مولانا اشرف على کى اللہ اور اس کے رسول کى شان ميں گستاخى

salfi_8 نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 3, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    مولانا اشرف على تھانوى جو کسى تعرف کے محتاج نہيں احباب ديوبند کى جانى مانى ہستى ہيں ۔
    انکى ايک کتاب جس کا نام ہيں ارواح ثلاثہ يعنى حکايات اولياء ۔
    کتاب کا نام : ارواح ثلاثہ (يعنى حکايات اولياء)
    مصنف: حکيم االامت مولاناشاہ اشرف على تھانوى
    ناشر: مکتبہ رحمانيہ اقراسنٹر عزنى سٹريٹ ۱۸ اردو بازار لاہور ۔
    طابع: مقبول الرحمن
    اس کتاب ميں تمام اولياء ديوبند کے کشف و کرامات مذکور ہيں ۔ جنہونے اللہ اور اسکے رسول کى شان ميں گستاخياں کى ہے ۔ حته كه بعض اوقات کفر کى حد تک پہنچ چکے ہيں۔
    اس کتاب کے صفہ نمبر 398ميں ايک شعر مذکو ہے ۔۔
    نہ کتابوں سے نہ وغطوں سے نہ زر سے
    دين ہوتا ہے بزرگوں کى نظر سے پيدا
    آئيے ذرا ان بزرگوں کے حالات جو اشرف على تھانوى نے اپنى کتاب ميں تحرير کى ہيں پڑھتے ہيں ۔ويسے تو سارى کتاب ہى خرافات سے بھرى پڑى ہے ميں صرف چند ايک حکايات وقت کى قلت کى وجہ سے تحرير کرديتا ہوں ٫
    صفہ نمبر 397 ميں حکايت نمبر 454 ميں ايک نوباف بزرگ کى حکايت بيان کرتے ہوئے فرماتے ہيں ٫ ايک دن ارشاد فرمايا ايک بزرگ تھے جلا ہے ٫ ايک روز عصر کى نماز ميں ان کو دير ہوگئي ٫ دوڑے ہوئے کنويں پر وضو کے ليئے پانى لينے گئے _ کنويں کے اندر لوٹا يا ڈول ڈالا جوچاندى سے بھرا ہوا نکلا _ اس بزرگ نے پيھنک ديا اور جناب بارى ميں عرض کيا کہ مذاق نہ کرو مجھے تو نماز کو دير ہوتى ہے _دوبارہ کنويں ميں ڈالا تو سونے سے بھرا ہوا نکلا _ پھر اس مو زمين پردے پٹکا اور عرض کيا مذاق نہ کرو مجھے تو نماز ميں تاخير ہوئى جاتى ہے _اس وقت الہام ہوا کہ ميں نے يہ معاملہ اس ليئے کيا کہ لوگ تجھ کو حقير نہ جانيں ( منقول از تذکرۃ الشيد) ۔۔۔۔۔۔ليجئے اللہ ان کے بزرگوں سے مذاق بھى کرتا ہے_ استغفر اللہ
    اپنے بزرگوں کى بزرگى جتانے کے لئے کہ لوگ ان کو ولى اللہ مان کر ان کى تعظيم کريں اور انکے ساتھ ہماري قربت کو ديکھ کر ان کو وجہ سے ہماري بھى کريں ٫ اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر وقت کى قلت کى وجہ سے تحرير کرنے سے قاصر ہو٫٫ عقلمند کہ لئيے اشارہ ہى کافى ہے ۔۔

    آئے اسي کتاب کہ صفہ نمبر 382 ميں حکايت نمبر440 ميں _ جناب ديوان محمد يسين صاحب ديوبند مرحوم کي حکايت - حضرت والد صاحب نے فرمايا کہ ديوان محمد يسين مرحوم جو حضرت نانوتوى کے خدام ميں سے تھے _ ان کا ذکر جہر مشہور تھا _ يہ ممکن نہ تھا کہ ان کا ذکر سن کر کوئى بغير روئے ہوئے وہاں سے گزر جائے_ نہايت درناک آواز ميں ذکر کرتے تھےاور بہت روتے تھے _ ہروار و صاورپر اس کا ذکر اور گريہ کا اثر پڑتا تھا _ اور وہ بھى روتاتھا _ خود فرملتے تھے _ کہ ميں ايک دفعہ چھتہ کي مسجد کے شمالى گنبد کے نيچے ذکر جہر ميں مصروف تھا کہ حضرت رحمتہ عليہ (يعنى قاسم نانوتوى) مسجد کےصحن ميں اسى شمالى جانب مراقب ہوئے اور متوجہ تھے _ اور توجہ کا رخ ميرے ہى قلب (يعنى دل)کى طرف تھا _ اسى اثنا ميں مجھ پر ايک کيفيت طارى ہوئى اور مبں نے بحالت ذکر ديکھا کہ مسجد کى چارديوارى تو موجود ہے مگر چھت اور گنبد کچھ نہيں بلکہ ايک غطيم الشان روشنى اور نور ہےجو آسمان تک فضا ميں پھيلا ہوا ہے _ يکايک ميں نے ديکھا کہ آسمان سے ايک تخت اتررہا ہے اور اس پر حناب رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم تشريف فرما ہيں اور خلفائےاربعہ ہرچارگولوں پر موجود ہيں _ وہ تخت اترتے اترتے بالکل ميرے قريب آکر مسجد ميں ٹھر گيااور آنحضرت صلى اللہ عليہ وسلم نے خلفائے اربعہ ميں سے ايک سے فرمايا کہ بھائى ذرا ذرا مولانا محمد قاسم کو بلا لو وہ تشريف لے گئے اور مولانا کو لے کر آگئے آنحضرت صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ مولانا مدرسے کا حساب لائيے عرض کيا حضرت حاضر ہےاور يہ کہ کر حساب نتلانا شروع کيا اور ايک ايک پائى کا حساب ديا _ حضرت صلى اللہ عليہ وسلم کى خوشى اور مسرت کى اس وقت کوئى انتہا نہ تھى بہت ہى خوش ہوئے اور فرمايا کہ اچھا مولانا اب اجازت ہے حضرت (يعنى قاسم نانوتوى ) نے عرض کيا جو مرضى مبارک ہو _ اس کے بعد وہ تخت آسمان کى طرف عروج کرتا ہوا نظروں سے غائب ہوگيا ۔۔۔۔
    ليجئے يہ وہ ہتکنڈے ہيں جس کے ذريعے يہ لوگ اپنى بزرگى منواتے ہيں _ دونوں ہى واقعات ميں اللہ اور اس کے رسول کى تضليل اور گستاخياں ہے _
    ديکھئے پہلے حکايت کے بابت _ مثال کہ طور پر کوئى شخص جسے آپ جانتے نہ ہوں يا بھر ايسا شخص جس سے آپ کى پہلى بار ملاقات ہوئى ہوں اوروہ بے تکلف ہو کر آپ سے مذاق کرنا شروع کردے ٫ تو يقينا آپ فورا اسکو جھٹک دے گے ايسى صورت ميں يقينا اس شخص کو دوسروں کے سامنے حقارت ہوگى اور وہ شخص پشيمان ہوگا اور نروس ہوجائے گا _ ٹھيک اسى طرح سے مولانا اشرف على تھانوى صاحب يہ تعاصر دينے کى کوشش کرہے ہيں کہ ديکھوں جب بانور نے ڈول پھينکا اور وہ سونے سے بھرا ہوا نکلا تو زمين پر پھنک ديا تو الہام ہوا کہ ا لوگ تجھے حقير نہ جانے اس لئے ميں نے يہ معاملہ کيا۔ يعنى اللہ تعالى اپنى صفائى پيش کر رہے ہيں ٫ اللہ معاف کريں کتنى حقارت اسغفر اللہ
    آئيے دوسرى حکايت پر روشِنى ڈالتے ہيں ۔
    اس حکايت ميں آپ ملاحظہ فرما چکے ہونگے کہ رسول صلى اللہ عليہ وسلم خلفاء راشدين سے کہتے ہيں کہ جاوں ذرا مولانا کو بلالو ۔ اب يہاں ديکھئے جو بندہ ان سب معملات کو ديکھ رہا ہے اللہ کے رسول آنحضرت صلى اللہ عليہ وسلم اس سے تو يہ نہ کہے کہ جاو مولانا کو بلا لو بلکہ خلفاء راشدين سے کہتے ہيں بلا لو ۔
    ايک اور بات ۔ مثال کہ طور پر آپ کسي کہ گھر جائے اور ميزبان آپ سے اس گرم جوشى سے آپ کا استقال نہيں کرتا جو کسى خاص بندے کے آنے سے ہوتى ہے ۔ بڑے بھجے انداز ميں کہتا ہے ارے آئيے آيئے تو آپ کيا محسوس کريں گے ۔ يقينا آپ کو مايوسى ہوگى اور يہ محسوس کريں گے کع اسکو ميرے آنے سے خوشى نہيں ہوئى ہے اور آپ دل ميں سوچھے کے کہ يار نہ ہى آتا تو بہتر تھا ۔۔۔
    ليکن اس کے برعکس آپ کسى کے گھر جاتے ہيں اور ميزبان بڑى گرم جوشى اور مسرت سے آپ کا استقبال کرين تو يقينا آپ کو بھى خوشى ہوگى کے ميرے آنے سے ميزبان خوش ہے ۔
    اب اس حکايت ميں آپ ديکھے کس بے رخى کے ساتھ مولانا نے رسول آنحضرت صلى اللہ عليہ وسلم کو رخصت کيا ٫ جو مرضى حضور کى ٫ عقلمند کے لئے اشارہ کافى ہے آپ سمجہ گئے ہونگے ۔۔
    آخر ميں ميں يہ کہنا چاہوں گا کہ يہ سب شخصيت کى دعوت ہے دين کا نام استعمال کرکے شخصيت پرستى کى دعوت دى جارہى ہے ۔ دين تو ايک بہانا ہے ٫ قرآن و حديث کو يہ لوگ صرف اور صرف ملاوٹ کے طور پر استعمال کرتے ہيں ٫ قرآن و حديث بيان کرتے کرتے پر بيچھ ميں کہتے ہيں ايک بزرگ يہ فرماتے تھے ايک بزرگ کى حکايت ہے ايک بزرگ کا واقعہ ہے ۔ ايک بات ياد رکھيں ملاوٹ کرنے والا سو فيصد ملاوٹ شدہ چيز نہيں پيچتے بلکہ اصل ميں ملا کر بيچتے ہيں ۔ والسلام
    اسى کتاب ميں صفہ نمبر 387 حکايت نمبر 442 ميں ايک مجذوب کہ حکايت ہے جو اپنے آپ کو اللہ کہتا تھا ۔
    اس کتاب ميں گستاخياں ہى گستاخياں ہيں

    نوٹ ۔۔ يہ خواب کے واقعات نہيں حالت بيدارى کے ہيں :00006:
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 3, 2010
  2. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    بقول حکیم الامت صاحب شیطان خواب میں اللہ کی صورت بن کر بھی نمودار ہو سکتا ہے۔
     

    منسلک فائلیں:

    • 14-02.jpg
      14-02.jpg
      فائل کا حجم:
      87.2 KB
      مشاہدات:
      2
    • 14-03.jpg
      14-03.jpg
      فائل کا حجم:
      87.8 KB
      مشاہدات:
      3
  3. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    14-04.jpg
    یعنی حکیم الامت کے پیر صاحب کا مقام اتنا بلند ہے کہ ان کے مہمانوں کا کھانا پکانے کے لیئے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں نعوزباللہ
     
  4. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    حضرت فاطمہ ر۔ض کی توہین
    14-06.jpg
     
  5. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
  6. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    جزاک اللہ خيرا يا اخوان لگے رہوں
     
  7. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
  8. آزاد

    آزاد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    4,562
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اصلاح کا کام کرنے کے لئے اپنی نیتوں‌کی صفائی کریں‌۔۔یا لگے رہیں۔۔۔یا ایسی اصطلاحات سے اصلاح کا کام نہیں‌ہوتا بلکہ دوسروں‌کی خطاووں کو منظر عام پر لانے کی جستجو ہی ساری عمر گذاردیتی ہے۔۔۔!
    اللہ آپکو ہدایت دے۔۔آمین
    آپکو دوسرے کے کیڑے ہی نکالنا اصلاحی عمل لگ گیا شائد۔۔؟!
    علما ، علمی انداز میں ایسی چیزوں پر گرفت کریں وہی کافی ہے۔۔نہ کہ ہر کوئی اپنی لیول پر یہی کام کو اپنا مقصد زندگی بنالے۔۔۔!
    وما توفیقی الا باللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    آپ کو ميں ايک مشورہ دينا چاہتا ہوں ميرے محترم٫ اور وہ سب سے آسان طريقہ ہے ۔۔ آپ ميرے لگائے ہوئے تھريڈ ميں ہى نہ آئے ٫ اس طرح نہ آپ کى دل آزارى ہوگى اور نہ ہم سےگلہ ۔۔۔۔۔ آپ اپنے طرز سے اصلاح کريں ہم اپنےطريقے سے ۔
    جزاک اللہ محترم دوست
     
  11. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    السلام علیکم،
    بھائی نہیں، ایسے نہیں یہ غلط بات ہے۔ اگر ایک شخص نے آپ کی غلطی کی طرف آپ کی نشاندہی کرائی ہے تو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔
    ہمارا مقصد اصلاح کرنا ہے اور لوگوں کو ان غلط نظریات سے ، غلط عقائد اور غلط سوچ سے متنبہ کرنا ہے، لیکن بس یہ سمجھ لیا کریں کہ اپنی بات شروع کرتے وقت قرآن و حدیث سے اپنی بات شروع کریں، پہلے وہ بات رکھیں جسکی ہمیں قرآن و سنت کے مطابق تقلید کرنی ہے۔ اگر آپ شروع ہی وہاں سے کریں جو اختلافی بات ہے تو وہ بندہ جو اشرف علی تھانوی صاحب سے عقیدت رکھتا ہے، تو وہ تو بھائی ہمارا ترش اور سخت رویہ دیکھ کر آگے بڑھے گا ہی نہیں۔۔۔ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟؟؟ جذباتی نہیں ہونا، حکمت اور تدبر سے کام لینا ہے ان شاءاللہ

    یہی رویہ میرے بھائی اصلاح کے نام پر وہ لوگ بھی اپناتے ہیں کہ جب ہم لوگ ان کے فورمز پر جا کر کچھ اچھی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جواباً ۔۔۔ اللہ کی پناہ وہ کچھ سننے کو ملتا ہے کہ صرف دعا ہی نکلتی ہے کہ یا اللہ تو انہیں ہدایت دے۔ اگر ہم بھی انہی جیسا رویہ اپنائیں تو ہم میں اور ان میں اصلاح کرنے کے حوالے سے فرق؟؟؟؟

    باقی جو آپ نے بات کی کہ "آپ اپنے طرز سے اصلاح کریں ، ہم اپنے طریقے سے"، تو بھائی ایسی سخت بات نا کیا کریں، کم از کم آپس میں اختلاف اچھے نہیں ہیں۔

    اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    السلام علیکم
    ابو طلحہ بھائی، کیا ہو گیا، آج آپ بھی تھوڑے سے جذباتی ہو گئے :):00006:
    نہیں‌بھائی، یہ کیڑے نکالنا نہیں ہے، بلکہ نشاندہی کرنا ہے، بس طریقہ تھوڑا سا غلط ہے۔ اور یہ نشاندہی کرنا ضروری بھی ہے، بس اسکے لیے تھوڑا حکمت اور تدبر سے کام لیا جائے تو ان لوگوں کو بات سمجھائی جا سکتی ہے جو بات سننا چاہتے ہیں۔ الفاظ کا استعمال بہت معانی رکھتا ہے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اللہ مجھے معاف کرے۔۔آمین
    جزاک اللہ خیر
     
  14. salfi_8

    salfi_8 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 9, 2009
    پیغامات:
    150
    محترم دوست آپ بھائيوں کى بات سر آنکھوں پر اور اگر کسي کو ميرى کوئى بات برى لگى ہو تو معذرت خواہ ہو۔۔
    دراصل ميں بھائى الحمداللہ نيٹ کى دنيا پر کام کرتے ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزرچکہ ہے اور الحمداللہ اب بھى حسب توفيق کا کررہا ہوں ۔ الحمداللہ نيٹ پر کافى لوگ مجھے جانتے ہيں ۔
    اور الحمداللہ آپ کے دعا سے کئي مباحثے اور ڈيبيٹ ہوئي ہيں ٫ شيعوں کے ذاکروں کے ساتھ اور مرزيئوں کے مربيوں ٫ ديوبندى ٫ پريلوى ٫ منکرين حديث ٫ وغيرہ ہم کے ساتھ ۔۔۔۔۔
    مايک يعنى آواز کے ساتھ beyluxe and Paltalk ميسنجرو پر ٫ يقين کرے ميرا ہرگز يہ مطلب نہيں ہوتا کہ کسى عام ديوبندى يا بريلوى کے ساتھ تعارض کرو کيوں کہ مجھے پتہ ہےاس بيچارے کو کيا پتہ کہ وہ نادانسہ طور پر کن لوگوں کى پيروى کررہا ہے ۔آخرہم کيا تھے انہيں ميں سے تو تھے ميں خود ديوبندى ہوا کرتا تھا پھر اللہ نے راہ ہدايت دي الحمداللہ اب کٹر اہلحديث ہوں ٫
    دوسري بات کہ قرآن و حديث بيان کرکے بعد ميں انکے مساذل بيان کئے جائے تو محترم دوست يہ جو ميں نے چند مسائل بيان کئے ہيں اگر اس کو کسى مسلمان بچے کو بتاياجائے وہ بھى توبہ استخفار کرے گا ۔۔ لہذا اس کفر پر تو کسي کو شک ہى نہيں ہونا چاہئے ۔۔ باقى ميرے مخاطبين وہ لوگ ہوتے ہيں جو يا تو انکے عالم ہوتےہيں يا پھر وہ جو تعصب کرتے ہيں ۔
    باقى ماشاءاللہ ہمارے يہاں کافى بھائى ہيں جو اصلاحى حوالے سے کام کرتے ہيں ٫
    اب ديکھے نماز تو سب پڑھتے ہيں ٫ ديوبندى ہو مرزئى ہو بريلوى ہوں وغيرہ وغيرہ ٫ توکيا انکى نماز قابل قبول ہوگى جو سنت اور شريعت کے برعکس ہو يقينا نہيں ٫ مسئلہ يہ ہے کہ جب لوگوں کو دعوت دى جاتى ہے تو وہ يہ کہتے ہيں يار جو فرآن و حديث تم بيان کررہے ہوں وہ ہمارے مولوى بھى بيان کرتے ہيں وغيرہ وغيرہ ٫
    يہ وہ وجہ ہے جس کى وجہ سے ہميں بعض اوقات ان باتوں کو منظر عام پر لانا ہوتا ہے ۔
    جزاک اللہ خيرا برادر آپ کا بہت بہت شکريہ ٫ اپنے مواحد بھائيوں کى بات کا ميں برا کبھى نہيں مناتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  15. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    جزاک اللہ خیرا
     
  16. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    جزاک اللہ بھائ سلفی صاحب۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں