مسلم کو کافر کہنا کیسا ہے؟؟ از: شیخ ابو بکر الجزائری(حفظہ اللہ)

ابوبکرالسلفی نے 'اردو یونیکوڈ کتب' میں ‏نومبر 15, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ایمان کیا ہے؟​

    ایمان انسان کے لیے اتنا ہی ضروری ہےکہ جتنا اس کے جسم کے لیے روح کی ضرورت واہمیت ہے۔ زندہ دراصل وہی ہے کہ جس نے اس کو حاصل کرلیا، اور وہ مکلف(عاقل،بالغ،مسلم) ہونے کے قابل ہوگیا۔ دوسرے نمبر پر جو مکلف اس ایمان کے تقاضوں کو پورا کرلیتا ہے اور اسکے اوامر ونواھی کا خیال رکھتا ہے تو وہ دنیا و آخرت میں سعادت وسیادت کا اہل اور مستحق ہوجاتا ہے۔
    یہ وہی ایمان تو ہے۔۔۔۔ کہ جس کہ طرف خود اللہ احکم الحاکمین نے دعوت دی اور اس کو قبول کرنے والوں کو یوں خوشخبری سنائی:
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ،فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا(سورۃ النساء:۱۷۵،۱۷۴)
    (لوگوں! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمھاری طرف چمکتا ہوا نوربھیج دیاہے۔پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسکو مضبوط پکڑے رہے ان کووہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کریگا اور اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا)۔
    جی ہاں وہی ایمان۔۔۔۔کہ جسے قبول کرنے والوں سے بہت ہی افضل وعدہ کیا گیا ہےیعنی ان کے گناہوں کی مغفرت اور داخلہء جنت کا وعدہ۔ ارشاد ربانی ہے:
    سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ(سورۃ حدید: ۲۱)
    (اپنے اللہ کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑکہ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے اور جو ان لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے کہ جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائےہیں)۔
    وہی ایمان۔۔۔۔ کہ جو اپنے ماننے والوں میں بھائی چارے اور اخوت کو ضروری قرار دیتا ہے۔ فرمایا رب اذوالجلال نے:۔
    اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ(سورۃ الحجرات: ۱۰)
    (مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو)۔
    یہ وہی ایمان ہے۔۔۔۔ کہ جو اپنے ماننے والوں کو ایسا یکجا اور مضبوط ومتحد بنادیتا ہے گویا کہ یہ ایک ہی بلڈنگ کے مختلف حصے ہیں جو مل جل کر ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں اور سچ فرمایارسول صلی اللہ علیہ وسلم نے:۔
    [المؤمن للمؤمن کالبنیان یشد بعضہ بعضاوشبک بین أصبعہ]۔(بخاری ومسلم)
    (مؤمن تو مؤمن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے یہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں(یہ فرماکر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں)۔
    یہ وہی ایمان ہے۔۔۔۔کہ بندے کو متقی بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ میاں کا ولی اور دوست بھی بنادیتا ہے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
    الَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّـهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(سورۃ یونس:۶۲)
    (سنو جو اللہ کے دوست ہونگے نہ انکو کچھ خوگ ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے)۔
    سوائے ہدایت کے طلبکار ایماندار بھائی آپ کو ضروریہ بات جاننی چاہیے کہ ایمان کے چھ ارکان ہیں: اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، اللہ کی کتابوں پر ایمان، اللہ کے رسولوں پر ایمان، آخرت پر ایمان اور تقدیر کے اچھے برے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے پر ایمان۔ تو جب بھی بندہ ان میں سے کسی ایک رکن کا انکار کردیتا ہے یا جھٹلادیتا ہے تو اسکا ایمان جاتا رہتا ہے، اور ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے اور اہل ایمان اس سے بری ہو جاتے ہیں۔
    یاد رہے کہ یہ سارے ارکان قرآن وسنت کے دلائل سے ثابت ہیں۔ اللہ کا فرمان ذیشان ہے:۔
    لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ(سورۃ البقرہ: ۱۷۷)
    (نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق ومغرب کہ طرف منہ کر لو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر ، فرشتوں پر، کتابوں پر اور رسولوں پر ایمان لائیں)۔
    اور اللہ تعالی کا ایک اور فرمان ہے:۔
    إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ(سورۃ قمر:۴۹)
    (کہ ہم نے ہر چیز مقررہ اندازے سے پیدا کی)۔
    اور جہاں تک سنت کے دلائل کا تعلق ہے تو صحیح مسلم شریف میں حدیث جبرائیل کے نام سے مشہور حدیث ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان سے متعلق سوال کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
    [الایمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر والقدر خیر وشرہ]۔(بخاری و مسلم)
    ایمان یہ ہے کہ تو اللہ ، اسکے فرشتوں، اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر کے رب کی طرف سے ہونے پرایمان لائے۔
    اور یہ وہ ایمان ہے۔۔۔۔ کہ جو کفر کی ضد ہے جیسے زندگی کی ضد موت ہوتی ہے اور موجودگی کی ضد عدم ہے۔ اور یہ وہی ایمان ہے جو انسان کو عمل صالح کی بدولت اللہ کی جنتوں کا وارث بنادیتا ہے۔ فرمایا رب کریم نے:۔
    اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا،خَالِدِينَ فِيهَا(سورۃ کھف: ۱۰۸،۱۰۷)
    (جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے انکی مہمانی بہشت کے باغ ہونگے وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنانہ چاہیں گے)۔
    اور یہ ایمان اس نورانی قوت کی طرح ہے جو بڑھے تو اضافہ وترقی دے اور نور بصیرت وراہنمائی بھی اور اگر کمزور پڑجائے تو نہ پیش قدمی بخشے نہ دیدہ بینا۔ لہذا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان بندے کے دل میں کبھی قوی ہوجاتا ہے اور کبھی کمزورپڑ جاتا ہے اور یہی مفہوم ہے ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کا جو کہ ایک حقیقت ہے ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:۔
    وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا(سورۃ انفال:۲)
    (اور جب ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ کرسنائی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے)۔
    ایک اور جگہ یوںفرمایا:۔
    الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ(سورۃ آل عمران: ۱۷۳)
    (جب لوگ (منافقوں) نے ان (مومنوں) سے کہا کہ لوگ(کافر) تمھارے خلاف مسلح تیار ہوچکے ہیں، ان سے ڈر(بچ) جاؤ، تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے)۔
    کیا اللہ کے اس فرمان کے مقابلے میں کسی بھی مذہب کا یہ قول قبول کیا جا سکتا ہے کہ ایمان بڑھتا گھٹتا نہیں؟ ہر گز نہیں۔
    یہ قول کم علمی اور جہالت کی بنیاد پر ہے جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ایمان ایسا نور ہے جوکم زیادہ ہوتا ہے۔ اسکی مثال یوں سمجھئے کہ علی الصبح(منہ اندھیرے) دور کوئی متحرک سایہ سانظر آئے، جیسے کوئی جاندار چیز ہو، لیکن یہ فیصلہ مشکل ہو کہ انسان ہے یا حیران، اگر انسان ہے تو مرد ہے یا عورت اور اگر حیوان ہے ت وکیا گھوڑا ہے یا گدھا؟ البتہ جوں جوں روشنی بڑھتی گئی پہچان ہوری چلی گئی اور بلاخرروشنی مکمل ہونے پر اس سایہ کے انسان پر مرد یا عورت یا حیوان اور پھر گھوڑا یا گدھا ہونے کا یقین ہوجاتا ہے۔
    اسے ایک دوسری مثال سے یوں سمجھئے کہ اہل علم کے علمی مراتب باہم متفادت ہوتے ہیں جس کی بناء پر ان کی معلومات میں کمی اور اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
    بعینہ اسی طرح ایمان میں اضافہ اور کمی بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔
    یہ ایمان اللہ، اسکے رسولوں، کتابوں، فرشتوں، موت کے بعد زندہ ہونے ، حساب وکتاب اور تقدیر کے اچھابرا ہونے پرپختہ اعتقاد کا نام ہے۔
    اور جب یہ ایمان دل کی گہرائیوں میں موجود ہوتا ہے تو مسلمان انسان نے ساختہ زبان سے اس کا اعلان کرتا ہے اور اپنے اعمال کو اسکے احکام کے تابع کرلیتا ہے تا کہ وہ رب کی جنت کا وارث بن کر کامیابی سے ہمکنار ہوکے جہنم کی آگ کی سختیوں سے محفوظ ہوجائےاس لیے اہل سنت والجماعۃ نے ایمان کی تعریف یوں کی ہے کہ ایمان زبان سے اقرار، عمل سے ثبوت اور دلی تصدیق کانام ہےتو وہ عقیدہ عقیدہ نہٰں جسکے ساتھ قول وعمل نہ ہو اور وہ عمل عمل نہیں جسکے ساتھ عقیدہ اور قول نہ ہو اور صرف قول کی کوئی حقیقت نہیں جب تک اس کے ساتھ عقیدہ عمل نہ ہو، یہ سب لازم و ملزوم ہیں اس لیے ایمان کو اسلام کے اور اسلام کو ایمان کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
    فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ(سورۃ زاریات: ۳۶)
    (ہم نے اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نا پایا)


    یعنی مومنوں کا


    اسلام تو اللہ کے احکامات کی طاہری وباطنی فرمانبرداری کانام ہے گواسکا تعلق قول سے ہو یا فعل سے یادلی نیت سے، جس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ سچامؤمن ہی سچا مسلم ہوسکتا ہے اور ہر سچا مسلم ہی مؤمن ہے۔ ایمان کے بغیر اسلام نہیں اور اسلام کے بغیر ایمان نہیں۔
    (البتہ جب اسلام اور ایمان کا تقابل مقصود ہو تو اسلام تسلیم واقرار حلہ ہے یعنی پہلا اور کم درجہ ہے جب کہ ایمان تصدیق ورضاتک پہنچ جانے والا مکمل اور آخری مرتبہ ہوتا ہے)۔(مترجم)
    اس بات پر غور فرمائیےکہ جب اعرابیوں نے ایمان کا دعوی کیا ور درحقیقت وہ مؤمن نہ تھے تو اللہ نے ان کے اس دعوی کو رد کیا اور فرمایا:۔
    قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ(سورۃ الحجرات: ۱۴)
    (اے محمد فرمادیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمھارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا)۔
    تو یہاں رب نے ان کے اسلام کا اقرار کیا کیونکہ ان کا دعوت اطاعت وعمل اس بات کو ثابت کررہا تھا، اور ساتھ ہی ان کے ایمان کی نفی فرمائی کیونکہ رب کومعلوم تھا کہ ایمان ان کے دلوں کی گہرائیوں تک تا حال نہیں پہنچا۔
    اور جہاں تک ان مباحث کا تعلق ہے کہ جناب ایمان صرف قول کا نام ہے یا اعتقاد کا یا پھر اعتقاد اور قول دونں کا یکجا صورت کا نام ایمان ہے؟ تو یہ مباحث زناوقہ کے کارناموں کا نتیجہ ہیں جو کہ انتشار کے مقاصد لے کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوئے اور فلسفیانہ موشگافیاں کیں تا کہ مسلمانوں میں اختلاف جڑ پکڑیں اور فتنے پھیلیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مباحث کی طرف التفات نہ کیا جائے ۔ بلکہ زمانہ نبوت اور عہد صحابہ میں ایمان کی تعریف میں قول اور عمل کو شامل کیا جاتا تھا اور ان قرون اولی میں کوئی بھی قول و عمل کو ایمان سے خارج نہ سمجھتے تھے۔ اور نہ ہی وہ ایمان کی یوں تعریف کرتے تھے کہ وہ قول و عمل ہے جس میں اعتقاد مشروط نہیں بلکہ ایمان تو اللہ، اسکے رسول اور ان کے فرامین کی تصدیق کرنا ہے، ہ اللہ موجود ہے، وہی رب ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور ج جس چیز کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی نے خبردی بلکل ٹھیک ہے جیسے فرشتے کتابیں بعث بعد الموت ۔ رسول اور تقدیر وغیرہ کو ماننا ہی ایمان ہے، اور یادرہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور رسول اللہ سے دلی محبت رکھنا اور أوامر ونواہی کا خیال رکھنا بھی ایمان کا جز لاینفک ہے اور کلمہ طیبہ کا اقرار کرنا ایمان کی دلیل ہے تو جس شخص نے ابھی گواہی دی ہ اللہ ایک ہی ہے اور محمد(ص) اللہ کے بندے اور رسول ہیں وہی مؤمن ومسلم ہے، اور جو یہ گواہی نہ دے وہ مأمن ومسلم نہیں ہوگا بلکہ کافر اور مشرک شمار کیا جائے گا۔
    اور پھر اہل ایمان بھی اپنے ایمان کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تفادت رکھتے ہیں کسی کا ایمان قوی تو کسی کا ضعیف ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس بات کو ثابت کرتی ہے۔ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:۔
    [لووُضع ایمان أبی بکر فی کفۃ وایمان الامۃ فی کفۃ لرجع ایمان أبی بکر]
    (اگر ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایمان کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور باقی ساری امت کے ایمان کو ترازوکے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو پھر بھی ابو بکر والا پلڑا بھاری رہے گا)۔
    اور اسی پر اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے اور اہل ایمان کا نیکیوں میں ایک دوسروں سے متفاوت ہونا بزات خود اس بات کی قوی دلیل ہے کہ ان کے دلوں میں ایمانی کیفیات مختلف ہیں مثلا انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت ملے تو ابو بکر صدیق سارا مال پیش کردیتے ہیں، عمر آدھا، تو عثمان پورے لشکر کی تیاری کی زمہ داری لے لیتے ہیں جبکہ کچھ اہل ایمان صرف فرائض پر اکتفاء کیے رکھتے ہیں۔ اگر سب کے اعمال ایک جیسے ہوتے تو کہا جاسکتا تھا کہ ہاں ایمان بھی برابر ہے لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے۔
    اللہ رب العزت کا فرمان ہے:۔
    ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ،جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا(سورۃ فاطر: ۳۳،۳۲)
    (پھر ہم نے اس قرآن کا وارث ان بندوں کو کیا جن کو ہم نے چن لیا، ان میں سے کچھ تو گناہگار ہیں اور کچھ میانہ روی والے ہیں اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگےبڑھنے والے ہیں اور یہی تو اللہ کا بڑافضل ہے)۔
    تو ثابت ہوا کہ گناہگار کا ایمان بڑھتا ہے تو وہ نیک بن جاتا ہے اور اگر اسکا ایمان کم ہوتا ہے تو برائیوں میں پڑجاتا ہے اور کچھ میانہ روی والے ہیں جو گناہ سے پرہیز تو کرتے ہیں لیکن نیکویوں میں صرف فرائض پر اکتفا کرتے ہیں اور جو نیکیوں میں بڑھے ہوئے ہیں تو ان کے ساتھ ہوا یہ ہے کہ ان کا ایمان زیادہ ہو ااور ایمان کی اس زیادتی نے انھیں کثرت عبادت پر لگادیا اور ساتھ کے ساتھ گناہوں سے پرہیز کا طریقہ بھی دیا۔


    ایماندار کون ہے؟

    وہ انسان سچا مومن ہے جو اللہ پر ایمان لایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اس نے اللہ ورسول کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی ، احکام پر پابندرہا، ممنوعات سے دور رہا اور اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کے لئے خود کو تیار رکھا اور اپنے اس ایمان کا اظہار کلمہ کے اقرار سے کیا اور اسکے بعد نمازیں اداکیں ، زکاۃ دی ، رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کیا، یہ وہی مؤمن ہے کہ جس سے محبت رکھنا فرض ہے اور اس سے بغض وعداوت رکھنا رب کی طرف سے حرام کردہ ہے۔ جی ہاں سچا مسلمان ہے کہ جو دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جسکا مال، جسکی جان اور جسکی عزت دوسرے مسلمانوں پر حرام کردی گئی ہے۔ اور جب تک یہ اسی حالت مٰں رہے گامؤمن ومسلم ہی شمار کیا جائیگا۔
    ہاں بفرض محال اگر وہ اپنے ایمان کی تکذیب کردے یا ایمانیات کے کسی جزء کو جھٹلادے یا پھر اللہ ورسول کے سب یا بعض اوامر ونوای کا سرے سے انکار ہی کردے یا پھر احکام کو حقارت کی نظر سے دیکھے یا ان احکام کو طعن وتشنیع اور طنز کا نشانہ بنا۴ے تو یقینا ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج شمار کیا جائے گا اور اس سے وہ کافر و مرتد کے حکم میں آجائیگا۔
    اور یاد رہے کہ مؤمن گناہوں سے معصوم نہیں ہوا کرتا بہر صورت اس سے ایساممکن ہے کہ وہ کسی واجب کو ترک کردے یا کسی حرام کا ارتکاب کر بیٹھے تو ایسی صورتحال میں وہ دائیرہ اسلام سے خارج نہیں شمار کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے اسلام کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائیگا بشرطیکہ وہ اس کو جائز نہ سمجھتا ہواور اپنے گناہ کو گناہ ہی تسلیم کرتا ہو، کیونکہ وہ جب بھی توبہ کرے رب کی رحمت ومغفرت کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں، البتہ جو گناہوں پر مصر رہے ہلاکت اس کا مقدر ہوگی۔
    مؤمن کا ایمان جب قوت پکڑتا ہے تو بندہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور برائیوں سے دور بھاگتا ہے اور جوں ہی بندے کے اسلام وایمان میں کمزوری وضعف آتا ہے تو اس معاملہ میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
    ایمان کے کمزور ہونے میں دنیاوی رغبتوں میں پڑنا، خواہشات نفسی کا تابع ہونا، بروں سے تعلقات رکھنا وغیرہ کا یدطولی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بسا اوقات تو وہ فرائض میں بھی سستی کرجاتا ہے۔ اور تو اور وہ حرام کاموں میں پڑھنے سے بھی بعض دریغ نہیں کرتا۔ لیکن یادرکھئے اگر ان گناہوں کو وہ جائز سمجھ کر نہیں کر رہا وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھا جائیگا کیونکہ بہر حال وہ اللہ اور اللہ کے رسول کو بھی مانتا ہے اور بعث بعد الموت پر بھی یقین رکھتا ہے۔ تو اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کرے تو امید ہے کہ اللہ اس کو جرور معاف فرمادے گا بلکہ اس کے جنت میں جانے کی امید بھی بعید الزامکان نہیں۔ اللہ چاہے گا تو اس کو اس کے گناہوں کی سزا دے کر جنت میں جگہ نصیب فرمائیگا اور چاہے تو معاف فرما کر جنت عطا کردیگا یہ اسکی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ اس کے لیے جو چاہے ۔



    کفر کیا ہے اور کافر کون ہوتا ہے؟

    کفر کا لغوی معنی ڈھانب دینا، چھپا دینا ہے، اسی سے "کفر الزارع البذر فی الارض" ہے یعنی کسان نے زمین میں بیج چھپا دیا۔ قرآن کریم میں ہے" کمثل غیث أعجب الکفارنباتہ""کفار" یعنی چھپانے والوں کو۔ مراد کسان ہے اور اسی طرح:۔
    "کفر نعمت" کا مطلب ہے نعمت کا انکار کرنا اور حق کا "کفر" کرنا یعنی اس کا انکار کرنا اور حق کا جھٹلاناہے۔
    شرعی طور پر کفر دو طرح کا ہوتا ہے:۔
    ۱۔کفر اکبر
    ۲۔کفر اصغر


    کفر اکبر
    اور یہ ایسا کفر ہے جو ایمان کی ضد ہے اور اسلام کے برعکس صورت ہے۔
    اس کی مختلف صورتیں درج ذیل ہیں:۔
    ۱۔اللہ رب العزت کی ذات مقدس کا انکار یعنی یہ دعوی کرڈالنا کہ اللہ موجود نہیں جیسے کہ کمیونسٹ اور لادین لوگوں کا مؤقف ہے۔
    ۲۔اللہ رب العزت کے اسماء حسنی یا اللہ کی صفات علیا کا انکار کردینا یا ان کے معانی ومفاہم میں تحریف کرکے ان کے مطالب کو بدل ڈالنا۔
    ۳۔منزل من اللہ شرعی احکام کو جھٹلانا مثلا عبادت اوامرونواہی اور آداب و اخلاق وغیرہ۔
    ۴۔اللہ کے بتائے ہوئے غیبی امور کا انکار: جیسے فرشتے، جن، آخرت کے معاملات، مرنے کے بعد زندہ ہونا ، حساب وکتاب، جزاء سزا اور جنت وجہنم وغیرہ اور ان کے بیان کردہ اوصاف کورد کرنا۔
    ۵۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کا یا کسی بھی نبی ورسول کہ جس کی رسالت قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہو، کا انکار کرنا بھی شخص کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے مرتد بنا دیتا ہے۔
    ۶۔قرآن کریم کو جھٹلانا گو اسکی کسی ایک سورۃ ، آیت کلمہ اور حرف کو بھی کیوں نہ جھٹلایا جائے، یا اللہ کی باقی کابوں، توراۃ، زبور، انجیل اور ابرھیم و موسی علیہما السلام کے صحیفوں میں سے کسی ایک کو بھی جھٹلانا بندے کو مرتد بنا دیتا ہے۔
    ۷۔مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنا۔، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ بروز قیامت صرف روحیں لوٹائی جائیں گی جسم نہیں، بھی شخص کو مرتد بنا دیتا ہے۔
    ۸۔تقدیر کا انکار کرڈالنا(اور تقدیر یہ ہے کہ کائنات کا چھوٹا بڑا حادثہ اللہ تعالی کے علم میں ہے او راللہ کے علم کے مطابق ہی سب کچھ ہونا ہے نہ اس میں کچھ کمی ہوسکتی ے اور نہ ہی کچھ زیادتی اور نہ یہ لیٹ ہوسکتا ہے اور نہ وقت مقررہ سے پہلے آسکتا ہے)
    بھی انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کردیتا ہے۔
    ۹۔دین میں ثابت شدہ کسی چیز کا انکار کردینا مثلاکہنا کہ زنا حرام نہیں، سود اور چوری حرام نہیں یا یہ کہنا کہ نماز، زکاۃ، روزہ، اور والدین سے بھلائی کرنا فرض نہیں یا وضو، غسل، شرمگاہوں کی حفاظت وغیرہ میں سے کسی بات کا انکار کرنے سے بھی بندہ کافر ہوجاتاہے۔
    ۱۰۔ اللہ کی ربوبیت میں کسی کی شراکت کا عقیدہ رکھنا مثلا یہ کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی خالق، مالک، مدبرالکون اور زندگی وموت کا مالک ہے، یا اللہ کے اسماء وصفات میں کسی کو شریک کرنا مثلا کسی انسان کو الرحمن ، الرب وغیرہ کے نام سے پکارنا یا یہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں بھی الہ کے ساتھ ساتھ غیب جانتاہے یا فوت شدہ زندوں کی پکار سنتا ہے اور ان کی مقصد برآری کیلئے سفارش کرتا ہے، یا میت کو اپنی حاجت روائی میں وسیلہ بنائے اس کیلئے نذر مان لے یا جانور ذبح کرے یا اس کی قبر کا اعتکاف کرے یا اس کو پکارے اور اس سے مدد طلب کرے یہ سب اعمال بندے کو کافر بنادیتے ہیں۔
    ۱۱۔کسی کافر کو کافر، یا مشرک کو مشرک نہ کہنا بھی بندہ کو کافر کردیتا ہے کیونکہ اس کو کافر اور مشرک نہ کہنے میں اللہ اور اللہ کے رسول کی تکذیب ہے، کیونکہ کسی چیز پرخاموشی سادھے رہنا گویا اس کو تسلیم وقبول کرنے کے مترادف ہے۔
    ۱۲۔جادو سیکھنا اور سکھانا، جادو کرنا، کرانا اور اس کو مباح قرار دینا بھی انسان کے کافر ہونے کی دلیل ہے اور اہل سنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ جادو گر کافر ہے اور اس کو قتل کر دینا ضروری ہے۔ حدیث میں ہے کہ:۔
    (حدالساحر ضربہ بالسیف)
    (جادو گر کی سزا یہ ہے کہ اس کو تلوار سے کاٹ دیا جائے) اور اس پر علماء سلف کا اجماع ہے کہ:۔
    (یقتل الساحر حیث بان سحرہ)
    جونہی جادو گرا جادو ثابت ہو اسی وقت اسے قتل کردیا جائے۔ کیونکہ جادو کی حرمت اوضح من الشمس ہے۔
    ۱۳۔اللہ کا اس کی آیات کا اور اس کے رسول کا مزاق اڑانا انھیں حقیر جاننا اور اسی طرح شرعی اصولوں، دینی احکام، اور اسلامی طرز زندگی کا تضحیک کرنا بھی انسان کو کافر بنادیتا ہے۔
    تو یہ کفر کی مختلف انواع ہیں اور ان افعال کے کسی بھی مرتکب سے متعلق جزما اس کی زندگی میں یہ دعوی نہیں کیا جائیگا کہ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلے گا ۔ ہاں اگر اسی حالت میں مرگیا اور توبہ نہ کی تو پھر معاملہ خطرے سے خالی نہیں۔ البتہ اگر موت سے پہلے توبہ کرلے تو امید کی جاسکتی ہے اس کہ توبہ قبول ہوجائے اور وہ جنت میں داخل کردیا جائے اور جہنم میں ہمیشہ نہ رہے۔
    اوپر بیان کردہ تفصیل کفر اکبرکی تھی کہ جس کے ارتکاب سے شخص مرتد ہوکردائرہ اسلام سے باہر نکل جاتا ہے۔


    کفر اصغر

    اور جہاں تک کفر اصغر کا تعلق ہے تو یہ کبیرہ گناہ تو ہے جس کی سزا عذاب الیم ہے، لیکن اسلا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا اور نہ ہی"خالدامخلدا فی النار" بنتا ہے اگر اللہ اسے معاف نہ فرمائیں تو عذاب دیا جائے گا۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں جو ذیل میں بیان کی جارہی ہیں:۔
    ۱۔مسلمانوں سے قتال کرنا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:۔
    (سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر)۔
    (مسلمانوں کو گالی دینا فسق ہے اور ان سے قتال کرنا کفر ہے)۔ (بخاری شریف)
    اور یہی مفہوم ایک اور حدیث بیان کرتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
    (ولا تردوا بعدی کفارا بضر بعضکم رقاب بعض)
    (میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنا شروع ہو جاؤ)۔
    احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا آپس میں قتال کفر ہے جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:۔
    فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ(سورۃ البقرہ:۱۷۸)
    (پھر اگر قاتل کو اس کے بھائی (مقتول کے ورثاء) کی طرف سے معاف کردیا جائے تو ورثاء مناسب طریقے سے دیت کا تقاضہ رکھیں اور وہ(قاتل) بہتر انداز میں آدائیگی کردے)۔
    ایک اور مقام پر ارشاد ہے:۔
    فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ(سورۃ الحجرات: ۱۰)
    (اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو)۔
    اس سے قبل یوں ارشاد ہوا:۔
    وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ(سورۃ الحجرات:۹)
    (اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرادیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے جماعت پر زیادتی کرے تو تم سب اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہےلڑو۔ یہان تک کہ وہ اللہ کے حکم ی طرف لوٹ آئے۔ اگر لوٹ آئے تو انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو۔ اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے)۔
    ان دوآیات سے ثابت ہوا کہ مسلمان قتال کرنے کے باوجود بندہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین"کفر" سے مراد"کفر دون کفر" ہے کہ جس کے ذریعے انسنا دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
    ۲۔غیر اللہ کی قسم کھانا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:۔
    (من حلف بغیر اللہ فقد أشرک أوکفر)۔(رواہ احمد)
    "جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک یا کفرکیا" اور اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں کفر شرک سے مراد "کفر دون کفر" ہے جس سے انسان بہر حال مسلمانوں کے زمرے ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
    ۳۔نماز کی فرضیت پر ایمان، ادائیگی نماز میں رغبت کے باوجود بھی سستی کی وجہ سے نماز چھوڑنا: آپ صلی اللہ :علیہ وسلم کا فرمان ہے
    (من ترک الصلاتہ فقد کفر)
    "جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا" تو یہاں بھی کفر سے مراد کفر اصغر ہے جس کی دیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ:۔
    (خمسہ صلوات فی الیوم واللیلۃ کتبھن اللہ علی العباد من جاء بھن ولم یضیع منھن شیئا استخفافا بھن کان لہ عھدأن یدخل الجنۃ ومن لم یأت بھن فلیس لہ عھدعنداللہ ان شاء أدخلہ الجنۃ وان شاء عذبہ)
    "دن رات میں اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں جو بھی ان کو ضائع نہ کرتے ہوئے ادا کریگا اس کے لیے جنت میں داخلے کا وعدہ ہے اور جو ان کو ضائع کریگا اس سے کوئی وعدہ نہیں اگر اللہ چاہے گا تو اس کو جنت میں داخل کریگا اور اگر چاہے گا تو عذاب دے گا"۔
    البتہ جو شخص فرضیت نماز کا انکار کرتے ہوئے نماز چھوڑتا ہے تو ایسا شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے اور اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔
    ۴۔قاضی اور حاکم کا ناحق اور خلاف شریعت فیصلہ کرنا بھی کفر اصغر ہے بشرطیکہ وہ اللہ و رسول، شریعت اسلام اور آخرت پر ایمان پر ایمان رکھتے ہوں ابن عباس نے فرمان اہی "ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک ھم الکافرون" کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ کفر دون کفر وہ کفر نہیں جو دائرہ اسلام سے کارج کردے۔(حاکم)
    ۵۔ کاہم کے پاس جانا اور اس کی غیبی امور سے متعلق بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ حدیث میں ہے:۔
    (من أتی کاھنا أوعرافا فصدقہ فیما یقول فقد کفر بما أنزل علی محمد)
    "جو بھی کاھن یا عراف کے پاس گیا اور اسکی باتوں کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمد(ص) پر نازل ہوئی" تو اس پر بھی اہل علم کا اجماع ہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔
    ۶۔ ایماندار کا ایمان دار کو کافر کہہ کر پکارنا: حدیث میں ہے:۔
    (اذا قال الرجل لأخیہ یا کافر فقد باء بہ أحدھما)۔
    "جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اے کافر کہہ تو یہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف پلٹتا ہے" یعنی اگر وہ واقعی کافر ہے تو ٹھیک ہے ورنہ کہنے والا کافر ہوگا۔ یہ بھی کفر اصغر ہے کہ جس کے ارتکاب سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
    ۷۔عورت سے غیر فطعی مقام سے جماع کرنا یا دوران حیض جماع کرنا۔ مسند احمد مین ایک صحیح حدیث میں ہے:۔
    (من أتی حائضا أو امرأۃ فی دبرھا فقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم )۔
    "جو حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے یا غیر فطعی مقام سے جماع کرتا ہے تو اس نے محمد(ص) پر نازل شدہ (شریعت) کا انکار کردیا"۔
    اوپر کفر اصغر کی سات صورتیں ذکر کی گئی ہیں اور اس کے علاوہ بھی اسکی بہت سی صورتیں ہیں۔ تو خلاصہ کلام یوں ہوا کہ کفر بھی دو قسم کا ہے اور شرک بھی یعنی کفر اکبر اور کفر اصغر اور شرک اکبر اور شرک اصغر اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھاوے کی عبادت کو شرک اصغر سے تعبیر فرمایا ہے:"خبردار دکھاوے سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ شرک اصغر ہے" اللہ رب العزت کا فرمان ہے:۔
    ّالذین یجتنبون کبائر الاثم)
    "وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں" لہذا ثابت ہوتا ہے کہ گناہ:کبیرہ" بھی ہوتے ہیں اور "صغیرہ" بھی اسی پر اجماع امت بھی ہے۔



    کافر کون ہے؟

    ایسا کافر ہ جس سے بغض رکھنا ضروری ہے اور دوستی رکھنا حرام ہے اور جس سے مسلمان عورت کا نکاح نا جائز ہے اور اسکی گواہی قبول نہیں کی جاتی نہ وہ کسی مسلمان کا وارث بنتا ہے اور نہ کوئی مسلمان اسکا وارث بنتا ہے۔ اگر مرجائے تونہ اس کو غسل دیا جائیگا اور نہ مسلمان کے قبرستان میں اس کو دفن کیا جائیگا۔ یہ وہ ہے کہ جس پر اوپر مذکور کفر اکبر کی تیرہ میں سے کچھ یا کوئی ایک علامت صادق آجائے۔



    اور آخر میں ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ

    مؤمن کوکن وجودہ کی بناء پر کافر کہا جائے اور اس کو کافر کہنے والے کا شرعا کیا حکم ہے؟
    پہلی بات: مؤمن کو کب کافر قرار دیا جائے؟
    مؤمن کو اس وقت کافر کی طرف منسوب کیا جائیگا جب وہ کفر کا اعتقادرکھے اور اس کا اظہار کرے جبکہ وہ اس کی حقیقت کو بھی جانتا ہو اور مجبور بھی نہ کیا گیا ہو، اللہ کا فرمان ہے:"مگر جس کو مجبور کیا گیا جبکہ اسکا دل ایمان پر ہی مطئن ہے(ایسا بندہ کافر نہیں)لیکن جو شخص کفر کوشرح صدر سے قبول کرے(وہی کافر ہوگا)"۔
    اور مؤمن کی تکفیری کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ عقیدہ کفر اپنالے، یا کلمہ کفر کہے یا کافرانہ روش اختیار کرے یا وہ مزکورہ تیرہ صورتوں میں سے کسی کا مرتکب ہواس کی طرف کفر کو منسوب کردیا جائے اور اسے کافر قرار دیا جائے۔ ہاں اگر وہ توبہ کرلیتا ہے اور دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آٹا ہے تو اسکا اوسلام قبول ہے اور اس ے حقوق باقی عام مسلمانوں کے سے ہیں اور اگر وہ اسی کفروار تداد پراڑارہا اور توبہ نہ کی تو وہ کافرہے اس سے دشمنی واجب اور دوسری حرام ہے اور اس سے مشرکین و مجوس اور یہودونصاری کا سا برتاؤ کیا جائے گا اور اس پر تمام کفار کا احکام نافذ کئے جائیں گے۔



    ایماندار کو کافر کہنے والے کا کیا حکم ہے؟
    جوبندہ کسی ایماندار کو کافر کہتا ہے جبکہ وہ درحقیقت کافر نہیں تو کہنے والےنے کفر کیا حدیث میں ہے:"انسان اگر اپنے مسلمان بھائی کو"اے کافر" کہہ کر پکارتا ہے تو یہ کلمہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی طف پلٹ آتا ہے" مطلب یہی کہ اگر وہ ایسا نہیں جیسا اسے کہا گیا تو کہنے والے کی طرف اسی کا اپنا"اے کافر"کہنا لوٹ آئیگا اور یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ یہ کفر اصغر ہے نہ کہ کفر اکبر جو کہ بہت بڑا گناہ ہے۔ جس کا آج بہت سے مسلمان شکار ہو چکے ہیں اور انھیں اس کی خبر تک بھی نہیں ہوتی



    تو میں آپ کو نصیحت کرونگا کہ

    پہلے تو یہ جانئے کہ میں کسی خوف ولالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ نصیحت صرف اس لئے کر رہا ہوں کہ اس سے سب کو رہنمائی ملے اور اس پر عمل کر کے آپ عذاب آخرت سے بچ کر مستحق جنت ہوسکیں، نیزاللہ رب العزت اسے میری آخرت کی بہتری کا ذریعہ فرمادے اور مجھے کتمان علم کے جرم کا مرتکب نہ شمار فرمائے اور اسے میرے لئے باعث اجرو ثواب بنادے۔آمین
    دوسری بات: میں آپ سے دوسری یہ گزارش کرونگا کہ تین گناہوں سے دوری توہ کر لیجئے۔ اناینت، خواہشات نفسانی کی پیروی اور اندھی تقلید۔ اور اسکے بعد اس رسالے کو مکمل انہمال اور غوروخوض کے ساتھ مطالعہ میں لائیے۔ اس سے انشاء اللہ بہت بہتر نتیجہ حاصل ہوگا۔ کہ لاعلمی کی وجہ سے کسی کو تکفیر سے بچ کر خود کو کافربنا بیٹھنے سے محفوظ رہو گے۔
    تیسری بات: یاد رہے کہ : گمراہ مسلمانوں کی ہدایت ان کی تکفیر کے ذریعے ہیں اور نہ آپ کے ان کو بدنام کرنے یا ان کا مذاق اڑانے سے ان کو ہدایت نصیب ہوگی بلکہ ان کو ہدایت ملنے کے امکانات تو اس صورت میں ہیں کہ جب آپ ان سے شفقت وخوش خلقی سے مخاطب ہوں ان کی تألیف قلوب کریں، نرمی کا انداز اپنائیں اور حکمت ودانائی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور دعوت الی اللہ کے اس منھج نبوی سے لحظہ کے لیے بھی غافل نہ ہوں جو اللہ کے نبی نے اللہ کے حکم سے اختیار فرمایا تھا۔ اللہ کا فرمان ہے:۔
    ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ(سورۃ النحل:۱۲۵)
    "اللہ کے راستے کی طرف دانائی اور اچھے انداز نصیحت سے دعوت دیجئے اور ان سے مجادلہ بھی بہتر طریق سے کیجئے آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہے اور کون ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہے"۔
    چوتھی بات: وہ یہ ہے کہ تکفیر کیلئے آپ نے جو اصول اپنا رکھا ہے کہ "حاکم بغیر ماأنزل اللہ" دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اہل علم کیونکہ اس کے کفر پر خاموش ہیں لہذا وہ بھی کافر ہیں اور عام عوام اس لیے کافر ہیں کہ انہوں نے حاکم وقت سے بغاوت نہیں کی گویاوہ اس صورت حال پر مطمئن ہیں" تو اس اصول کی رو سے آپ نے تمام امت اسلامیہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے اور اس سے آپ کے علاوہ کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ تو جان لیجئے کہ یہ اصول کہ جس کی بدولت آپ نے سب کو کافر قرار دیا ہے بزات خود باطل ہے تو اس سے مستنبط حکم کیونکر صحیح ہوسکتا ہے جبکہ اصول ہی صحیح نہیں۔
    اگر حاکم وقت "بغیر ماأنزل اللہ" کا حکم چلائے تو محض اس وجہسے وہ دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہ ہوگا جب تک وہ اللہ کے احکام کی صداقت کا انکار نہ کردے، یا اس سے دین کا استھزاء نہ دیکھا جائے۔ تو ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا ہاں یہ جرم یقینا گناہ کبیرہ ضرور ہے جس کا تفصیل سے اوپر بیان گزر چکا ہے اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ انسان دائرہ اسلام سے کب خارج ہوتا ہے اور اس میں یہ صورت نہیں بیان ہوئی کہ اگر حاکم"ماأنزل اللہ" کی روشنی میں حکم نہیں کرتا تو وہ کافر ہے۔
    اور جہاں تک آیت"ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکافرون" کا تعلق ہے تو یہ آیت ان لوگوں سے متعلق ہے کہ جنہوں نے احکام اللہ کا صریحا انکار کر دیا جیسے یہود نصاری کا معاملہ ہے۔
    اور جو اکام اللہ کو بھی مانتا ہو اور حکم بغیر ماأنزل اللہ کو جرم بھی سمجھتا ہو اور اپنی غلطی کا معترف بھی ہو تو ایسا شخص کفر اصغر کا مرتکب ہوگا جیسے کہ عبد اللہ بن عباس کا فرمان اسی سے متعلق گزرچکا ہے، آپ فرماتے ہیں: قرآن کریم کے مجمل کو سنت رسول بیان کرتی ہے اور عموم قرآن کو سنت خاص کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:۔
    (من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فھو المسلم لہ مالنا ولیہ ماعلینا)۔
    "جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کو قبلہ جانا اور ہمارا ذبح کردہ کھایا تو وہ مسلم ہے اسکے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو ہم پر ہیں"۔
    اور اہل سنت والجماعت کا یہی اصول بہت معروف ہے:(کسی بھی گناہ کی وجہ سے ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں سمجھتے جب تک وہ اس گناہ کو جائز سمجھ کر نہ کرے۔ تو اگر اکم و قاضی بغیر ماأنزل اللہ کا حکم چلاتا ہے لیکن اسکو حلال سمجھتے ہوئے نہیں اور بلکہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرتا ہے تو کسی کیلئے جائز نہیں کہ وہ اسلو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے جبکہ وہ کلمہ بھی پڑھتا ہے اور نماز ادا کرتاہے زکاۃ دیتا ہے رمضان کے روزے رکھتا ہے حج کرتا ہے تو ایسی صورت میں وہ کافر کیونکہ ہوسکتا ہے)۔(مترجم)
    حدیث میں ہے :۔
    (واللہ ما آمن والہ ما آمن من لم یأمن جارہ بوائقۃ)
    (اللہ کی قسم وہ ایماندار نہیں اللہ کی قسم وہ ایماندار نہیں کہ جس کی شرارتوں سے اسکا ہمسایہ ٘محفوظ نہ ہو)۔
    ایک اور حدیث میں یوں فرمایا :۔
    (لاایمان لمن لاأمانۃ لہ)۔
    (وہ ایماندار نہیں جو امانتدار نہیں)
    ایک اور حدیث میں یوں ہے:۔
    (لاتؤمنوا حتی تحابوا)
    (اس وقت تک تم ایماندار نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہ کرنے لگ جاؤ)۔
    تو غور فرمایئے کہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خائن کے ایمان کی بھی نفی فرما رہ ہیں اور آپس میں بغض وعنادوالوں کے ایمان کی بھی نفی فرمارہے ہیں۔کیا خیال ہے یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں؟
    ہر گز نہیں یہ نفی کمال ہے یعنی انکا ایمان مکمل نہیں یعنی ہیں تو وہ ایماندار لیکن ان کا ایمان ناقص ہے بلکہ یہ کفر دون کفر کے بیان میں آتا ہے۔ فسق دون فسق، نفاق دون نفاق کے باب میں آتا ہے۔
    اسی طرح کبھی ایمان کامل ہوتا ہے تو کبھی ناقص ہوتاہے جو کہ تفصیل سے اوپربیان ہوچکا ہے۔
    پانچویں بات: میں پوچھتا ہوں کہ آخر تکفیر کی ضرورت کیا ہے؟
    کیا آپ اللہ کے خوف سے ایسا کرتے ہیں کہ اللہ کہ کیا جواب دینگے اگر ان کو کافر قرار نہ دیا ؟ اگر ایسا ہے تو بتائیے اللہ نے آپ کو کہاں حکم فرمایا کہ ترک واجب یا ارتکاب گناہ کبیرہ پر آپ لوگوں کی تکفیر کریں؟! قرآن و سنت سے اس کی کوئی دلیل تو پیش کریں۔
    کیا آپ ان کی تکفیر اس غرض سے کرتے ہیں کہ آپ کے انھیں کفار کہنے سے اللہ ان کو ہدایت دیدے؟ تو ان کی ہدایت کیلئے یہ طریقہ قطعا مناسب نہیں۔
    یا ایسا تو نہیں کہ جناب کسی اسلام دشمن شخص کی اندھی تقلید میں لگے ہوئے ہوں جس و خوبصورت شکل میں کسی اسلام دشمن قوت نے آپ کے حضور پیش کیا ہو اور آپ نے اسے شرح صدر سے قبول فرمالیا ہو بغیر اس کے کہ آپ ان کے دلائل وبراہین کو پرکھیں یا کوئی اور وجہ ہے جس سے ہم تاحال بے خبر ہیں۔ آخر کچھ تو بتائیے!
    چھٹی بات: یہ ہے کہ جناب سے یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ آپ مسلمانوں کی تکفیر سے آخر چاہتے کیا ہیں؟
    کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ ان کے مال وجان کے درپے ہیں یا ان میں فتنوں کو جنم دے رک انہیں صراط المستقیم سے اور دور کردینا چاہتے ہیں تا کہ خود اپنی تباہی کا سامان بن جائیں، یا پھر بلاوجہ جناب ایسے ہی تکفیر کئے جا ہے ہیں۔ بس ہماری تو رب کے حضور یہی التجا ہے کہ اللہ آپ کو اس خطر نام تکفیر کے فتنہ سے نجات دے اور باقی مسلمانوں کو بھی اس سے محفوظ فرمائے۔آمین
    آخر میں ، میں جناب سے یہی چاہونگا کہ اگر تو آپ کسی جماعت یا گروہ میں کام کر رہے ہیں تو اپنا کوئی نمائندہ فضیلۃ الشیخ ابن باز رحمتہ اللہ کی خدمت میں بھیجئے جو ان مسائل میں شرعی حکم سے متعلق ان سے گفتگو کر کے صراط المستقیم کی وضاحت چاہے اور پھر حق کے واضح ہونے پر اس کو اپنا کر اس پر کاربند ہوجائیے۔
    اور میں آپ کو اس بات کی بھی نصیحت کرونگا کہ قبل اس کے کہ جناب کا کوئی وفد فضیلۃ الشیخ کی خدمت عالیہ میں مزکورہ مسائل پر استفتاء کی غرض سے جائے اللہ رب العلمین کے حضور توبہ کرلیجئے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اصلاح صرف علم وعمل اور مجاہدہ نفس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    اگر جناب یہ چیزیں حاصل کرلیں تو اب اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کو راہ حق کی طرف دعوت دینے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیجئے تاکہ وہ اور آپ سب کے سب دین ودنیا کی کامیابیوں اور کامرانیوں کو حاصل کرسکیں۔


    آخیر میں


    بیٹو! اگر یہ حق بات آپ کو گراں لگی ہو تو میں آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو سوچ کے اس انداز پر عربی قومیت کی قید وبند اور کمیونسٹوں ے آپ پر اور آپ کے بھائیوں پر ظلم نے مجبور کردیا ہ ہاں مجھے علم ہےقیدوبند کا شکار کیا گیا، وانت توڑے گئے، ناخن کھینچے گئے، تکلیف میں مبتلا کیا گیا۔ہڈیوں کو توڑا گیا، بد فعلیاں بھی کی گئیں اور کئی بھائیوں پر کتوں کو بھی چھوڑا گیا اور کبھی ایسا بھی ہوا کسی بد بخت نے رب کریم کی ذات لایزال کو گالی بھی دی اور طنز ومزاح کا نشانہ بھی بنایا تو کبھی دین حنیف کا مزاق بھی اڑایا گیا اور کبھی اولیاء اللہکے ساتھ برا سلوکم کیا گیا اور یہ سب کچھ ان بے قصور احباب کے ساتھ کیا گیا کہ جو تحکیم شریعت کا مطالبہ کرتے تھے اور ظلم وجور کے خاتمے کے خاہشمند تھے،
    لیکن اب ان حالات میں میرا اور اس رسالہ کے قاری کا یہی کام ہے کہ ہم اپنے ہاتھ عاجزانہ انداز سے رب ذی الجلال کے حضور پھیلائیں اور دل کی گہرائیوں سے دعا کریں کہ اللہ اس امت مسلمہ کو اس کی مشکلات سے نجات نصیب فرمائے اور غلبہء اسلام کے امکانات میا فرمائے اور ظلم و جود، کفر وشرک ، شروفساد اور خبث وگناہ کو ختم فرمائے۔ آمین




    آخری بات

    آخری میں یہ عرض کرنا چاہونگا کہ شیوعیت کا خاتمہ آج کے اس دور میں جاگیرداروں اور صلیبیوں کے غلبہ و تسلط کا پیش خیمہ نظر آتا ہے اور یادرہے کہ صلیبی قوتوں کا ہدف اول اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہوگا۔ اور اس بات کو بھی سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کو در پیش ان حالات میں اگر مسلمانوں کا اسلام کے متعلق یہی نظریہ اور رویہ رہا تو ان کو صفحہء ہستی سے مٹانا کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔
    کیونکہ مسلمانوں کا اصل محافظ اور قوت کا سرچشمہ اسلام ہی ہے اور آج مسلمان اسلام سےکوسوں دور ہے ۔ الہ راہ ہدایت کارہی بنائے اور ہمیں اپنے دین کی طرف لوٹنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین
    اور یاد رکھئے کہ اللہ جب بھی اس امت کو نجات دے گا ارو اس امت کا غلبہ نصیب فرمائیگا تو اسکے لئے یہی طریق کارنتیجہ خیز ہوسکے گا جو موتمر عالم اسلامی نے ترتیب دیا ہے ان شاء اللہ۔
    ۱۔اسلامی حکومتوں ی موافقت سے موتمر پوری دنیا کے علماء پر مشتمل ایک علمی مجلس قائم کرے گی اور پر اسلامی ملک اپنے دو عالم اس مجلس کی رکنیت کیلئے فراہم کرے گا۔
    ۲۔یہ مجلس علماء کتاب وسنت پر مبنی ایک دستور وضع کرے گی۔
    ۳۔پھر پور عزیمت اور قوت ارادی کے ساتھ اس دستور کو عملی جامہ پہنانے کی فوری اور سرتوڑ کوشش کی جائے گی۔
    ۴۔جو مملکت بھی اس متفق علیہ اسلامی دستور کے نفاذ کا انکار کریگی اس کو دول اسلامیہ اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تصور کیا جائیگا اور اس ملک سے موالات وبھائی چارگی کے تعلقات ختم کردئیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اسلامی دستور کو قبول کرکے اللہ سے توبہ کرے۔
    ہم رب کریم کے حضور دست دعا دراز کرتے ہیں کہ اللہ مؤتمر کو اور تمام مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔



    نام کتاب: مسلم کو کافر کہنا کیسا ہے؟
    مصنف: فضیلۃ الشیخ ابو بکر الجزائری حفظہ اللہ
    مترجم: شیخ منیر احمد ارشد
    تصحیح ونظرثانی: شیخ یعقوب طاہر
    ناشر: مکتبہ نور حرم
     
  2. محمد ارسلان

    محمد ارسلان -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    10,422
  3. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2009
    پیغامات:
    116
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    805
  5. عاصم خان

    عاصم خان -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2010
    پیغامات:
    396
    جزاکم اللہ خیرا
     
  6. Truthness

    Truthness -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 1, 2009
    پیغامات:
    100
    بہت زبردست شیئرنگ ہے
     
  7. قاضی

    قاضی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2010
    پیغامات:
    19
    بہت عمدہ انتخاب
     
  8. اخت طیب

    اخت طیب -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2013
    پیغامات:
    769
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں