علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے

khuram نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 7, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے۔

    36 : سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا ( پھر اس سے گھاس اگائی ) اور جان بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے سوائے مومن کے کوئی محبت نہیں رکھے گا اور مجھ سے منافق کے علاوہ اور کوئی شخص دشمنی نہیں رکھے گا۔

    لنک:
    علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے ۔
     
  2. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    اس میں کوئی شک نہیں کہ حصرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور دشمنی و بغض رکھنے والا پکا منافق ہے لیکن کتب احادیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے فضائل بھی مذکور ہوتے ہیں انہیں چھوڑ کر صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرنا کہیں آپ کا خلفاء ثلاثہ سے بغض تو نہیں؟؟؟


    صحیح البخاری حدیث نمبر : 3654
    حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أبو عامر، حدثنا فليح، قال حدثني سالم أبو النضر، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس وقال ‏"‏ إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ذلك العبد ما عند الله ‏"‏‏.‏ قال فبكى أبو بكر، فعجبنا لبكائه أن يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خير‏.‏ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان أبو بكر أعلمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إن من أمن الناس على في صحبته وماله أبا بكر، ولو كنت متخذا خليلا غير ربي لاتخذت أبا بكر، ولكن أخوة الإسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب إلا سد، إلا باب أبي بكر ‏"‏‏.
    مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے بسربن سعید نے اوران سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کودنیا میں اور جو کچھ اللہ کے پاس آخرت میں ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا تو اس بندے نے اختیار کرلیا جو اللہ کے پاس تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ ہم کو ان کے رونے پر حیرت ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کے متعلق خبردے رہے ہیں جسے اختیار دیا گیا تھا ، لیکن بات یہ تھی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا اور ( واقعتا ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان ہے اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو جانی دوست بناسکتاتو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا بھائی چارہ اور اسلام کی محبت ان سے کافی ہے ۔ دیکھو مسجد کی طرف تمام دروازے ( جو صحابہ کے گھروں کی طرف کھلتے تھے ) سب بند کردیئے جائیں ۔ صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دروازہ رہنے دیاجائے ۔


    صحیح البخاری حدیث نمبر : 3679
    حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا عبد العزيز الماجشون، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله ـ رضى الله عنهما ـ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رأيتني دخلت الجنة، فإذا أنا بالرميصاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفة، فقلت من هذا فقال هذا بلال‏.‏ ورأيت قصرا بفنائه جارية، فقلت لمن هذا فقال لعمر‏.‏ فأردت أن أدخله فأنظر إليه، فذكرت غيرتك ‏"‏‏.‏ فقال عمر بأمي وأبي يا رسول الله أعليك أغار
    ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ( خواب میں ) جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رمیصاءکو دیکھا اور میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں ؟ بتایاگیا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہیں اور میں نے ایک محل دیکھا اس کے سامنے ایک عورت تھی ، میں نے پوچھا یہ کس کا محل ہے ؟ تو بتایا کہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ میرے دل میں آیا کہ اندر داخل ہو کر اسے دیکھوں ، لیکن مجھے عمر کی غیرت یاد آئی ( اور اس لیے اندر داخل نہیں ہوا ) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا میرے ماں باپ آپ پر فداہوں ، یارسول اللہ ! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا ۔


    صحیح البخاری حدیث نمبر : 3695
    حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن أيوب، عن أبي عثمان، عن أبي موسى ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل حائطا وأمرني بحفظ باب الحائط، فجاء رجل يستأذن، فقال ‏"‏ ائذن له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ فإذا أبو بكر، ثم جاء آخر يستأذن فقال ‏"‏ ائذن له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ فإذا عمر، ثم جاء آخر يستأذن، فسكت هنيهة ثم قال ‏"‏ ائذن له وبشره بالجنة على بلوى ستصيبه ‏"‏‏.‏ فإذا عثمان بن عفان‏.
    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ ( بئر اریس ) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتارہوں ۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو ، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنادو ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور ( دنیا میں ) ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنادو ، وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا ، ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا ، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے ، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نے اپنے گھٹنے کو چھپالیا ۔


    صحیح البخاری حدیث نمبر : 3701
    حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لأعطين الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ‏"‏ قال فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها فلما أصبح الناس، غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطاها فقال ‏"‏ أين علي بن أبي طالب ‏"‏‏.‏ فقالوا يشتكي عينيه يا رسول الله‏.‏ قال ‏"‏ فأرسلوا إليه فأتوني به ‏"‏‏.‏ فلما جاء بصق في عينيه، ودعا له، فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية‏.‏ فقال علي يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا فقال ‏"‏ انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم ‏"‏‏.‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہاہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی علم دوںگا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا ، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئے علم کسے ملتا ہے ، جب صبح ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات ( جو سرکردہ تھے ) حاضر ہوئے ، سب کو امید تھی کہ علم انہیں ہی ملے گا ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایاکہ ان کی آنکھوں میں درد ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوالو ، جب وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی ، اس سے انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھاہی نہیں ، چنانچہ آپ نے علم انہیں کو عنایت فرمایا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں ( یعنی مسلمان بن جائیں ) آپ نے فرمایا : ابھی یوں ہی چلتے رہو ، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاو کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں ، خداکی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں ( کی دولت ) سے بہتر ہے ۔
     
  3. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہر مسلمان محبت کرتا ہے سوائے رافضیوں کے اور شعیہ کے ، ان لوگوں نے سب سے زیادہ بغض کیا
    کھبی اللہ بنا دیا کھبی مولا مشکل کشا تو کھبی مولاء کائنات بنا دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شیہد کرنے والے بھی یہی رافضی تھے اور ان کی اولاد کے قاتل بھی یہی لوگ ہیں ،اللہ نے جو شان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دی ہے اھل سنۃ کے نزدیک بھی وہی ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 7, 2010
  4. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    تمام صحابہ عادل ہیں اور ہر ایک کی اپنی اپنی فضلیت ہے، اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ چہارم ہیں، داماد رسول ہیں، سیدنا عمر کے سسر ہیں۔
     
  5. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672

    بہت عجیب لگ رہا ہے آپ کو اس طرح‌ کی باتیں‌کرتے ہوئے کیوں‌کہ جناب آپ کو پہلے بھی جواب دے دیا گیا تھا کہ اہل سنت والجماعت سب صحابہ کرام کو درجہ بدرجہ مانتے ہیں اور اہل سنت کے نزدیک سب سے زیادہ افضل بعد از نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں مگر جناب آپ ہیں‌کہ اس پوسٹ کا نا تو جواب دیا اور نا کوئی تبصرہ کرنا پسند کیا جبکہ میں‌نے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ بیان کیا تھا!!!! اگر آپ رافضیوں میں‌سے ہیں تو بتا دیں ان شاء اللہ پھر اسی طریقہ سے جواب دینگے جیسے رافضیوں‌کو دیا جاتا ہے وگرنہ اہل سنت کے دعوے دار ہیں تو اس پوسٹ کو بغور پڑھ لیں ۔ پوسٹ پرھنے کے لئے یہاں‌ کلک کریں۔


    مجھے امید ہے کہ اب اس طرح‌کی باتیں‌کر کے دوسروں کا وقت برباد نہیں‌کرینگے!!!!۔
     
  6. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    آپ یہ فرمارہیں ہیں کہ مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قاتل رافضی تھا

    لیکن یاسر صاحب فرما رہیں ہیں کہ مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قاتل ایک خارجی تھا (لعنۃ اللہ علیہ ) آپ بھی سن لیں اور اپنی معلومات درست کرلیں شکریہ

    http://www.youtube.com/watch?v=vZQop7ISaO0
     
  7. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    مناقب مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرنا وقت کو برباد کرنا ہے !!!!!!!!

    انا للہ و انا الیہ راجعون
     
  8. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    رافضیوں سے حضرت على رضی اللہ عنہ کی نفرت کا اظہار انکے اس خطبہ سے ہوتا ہے :

    أيّها القوم الشاهدة أبدانُهم، الغائبة عنهم عقولُهم، المختلفة أهواؤهم، المُبتلَى بهم اُمراؤهم، صاحبكم يُطيع اللَّه وأنتم تعصونه، وصاحب أهل الشام يعصي اللَّه وهم يطيعونه، لوددت واللَّه أنّ معاوية صارفني بكم صرف الدينار بالدرهم؛ فأخذ منّي عشرة منكم، وأعطاني رجلاً منهم!
    يا أهل الكوفة! مُنيت منكم بثلاث واثنتين: صُمٌّ ذووأسماع، وبكمٌ ذووكلام، وعُميٌ ذووأبصار، لا أحرار صدق عند اللقاء، ولا إخوان ثقة عند البلاء! تَرِبت أيديكم!

    حوالہ جات :

    موسوعة الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام في الكتاب و السنة و التاريخ
    المؤلف : محمد الريشهري
    المساعدان : السيد محمد كاظم الطباطبائي ، السيد محمود الطباطبائي
    نژاد التحقيق : مركز بحوث دار الحديث
    الناشر : دار الحديث للطباعة والنشر
    الطبعة : الثاني ، 1425
    المطبعة : دار الحديث
    النسخ : 500
    ثمن الدورة : 30000 تومان
    مؤسسة دار الحديث العلمية الثقافية
    مركز للطباعة والنشر إيران : قم المقدسة ، شارع معلم ، رقم 125 ؛ هاتف : 7740545 - 7740523 0251 لبنان : بيروت ، حارة حريك ، شارع دكاش ؛ هاتف : 559892 / 03 - 272664 / 01


    نهج البلاغة
    شرح الاستاذ الامام
    الشيخ محمد عبده مفتي الديار المصرية سابقا
    الناشر :دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت لبنان


     
  9. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277

    کتاب: خلافت و ملوکیت
    مصنف: مودودی
    مطبع: معراج الدین پرنٹر لاھور
    ناشر:ادارہ ترجمان القرآن (پرائیوٹ) لمٹیڈ رحمٰن مارکیٹ اردو بازار لاھور

    ایڈشن نمبر 26 جولائی سن 2000 عیسوی

    مودودی اپنی اس کتاب میں ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 259 کے حوالے سے لکھتا ہے کہ

    "ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہ ( رضی اللہ عنہ ) کے عہد میں یہ شروع ہو ئی کہ خود وہ اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسر منبر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ پر سبّ و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے (نعو ذ باللہ) حتی کہ مسجد نبوی میں منبر رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر عین روضہ نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سامنے حضور ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھی (نعوذ باللہ) حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے"
    نعوذباللہ
     
  10. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    سبحان اللہ حوالہ بھی دیا تو کس کا مودودی کی بدنام زمانہ کتاب خلافت و ملوکیت کا جس میں موصوف نے چن چن کر تاریخ کی کتابوں سے وہ روایات نقل کی ہیں جن سے عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی کردار کشی ہوتی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہی روافض والا موقف اجاگر ہوتا ہے۔ اس کتاب کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ موصوف نے پہلے تو خود ہی تاریخی روایات کے بارے میں کچھ خود ساختہ اصول بیان کیئے ہیں لیکن ان اصولوں کو صرف حضرت عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہما پر نافذ کیا ہے اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی باری آئی تو خود ہی اپنے ان اصولوں سے روگردانی کر گئے۔ بہرحال اس کتاب کا مکمل اور مدلل جواب فضیلة الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف "خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت" کی شکل میں دے چکے ہیں۔ کتاب پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے
     
  11. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    خرم صاحب نے جس عبارت کا حوالہ دیا اس کا مختصر جواب بھی ملاحضہ کر لیجیے۔
    مولانا نے اس عبارت کیساتھ جتنے حوالے دیئے ہیں ان میں کسی میں ادنی اشارہ بھی اس امر کے ثبوت میں نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔۔۔
    دوسرا الزام کے انہوں نے اپنے تمام گورنروں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا یہ بھی افتراء کے ضمن میں آتا ہے اسکا بھی کوئی ثبوت محولہ صفحات پر نہیں مولانا کے دیئے ہوئے حوالوں میں تین افراد کا نام ملتا ہے جو ایسا کرتے تھے ان میں ایک دلید بن عبد الملک کے زمانے کے ہیں جو یمن کے گورنر تھے۔ یہ واقعہ ۹۰ ہجری یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے ۳۰ سال بعد کا ہے جنہیں معاویہ رضی اللہ کہ گورنروں میں شامل کرنا تعجب خیز ہے۔
    دوسرے صاحب مروان تھے جو واقعی معاویہ رضی اللہ کے گورنر تھے لیکن محولہ صفحات میں کہیں بھی یہ نہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں سب و شتم کا حکم دیا تھا نیز بعض علمائے اہلسنت نے صراحت کی ہے کہ مروان کے متعلق جو اس قسم کی روایات آتی ہیں کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں دیکھیے تطہیر الجنان ص۵۴۔۔۔۔۔۔الخ اس عبارت کا ۹ صفحات پر مشتمل تفصیلی جواب "خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت" کے ص ۴۹۸ سے ۵۰۶ پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں مولف نے مولانا کے اس بے بنیاد الزام کا علمی و تحقیقی رد پیش کیا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 8, 2010
  12. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    خرم صاحب میں نے جو عبارت پیش کی ہے اسکا جواب آپ دیں کہ
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ رافضیوں سے نفرت رکھتے تھے یا نہیں ؟؟؟ !!!
     
  13. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    خرم صاحب کھل کر سامنے آو ۔ قاضی نور اللہ شوستری کی طرح تقیہ نہ کرو ۔ جو ہو وہ بن کر سامنے آو ۔ پھر امام زمانہ کی بھی اچھی طرح خبر لیں گے
     
  14. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    اتنے عرصے کے بعد آج میں نے جوائن کیا مگر ابھی تک حال وہی ہے کہ اچھی بات کو بھی بتنگڑ بنانے کی روایت قائم ہے۔ ایک تھریڈ منظر پر آتا ہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ لمبے لمبے اقتباس کاپی پیسٹ اور ایک دوسرے کی تحقیر کا عمل خوبصورت الفاطوں میں ہونے لگتا ہے

    خدا کے لئے ایک سیدھے اور سچے دین کو سیدھے سادھے انداز میں کیوں نہیں لیتے۔ ۔ ۔

    کسی کی پسند ناپسند سے کسی صحابی کا درجہ نہ تو کم ہو سکتا ہے اور نہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ وہ اللہ کے نیک، صالح بندے دنیا سے جا چکے ہیں ان پر اس قسم کی بحث کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ۔ ۔ ہاں اتنا ہو سکتا ہے کہ شیعہ حضرات اس کا فائدہ اٹھا کر مزید گندگی کو ہوا دیں
     
  15. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    دانیال ابیر صاحب واپسی کا بہت بہت شکریہ۔آپ کی کمی بہت زیادہ محسوس ہورہی تھی۔
    الطحاوی (جمشید)
     
  16. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    خوش آمدید دانیال ابیر بھائی ۔
    بھائی صحیح بات یہ ہے کہ اگر کوئی سچ اور حق بات لکھیں تو ا سکو فورا ماننا چاہے ۔ بات کا بتنگڑ اس وقت بنتا ہے جب انا اور تعصب آڑے آ جائے ۔ پھر اسی سچ اور حق کا بتنگڑ بنا دیا جاتا ہے ۔

    جی بلکل دین بلکل سادہ اور سچا ہے ۔ اطیعو اللہ واطیعو الرسول ۔ امید ہے کہ آپ بھی اس سچے ، سادے اور آسان کی دین کی طرف لوگوں کی رہنمائی کریں گئے ۔

    بھائی سیدھی سی بات ہے کہ اگر کوئی یہ دعوٰی کرے کہ وہ مسلمان ہے اور مومن ہے لیکن یہ بھی کہے کہ فلاں صحابی مجھے پسند نہیں‌۔ میرے پسند نہ کرنے سے اس صحابی کا درجہ نہ تو کم ہو گا اور نہ ہی زیادہ ۔ تو عرض ہے کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اللہ راضی اور اس کا رسول راضی ۔ اس کے بعد اپنی پسند یا نا پسندیدگی کا اظہار کرنا صحیح‌نہیں‌۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والے مسلمان نہیں‌ہو سکتے ۔

    اور دوسرا آپ نے کہا روافض اس کا فائدہ اٹھا کر مزید گندگی کو ہوا دیتے ہیں ۔ کس قسم کی گندگی ؟؟

    مزید آپ '' خرم '' صاحب کے تھریڈز سرچ کر کے دیکھ لیں‌ کہ موصوف اردو مجلس پر اسی ناپسندیدگی کے اظہار کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، ورنہ میرا خیال ہے اردو مجلس پر کوئی ایسا شخص نہیں‌ جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہو ۔

    ''خرم صاحب '' گزارش ہے کہ آپ شیخ رفیق طاھر کے پوچھے گئے اس سوال کا جواب عنایت فرما دیں ؟
    اگر ہو سکے تو '' دانیال ابیر '' آپ ہی اس کا جواب عنایت کر دیں‌ ۔ شکریہ
     
  17. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    بات توانتہائی سیدھی سادی تھی کہ حضرت علی کی فضیلت پر ایک حدیث درج کی گئی۔ اس میں اختلاف کی کیابات تھی لیکن بزعم خود کچھ لوگوں‌ کی ناک میں قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے اورانہوں‌نے اپنے خیال سے سمجھ لیا کہ یہ شیعت کا اظہار ہے۔مجھ خرم صاحب کے بارے میں نہیں معلوم کس جماعت اورمکتب فکر سے ان کا تعلق ہے لیکن صحیح بات اگرکسی نے شیئر کی ہے تواس پر اعتراض کی کیاضرورت ہے۔
    جب صرف حضرت عمرفاروق کے فضائل پر تھریڈ‌لگائے جاتے ہیں تواس وقت کسی کو یاد نہیں آتا کہ دیگر خلفاء راشدین کے فضائل بھی ذکرکئے جائیں اوراسی طرح‌ حضرت عثمان اورحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہھا کے بارے میں بھی یہ رویہ اپنایاجاتاہے لیکن جہاں‌ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب وفضائل بیان کئے کچھ لوگ کو پتہ نہیں کیوں شبہ ہوجاتاہے کہ یہ شیعیت کی دعوت ہے اوریہ نفسیاتی بیماری آج کی نہیں ہے بہت قدیم ہے ۔
    ایسے ہی لوگوں کے اعتراضات سن کرامام شافعی کو بھی کہناپڑاتھا۔
    ان کان رفضاحب ال محمد
    فلیشھد الثقلان انی رافضی

    اگر آل محمد کی محبت رافضیت ہے تو دنیا جان لے کہ میں رافضی ہوں۔
     
  18. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ

    الطحاوی صاحب! خرم صاحب آپ کے بدعتی بھائی ہیں!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    میرے خیال میں آپ اتنے سادہ نہیں کہ خرم صاحب کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوں‌۔ یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر حدیث کی بات نہیں ہو رہی ہے ۔اس پر سب نے شکریہ ادا کیا تھا ۔ دانیال ابیر نے جو پوسٹ کی تھی اس کا جواب دیا گیا تھا ۔ آل بیت سے محبت پر کسی کو کوئی تکلیف نہیں‌۔تکلیف کس کو ہو سکتی ہے اس کا اندازہ آپ کی پوسٹ سے ہو گیا ہے ۔ اسی قسم کے اعتراضات مولانا مودودی حنفی رحمہ اللہ بھی لکھا کرتے تھے ۔ اگر آپ نے لکھا دیا ہے تو ہمیں‌کوئی اعتراض نہیں‌۔
     
  20. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    دیوبند اور بریلویوں کے نزدیک مولانا مودودی قابل حجت نہیں ، یہ ان کو اپنا نہیں جانتے ، خلافت اور ملوکیت سے پیار صرف رافضی حضرات کو ہی ہے اور وہی ان کا حوالہ بھی دیتے ہیں
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں