کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟

ناصر نعمان نے 'نقطۂ نظر' میں ‏دسمبر 1, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    ماشاءاللہ اچھی بات ہے ابتداء کریں ، ویسے اس موضوع پر پہلے بھی گفتگو موجود ہے باقی اک بات ہم سے بھی سن لیں بولنے والے فورمز کی دنیا میں ہم بھی ہوتے ہیں اسی نام سے جو یہاں آئی ڈی ہے اگر سمجھ میں نہ آسکے تو اپنے بزرگوار سے پوچھ لیجیے گا ، حافظ ایم خان صاحب سے ملنگ سے اور قاسمی صاحب سے اور کمانڈر سے
    آپ بات کریں اور یہ بات بھی یاد رکھنی ہے الفاظی طنز بازی کی بجائے دلائل اور برہان سے بات ہو
    آپ کا موضوع ہے کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟
    کچھ ہماری بھی گزارشات ہیں ان پر بھی نگاہ ڈال لیں
    کیا تقلید کا حکم اللہ یا رسول نے دیا ہے ؟
    کیا اطیعواللہ اور اطیعو الرسول کا نام تقلید ہے ؟
    یا کسی اور چیز کا نام تقلید ہے اگر ہے تو اس کا حکم کس نے دیا ہے
    کس شخصیت کی کرنی ہے اور اس مخصوص شخصیت کی ہی کیوں کرنی ہے اس کی کن کن باتوں کی کرنی ہے اور کن کی نہیں کرنی
    یہ کچھ اشارے ہیں ان کو بھی ساتھ شامل کر لیں


     
  2. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابو طلحہ بھائی آپ شاید جذبات میں یہ بات کہہ گئے یا شایدآپ کے علم میں نہیں کہ یہ دوقسمیں آج سے بہت پہلے کے علماءکرام نے بھی متعین کیں ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں :

    علامہ خطیب بغدادی (ابوبکر احمد بن علی البغدادی (المتوفی 463 ھ)فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جو نصوص سے ثابت ہے اس میں کسی کی تقلید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔پھر آگے تحریر فرماتے ہیں :
    اور دوسری قسم وہ احکام ہیں جو غور وفکر و استدلال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے مثلا عبادات و معاملات اور نکاح وغیرہ کے فروعی مسائل احکام میں تقلید درست ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے سوال کرو ۔علاوہ ازیں اگر ہم دین کے ان فروعی مسائل میں تقلید کو ممنوع قرار دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر آدمی احکام کو دلائل کے ساتھ جاننے کا محتاج ہے اور عوام پر اس کو واجب کرنے سے زندگی کی سب ضروریات کے حاصل کرنے سے انہیں روکنا لازم آئے گا۔اور کھیتی باڑی اور مویشیوں کی ہلاکت و بربادی لازم آئے گی تو واجب ہے کہ یہ حکم ان سے ساقط ہو “(الفقیہ والمتفقہ ج 2 ص 68 طبع الریاض )

    قالو ا بل نتبع ما الفینا علیہ اٰباءنا“الخ الآیة کی تفسیر میں امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ(محمد بن احمد ابو عبد اللہ الانصاری الاندلسی القرطبی المتوفی 671 ھ ) لکھتے ہیں :
    ”اس آیت کریمہ سے بعض لوگوں نے تقلید کی مذمت پر استدلا ل کیا ہے جنہوں نے باطل میں اپنے باپ دادوں کی اتباع کی اور
    کفر و معصیت میں ان کی اقتداءکی ہے اور ایسی باطل تقلید کے بطلان پر اس سے استدلال صحیح ہے ۔رہی حق کے سلسلہ میں تقلید تو وہ اصول دین میں سے ایک اصل ہے ۔اور مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا ایک بڑا ذریعہ ہے کہ جو شخص اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ دین کے معاملہ میں تقلید پر ہی اعتماد کرتا ہے ۔(تفسیر قرطبی ج 2 ص 294)

    امید ہے کہ ان دو حوالاجات سے ہی آپ کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی ہوگی کہ تقلید کی دوقسمیں آج کے علماءنے متعین کیں ہیں ۔

    نیز شاید آپ کے علم میں نہیں کہ اجتہاد کے لئے ”صریح قطعی دلیل نہ ہونا “ شرط ہے ۔فواتح میں ہے:
    ”صریح قطعی دلیل کے ہوتے ہوئے اجتہاد کرنا حرام ہے “(فواتح ج 2 ص 262،363)
    ”صراحت کے ساتھ منصوص قطعی مسائل نیز اتفاقی مسائل کے حق میں اجتہا د کی ضرورت ہے اورنہ اجازت ہے “
    (المصادر ص 11۔12)(اصول الخلاف ص 206)

    اس کے بعد یہ مسئلہ خود بخود متعین ہوجاتا ہے کہ مجتہد اُن امور و معاملات پر اجتہاد کرتا ہے۔۔۔ جو غیر منصوص ہوں۔۔۔۔یا اگر کسی مسئلہ پر کسی آیت یا حدیث سے ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ آیت یا حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہو۔۔۔۔یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہو۔۔۔ایسے امور و معاملات پر مقلدین حضرات تقلید کے قائل ہیں ۔۔۔۔اس کے باوجود بھی اگر آپ اپنے موقف پر بضد ہوں ۔۔۔۔۔تو آپ سے گذارش ہے کہ یہ فرمائیے کہ بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مقلدین حضرات ایسے ہی مسائل پر تقلید کے قائل ہیں تو کیا پھر بھی آپ کو تقلید پر اعتراض ہے یا آپ ایسی تقلید کو درست سمجھتے ہیں ؟

    اگر آپ کو ایسے مسائل پر بھی تقلید کرنے پر اعتراض ہے تو اپنا اعتراض پیش کیجیے ۔
    اور اگر آپ کو ایسے مسائل پر تقلید کا اعتراض نہیں۔۔۔۔ بلکہ آپ کا اعتراض یہ ہے کہ مقلدین حضرات منصوص مسائل پر بھی تقلید کرتے ہیں آپ کو اس چیزپر اعتراض ہے ۔۔۔تو آپ سے درخواست ہے کہ پھر آپ تقلید پر اعتراضات کرنے کے بجائے مقلدین حضرات کو ایسے منصوص مسائل کی نشاندہی کیجیے کہ جناب مقلدین صاحبان آپ فرماتے ہیں کہ آپ منصوص مسائل پر تقلید کے قائل نہیں جبکہ آپ فلاں منصوص مسئلہ پر تقلید محض فرمارہے ہیں ؟؟؟

    (ضروری گذارش:ہمیں اپنی کم علمی کا احساس ہے اس لئے گذارش ہے کہ کسی بھی موقعہ پر ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو طنز وطعن اور استہزاءکرنے کے بجائے ہمیں نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں۔جزاک اللہ)
     
  3. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی دو حوالے آپ نے پیش کئے دو حوالے ہماری طرف سے پیش خدمت ہیں جس کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ جہاں کہیں بھی تقلید کا لفظ آ جائے اس سے مراد آئمہ اربعہ کی تقلید نہیں ہوتی جسے مقلدین واجب خیال کرتے ہیں بلکہ کئی ایک جگہوں پر علماء نے تقلید کا لفظ اپنے لغوی معنوں میں بھی استعمال کیا ہے مثلاً:
    ۱- امام ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "[FONT="Al_Mushaf"]فذھب قوم إلٰی ھذا الحدیث فقلّدوہ
    "
    پس ایک قوم اس (مرفوع) حدیث کی طرف گئی ہے، پس انھوں نے اس (حدیث) کی تقلید کی ہے۔ (شرح معانی الآثار ۳/۴)
    یہاں امام طحاوی حدیث ماننے کو بھی تقلید کہہ رہے ہیں۔

    ۲- اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "[FONT="Al_Mushaf"]ولا یقلّد أحد دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم[/FONT]"
    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی تقلید نہیں کرنی چاہئے۔ (مختصر المزنی، باب القضاء)
    یہاں بھی امام شافعی رحمہ اللہ تقلید کے متفق علیہ اصطلاحی مفہوم کے خلاف تقلید کے لفظ کو لغوی معنوں میں استعمال کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کو بھی تقلید کہہ رہے ہیں۔
    ٹھیک یہی حال آپ کے پیش کردہ حوالوں کا ہے زرا علامہ خطیب بغدادی کی عبارت پر غور کیجیے عبارت خود وضاحت کر رہی ہے کہ آپ اھل علم سے سوال کرنے کو تقلید فرما رہے ہیں:
    اسی طرح امام قرطبی کی عبارت سے بھی یہ پتہ نہیں چل رہا کہ آیا آپ آئمہ اربعہ کی تقلید کی بات کر رہے ہیں یا پھر دیگر علماء کی طرح آپ نے بھی تقلید کو لغوی معنوں میں استعمال کیا ہے۔
    جبکہ امام ابو محمد القاسم بن محمد القاسم القرطبی البیانی رحمہ اللہ (متوفی ۲۷۶ھ) نے تقلید کے رد پر "[FONT="Al_Mushaf"]کتاب الإیضاح فی الرد علی المقلدین[/FONT]" لکھی ہے (سیر اعلام النبلاء ۳۲۹/۱۳ ت ۱۵۰)
    ناصر بھائی مسئلہ وہی ہے کہ آپ کا عمل ان کتابی قاعدوں اور شرطوں کے سراسر خلاف ہے آپکی فقہ میں امام صاحب کے بے شمار ایسے مسائل موجود ہیں جو صریح نصوص کی مخالفت پر مبنی ہیں جن میں سے کچھ کی وضاحت آگے آ رہی ہے اور دوسری بات مجتہد کے بارے میں یہ بات بالاتفاق ثابت ہے کہ "[FONT="Al_Mushaf"]المجتھد یخطئ و یصیب[/FONT]" مجتھد کا اجتہاد کبھی صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط ہوتا ہے۔ کما فی القرطبی ۳۰۹/۱۱ شرح العقیدہ الطحاویہ ۲۳۲/۱ شرح فقہ اکبر ۱۶۲ اس سے بھی معلوم ہوا کہ بشر ہونے کے ناطے امام صاحب کے اجتہاد میں غلطی کی گنجائش بہرحال موجود ہے اور مقلدین چونکہ بغیر دلیل جانے امام صاحب کی اندھا دھند تقلید کے قائل ہیں اسلئے امام ابوحنیفہ کی غلطیاں اور خطائیں بھی حنفی مقلدین کے مذہب کا جز ہیں۔
    کیا مقلدین مسائل منصوصہ (غیر متعارضہ) میں تقلید نہیں کرتے؟​

    اس ضمن میں چند حوالے پیش خدمت ہیں اگر ضرورت پڑی تو ایسے مزید حوالے بھی پیش کر دیے جائیں گے۔
    ۱- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو اس کے شوہر نے اسے قتل کر دیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "[FONT="Al_Mushaf"]ألا اشھدوا أن دمھا ھدر[/FONT]" سن لو گواہ رہو کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہے۔
    اس حدیث اور دیگر صریح و قطعی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والا واجب القتل ہے۔ یہی مسلک امام شافعی اور محدثین کرام کا ہے، جبکہ حنفیوں کے نزدیک شاتم الرسول کا ذمہ باقی رہتا ہے دیکھئے الہدایہ (ج ۱ ص ۵۹۸)
    اس نازک مسئلے پر ابن نجیم حنفی نے لکھا ہے:
    "[FONT="Al_Mushaf"]نعم نفس المؤمن تمیل إلٰی قول المخالف في مسئلة السب لکن اتباعنا للمذھب واجب[/FONT]"
    جی ہاں، گالی کے مسئلے میں مومن کا دل ہمارے مخالف کے قول کی طرف مائل ہے لیکن ہمارے لئے ہمارے مذھب کی اتباع واجب ہے۔ (البحرالرائق شرح کنز الدقائق ج ۵ ص ۱۱۵)
    [​IMG]
    [​IMG]

    ۲- محرمات ابدیہ سے نکاح کی حرمت صریح و قطعی نصوص سے ثابت ہے مگر اسکے خلاف امام ابوحنیفہ کا فتوی ملاحضہ کیجیے:
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    ۳- صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہے[FONT="Al_Mushaf"]
    حدثنا عبد الله بن يوسف أخبرنا مالك عن نافع عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يتفرقا، إلا بيع الخيار‏[/FONT] ‏
    ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ مگر بیع خیار میں
    (صحیح بخاری:۲۱۰۷ و صحیح مسلم:۱۵۳۱ )
    حنفی حضرات یہ مسئلہ نہیں مانتے جبکہ امام شافعی و محدثین کرام ان صریح نصوص کی وجہ سے اسی مسئلے کے قائل و فائل ہیں۔
    محمود الحسن دیوبندی فرماتے ہیں:
    [FONT="Al_Mushaf"]یترجح مذھبہ و قال[/FONT]:[FONT="Al_Mushaf"] الحق و الإنصاف أن الترجیح للشافعی في ھذہ المسئلة و نحن مقلدون یجب علینا تقلید إمامنا أبي حنیفة واللہ اعلم[/FONT]
    یعنی اس (امام شافعی) کا مذھب راجح ہے۔ اور حق و انصاف یہ ہے کہ اس مسئلے میں شافعی کو ترجیح حاصل ہے اور ہم مقلد ہیں ہم پر ہمارے امام ابوحنیفہ کی تقلید واجب ہے واللہ اعلم (تقریر ترمذی ص ۳۶ نسخہ اخریٰ ص ۳۹)
    یہ ہے آئمہ اربعہ کی وہ اندھی تقلید جس کا ہم رد کرتے ہیں کہ حق واضح ہو جانے کے باوجود اسے محض اس وجہ سے تسلیم نہیں کیا جا رہا کہ ہم پر امام ابوحنیفہ کی تقلید واجب ہے، اب اس تقلید کو کس نے واجب کیا اس کا علم شاید خود مقلدین کو بھی نہیں۔
    اور جہاں تک تقلید کے جواز یا عدم جواز کا تعلق ہے تو ہم اس سے پہلے عرض کر چکے ہیں کہ مقدمہ تقلید کے مدعی مقلدین ہیں اسلئے انہیں چاہئے کہ اپنے دعوے کی دلیل کتاب و سنت سے پیش کریں علاوہ ازیں تسلیم کریں کہ تقلید چوتھی صدی میں پیدا ہونے والی ایک بدعت ہے۔
    [/FONT]
     
  4. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابو طلحہ بھائی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں
    آپ نے فرمایا کہ تقلید کی دوقسمیں اس دور کے علماء نے کیں ہیں
    لیکن جب آپ کو دو حوالاجات پیش کئے
    تو آپ نے فرمایا کہ یہاں تقلید لغوی معنوں میں استعمال ہوئی ہے
    ارے بھائی بحث یہ نہیں کہ کس نے کس معنوں میں تقلید کا اثبات کیا ہے یا اس سے تقلید شخصی ثابت ہوتی ہے یا نہیں

    بلکہ نقطہ ’’تقلید کی دو قسموں کے تعین‘‘ پر تھا
    اور خطیب بغدادی اور امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ نے واضح طور پر تقلید کی دو اقسام بیان فرمائیں ہیں ۔۔۔ جن میں ایک محمود اور ایک مذموم

    آپ کی یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک ہی عبارت میں دو بزرگ تقلید کا اثبات فرمائیں تو تقلید کا مفہوم کچھ اور (یعنی لغوی(
    اور دوسری طرف اُسی عبارت میں ’’تقلید‘‘ کے لفظ کو لے کر مذموم فرمائیں تو ایک ہی عبارت میں ’’تقلید‘‘ کا مفہوم بدل جاتا ہے (یعنی اصطلاحی معنی ؟

    کیا اس سے یہ نہیں ثابت ہورہا کہ آپ کی کوشش محض اتنی ہے کہ مذکورہ عبارات میں’’ تقلید‘‘ کا مفہوم آپ کے موقف کے اثبات میں ڈھل جائے ؟؟؟

    باقی تفصیلات پر عرض یہ ہے کہ ایک ایک کرکے نکات کو واضح فرمالیں تاکہ ہمیں‌ اور دیگر ساتھیوں کو بات سمجھنے میں آسانی رہے ۔۔۔۔۔ بہت سی چیزوں کو ایک ساتھ چلائیں گے تو بات الجھتی جائے گی ۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ آپ کے دیگر اعتراضات کی طرف بھی آئیں گے لیکن پہلے اس نقطہ کو واضح فرمالیں


    مجتہد اُن امور و معاملات پر اجتہاد کرتا ہے۔۔۔ جو غیر منصوص ہوں۔۔۔۔یا اگر کسی مسئلہ پر کسی آیت یا حدیث سے ثبوت پایا جاتا ہے تو وہ آیت یا حدیث اور بھی معنی اور وجوہ کا احتمال رکھتی ہو۔۔۔۔یا کسی دوسری آیت یا حدیث سے بظاہر متعارض معلوم ہوتی ہو۔۔۔ایسے امور و معاملات پر مقلدین حضرات تقلید کے قائل ہیں ۔۔۔۔

    اس کے باوجود بھی اگر آپ اپنے موقف پر بضد ہوں ۔۔۔۔۔تو آپ سے گذارش ہے کہ یہ فرمائیے کہ بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مقلدین حضرات ایسے ہی مسائل پر تقلید کے قائل ہیں تو کیا پھر بھی آپ کو تقلید پر اعتراض ہے یا آپ ایسی تقلید کو درست سمجھتے ہیں ؟

    اگر آپ کو ایسے مسائل پر بھی تقلید کرنے پر اعتراض ہے تو اپنا اعتراض پیش کیجیے ۔
    اور اگر آپ کو ایسے مسائل پر تقلید کا اعتراض نہیں۔۔۔۔ بلکہ آپ کا اعتراض یہ ہے کہ مقلدین حضرات منصوص مسائل پر بھی تقلید کرتے ہیں آپ کو اس چیزپر اعتراض ہے ۔۔۔تو آپ سے درخواست ہے کہ پھر آپ تقلید پر اعتراضات کرنے کے بجائے مقلدین حضرات کو ایسے منصوص مسائل کی نشاندہی کیجیے کہ جناب مقلدین صاحبان آپ فرماتے ہیں کہ آپ منصوص مسائل پر تقلید کے قائل نہیں جبکہ آپ فلاں منصوص مسئلہ پر تقلید محض فرمارہے ہیں ؟؟؟
    (یعنی مطلب یہ ہے کہ پھر تقلید پر اعتراض نہ فرمائیں بلکہ ایسے مسائل پر اعتراض فرمائیں اور یہ اعتراضات اس تھریڈ میں نہ پوسٹ فرمائیں کیوں یہاں مسئلہ تقلید پر بات ہورہی ہے منصوص مسائل پر اختلافات پر بات نہیں ہورہی امید ہے کہ آپ کو ہمارا سوال سمجھ آگیا ہوگا
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 4, 2010
  5. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی وقت ضائع مت کیجیے اگر آپ نے نہیں ماننا تو نہ مانیں ضد کا ویسے بھی کوئی علاج نہیں ہوتا۔ آپکے اس پورے رپلائے میں موجود ایک ایک نقطے کا جواب میری پوسٹ نمبر23 میں موجود ہے لیکن آپ دوبارہ گھما پھرا کر وہی باتیں کر رہے ہیں۔
    اوپر میں نے یہی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آپ نے جو دو حوالے پیش کئے ہیں ان میں تقلید کو لغوی معنوں میں استعمال کرتے ہوئے اھل علم سے مسئلہ پوچھنے کو تقلید کہا جا رہا ہے جیسے حضرت عمر رضی اللہ نے تراویح کو لغوی معنوں میں بدعت کہا تھا جسے بریلوی حضرات بہت زیادہ اچھالتے ہیں اور جیسے دیگر علماء نے حدیث وغیرہ پڑھنے کو بھی (لغوی معنوں میں) تقلید لکھا ہے۔اور صرف یہی دو حوالے نہیں بلکہ اس قسم کے اور بھی کئی حوالے آپ کو مل جائیں گے جن میں علماء نے مسائل پوچھنے کو تقلید سے تعبیر کیا ہے۔ اور بلاشبہ عامي کا کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا برحق ہے۔ (حدیث پڑھنا اور کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا تقلید کے اصطلاحی مفہوم سے خارج ہے یہ بات تو آپ بھی اوپر تسلیم کر چکے ہیں پھر کیوں فضول میں بحث کر رہے ہیں) آپ اس بات کی صراحت دکھائیں کہ کسی عالم نے یہ دعوی کیا ہو کہ مسائل غیر منصوصہ اور بظاہر متعارضہ میں لوگوں کے لئے آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔۔۔
    اوپر وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ صرف ایک کتابی قاعدہ ہے امام ابوحنیفہ نصوص کے مقابلے میں بھی فتوے دیا کرتے تھے جس کے کچھ حوالے اوپر موجود ہیں کہیں گے تو ہم ایسے بے شمار مزید حوالوں کا بھی انبار لگا سکتے ہیں۔
    مقلدین کا عمل اس کے سراسر خلاف ہے مقلدین مسائل منصوصہ و غیر متعارضہ میں بھی اندھی تقلید کرتے ہیں جسے کے حوالے اوپر پیش کر دیے گئے ہیں
    جی ہاں تب بھی اعتراض ہے کیونکہ آئمہ اربعہ کی اندھی تقلید چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہونے والی ایک بدعت ہے۔
    میرے خیال سے یہ بحث اب آپ کو چھوڑ ہی دینی چاہئے اوپر پیش کردہ ثبوتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مقلدین مسائل منصوصہ و غیر منصوصہ کی تفریق کے بغیر اندھا دھند آئمہ اربعہ کی تقلید کے قائل ہیں۔ بالفرض مان بھی لیا جائے کہ مقلدین صرف مسائل غیر منصوصہ (بظاہر متعارضہ) میں آئمہ اربعہ کی تقلید کو واجب خیال کرتے ہیں تب بھی مقلدین سے ان کے اس عمل کی دلیل مطلوب ہے کہ اس تقلید کو کس نے واجب کیا ہے؟
     
  6. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    شاید ہمارے ہی سمجھانے میں‌ کوئی کوتاہی ہے جس وجہ سے ابو طلحہ بھائی ایک معمولی سی بات نہیں سمجھ پا رہے
    ہماری تمام معزز قارئین کرام سے درخواست ہے کہ وہ براہ مہربانی ابو طلحہ بھائی کو یہ بات سمجھائیں کہ ایک وقت میں ایک ایک نقطہ پر بات کرتے چلیں ۔۔۔۔۔ بہت ساری باتوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے سے نہ تو ہم ابو طلحہ بھائی کی بات سمجھ سکیں گے اور نہ ابو طلحہ بھائی ہمارا موقف جان سکیں گے بلکہ بات چیت الجھتی جائے گی

    امید ہے کہ یہ آسان سے بات قارئین کرام ابو طلحہ بھائی کو آسانی سے سمجھا سکیں گے تاکہ ابو طلحہ بھائی ایک وقت میں کئی نکات کو لے کر نہ چلیں
    ا
    بو طلحہ بھائی تسلی رکھیں آپ جو جو اعتراضات فرمارہے ہیں ان شاء اللہ تعالیٰ‌رفتہ رفتہ ہر ایک نقطہ کی طرف آئیں گے لیکن براہ مہربانی ایک ایک کرکے بات کریں ۔جزاک اللہ

    معزز قارئین کرام!

    ابو طلحہ بھائی نے فرمایا کہ تقلید کی دوقسمیں اس دور کے علماء نے کیں ہیں
    لیکن جب ابو طلحہ بھائی کو دو حوالاجات پیش کئے
    تو ابو طلحہ بھائی نے فرمایا کہ یہاں تقلید لغوی معنوں میں استعمال ہوئی ہے
    جس پر ہم نے لکھا:
    ارے بھائی بحث یہ نہیں کہ کس نے کس معنوں میں تقلید کا اثبات کیا ہے یا اس سے تقلید شخصی ثابت ہوتی ہے یا نہیں

    بلکہ نقطہ ’’تقلید کی دو قسموں کے تعین‘‘ پر تھا

    اور خطیب بغدادی اور امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ نے واضح طور پر تقلید کی دو اقسام بیان فرمائیں ہیں ۔۔۔ جن میں ایک محمود اور ایک مذموم
    آپ کی یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک ہی عبارت میں دو بزرگ تقلید کا اثبات فرمائیں تو تقلید کا مفہوم کچھ اور (یعنی لغوی(
    اور دوسری طرف اُسی عبارت میں ’’تقلید‘‘ کے لفظ کو لے کر مذموم فرمائیں تو ایک ہی عبارت میں ’’تقلید‘‘ کا مفہوم بدل جاتا ہے (یعنی اصطلاحی معنی ؟


    جس کے جواب میں‌ ابو طلحہ بھائی نے فرمایا :


    معزز غیر جانبدار قارئین کرام !

    آپ نے ملاحظہ فرمایا ہمارے سوال پر ابو طلحہ بھائی کا جواب ؟؟؟

    یہ تو (علم غیب پر(وہی بریلوی حضرات والی بات ہوگئی کہ جہاں اپنے مطلب کی بات مل گئی تو مفہوم ’’عطائی‘‘ ہے اور جن عبارات میں بریلوی حضرات کو اپنے موقف کی تردید ہوتی نظر آرہی ہو تو وہ ’’ذاتی‘‘ کی نفی ہے ۔۔۔۔۔ اور فرمادیتے ہیں کہ لاو کوئی صریح عبارت پیش کرو جس میں ہمارے موقف کی نفی ہو ؟؟؟
    اسی طرح ابو طلحہ بھائی کر رہے ہیں جس عبارت میں تقلید کی مذمت ہے وہ اصطلاحی ہے اور جس عبارت میں تقلید کی تائید ہے وہ لغوی ہے ؟۔۔۔۔۔اور جب ایک ہی عبارت میں تقلید کی تائید بھی ہے اور مذمت بھی اور ہمارا مدعا بھی ثابت ہورہا ہے کہ تقلید کی دو قسمیں ہیں مذموم اور محمود تب بھی ابو طلحہ بھائی ماننے سے انکاری ہیں

    کیا ہم ضد کررہے ہیں یا ابو طلحہ بھائی
    فیصلہ آپ حضرات کے ضمیر پر چھوڑا

    نیز یہ بھی دریافت کرنا تھا کہ اگر عالم سے مسئلہ پوچھنے پر اور حدیث پڑھنے والے پر بھی لغوی تقلید کا اطلاق ہوتا ہے تو گلے میں‌ پٹہ ڈالنے کا طعنہ صرف مقلدین کو ہی کیوں دیا جاتا ہے ؟


    شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے حکم سے مکہ مکرمہ سے ایک کتاب طبع ہوئی جس کے مصنف الشیخ احمد بن حجر بن محمد آل ابو طامی قاضی محکمہ شرعیہ القطر ہیں اور جس کی تصیح مدینہ یونی ورسٹی کے صدر شیخ عبد العزیز بن عبداللہ الباز نے کی ہے اس کتاب کا نام ہے ’’الشیخ محمد بن عبدالوہاب عقید تہ السفیہ و دعوتہ الاصلاحیتہ و ثناء العلماء علیہ ‘‘ ہے اس کتاب کے صفحہ 56 پر میں‌ خود شیخ عبداللہ بن محمد بن عبد الوہاب کے رسالہ سے یہ عبارت نقل کی ہے :
    ’’اور نیز ہم فورعی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے مذہب کے پابند ہیں‌ اور ہم ان لوگوں پر جو صرف ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے ہیں اوروں کی نہیں کرتے کوئی انکار نہیں کرتے اس لئے کہ یہ دوسرے مذاہب منضبط نہیں ہیں‌ جیسا کہ رافضیوں زیدیہ اور امامیہ وغیرھم کے مذاہب ہم ان کو ان مذاہب فاسدہ کی کسی چیز پر برقرار نہیں رکھیں گے بلکہ ہم ان کو مجبور کریں گے کہ وہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کریں‘‘


    تو جناب کا کہنا یہ ہے کہ اگر چہ مسائل غیر منصوصہ بھی ہوں تب بھی مقلدین کی تقلید درست نہیں ؟؟
    کیوں کہ ائمہ اربعہ کی تقلید چوتھی صدی کی بدعت ہے

    تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر مسلمان غیر منصوصہ مسائل میں کیا کریں ؟
    یا یوں کہہ لیں کہ پھر غیر مقلدین ہزاروں لاکھوں عامی جیسے قصائی ،نائی دھوبی مزدور،کسان ڈرائیور وغیرہ وغیرہ جن کو دلائل کی الف بے بھی نہیں آتی ۔۔۔۔ان کو کسی ایسے مسئلہ کا سامنا ہو جو غیر منصوصہ ہو تو غیر مقلدین عامی ایسا کیا کرتے ہیں جو درست عمل کہلاتا ہے ؟

    اور اسی طرح کروڑوں مقلدین عامی غیر منصوصہ مسائل پر ایسا کیا کر یں جس سے وہ بدعت سے بچ سکیں ؟

    باقی ابو طلحہ بھائی سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ تحمل رکھیں ان شاء اللہ تعالیٰ تقلید شخصی اور دیگر اعتراضات پر اسٹیپ بائی اسٹیپ بات ہوتی رہے گی
     
  7. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی میں نے اب تک خود سے کوئی نقطہ پیش نہیں کیا آپ جن جن دلائل کا مطالبہ کر رہے ہیں میں صرف وہی پیش کر رہا ہوں۔ آغاز میں آپ نے ایک سوال پوچھا تھا جس کا میں نے جواب دے دیا پھر آپ نے کہا کہ ایسی کچھ مثالیں پیش کرو جن سے پتہ چلتا ہو کہ مقلدین مسائل منصوصہ میں بھی تقلید کرتے ہیں جس پر میں نے آپکی خدمت میں چند مثالیں پیش کر دیں۔ اب آپ خود بتائیں پوری گفتگو میں میری کون سی بات ایسی ہے جو موضوع سے متعلق نہ ہو؟
    بہت خوب شاہد نذیر بھائی نے آپ کا بالکل ٹھیک تعارف کروایا تھا، اب تک کی گفتگو کا خلاصہ ملاحضہ کیجیے اور اندازہ کریں کون اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے:
    پوسٹ نمبر ۱۷ میں ناصر بھائی نے ایک سوال پوچھا:
    اس کا ہماری طرف سے یہ جواب دیا گیا:
    قارئین اچھی غور کیجیے کہ ہم نے دو وجوہات بیان کی تھیں جن کی وجہ سے ہم مقلدین کے مذکورہ بالا دعوے کو درست نہیں سمجھتے لیکن ناصر بھائی نے اب تک ساری گفتگو پہلی وجہ پر ہی کی ہے اور دوسری وجہ پر اپنا کوئی موقف بیان ہی نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ وہ مثالیں پیش کرو جن سے پتہ چلتا ہو کہ مقلدین مسائل منصوصہ میں بھی تقلید کرتے ہیں اور جب ہم نے وہ حوالے پیش کر دیے تو ناصر بھائی نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ایک وقت میں ایک ہی نقطہ پر بات کرو حالانکہ اگر یہ بات تھی تو ناصر بھائی کو مسائل منصوصہ میں تقلید سے متعلق ہمارے حوالے پیش کرنے سے پہلے یہ بات کرنی چاہئے تھی لیکن اسوقت موصوف کا شاید خیال تھا کہ ہم ایسی کوئی مثال پیش ہی نہیں کر سکتے حالانکہ ایسی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔
    بہرحال پہلی وجہ کا ناصر بھائی کی طرف سے یہ جواب دیا گیا:
    اس کا تفصیلی جواب اوپر گزر چکا ہے فی الحال ہم ناصر بھائی سے اتنا پوچھنا چائیں گے کہ کیا تقلید کا لفظ ہمیشہ اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو آپ کی پیش کردہ عبارت میں تو وضاحت موجود ہے کہ اھل علم سے مسئلہ پوچھنے کو تقلید کہا جا رہا ہے پھر آپ کیوں اپنی ضد نہیں چھوڑ رہے؟ اور برائے مہربانی تقلید محمود اور تقلید مذموم کی تعریف بھی کر دیجیے یا صرف یہ بتا دیں کہ ملنگ نے اپنے تھریڈ میں تقلید محمود اور تقلید مذموم کی جو تعریف بیان کی ہے کیا آپ اس سے متفق ہیں
    اگر آپ اس تعریف سے متفق ہیں تو پھر آپ کا یہ دعوی بھی غلط ہے کہ آپ کے پیش کردہ دو حوالوں میں تقلید محمود اور تقلید مذموم کا کوئی ذکر موجود ہے.... فتدبر!!!
    اور جناب ہماری دوسری وجہ کا بھی تو جواب دیجیے وہ اس سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اصل چیز عمل ہے اور مقلدین کا عمل ان کے دعوے کے خلاف ہے ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مقلدین مسائل منصوصہ اور غیر متعارضہ میں بھی اندھی تقلید کرتے ہیں۔
    مفروضوں پر گفتگو نہ کیجیے بلکہ ہماری کوئی واضح عبارت دکھائیں جس میں ایسا کوئی طعنہ دیا گیا ہو پھر ہم جواب دیتے ہیں۔ لغت میں تقلید کے بہت سے معانی ہیں غیاث اللغات میں تقلید کا لغوی معنی حقیقت معلوم کئے بغیر کسی کی تابعداری کرنا بیان کیا گیا ہے حدیث اور عالم سے مسئلہ پوچھنے کے لئے تقلید کا یہی لغوی معنی استعمال کرنا مناسب ہے جبکہ جس اندھی تقلید کے مقلدین قائل و فاعل ہیں یعنی حق بات جان کر بھی اسے تسلیم نہ کرنا محض اس وجہ سے کہ ہم پر ہمارے امام کی تقلید واجب ہے ایسی اندھی تقلید کہ لئے تقلید کا وہی لغوی معنی سب سے بہترین ہے جو ارشاد الفحول میں بیان ہوا ہے یعنی پٹہ لٹکانا یا حیوانات کے گلے میں طوق ڈالنا۔۔۔ واللہ اعلم
    شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے رسالے سے اصل عربی عبارت پیش کیجیے پھر اس پر گفتگو کرتے ہیں کیونکہ ہم ملنگ اینڈ کمپنی کا ترجمہ تو دیکھ چکے ہیں جنہوں نے تابعداری اور اتباع کو بھی تقلید بنا ڈالا ہے کہیں یہاں بھی وہی کام نہ کیا گیا ہو۔ اور کوشش کیا کریں ہر عبارت کیساتھ اصل عربی متن ضرور پیش کریں۔
    اس کا جواب یہاں تفصیل کیساتھ دیا جا چکا ہے:
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - تقلید کا مفہوم ، تاریخ ، حکم اور نقصانات
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 5, 2010
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,876
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اس تھریڈ میں صرف ابوطلحہ سلفی بھائی اور ناصر نعمان کے درمیان گفتگو ہو رہی ہے ۔ابوطلحہ سلفی بھائی اور ناصر نعمان کی پوسٹ کے علاوہ باقی پوسٹس کو حذف کر دیا جائے گا ۔ اگر کسی نے موضوع کے متعلق گفتگو کرنی ہے تو وہ انتظار کرے ۔ یہاں تک کے یہ گفتگو کسی منطقی انجام تک پہنچ جائے ۔ شکریہ
     
  9. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    میرے خیال میں تو یہ بحث کبھی بھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچے گی کیونکہ دونوں پارٹیاں سمجھنے سے زیادہ سمجھانے پر زور دے رہے ہیں۔۔۔ اگر ایک کے پاس دلیل ہے تو دوسرے کے پاس اس سے بڑی دلیل ہے۔۔۔ تو جب ماحول ایسا بن جائے تو مثبت نتائج کم ہی اخذ ہوا کرتے ہیں لیکن پھر بھی اُمید اچھے ہی کی رکھنی چاہئے چاہے تقلید کے حق میں ہو یا متبع کے حق میں
     
  10. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ان شاء اللہ تعالیٰ جب اس نقطہ کی باری آئے گی اس نقطہ پر بھی بات چیت کریں لیں گے فی الحال ابھی جس چیز پر بات چل رہی ہے اس کو وہیں تک محدود رکھیں ۔جزاک اللہ


    کمال ہے ابو طلحہ بھائی کیا زبردست جواب دیا ہے دل خوش ہوگیا


    ونحن ایض فی الفروع علی مذھب الامام احمد بن حنبل ولا ننکر علیٰ من قلد الائمۃ الاربعۃ دون غیرھم لعدم ضبط مذاھب الغیر کالرا فضۃ والزیدیۃ والامامیۃ ونحوھم لانقرھم علی شئی من مذاھبھم الفاسد ۃ بل نجبرھم علیٰ تقلید احد الائمۃ الاربعۃ

    ضروری گذارش:
    وقت کی کمی کے باعث ہم عربی متن نہیں ٹائپ کرتے ۔۔۔۔لیکن جہاں‌آپ ضرورت محسوس فرمائیں ہمیں نشاندہی فرمادیا کریں ہم عربی متن پیش کردیا کریں‌گے ۔۔۔۔۔ساتھ میں یہ بھی واضح رہے کہ ہم عربی زبان نہیں جانتے اس لئے جو حوالاجات پیش کررہے ہیں وہ مختلف کتب سے لے رہے ہیں اور ترجمہ بھی انہی کتابوں کا ہوتا ہے اگر آپ کو کسی ترجمہ میں‌ کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو اس کی بھی نشاندہی کی درخواست رہے گی۔جزاک اللہ

    (اتباع اور تقلید پر آپ کے اعتراض کا جواب ہم نے اُسی فورم پر دے دیا تھا جہاں آپ کی اور ہماری بات شروع ہوئی تھی جب بھی موقعہ ملے آپ اُسی فورم پر ملاحظہ فرمالیجیے گا





    یعنی آپ کا کہنا ہے کہ عامی مسلمان مثلا نائی ، قصائی ،دھوبی ،موچی ، مزدور ، ڈرائیور ،کسان ، دوکاندار وغیرہ کو غیر منصوص مسائل پر دلائل کو سمجھ سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟
    یعنی ایسے عامی حضرات وہ دلائل سمجھ سکتے ہیں جن پر بڑے بڑے ائمہ کرام ، مجتہدین ،محدثین کرام میں فہم دلائل کی وجہ سے اختلاف رائے ہوا ۔۔۔۔۔اور جن میں‌ بعض مسائل ایسے بھی ہیں جن پر بزرگوں نے پوری پوری کتابیں لکھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے دلائل عام مسلمان مثلا نائی ، قصائی ،دھوبی ، موچی ، مزدور ڈرائیور ، کسان ، دوکاندار ، کلرک ،افسر ، بزنس مین وغیرہ جن کی نیت میں بغض و عناد کا شبہ نہ ہو وہ سمجھ سکتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟

    یعنی آپ کے نزدیک شریعت ہر عام مسلمان کو اس چیز کا مکلف ٹہراتی ہے کہ وہ دلیل ضرور جانے چاہے وہ غیر منصوصہ مسائل ہی کیوں‌ نہ ہوں ؟؟؟؟؟

    (ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کی ذاتی رائے ہو بہر حال غور ضرور فرمائیں کہ آپ کیا فرمارہے ہیں
    ساتھ میں خطیب بغدادی کا قول بھی ملاحظہ فرماتے جائیں :
    علاوہ ازیں اگر ہم دین کے ان فروعی مسائل میں تقلید کو ممنوع قرار دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر آدمی احکام کو دلائل کے ساتھ جاننے کا محتاج ہے اور عوام پر اس کو واجب کرنے سے زندگی کی سب ضروریات کے حاصل کرنے سے انہیں روکنا لازم آئے گا۔اور کھیتی باڑی اور مویشیوں کی ہلاکت و بربادی لازم آئے گی تو واجب ہے کہ یہ حکم ان سے ساقط ہو “(الفقیہ والمتفقہ ج 2 ص 68 طبع الریاض )

    بات بالکل واضح ہے صرف غیر جانبدار ہونے کی ضرورت ہے
    فروعی معاملات پر عام مسلمان کا تقلید (جبکہ مذکورہ عبارت میں اصطلاحی تقلید بھی واضح ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی آپ کا ہی مفہوم لے لیتے ہیں یعنی لغوی تقلید (کرنا ممنوع نہیں ہے
    کیوں کہ فروعی معاملات پر عام مسلمانوں کے لئے تقلید کو ممنوع قرار دینے کا مطلب ہر مسلمان کے لئے دلیل جاننا واجب ہوگا
    جس کی وجہ سے عام مسلمان کے دیگر کاروبارزندگی متاثر ہوجائیں گے(کیوں کہ دلیل جاننے کے لئے اس دلیل سے متعلقہ علوم جاننے بھی ضروری ہوں گے (
    اس لئے مقلد کے لئے دلیل جاننا ضروری نہیں ہے
    (اس طرح خطیب بغدادی کی عبارت سے بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے کہ یہاں تقلید اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوا ہے لیکن پھر بھی بحث یہ نہیں کہ یہاں تقلید کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ فروعی معاملات میں عام مسلمانوں کا دلیل جاننا نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی ممکن ہے (
    تمام غیر جانبدار ساتھیوں‌ سے خصوصی غور و فکر کی درخواست ہے
     
  11. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

    بھائی ہماری اس بات چیت کرنے کا مقصد کوئی ہار جیت یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ مقصد محض اتنا سمجھنا ہے کہ کیا تقلید واقعی شرک و بدعت ہے ؟؟؟
    اس سلسلہ میں جو اشکالات اور سوالات سامنے آتے ہیں ہم ابو طلحہ بھائی کے ساتھ اُن پر ہی ڈسکس کرہے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین
     
  12. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی ضد کی بھی انتہا ہوتی ہے آپکا طرزعمل صاف بتا رہا ہے کہ آپ اپنے عالموں کی کتابوں سے چھاپے لگا کر صرف بحث برائے بحث کر رہے ہو اور ہر صورت میں دوسروں سے اپنا موقف منوانا چاہتے ہو، جس بات کا بھی آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا اسے ٹال کر کوئی نیا نقطہ پیش کر دیتے ہو، ہم نے اپنی پہلی پوسٹ میں عرض کی تھی کہ یہ مقلدین کا دعوی ہے کہ "ہرعام و خاص پر آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے" اس لئے مقلدین کو چاہئے کہ ادھر ادھر کی فضول گفتگو کی بجائے تقلید کا جواز کتاب و سنت سے پیش کر دیں ساری بحث خود بخود ختم ہو جائیگی۔۔۔۔ لیکن چونکہ آپ تقلید کا جواز قیامت تک نہیں ثابت کر سکتے اسلئے آپ کا پہلا نقطہ ہی بالکل غیر متعلقہ تھا کہ ہم صرف مسائل غیر منصوصہ میں تقلید کرتے ہیں۔۔۔۔ حالانکہ تقلید کسی بھی مسئلے میں کی جائے وہ تقلید ہی کہلاتی ہے پہلے آپ تقلید کا جواز کتاب و سنت سے ثابت کریں پھر یہ دیکھا جائے گا کہ آپ کن مسائل میں تقلید کرتے ہیں۔۔۔۔بہرحال آپکی شدید خواہش پر ہم نے چند ناقابل تردید ثبوت پیش کئے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ مقلدین مسائل منصوصہ میں بھی تقلید کرتے ہیں مثلاً گستاخ رسول کا واجب القتل ہونا قطعی نصوص سے ثابت ہے لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک گستاخ رسول کا ذمہ باقی رہتا ہے اور امام صاحب کے اس قول پر حنفیوں نے فتوے دے رکھے ہیں یہ ہے مسائل منصوصہ میں اندھی تقلید۔۔۔۔اسی طرح محرمات ابدیہ سے نکاح کی حرمت قطعی نصوص سے ثابت ہے لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز ہے اور حنفیوں نے بھی اندھی تقلید کرتے ہوئے اس پر فتوے دے رکھے ہیں یہ ہے مسائل منصوصہ میں تقلید۔۔۔۔ اسی طرح مسئلہ بیع خیار میں بھی امام ابوحنیفہ کا قول قطعی نصوص کے خلاف ہے اور یہ بات حنفیوں نے تسلیم بھی کی ہے لیکن اس کے باوجود فتوے اپنے امام کے قول پر ہی دیے ہیں۔۔۔۔یہ سب مسائل منصوصہ میں اندھی تقلید کے ناقابل تردید ثبوت تھے لیکن ناصر بھائی کے پاس چونکہ اس کا بھی کوئی جواب نہیں تھا اس لئے اسی دوسرے نقطہ کو بھی بڑی خوبصورتی سے گول کر گئے اور اب ایک نیا نقطہ پیش کیا ہے کہ نائی، موچی وغیرہ کو دلائل کی بالکل سمجھ نہیں ہوتی تو وہ تقلید نہ کرے تو کیا کرے۔۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس تقلید کے جواز کی یہی دلیل ہے تو آپ کے مدارس سے فارخ التحصیل بڑے بڑے "مولانا" حضرات کس دلیل کے مطابق امام صاحب کی اندھی تقلید کے قائل و فاعل ہیں؟ کیا وہ بھی دلائل کی الف بے سے واقف نہیں؟ اور جہاں تک عامی طبقے کا تعلق ہے تو اس کی وضاحت بہت اچھی طرح کر دی گئی تھی لیکن آپ نے حسب معمول عبارت سے اپنی پسند کا ایک حصہ اٹھا کر پوری عبارت کا مفہوم ہی بدل دیا۔
    -----------------------
    بارھواں شبہہ: مقلدین بار بار اعتراض کرتے ہیں کہ جب جاہل آدمی کے لیئے بھی تقلید جائز نہیں ہے حالانکہ وہ نہ تو مجتہد ہوتا ہے اور نہ عالم اور نہ خود اپنے مسائل کو حل کر سکتا ہے تو یہ بیچارہ آخر کیا کرے؟

    الجواب: اس کا جواب ہم ہر بار یہی دیتے آئے ہیں کہ جاہل کے لیئے تقلید کے عدم جواز کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجتہد اور عالم بن جائے یا خود مسائل کو حل کرنا شروع کر دے کیونکہ اللہ نے ہر ایک کو اس کا مکلف نہیں ٹھرایا۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ آج کا جاہل یعنی عامی طبقہ سلف صالحین یعنی صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے نقش قدم پر اپنی زندگی گزارنے کی حتی الامکان کوشش کرے کیونکہ ان میں بھی عامی طبقہ موجود تھا جس کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ اپنے متبعین حق علماء کے پاس تصفیہ طلب مسائل لیکر جاتے اور متعلقہ مسئلے کے بارے میں قرآن و حدیث کا حکم معلوم کرتے۔اور علماء صرف کتاب و سنت کی روشنی میں حل پیش کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ عامی طبقہ کتاب و سنت پر عمل پیرا ہو جاتا اور علماء مبلغ کی حیثیت سے اپنا فریضہ انجام دیتے۔
    --------------------------
    کچھ سمجھ آئی؟ یہ نہیں کہا جا رہا کہ ہر موچی، نائی اور کھیتی باڑی کرنے والا مجتہد اور عالم بن جائے بلکہ ایسے شخص کو چاہئے کہ کسی مستند عالم کے پاس جا کر اس سے پوچھے کہ اس مسئلے میں کتاب و سنت کا کیا حکم ہے، اور مذکورہ عالم کو بھی چاہئے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اسے مسئلہ سمجھا دے، عالم سے دلائل کا مطالبہ ضروری نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس عالم سے مسئلہ پوچھا جا رہا ہے اس سے یہ حسن ظن ہو کہ وہ کتاب و سنت کی رو سے ہی مسئلے کی وضاحت کرے گا۔
    اور اسے تقلید نہیں کہا جاتا مثلاً کوئی حنفی طارق جمیل سے کوئی مسئلہ پوچھتا ہے اور طارق جمیل صاحب دلائل ذکر کئے بغیراسے مسئلہ سمجھا دیتے ہیں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ حنفی اب امام ابو حنیفہ کا مقلد نہیں رہا بلکہ طارق جمیل صاحب کا مقلد بن گیا ہے۔

    اس کے بعد ہماری عبارت کا اگلا حصہ یہ تھا
    -----------------
    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عامی طبقہ دلائل سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے تو یہ بات غلط ہے کیونکہ عقل اور ایمان کی دولت ایک عام شخص کے پاس بھی ہوتی ہے اور مومن کا سینہ حق و باطل میں تمیز کرنے والے نور سے منور ہوتا ہے۔ اپنی عقل اور ایمانی بصیرت کی روشنی میں عامی طبقہ بھی دلائل کو سمجھ سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ دل و دماغ اور نیت میں بغض و عناد کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس کو عمل بروایت کہتے ہیں نہ کہ عمل بالرأی۔ یعنی راوی کی روایت پر عمل ہوتا ہے نہ کہ اس کی رائے پر۔ یہی سب باتیں امام شوکانی نے القول المفید:۲۷، امام ابن قیم نے کتاب الروح:۲۵۶ اور امام شاطبی نے کتاب الاعتصام:۳۴۵-۳۴۲ میں کہیں ہیں جن کا خلاصہ اوپر بیان کر دیا گیا۔
    -----------------
    یہاں مسائل منصوصہ یا غیر منصوصہ کی کوئی بحث نہیں ہو رہی بلکہ صرف دلائل کے سمجھنے یا نہ سمجھنے کے شعور کی بات ہو رہی ہے۔ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے فطری طور پر انسان میں یہ شعور پایا جاتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی پہچان کر سکے۔ غیر منصوص مسائل کے بارے میں عامی کو چاہئے کہ اھل علم سے سوال کرے اور علماء کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو سلف صالحین کے متفقہ فہم کے مطابق مذکورہ مسائل پر صحیح موقف سے اگاہ کر دیں۔

    مزید اِدھر اُدھر کی فضول گفتگو سے بچنے کے لئے ناصر بھائی سے گزارش ہے کہ وہ بنیادی اور مرکزی نقطے پر بات کریں جو ہم نے اپنی پہلی پوسٹ میں پیش کیا تھا کہ اس بات کی دلیل کتاب و سنت سے پیش کی جائے کہ لوگوں پر آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی دلیل واجب ہے۔۔۔۔ اس مرکزی نقطے سے ہٹ کر آپ کی کوئی بھی بات محض خلط مبحث اور وقت کا ضیاع ہو گی۔۔۔۔ امید ہے کہ ناصر بھائی اپنے نہیں تو کم سے کم دوسروں کے قیمتی وقت کا خیال رکھتے ہوئے بحث برائے بحث سے گریز کریں گے۔
     
  13. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    الحمد للہ ابو طلحہ بھائی کی اس پوسٹ سے ہمیں بہت سی باتوں کا جواب دے دیا
    ہمیں ابو طلحہ بھائی سے مزید بات چیت نہیں کرنی
    کیوں کہ بات چیت اُسی وقت کارآمد ہوتی ہے جب تک ماحول سمجھنے سمجھانے کا ہو
    ہم نے بار بار واضح کیا کہ ہم ایک وقت میں ایک ایک کرکے نکات پر بات کریں گے
    لیکن ابو طلحہ بھائی کا ایک ہی اصرار رہا کہ سب باتوں کا ایک ساتھ جواب دیا جائے
    معزز غیر جانبدار قارئین کرام !
    فیصلہ آپ فرمائیں ۔۔۔۔۔ کیا ایک وقت میں کئی نکات پر بات چیت سے بات الجھتی نہیں ؟
    اگر ابو طلحہ بھائی اپنے موقف کو حق پر سمجھتے ہیں تو اُن کا ہر نقطہ پر الگ الگ بات کرنے سے کیوں انکار ہے ؟
    خیر ہمیں پھر بھی ابو طلحہ بھائی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں
    ہماری تو بڑی خواہش تھی کہ ہم تقلید پر ہر ہر نقطہ پر تفصیلی بات کریں
    لیکن افسوس یہاں بھی بات چیت وہی روایتی طرز عمل تک جا پہنچی

    بہرحال ابو عکاشہ بھائی آپ نے ہمارے ساتھ تعاون فرمایا اور ایک اچھے ماحول میں اس فورم پر ابو طلحہ بھائی سے بات چیت کرنے کا موقعہ دیا آپ کا بہت بہت شکریہ
    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔آمین

    اگر کوئی اعتدال پسند بھائی اسی پوائنٹ سے بات چیت کا خواہشمند ہو تو ضرور کرسکتا ہے
    لیکن روایتی طریقے سے ہم بات چیت کرنے سے معذرت چاہتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    تمام شرائط منوا كر ايك فريق كا دفعتا بحث سے دستبردار ہونا، سوائے فرار كے كيا معنى ركھتا ہے؟
     
  15. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی نے لکھا:
    جبکہ میں نے بھی اپنی آخری پوسٹ میں یہی لکھا تھا کہ ناصر بھائی ایک ہی مرکزی اور بنیادی نقطے پر گفتگو کیجیے
    بہرحال اب ناصر بھائی کی خواہش ہے:
    جو کوئی بھی ناصر بھائی سے گفتگو کرنا چاہے اسے میرا یہی مشورہ ہے کہ وہ موصوف سے صرف ایک ہی بنیادی نقطے پر گفتگو کرے یعنی "آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کے واجب ہونے کا جواز کتاب و سنت سے"۔۔۔۔۔اگر ناصر بھائی اپنا یہ بنیادی عقیدہ کتاب و سنت سے ثابت کر دیتے ہیں تو ساری بحث خود بخود ختم ہو جائے گی ورنہ خلط مبحث اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 6, 2010
  16. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    555
    ناصر بھائی نے لکھا ہے:
    جبکہ میں نے بھی اپنی آخری پوسٹ میں یہی بات کی تھی کہ ناصر بھائی صرف ایک ہی بنیادی اور مرکزی نقطے پر بات کیجیے:
    بہرحال اب ناصر بھائی کی خواہش ہے:
    جو ساتھی بھی ناصر بھائی سے گفتگو کرنا چاہے اسے میرا مشورہ ہے کہ موصوف سے صرف اسی ایک بنیادی اور مرکزی نقطے پر گفتگو کرے کہ آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید کے واجب ہونے کی دلیل کیا ہے؟ اگر ناصر بھائی اپنے اس بنیادی عقیدے کی دلیل کتاب و سنت سے پیش کر دیتے ہیں تو بحث خود بخود ہی ختم ہو جائے گی ورنہ دیگر ضمنی موضوعات پر لمبی لمبی بحثوں سے سوائے خلط مبحث اور وقت کے ضیاع کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔۔
    والسلام
     
  17. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    اس ساری بحث سے یہ بات تو واضح ہے کہ نہ تو ہمیں تقلید شخصی کے جواز میں کوئی دلیل ملی؟ نہ کوئی شرعی قول۔۔۔۔بس بحث مباحثہ کر کے راہ فرار۔۔۔۔۔

    میرے زیادہ نہیں صرف 3 سوال ہے ناصر بھائی سے:

    1۔ تقلید شخصی کے وجوب کی شرعی دلیل بتا دیں؟
    2۔ صحابہ کرام اور تابعین کرام کو تقلید شخصی کی ضرورت نہ پیش آئی؟ وجہ؟
    3۔ اگر وہ تقلید شخصی کے قائل نہ تھے تو کس کی اتباع کرتے تھے؟ ان کے لیے تقلید واجب نہیں ہمارے لیے واجب؟ دلیل؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    786
    میرا صرف ایک سوال ہے ناصر نعمان بھائی سے کہ جب آپ کے نزدیک اس شخص کے لئے جو مجتہد نہ ہو تقلید کے سوا کوئی راہ نہیں ہے جس کے زریعہ وہ دین پر عمل کرے۔ تو پھر امام ابوحنیفہ جب مجتہد نہیں بلکہ صرف طالب علم تھے تو کس مجتہد کی تقلید شخصی کیا کرتے تھے؟؟؟؟؟
     
  19. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ

    عاکف سعید بھائی ہوسکتا ہے کہ یہ بات چیت آپ کے نزدیک ایک جنگ کی حیثیت رکھتی ہو جس میں ایک فرار ہوتا ہے اور دوسرا فاتح قرار پاتا ہے
    لیکن کم از کم ہم ایسا نہیں سمجھتے۔۔۔باقی آپ جو چاہے سمجھنا وہ سمجھیں

    باقی میرے بھائی ہماری پچھلی پوسٹ نمر 30 میں واضح ہے کہ عامی مسلمان کے لئے غیر منصوص مسائل پر دلائل جاننا نہ تو ضروری ہیں نہ ممکن ہیں
    اگر آپ کو ہماری بات سے اختلاف ہے تو براہ مہربانی ہماری غلطیوں کی نشاندہی فرمادیں
    اس کے بعد تقلید شخصی اور آپ کے دیگر سوالات پر بھی بات کرلیں گے لیکن ایک ایک کرکے۔۔۔

    باقی شاہد نزیر بھائی سے ہم بات چیت کرنے سے معذرت چاہتے ہیں
    عاکف سعید بھائی اگر چاہیں تو اس نقطہ کو اگلے سوالات کی ترتیب میں پیش کرسکتے ہیں
     
  20. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ

    جی جناب ہم بھی اسے جنگ کا میدان نہیں سمجھتے۔ الحمد اللہ علمی بحث کرتے ہیں اور علمی بات پسند کرتے ہیں۔۔۔موضوع سے پھرنا یا دلیل کا مطالبہ کر کے دلائل سے پھرنا اہل حدیث کا مشغلہ نہیں۔ بہر حال موضوع پہ آتے ہیں۔۔۔۔

    بھائی وہی تو پوچھ رہا ہوں کتاب و سنت کی دلیل کہا ہیں پیش کریں؟ علماء کی رائے دلیل نہیں بن سکتی۔۔۔اور جو سوالات کیے ہیں آپ ان کا جواب دیں، مجھے زیادہ بحث نہیں کرنی۔۔۔۔جو سوالات پوچھے با دلائل کتاب و سنت جواب دیں۔۔۔۔

    :00003: :00014:

    جو سوالات کیے جواب دے دیجیے ایک ایک کر کے۔۔۔۔۔۔​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں