنے نام سے منسوب کرکے شائع فرمادیتے تھے ۔اگرآپ کہیں توپورے حوالہ کے ساتھ علمی خیانتوں کے والے تھریڈ میں پیش کردوں۔
    آپ جو چاہیں کریں۔ ہم بےجا کسی کا دفاع کرنے والے نہیں۔ آپ پر اب تو واضح ہو چکا ہوگا کہ عینی میں علمی قابلیت کا فقدان تھا۔

    چونکہ یہ چیزیں میری طبیعت سے مختلف نہیں ہیں جولوگ گزرچکے ان کے بارے میں بحث تضییع اوقات ہی سمجھتاہوں لیکن جب کوئی اپنی حد سے گزرنے لگے تواسے اس کی اوقات یاددلانابھی ضروری ہوجاتاہے۔

    جی جی آپ کی طبعیت کا اندازہ تو کیا جا سکتا ہے، کہ عینی کی علمی قابلیت ثابت کرتے کچھ نہ بن پڑی تو یہ باور کرانے کی کو شش کرتے ہو کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ بھی اسی طرح تھے۔ اپنی خفت کا نزلہ امام بخاری پر گرانا چاہتے ہو۔

    الطحاوی صاحب! حقیقت یہ ہے کہ آپ کے پاس ! جواب نہ دارد!!!!!!!!!




    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  19. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    آخری لائن غلط ٹائپ ہوگئی ہے کہ
    درحقیقت یوں ہوناچاہئے کہ یہ چیزیں میری طبعیت کے موافق نہیں ہیں
     
  20. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    ديکھے محترم ماشاءاللہ ابن داؤد صاحب نے ايک علمى بحث چھيڑى ہوئ ہے ٫ اور دوسرى طرف آپ ہيں جو ادھر ادھر کى باتيں لے بيٹہے ہے آپ ان کو علمى جواب ديں تاکہ ہميں بھى کچھ لکھنے کا موقع مل سکے ٫٫
     ايک بات ياد رکھيں کہ آپ تقليد شخصى کے قائل ہيں لہذا آپ پر ان کا دفعہ لازم ہے اب ابن داؤد صاحب بقول آپ کہ غير مقلد ہيں تو لہذا ان کو شخصيات کا تعنہ دينا غير ضرورى ہے ٫ آپ بسمہ اللہ کريں انشاءاللہ اختتام ہم کردے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :00001:
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں