علامہ محمد اسد رحمہ اللہ

عائشہ نے 'نو مسلم اور تائب شخصيات' میں ‏اکتوبر، 19, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496

    محمد اسد؟ کون محمد اسد؟
    تلخ نوائی …اظہار الحق ـ
    نوائے وقت
    پاکستان کو بنے تین سال ہو چکے تھے۔ یہ 1951 تھا‘ ابھی تک سعودی عرب میں پاکستان کا سفارت خانہ قائم نہ ہو سکا تھا ! دوسری طرف بھارت کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا تھا۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اتنا کامیاب تھا کہ سعودی عرب میں ’’رسول سلام‘‘ (امن کا سفیر) کے نعروں سے اس کا استقبال کیا گیا۔
    مصر میں متعین پاکستانی سفیر سعودی عرب میں پاکستانی امور نمٹاتا تھا۔ جدہ میں ایک بے بضاعت سا قونصل خانہ تھا۔ مئی1951ء میں پاکستان نے فیصلہ کیا کہ سفارت خانہ کھولنے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجا جائے۔ لیاقت علی خان وزیراعظم تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین خان کو اس وفد کا سربراہ مقرر کیا لیکن عملاً وفد کی سربراہی جس شخص کے سپرد تھی ان کا نام محمد اسد تھا۔ وہ وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری تھے۔ ( یہ وہ زمانہ تھا جب گنتی کے چند جوائنٹ سیکرٹری ہوا کرتے تھے اور ایک ایک شخص کئی کئی افراد کا کام کرتا تھا یہ تو آدھے سے زیادہ پاکستان کے علیحدہ ہو جانے کے بعد وفاقی سیکرٹری روپے کے درجن ملنے لگے۔ رہے جوائنٹ سیکرٹری تو اب سینکڑوں کی تعداد میں ہیں)۔ آج کتنے تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ محمد اسد پاکستان کے کتنے بڑے محسن تھے اور کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے؟

    محمد اسد سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز بن سعود کے منہ بولے بیٹے تھے۔ عربوں کی طرح عربی بولتے تھے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل (جو بعد میں بادشاہ بنے) محمد اسد کے پرانے دوست تھے۔ محمد اسد نے نہ صرف بھارتی لابی کو نیچا دکھایا۔ بلکہ بادشاہ سے سفارت خانہ قائم کرنے کی اجازت بھی حاصل کر لی۔ اس وفد میں آزاد کشمیر کی نمائندگی صدر آزاد کشمیر کے معاون یعقوب ہاشمی کر رہے تھے۔ انکے الفاظ میں ’’پاکستانی وفد کے قائد سمیت ہر ممبر نے محسوس کر لیا تھا کہ اگر علامہ اسد ساتھ نہ ہوتے تو شاید وفد کو بادشاہ سے ملاقات کا موقع بھی نہ مل سکتا۔ علامہ کی گفتگو کا سعودی حکمران پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ نہ صرف انہوں نے سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دیدی بلکہ ہمیشہ کیلئے اس نوزائیدہ اسلامی مملکت کو سلطنت عریبیہ سعودیہ کے انتہائی قریبی دوست کی حیثیت میں منتخب کر لیا۔ آج ملت اسلامیہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ جو گہرے بردرانہ مراسم ہیں وہ اسی وقت سے چلے آ رہے ہیں‘ ہم میں سے کتنوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ اس کا سارا کریڈٹ علامہ اسد کو جاتا ہے۔ (نوائے وقت 27 اگست 1982ئ)

    محمد اسدآسٹریلیا کے ایک یہودی خاندان میں 1900ء میں پیدا ہوئے۔ انکے دادا یہودی عالم (ربی) تھے۔ محمد اسد کا اصل نام لپوپولڈ وائس تھا۔ 1922ء سے1925ء تک لپوپولڈ، جرمن اخبارات کے نمائندے کے طور پر مصر، اردن، شام، ترکی، فلسطین، عراق، ایران، وسط ایشیا، افغانستان اور روس کی سیاحت کر چکے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے تمدن کو قریب سے دیکھا اور اسلام کا مطالعہ کیا۔ 1926ء میں انہوں نے برلن میں ایک ہندوستانی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمد اسد رکھا۔ تقریباً چھ سال جزیرہ نمائے عرب میں رہے۔ انکی موجودگی ہی میں سعودی عرب کی مملکت قائم ہوئی۔ شاہ عبدالعزیز بن سعود سے انکے ذاتی تعلقات تھے۔ وہیں انہوں نے ایک عرب خاتون سے شادی کی جس سے طلال اسد پیدا ہوئے۔ 1932ء میں وہ ہندوستان آ گئے۔ ان کا قیام امرتسر، لاہور، سری نگر دہلی اور حیدر آباد دکن میں رہا۔ علامہ اقبال سے انہوں نے مجوزہ مملکت پاکستان کے قوانین کے متعلق طویل نشستیں کیں۔ اقبال کے زیر اثر ہی انہوں نے اپنی مشہور کتاب ’’اسلام ایٹ دی کراس روڈ‘‘ لکھی پھر ’’عرفات‘‘ کے نام سے انگریزی رسالہ نکالا جس کے دس پرچے شائع ہوئے۔ صحیح بخاری کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ پانچ حصے شائع ہو چکے تھے کہ جرمن شہری ہونے کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جنگ ختم ہوئی تو رہائی ملی۔

    پاکستان بنا تو لیاقت علی خان نے انہیں وزارت خارجہ میں مشرقِ وسطی کے امور کا انچارج مقرر کر دیا۔ سب سے پہلا پاکستانی پاسپورٹ انہی کو جاری کیا گیا، پطرس بخاری اقوامِ متحدہ میں سفیر مقرر ہوئے تو محمد اسد انکے نائب کے طور پر تعینات کئے گئے ۔ سر ظفر اللہ (قادیانی( اس وقت وزیر خارجہ تھے۔ محمد اسد مسلمان ملکوں کے سفیروں میں حد درجہ مقبول تھے۔ عربی پر ان کا عبور اور وحدتِ اسلامی کا جذبہ انہیں ہر کام میں غیر معمولی کامیابی عطا کرتا لیکن پطرس بخاری ایک خود پسند اور متکبر شخص تھے۔ محمد اسد کی کامیابی انہیں ایک آنکھ نہ بھائی رہی سہی کسر سر ظفر اللہ خان نے پوری کر دی‘ نتیجہ یہ ہوا کہ محمد اسد نے پاکستانی حکومت کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔

    یہ پچاس کی دہائی تھی۔ نیویارک میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی وہ کتاب تصنیف کی جس نے انہیں شہرت کے آسمان پر پہنچایا۔ ’’دی روڈ ٹو مکہ‘‘ (شاہراہ مکہ) میں انہوں نے اپنا جسمانی اور روحانی سفر تفصیل سے بیان کیا۔ یہ کتاب دنیا کے تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے، بار بار شائع ہوئی اور اب بھی ہو رہی ہے کتنے ہی لوگ اسے پڑھ کر مسلمان ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ 1982ء (یا 1984ئ) میں صدر ضیاء الحق نے انہیں اسلامی قوانین کے متعلق مشاورت کے ضمن میں پاکستان بلایا۔ وہ انٹر کانٹیننٹل ہوٹل راولپنڈی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہ کالم نگار بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ دیر انکے ساتھ رہا۔ افسوس! گفتگو کے نوٹس نہ لئے۔ آج کچھ یاد نہیں کہ کیا گفتگو ہوئی! 1982ء میں ان کا قرآن پاک کا ترجمہ
    The Message of Qurran

    شائع ہوا آج دنیا بھر میں یہ ترجمہ مقبول ہے۔ انیس سال محمد اسد مراکش کے شہر طنجہ میں رہے۔ 1992ء میں وہ جنوبی ہسپانیہ (اندلس) کے شہر ملاقہ میں تھے کہ ان کی وفات ہو گئی۔ وہ غرناطہ میں مسلمانوں کے قبرستان میں مدفون ہیں!میں گذشتہ پانچ ماہ سے آسٹریلیا میں تھا۔ وہیں معلوم ہوا کہ معروف محقق اور دانشور محمد اکرام چغتائی نے محمد اسد پر اپنی کئی سالہ تحقیق کے نتیجے میں چار کتابیں لکھی ہیں جو چھپ گئی ہیں۔ برادر عزیز پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی (صدر شعبہ فارسی پنجاب یونیوسٹی) کی معرفت چغتائی صاحب سے رابطہ ہوا۔ گزشتہ ہفتے پنجاب یونیورسٹی ہی میں ان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کمال شفقت سے یہ کتابیں عنایت کیں۔ ’’محمد اسد: ایک یورپین بدوی‘‘ اور ’’ہندی صحرائی‘‘ اردو میں ہیں۔
    Mohammad Asad: Europe's Gift to Islam
    انگریزی میں دو جلدوں میں ہے‘ ان چار کتابوں میں اکرام چغتائی نے کوشش کی ہے کہ محمد اسد کے بارے میں جو کچھ وہ حاصل کر سکے ہیں سما جائے۔ محمد اسد کے اپنے مضامین کے علاوہ ابو الحسن ندوی، سید سلیمان ندوی، محمد اسحاق بھٹی، انگریزی زبان کے معروف صحافی خالد احمد، مریم جمیلہ اور دیگر مشاہیر نے جو کچھ محمداسد کے بارے میں لکھا، وہ بھی ان تصانیف میں موجود ہے۔ علامہ اسد، اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے…؎
    درویشِ مست نہ شرقی ہے نہ غربی
    گھر میرا نہ دلی، نہ صفاہاں، نہ سمر قند
    ان کا کوئی وطن نہ تھا اور سارا عالم اسلام ان کا وطن تھا لیکن پاکستان سے انہیں خصوصی محبت تھی اور ایک قلبی تعلق تھا۔ ان کی بیوی پولا حمید اسد کے الفاظ میں:
    ’’ انہیں پاکستان دل و جان سے عزیز تھا۔ وہ تصور پاکستان سے محبت کرتے تھے حالانکہ اس ملک نے انکے ساتھ معاندانہ رویہ اپنایا لیکن وہ کبھی اس طرز سلوک کے شاکی نہ رہے۔ وہ پاکستان کے پہلے شہری تھے اور آخری عمر تک انہوں نے پاکستان کے ساتھ اس گہرے تعلق کو قائم و دائم رکھا‘‘۔

    پاکستان کے اس پہلے شہری کو ہم فراموش کر چکے ہیں! کیا یہ ممکن نہیں کہ لاہور کی کسی شاہراہ ا ور اسلام آباد کے کسی خیابان کو محمد اسد کے نام کر دیا جائے؟ اگر آپ اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں تو آج ہی وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستانی کے نام الگ الگ خط میں یہ مطالبہ کریں۔ کیا عجب فوڈ سٹریٹ میں دلچسپی لینے والے ’’جمہوریت پسند‘‘ حکمران ہمارے قارئین کا یہ مطالبہ مان لیں اگرچہ ان سے چمٹی ہوئی ’’عالم فاضل‘‘ بیوروکریسی ضرور پوچھے گی کہ ’’محمد اسد؟ کون محمد اسد؟‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    يہ مضمون اچھا ہے مگر كيا يہ ترجمہ ٹھیک ہے؟
    ميرے خيال ميں درست "سفير للسلام" يا "سفير السلام" ہے۔جسے ambassador for peace کہتے ہیں۔
    کہیں پڑھا تھا كہ ان کی بیگم چہرے كا پردہ نہیں كرتى تھیں، جب محمد اسد رحمہ اللہ مولانا داؤد غزنوى رحمہ اللہ سے ملنے آتے تو وہ كسى دوسرے كمرے ميں ٹھہرتى تھیں، مولانا كے سامنے نہیں جاتى تھیں۔ رحمہم اللہ جميعا ۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,397
    ہماری طرح مترجم کو بھی امن کا پیغامبر یا قاصد کہنے میں جھجھک محسوس ہوئی ہو گی، اس لئے رسول کا ترجمہ سفیر کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    اچھی اور معلوماتی شیئرنگ ہے،
    یقین جانیے میں تو خود یہ نام پہلی دفعہ سن رہا ہوں، پتہ نہیں کیوں ایسے لوگوں‌کا تذکرہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا جاتا ہے؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    رسول كا ترجمہ سفير نہیں،ايمبيسڈر كا ترجمہ رسول كيا جو نا مناسب سا لگ رہا ہے۔ ايمبيسڈر كا ترجمہ ميرے ناقص خيال ميں سفير ہے۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    درست كہا، ہم يورپین اور اميركن پراپیگنڈے کے زير اثر لارنس آف عريبيا كو تو ليجنڈ كى حيثيت سے جانتے ہیں مگر علامہ محمد اسد رحمہ اللہ كو نہیں۔
    روڈ ٹو مکہ اور اسلام ايٹ دى كراس روڈ بہت زبردست كتابیں ہیں ، ان کا قارى علامہ محمد اسد رحمہ اللہ كے اسلام كے ليے اخلاص اور محبت كو محسوس كر سكتا ہے۔جہاں تك مجھے ياد ہے اردو مجلس پر روڈ ٹو مكہ کے ايك طويل اقتباس كا ترجمہ كسى نے شئیر كيا تھا۔
    اور كشمير پر بھی ان كے کچھ ويوز اور واقعات يہاں پڑھے تھے۔ اگر كوئى ممبر ربط دے سكے تو بہت اچھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    السلام علیکم
    میں نے پہلی بار ان کا نام سنا۔
    اور ان کے کارنامے خصوصا اسلام کے بار ےمیں کتابیں پڑھ کر بہت حیرانگی ہوئی ۔
    اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ آمین
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
  9. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    حق بات کہی آپ نے بھائی اعجاز
    جزاک اللہ
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین


    ام نورالعین سسٹر بہت اچھی انفارمیشن شیر کی آپ نے جزاک اللہ

    اللہ آپ کو بھی ہمیشہ خوش رکھے آمین
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 19, 2010
  10. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    محمد اسد اور پاکستان​


    محمد اسد کا دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان سے انتہائی گہرا اور قریبی تعلق تھا اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر بھی رہے۔

    محمد اسد پاکستان اور تحریک پاکستان کے اصل مقاصد اور اہداف کا بڑا واضح ادراک رکھتے تھے اور آج کی پاکستانی قیادت کے لئے اسد کی تحریروں میں بڑا سبق اور پاکستانی قوم کے لئے عبرت کا پیغام ہے۔ محمد اسد نے فروری 1947ء میں اپنے پرچے "عرفات" میں تصور پاکستان کو اس طرح بیان کیا اور ماضی میں ابھرنے والی کئی اصلاح تحریکوں کا ذکر کرتے ہوا لکھا کہ :

    "تحریک پاکستان اس طرح کی تمام صوفیانہ تحریکوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ یہ کسی روحانی رہنما پر لوگوں کے اعتقاد سے جذبہ و توانائی حاصل نہیں کرتی، بلکہ اس کا یہ ادراک، جو بیشتر معاملات میں ہدایت دیتا ہے اور علمی حلقوں میں صاف صاف سمجھا جاتا ہے، کہ اسلام (پورے نظام زندگی کی تعمیر نو کی) ایک معقول تدبیر ہے اور اس کی سماجی و اقتصادی اسکیم انسانیت کو درپیش تمام مسائل کا حل فراہم کرسکتی ہے اور اس کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کے اصولوں کی پیروی کی جائے۔ نظریۂ پاکستان کا یہ علمی پہلو اس کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اس کی تاریخ کا ہم کھلی آنکھوں سے مطالعہ کریں تو ہم یہ پائیں گے کہ اپنے اولین دور میں اسلام کی فتح کی وجہ اس کی انسان کی فہم، دانش اور عقل عام سے اپیل ہے۔ تحریک پاکستان، جس کی نظیر جدید مسلم تاریخ میں موجود نہیں ہے، ایک نئے اسلامی ارتقا کا نقطۂ آغاز ہوسکتی ہے، اگر مسلمان یہ محسوس کریں، اور جب پاکستان حاصل ہوجائے تب بھی محسوس کرتے رہیں کہ اس تحریک کا حقیقی تاریخی جواز اس بات میں نہیں ہے کہ ہم اس ملک کے دوسرے باشندوں سے لباس، گفتگو یا سلام کرنے کے طریقے میں مختلف ہیں، یا دوسری آبادیوں سے جو ہماری شکایات ہیں اس میں یا ان لوگوں کے لئے جو محض عادتا خود کو مسلمان کہتے ہیں، زیادہ معاشی مواقع اور ترقی کے امکانات حاصل کریں، بلکہ ایک سچا اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے"۔ (عرفات، فروری 1947ء صفحہ 863 تا 865)

    اسی رسالے میں آگے لکھتے ہیں کہ

    "ہم پاکستان کے ذریعے اسلام کو صرف اپنی زندگیوں میں ایک حقیقت بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اس لئے پاکستان چاہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اس قابل ہو کہ لفظ کے وسیع تر مفہوم میں ایک سچی اسلامی زندگی بسر کرسکے۔ اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کی بتائی ہوئی اسکیم کے مطابق زندگی گذار سکے جب تک پورا معاشرہ شعوری طور پر اس کے مطابق نہ ہو اور اسلام کے قانون کو ملک کا قانون نہ بنائے"(عرفات، فروری 1947ء صفحہ 918)

    آخری پیرے میں انہوں نے پوری تحریک پاکستان کا جوہر اور ہدف بیان کرتے ہوئے لکھا کہ

    "مسلمان عوام وجدانی طور پر پاکستان کی اسلامی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں اور واقعی ایسے حالات کی خواہش رکھتے ہیں جن میں معاشرے کے ارتقا کا نقطہ آغاز "لا الہ الا اللہ" ہو"۔ (عرفات، فروری 1947ء صفحہ 925)

    محمد اسد - وکیپیڈیا
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  11. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    ماشاءاللہ آپ نے اچھی کاوش کی ہے ، کچھ میں نے بھی جدہ شہر میں سنا تھا ، معروف سکالر شیخ عبدالجبار شاکر رحمۃ اللہ کی زبانی ، جدہ انٹر نیشنل سکول میں ان کی تقریر تھی علامہ اقبال کے اوپر جس میں محمد اسد کے بارے میں انہوں نے کافی کچھ بتایا تھا ،ان کی اسلامی خدمات کا بھی ذکر کیا تھا
     
  12. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    شکرا ام نور العين

    ایکسیلینٹ شیئرنگ کی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    جزاکِ اللہ خیر !
    نام تو میں نے پڑھا ہے پر اتنی معلومات نہیں تھیں ۔ بہت شکریہ سسٹر!
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    انکا نام میں‌نے سنا ہے۔
    انکے نام کی اسٹریٹ میں‌نے شارع محمد اسد کے نام سے سعودی عرب میں‌دیکھی ہے (اب قطعی یاد نہیں‌ہے کہ وہ کہاں‌اور کب دیکھی)، البتہ یہ تفصیلات پڑھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ یہ وہی ہیں۔
    شئیرنگ بہت ہی مفید ہے۔جزاک اللہ‌خیر
    اسی طرح سے آزادی برصغیر میں بعض نام تھے، جو کہ نہ آج پاکستان کی ہسٹری کے بکس میں‌ہونگے (مجھے پتہ نہیں۔۔۔اسیمپشن ہے) ہند میںسرے سے ہے ہیں‌نہیں، اورجب یہاں‌مجلس پر ڈسکس ہوئی تھی تب وہ شیاہ تھے یا سنی کے جھگڑے نے اس شخص کے بارے میں بات چیت کو روک دیا۔۔۔مولانا محمد علی جوہر برادران وغیرہ۔۔بہر یہ برسبیل تذکرہ بات ہے۔
    محترم محمد اسد صاحب کے بارے میں‌پڑھکر واقعی بہت ہی خوشگوار احساس ہوا۔
    اللہ انکی نیکیوں‌کے عوض انہیں‌جنت نصیب کرے۔۔۔آمین
     
  15. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,870
    آمين

    ميں نے بھى پہلی بار ان كا نام سنا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    بہت خوب صورت بہت درست۔ جزاکم اللہ خیرا۔اللہ تعالى ہمیں اخلاص اور يقين كے ساتھ عمل كی توفيق دے، جو وعدے یہ ملك حاصل كرتے وقت اپنے رب سے كيے تھے انہیں وفا كرنے كى توفيق دے۔
     
  18. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے معروف اسلامی سکالر محمد اسد کا اعزاز

    یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے معروف اسلامی سکالر محمد اسد کا اعزاز

    محمد اسد کی خدمات کے عوض آسٹریا حکام نے ویانا میں ایک میدان ان کے نام سے منسوب کر دیا۔ اگرچہ محمد اسد ایک اسلامی سکالر بن کر ابھرے تاہم انہون نے قیام پاکستان میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

    آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے عین سامنے واقع ایک میدان کو یہودیت سے اسلام قبول کرنے والےمعروف سکالرمحمد اسد کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد اسلام اور مغرب کے مابین مکالمت کو فروغ دینا اور دونوں اقوام کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

    ایک رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں باقاعدہ طور پر اس میدان کو محمد اسد کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یوں نہ صرف آسٹریا بلکہ مغربی یورپ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ٹریفک ایریاکو کسی مسلمان شخصیت سے منسوب کیا گیا ہو۔

    اس تقریب کے موقع پر اعلی سرکاری شخصیات کے ساتھ محمد اسد کے بیٹے طلال اسد اور پاکستانی سفارت کار محمد شہباز بھی شامل تھے ۔

    محمد اسد کی زندگی پر طائزانہ نظر

    leopold wesis جو بعد ازاں ایک معروف اسلامی سکالر محمد اسد کےنام سےجانے جاتے ہیں ، سن انیس سو میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ محمد اسد کے والد یوکرائین سے ہجرت کر کے ویانا آباد ہوئے ۔ محمد اسد نے اپنی ابتدائی زندگی ویانا میں بسر کی تاہم نوجوانی میں ویانا کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ گئے۔

    جب اسد بایس سال کے تھے تو ان کے ماموں Dorian Feigenbaum نے انہیں یروشلم آنے کی دعوت دی ۔ جو اس وقت معروف نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کے شاگرد تھے۔

    یروشلم میں قیام کے دوران ہی اسد نےسن انیس سو تیئس میں فرینکفرٹر زائی تنگ میں بطور رپورٹر کام شروع کیا جس کے نتیجے میں انہیں مشرق وسطی میں کئی نئی جگہوں پر جانے کا موقع ملا۔ سن انیس سو چھبیس میں اسد قاہرہ گئے جہاں ان کی ملاقات اسلام کی معروف سکالر شیخ مصطفی سے ہوئی ا ور کہا جاتا ہے کہ یہی اسد کا اسلام کے ساتھ براہ راست رابطہ بنا۔ اور بعد ازاں اسی سال اسد نے اسلام قبول کیا اور پھر شام ، عراق، کردستان، ایران اور سنٹرل اشیا کے کئی ممالک گئے اوردین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوتے چلے گئے ۔

    اس وقت برصغیر پاک و ہند میں اسد کی ملاقات علامہ اقبال سے ہوئی اور انہی کے مشورے پر اسد نے وہاں رہنے کا فیصلہ کیا اور قیام پاکستان میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر مقرر ہوئے۔ لیکن اپنی ادبی اور مذہبی زندگی کی تکمیل کے لئے انہوں نے سفیر کا عہدہ چھوڑ دیا ۔ محمد اسد کی شہرہ آفاق کتابوں میں روڈ ٹو مکہ سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔ انہوں نے قران کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ اور مکمل تفسیر بھی تصنیف کی۔

    اپنی زندگی کے آخری دن انہوں نے پورپ میں گزارے ۔ ان کا انتقال سن انیس سو بانوے میں، جنوبی سپین کے شہر اندلس میں ہوا، اور اسد کو ملاگا کے مسلمان قبرستان میں دفن کیا گیا۔

    حوالہ۔یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے معروف اسلامی سکالر محمد اسد | معاشرہ | Deutsche Welle | 22.05.2008
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    علامہ اسد شاہ ابن سعود کے خواب میں

    علامہ محمد اسد (سابق لیوپولڈ ویئس) سعودی بادشاہ عبد العزیز ابن سعود کے بہت ہی قریبی دوست بن گئے تھے اور ان کی مجلس کا حصہ تھے۔ اس قربت کی وجہ سے بہت سے درباری ان کے حاسد ہو گئے تھے اور بادشاہ کے کان بھرنے لگے تھے۔ اسد تک جب یہ بھنک پہنچی تو انھوں نے ایک دن ابن سعود سے کہا کہ لوگ مچھ پر عیسائی یا یہودی جاسوس ہونے کا شبہ کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک چھوڑ دوں تاکہ بادشاہ اس بہتان بازی سے محفوظ رہیں۔ ابن سعود نے کہا: ''محمد اسد! میں نے بھی یہ باتیں سنی تھیں لیکن ایک دن میں نے مسجد نبوی میں خود خواب میں تم کو اذان دیتے دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم! جو شخص مسجد نبوی میں اذان دے رہا ہو، نہ وہ غیر مسلم ہو سکتا ہے اور نہ ہمارے خلاف جاسوسی کر سکتا ہے''۔ قیام پاکستان کے بعد محمد اسد نے پاکستانی شہریت حاصل کر لی تھی اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مندوب کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے تھے۔ (ڈاکٹر عبد القدیر خاں... ''سحر ہونے تک'')
    حوالہ۔Suay Haram November 2009: Ijeeb-e-Gharib by Mohsin Farani
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    شاید اس لیے ہم صرف ان کو جانتے ہیں جن کو میڈیا ہم تک پہنچاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں