قرآن جلا تو فوجیوں کو خطرہ : پیٹریئس

ابن عمر نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏ستمبر 7, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
    قرآن جلا تو فوجیوں کو خطرہ : پیٹریئس

    افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کا ایک چرچ قرآن نذرِ آتش کرنے کے اپنے منصوبے پر مُصر رہتا ہے تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف کابل بلکہ پوری دنیا میں میں پریشانی پیدا کرسکتا ہے۔

    امریکہ میں ’ڈو ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر‘ کے پادری ٹیری جونس نے کہا ہے کہ اس برس گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے حملے کی برسی کے موقع پر وہ ایک ’بون فائر‘ یا الاؤ جلائیں گے جن میں قرآن نذرِ آتش کیے جائیں گے۔

    افغانستان میں ہزاروں افراد نے اس منصوبے کی مخالفت میں مظاہرے کیے ہیں جبکہ امریکہ ميں افغانستان کے سفارتخانے نے بھی اس منصوبے کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

    جنرل پیٹرئیس نے کہا ہے کہ ’یہ فوجیوں کے علاوہ ہماری ساری کوششوں کو مشکل میں ڈال سکتا ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طرح کے کام طالبان کرتے ہیں‘۔

    افغانستان میں نیٹو ٹرینگ مشن کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ولیم کالڈویل نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو بتایا ہے ’قرآن مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے اور اگر بعض افراد اس کو جلانے کی بات کرتے ہیں تو اسی سے اس پر نہ صرف بحث شروع ہوجاتی ہے بلکہ فکرمندی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں پورا یقین ہے کہ اس سے افغانستان میں کام میں مصروف ہمارے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے‘۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
    یہ ہے امریکہ کا اصلی چہرہ !!!
     
  3. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    اللہ تعالی ان پر اپنی پکڑ سخت کرے
    آمین
     
  4. سپہ سالار

    سپہ سالار -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 21, 2007
    پیغامات:
    2,019
    اللہ ان بد بختوں سے نمٹے، اور ہم ‌سے اپنے دین کا کام لے۔
     
  5. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    [font="al_mushaf"]
    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْ رِھِمْ وَ نَعُوْزُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ​
    [/font]
     
  6. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]
    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْ رِھِمْ وَ نَعُوْزُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ
    [/FONT]
     
  7. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    انا للہ وانا الیہ راجعون!
    اللہ ان کو ہدایت دے۔ آمین۔۔۔
     
  8. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْ رِھِمْ وَ نَعُوْزُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ
     
  9. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    مسلم امہ کا دم خم چانچنے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    امريکی سفارت خانے کی فلوريڈا کے گرجہ گھر کی جانب سے قرآن مجيد کے نسخے نذر آتش کرنے کے منصوبہ کی مذمت

    امريکی سفارت خانہ 11 ستمبر کی برسی کے موقع پر فلوريڈا کے ايک گرجا گھر کی جانب سے قرآن مجيد کے سينکڑوں نسخے نذر آتش کرنے کے منصوبہ کی مذمت کرتا ہے۔

    امريکی ناظم الامور اسٹيفن سی اينگلن نے کہا ہے کہ ہم ايسے اقدامات کی مذمت کرتے ہيں جو اہانت آميز اور عدم رواداری پر مبنی ہوں اور لوگوں ميں پھوٹ ڈالتے ہوں۔ ہم کسی بھی مذہبی يا نسلی گروہ کے ارکان کی توہين کی جان بوجھ کر کی جانے والی تمام کوششوں پر سخت تشويش کا اظہار کرتے ہیں۔

    اينگلن نے کہا کہ ہم مذہبی آزادی اور اظہار راۓ کی آزادی پر يقين رکھتے ہیں۔ يہ آفاقی حقوق ہيں جو امريکی آئين اور انسانی حقوق کے عالمی اعلاميہ ميں شامل ہيں۔ ہم اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ کسی بھی مقدس صحيفے کو جان بوجھ کر تباہ کرنا ايک قابل نفرت عمل ہے۔

    گينز ويلے فلوريڈا ميں جہاں يہ گرجا گھر واقع ہے، حکام نے مقامی فائر آرڈينس کے تحت گرجا گھر کی جانب سے جلانے کے عمل کو ممنوع قرار دے ديا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر گرجا گھر نے اس منصوبے پر پيشرفت کی تو وہ مزيد اقدامات کريں گے۔

    اس واقعہ کی راۓ عامہ کی جانب سے مذمت کرنے والوں ميں نيشنل ايسوسی ايشن آف ايوينجليکلز، دی سدرن بيپٹسٹ کنوينشن اور اينٹی ڈی فیميشن ليگ شامل ہيں۔

    اور جيسا کہ منگل کی شام محکمہ خارجہ میں اپنی جانب سے دی گئ دعوت افطار کے موقع پر وزير خارجہ ہيلری کلنٹن نے اس منصوبے کی مذمت کا خير مقدم کرتے ہوۓ کہا کہ ميں تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے امريکی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے جن ميں ايوينجليکل عيسائيوں سے لے کر يہودی ربی اور ان کے ساتھ سيکولر امريکی رہنما اور راۓ عامہ ہموار کرنے وانے لوگ بھی شامل ہيں، اس ناپاک اور شرمناک جسارت کی واضح اور غير مبہم مذمت پر خوش ہوں۔ مذہبی رواداری کے ساتھ ہماری وابستگی کی تاريخ ہماری قوم کی تشکيل جتنی ہی پرانی ہے۔ آپ ميں سے بہت سے لوگ جانتے ہوں گے کہ 1790 ميں جارج واشنگٹن نے روڈ آئ لينڈ میں نيوپورٹ کے مقام پر ايک يہودی معبد کو لکھا تھا کہ يہ ملک "تعصب کی اجازت دے گا اور نہ ايذا رسانی کی حمايت کرے گا۔"


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
     
  11. مَردِ مُجَاھِد

    مَردِ مُجَاھِد -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 30, 2010
    پیغامات:
    2
    شرم آنی چاہیئے فواد اگر تم مسلمان ہو کہ اتنی برودت سے اس متعلق جواب لکھ رہے ہو ۔
    ہمارا ردِ عمل بلیک ماؤسں تک پہنچادو کہ اگر قرآن پاک جلانے کی کوشش کی گئی تو ہم بھی چُپ نہیں رہیں‌گے ، ان شاءاللہ
    ہم مسلمانوں کی طرف سے شدید ردِ عمل (پورے کے پورے گرجا گھر جلانے) پر پریشان نہ ہویے گا ۔
     
  12. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,332
    صرف مذمت اور تشویش؟
     
  13. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    ------------------------------
    نہیں بھائی مجاہد۔ اسلام بے گناہ لوگوں کو مارنے کا نہیں بلکہ انہیں بچانے کا حکم دیتا ہے۔
     
  14. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    تحریک تحفظ حرمت رسول کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان

    لاہور (خصوصی نامہ نگار) فلوریڈا کے چرچ کی طرف سے (نعوذباللہ) قرآن پاک جلانے کے اعلان اور خاکوں کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔ تحریک تحفظ حرمت رسول نے کل جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا‘ جلسوں‘ مظاہروں اور تحریک تحفظ حرمت رسول کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائیگا۔ علما کرام سیرت رسول کے موضوع پر خطابات کریں گے اور خطبات جمعہ میں مذمتی قراردادیں پاس کی جائیں گی۔ مولانا امیر حمزہ‘ حافظ عاکف سعید‘ علامہ احمد علی قصوری‘ علامہ زبیر احمد ظہیر‘ ڈاکٹر فرید پراچہ‘ مولانا شفیع جوش‘ حافظ عبدالغفار روپڑی‘ مولانا امجد خان‘ سید نو بہار شاہ‘ علامہ علی غضنفر‘ قاری یعقوب شیخ‘ سیف الدین سیف‘ مولانا یوسف‘ حافظ خالد ولید‘ مولانا محمد عاصم مخدوم و دیگر نے کہا کہ امریکیوں نے قرآن پاک کی گستاخی کی کوشش کی تو پھر دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ صلیبی مسلمانوں کو مشتعل کرنے سے باز رہیں وگرنہ دنیا میں وہ آگ بھڑکے گی کہ صلیبی و یہودی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لاہور‘ شیخوپورہ‘ قصور‘ گوجرانوالہ‘ حافظ آباد‘ جھنگ‘ ساہیوال‘ وہاڑی‘ بہاولپور اور کراچی میں ہونے والے سحر و افطار پروگراموں اور حرمت رسول کانفرنسوں سے حافظ سیف اللہ منصور‘ حافظ مسعود‘ مولانا بشیر احمد‘ مولانا احمد سعید ملتانی‘ مولانا یوسف ربانی‘ حافظ سیف اللہ اعظم‘ حافظ طلحہ سعید‘ حافظ عبداللہ حنیف‘ قاری گلزار‘ مولانا سیف اللہ‘ مولانا احتشام الحق و دیگر نے خطاب کیا اور کہا کہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑا امتحان ہے مسلمانوں کو متحد ہو کر کفار کی گستاخیوں کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔
    Nawaiwaqt eNewspaper - A house of quality news content | Urdu News | Pakistan News | Nawaiwaqt | تحریک تحفظ حرمت رسول کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان
     
  15. حسن ہاشمی

    حسن ہاشمی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 25, 2009
    پیغامات:
    63
    جدید جمہوری معاشرے میں بے گناہ لوگوں کی کیا تعریف ہے۔
     
  16. حسن ہاشمی

    حسن ہاشمی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 25, 2009
    پیغامات:
    63
    امریکہ میں بھی اچھا ڈرامہ ہوتا ہے۔ ایک طرف تقاریب ادیان کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔
    دوسری طرف مذہب کے خلاف بولنے کی مکمل آزادی ہے۔
    ایک طرف بلیک ہا وس میں افطار ڈنر ہوتے ہیں۔دوسری طرف عراق و افغانستان میں مسلمانوں کی (نا کہ امریکیوں کا ساتھ دینے والوں نام نہاد مسلمان( کی نسل کشی کی جاتی ہے۔
    ایک طرف دنیا کو پر امن بنانے کے خواب دکھائے جاتے ہیں، دوسری طرف دنیا میں تباہی پھیلانے والے ہتھیار کی تیاری اور فروخت بھی جاری رہتی ہے۔
    ایک طرف یہ جملہ ہر امریکی کہتا ہے "تمام انسان برابر ہیں، ہر ایک کو جینا کا حق ہے "۔ دوسری طرف اسرائیلی کی کھلے عام مدد کرکے ، فلسطینی مسلمانوں کو بنیادی سہولیات سے روک دیا جاتا ہے۔ ان کو زبردستی گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔

    فواد (پتا نہیں اس کا اصل نام یہ ہے بھی کہ نہیں؟( اور اس جیسے حاجی ، نمازی امریکی مسلمان اسی غم میں مبتلا رہتے ہیں کہ پتا نہیں پوری دنیا امریکہ کے خلاف کیوں ہے۔
    کاش کا فواد اور ان جیسے حاجی ، نمازی لوگوں نے قرآن کو ویسے پڑھا ہوتا، جیسے کہ اس کو پڑھنے کا حق ہے۔ تو ان کا سمجھ آجاتی کہ مسئلے کی بنیاد کیا ہے۔
    جمہوری معاشرے میں یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں۔
     
  17. فرحان سلطان

    فرحان سلطان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2007
    پیغامات:
    7
    اللہ کی لعنت ان پر
     
  18. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,849
    اب قرآن نہیں جلاؤں گا

    اشارہ چاہیے تھا جو مل گیا، اب قرآن نہیں جلاؤں گا


    امریکہ نے مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے احتجاج اور غم و غصے کے پیشِ نظر دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو دورانِ سفر احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی

    امریکی ریاست فلوریڈا میں پادری ٹیری جونز نے اعلان کیا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کو قرآن کے نسخے نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ ترک کر رہے ہیں۔

    ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے اعلان کیا کہ نیویارک شہر کے امام نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے نزدیک اسلامی ثقافتی سینٹر تعمیر کہیں اور کرنے پر متفق ہوگئے ہیں لہذا اب اب قرآن کے نسخے جلانے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔تاہم اسلامی ثقافتی سینٹر تعمیر کرنے والوں نے تردید کی ہے کہ وہ مرکز کو کہیں اور تعمیر کر رہے ہیں۔

    پادری ٹیری جونز کے اس اعلان سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ قرآن کو نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ نہ صرف امریکی اقدار کے خلاف ہے بلکہ اس سے عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    پچھلے کچھ دنوں سے میں دعائیں کر رہا تھا کہ اگر قرآن نہیں جلائے جانے چاہیں تو خدا مجھے کوئی نشانی دکھائے۔ اور یہ نشانی مجھے نیو یارک سٹی کے امام کی صورت میں نظر آئی جنھوں نے اسلامی ثقافتی مرکز کے تعمیر کی جگہ تبدیل کرنے پر اتفاق کیا
    پادری ٹیری جونز

    براک اوباما امریکی فوج کے کمانڈر ان چیف ہیں اور ان سے قبل یہی بات افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے کہی تھی جسے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کی طرف سے بھی تائید ملی تھی۔ جمعرات کو امریکی وزیرِ دفاع نے بھی ٹیری جونز سے رابطہ کیا اور انھیں اپنے منصوبے سے باز رہنے کے لیے کہا۔

    ٹیری جونز کے قرآن نذرِ آتش کرنے کے منصوبے پر دنیا بھی میں ان کی مذمت کی جا رہی تھی اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہیں۔ اس منصوبے کے خلاف پاکستان، انڈونیشیا اور افغانستان میں مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ خود امریکہ میں بے شمار لوگوں نے ٹیری جونز کے منصوبے کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا۔

    امریکہ نے مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے احتجاج اور غم و غصے کے پیشِ نظر دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو دورانِ سفر احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

    شمالی امریکہ کے لیے میں بی بی سی کے ایڈیٹر مارک مارماڈیل کے مطابق پادری ٹیری جونز نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ انھوں نے قرآن جلانے کا اعلان اس لیے کیا تھا کہ اسلام میں ریڈیکل عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے احتجاج کی ایک وجہ نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب اسلامی ثقافتی سینٹر کا قیام تھا۔


    ٹیری جونز کے قرآن نذرِ آتش کرنے کے منصوبے پر دنیا بھی میں ان کی مذمت کی جا رہی تھی اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہیں
    پادری کا کہنا تھا: ’پچھلے کچھ دنوں سے میں دعائیں کر رہا تھا کہ اگر خدا نہیں چاہتا کہ قرآن جلائے جائیں تو وہ مجھے کوئی اشارہ دے۔ اور یہ اشارہ مجھے نیو یارک سٹی کے امام کی صورت میں نظر آیا جنھوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ گراؤنڈ زیرو پر اسلامی ثقافتی مرکز نہیں بنےگا لہذا میں نے قرآن جلانے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے اور میں جلد ہی ان لوگوں سے ملوں گا جو اب اسلامی ثقافتی مرکز کو کہیں اور تعمیر کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔‘

    تاہم جب بی بی سی نے اسلامی ثقافتی مرکز کے منتظمین سے پوچھا کہ آیا وہ اس مرکز کی گراؤنڈ زیرو کے قریب تعمیر کے موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں تو انھوں نے اس کی پرزور تردید کی۔


    بحوالہ خبر
     
  19. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    یہ کفار جاننا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں‌میں‌ ابھی کتنی غیرت باقی ہے، اور جب معلوم ہو جاتا ہے کہ ابھی تھوڑی غیرت باقی ہے، تو ٹھنڈے پڑجاتے ہیں جبکہ اسی طرح کے واقعات تقریبآ ہر سال پیش آرہے ہیں۔


    يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴿سورة الصف، ٨﴾
    یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے (چراغ) کی روشنی کو منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں۔ حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافر ناخوش ہی ہوں
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department


    آپکی ميرے اوپر تنقید منطق کی بنياد پر نہيں ہے۔ اگر ميں اس ايشو پر جواب دے رہا ہوں اور امريکی حکومت کا موقف آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تو اس کا مطلب ہرگز يہ نہيں کہ ميں يا امريکی حکومت کسی بھی طرح سے ايک چرچ يا پادری کی جانب سے اس حرکت کی حمايت کر رہے ہيں۔

    ميں چاہوں گا کہ آپ اس پيغام پر غور کريں جو ميں نے اس ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کے موقف کے طور پر پيش کيا تھا۔ امريکی حکومت کے تمام اہم حکومتی اہلکاروں بشمول امريکی صدر اور وزير خارجہ ہيلری کلنٹن نے فلوريڈا چرچ کی جانب سے اس مذموم ارادے کی سخت ترين الفاظ ميں مذمت کی ہے۔ اس حوالےسے کوئ ابہام موجود نہیں ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اس ايشو کی حساس نوعيت سے پوری طرح واقف ہے۔ يہی وجہ ہے کہ امريکی صدر سميت تمام اہم عہديداروں نے عوامی سطح پر اپنے الگ الگ بيانات ميں اپنا موقف واضح کيا ہے۔ امريکی ميڈيا ميں بھی يہ ايشو کئ روز سے موضوع بحث ہے۔

    امريکی معاشرے کی بنياد آئين ميں وضع کيے گۓ قوانين اور ان کی روح پر استوار کی گئ ہے۔ امريکی صدر اور انکی انتظاميہ کا ہر حصہ آئين ميں درج حدود کا پابند ہے۔ يہ آئين اظہار راۓ کے حق اور مذہبی آزادی کے علاوہ ان معاملات ميں حکومت کی عدم مداخلت کو يقينی بناتا ہے۔

    آزادی راۓ کے اظہار ميں يہ حق موجود ہے کہ اپنے مخصوص عقائد کے ضمن ميں گروہی وابستگي اور احتجاج کے ذريعے حکومت کے سامنے تحفظات کا اظہار کيا جاۓ۔

    جيسا کہ ميں نے پہلے بھی واضح کيا ہے کہ امريکی معاشرے ميں موجود مسلمانوں کو بھی يہی حقوق حاصل ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ امريکہ ميں موجود تمام اہم اسلامی تنظيموں نے اس واقعے پر اپنے بھرپور احتجاج کے باوجود اس حقيقت کو بھی تسليم کيا ہے کہ آزادی راۓ کے اظہار کے ضمن ميں قوانين موجود ہيں۔

    اس ايشو کے حوالے سے يہی اصول امريکی صدر اور حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں