کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟

ناصر نعمان نے 'نقطۂ نظر' میں ‏دسمبر 1, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد فیصل

    محمد فیصل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 20, 2007
    پیغامات:
    73
    علامہ خطیب بغدادی اور تقلید

    اسلام و علیکم،

    ناصر نعمان بھائی، آپ نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں بھائی بات عبارت کو اپنے مفہوم میں ڈھالنے کی نہیں بلکہ حقیقی معنی بیان کرنے کی ہے،اور ایک لفظ کو دو معنوں میں استعمال کرنا سمجھ سے بالاتر تو نہیں کیونکہ

    ۱: آپ نے لکھا کہ علامہ خطیب بغدادی نے منصوصہ مسائل میں تقلید کو ناجائز اور اجتہادی مسائل میں جائز کہا ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ کہ اجتہادی مسائل میں تقلید کو نا جائز کہنے سے یہ لازم آئے گا کہ عامی کو ہر اجتہادی مسئلہ کی دلیل معلوم ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر علامہ خطیب بغدادی کی اس عبارت میں دونوں جگہوں پر بیان کردہ لفظ" تقلید" کا لفظ ایک ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے، تو کیا یہ بات عجیب نہیں کو وہ تقلید جس کی منصوصہ مسائل میں ممانعت سے عامی کا ہر منصوصہ مسئلہ کی دلیل جاننا لازم نہ آیا لیکن "اسی" تقلید کا اجتہادی مسائل میں ممانعت سے عامی کا ہر اجتہادی مسئلہ کی دلیل جاننا واجب قرار پاتا ہے؟؟؟ کیا اتنی بات یہ سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ علامہ صاحب نے منصوصہ مسائل میں جس تقلید کا رد فرمایا ہےوہاں معنی اور ہیں اور اجتہادی مسائل میں تقلید کا اثبات کیا ہے وہاں معنی اور ہیں؟؟؟ باالفاظ دیگر منصوصہ مسائل میں بیان کردہ لفظ تقلید سے مراد وہ تقلید ہے جس کے رد سے عامی کا ہر منصوصہ مسئلہ کی دلیل جاننا واجب نہیں آتا جبکہ اجتہادی مسائل میں تقلید سے مراد وہ تقلید ہے جس کے رد سے عامی کا ہر اجتہادی مسئلہ میں دلیل کا جاننا واجب قرار پاتا ہے۔

    ۲: علامہ خطیب بغدای کی عبارت میں جہاں تقلید کا اثبات ہے اسی کے ضمن میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں: "فروعی مسائل احکام میں تقلید درست ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے سوال کرو ۔" اب یہ جاننے کے لئے کہ علامہ صاحب نے جہاں تقلید کا اثبات فرمایا ہے وہاں معنی اصطلاحی ہے یا لغوی، آپ اتنا کام کریں آپ کے معتبر حنفی فقہاء نے تقلید(اصطلاحی) کی جو تعریف کی ہے، اُس تعریف کی رو سے "اہل علم سے سوال کرنے" کے طرز عمل کو اصطلاح میں تقلید ثابت کر دیں۔

    اگر بات سمجھ جائیں تو ابو طلحہ سلفی بھائی سے بات چیت جاری رکھیں، شکریہ۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    میرے عزیز دوست شاید علامہ خطیب بغدادی کی پوری عبارت آپ کے علم میں نہیں اسی لئے آپ نے یہ بات کہی
    علامہ خطیب بغدادی اجتہاد اور تقلید کی وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ احکام کی دو قسمیں ہیں ۔۔۔۔ ایک عقلی اور دوسری شرعی
    عقلی احکام کی یوں وضاحت فرماتے ہیں :
    عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں ہے، جیسے صانع عالم اور اس کی صفات کی معرفت اس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے سچے ھونے کی معرفت وغیرہ
    پھر شرعی احکام کے حوالے سے لکھتے ہیں‌کہ شرعی احکام کی دو قسمیں ہیں
    جس میں‌ سے پہلی قسم کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :
    دین کے وہ احکام جو وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہوں۔ جیسے روزہ ، نماز، حج ، زکوٰة اسی طرح زنا اور شراب کا حرام ہونا وغیرہ ، تو ان میں تقلید جائز نہیں ھے۔ کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں اسلئے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں۔
    پھر دوسری قسم کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :
    دوسری قسم وہ احکام ہیں جو غور وفکر و استدلال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے مثلا عبادات و معاملات اور نکاح وغیرہ کے فروعی مسائل احکام میں تقلید درست ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے سوال کرو ۔علاوہ ازیں اگر ہم دین کے ان فروعی مسائل میں تقلید کو ممنوع قرار دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر آدمی احکام کو دلائل کے ساتھ جاننے کا محتاج ہے اور عوام پر اس کو واجب کرنے سے زندگی کی سب ضروریات کے حاصل کرنے سے انہیں روکنا لازم آئے گا۔اور کھیتی باڑی اور مویشیوں کی ہلاکت و بربادی لازم آئے گی تو واجب ہے کہ یہ حکم ان سے ساقط ہو “(الفقیہ والمتفقہ ج 2 ص 68 طبع الریاض )

    امید ہے کہ پوری بات پڑھ کر آپ کی یہ غلط فہمی دو ہوگئی ہوگی کہ کیوں کہ علامہ خطیب بغدادی نے منصوصہ مسائل کے لئے عامی مسلمان کے لئے دلیل جاننا ضروری قرارنہیں دیا اس لئے یہاں ایک ہی عبارت میں تقلید کے دو مفہوم ثابت ہوتے ہیں ؟

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین
     
  3. محمد فیصل

    محمد فیصل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 20, 2007
    پیغامات:
    73
    اسلام و علیکم،

    ناصر نعمان بھائی، آپ نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یقیناً جناب یہ پوری عبارت میرے علم میں نہیں ، علامہ خطیب بغدادی کے موقف کی ترجمانی میں جتنی عبارت آپ نے پیش کی تھی میرا تبصرہ اُسی پر تھا کہ کم از کم اتنی عبارت سے آپکا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن اگر آپ کے خیال میں آپ پوری عبارت پیش کر چکے ہیں تو بھی میں یہی بات کہوں گا کہ دونوں جگہوں پر تقلید کا لفظ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

    ۱: پہلے تو آپ نے اس عبارت میں یہ اضافہ کیا کہ علامہ صاحب کے نزدیک عقلی احکام میں بھی تقلید جائز نہیں ، تو یہ ہمارا موضوع بحث نہیں، کیونکہ آپکا اور ہمارا اختلاف تو شرعی مسائل میں تقلید کا ہے۔ جس میں آگے منصوصہ یا اجتہادی مسائل وغیرہ کی تقسیم کی جاتی ہے۔

    ۲: دوسرے نمبر پر آپ نے علامہ صاحب کے الفاظ میں مسائل منصوصہ میں تقلید کے رد کی علت بیان کرتے ہوئے لکھا:" تو ان میں تقلید جائز نہیں ھے۔ کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں اسلئے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں۔" تو جناب یہ وضاحت بھی آپکے موقف کو ثابت نہیں کر رہی،کیونکہ یقیناً جیسا کہ آپ نے بیان کیا نماز، روزہ، شراب وغیرہ کے احکامات جاننا ہر عامی پر بھی فرض ہے ، اور اس عبارت میں یہی احکام جاننے میں سب کو برابر قرار دیا گیا ہے، لیکن جناب بات تو ان احکام کے "دلائل" جاننے کی ہے۔ مثلاً آپ کسی بھی مسلمان عامی (موچی، نائی اور کسان) سے پوچھیں کہ شراب پینا اسلام میں جائز ہے یا نہیں ؟ تو یقیناً انکا جواب یہ ہوگا کہ نہیں یہ جائز نہیں کیونکہ ایسے بنیادی مسائل تو سب کو ہی پتا ہیں(یہ ہے بنیادی منصوصہ مسائل کے احکام کو جاننا)، لیکن اگر آپ اُسی عامی سے اس کی حرمت پر نص کا مطالبہ کریں تو غالب گمان ہے کہ وہ پیش نہ کر سکے گا(یہ ہے مسائل منصوصہ کی دلیل جاننا)، اور عامی ہر منصوصہ مسائل کی"دلیل" جاننے کا مکلف بھی نہیں۔ "احکام جاننا "اور" احکامات کی دلیل" جاننا دو الگ چیزیں ہیں۔ مختصر یہ کہ علامہ صاحب نےمسائل منصوصہ میں جس تقلید کی حرمت بیان کی ہے اُس حرمت سے عامی پر ہر منصوصہ مسئلہ کی "دلیل جاننا "واجب نہیں آتا، جبکہ اجتہادی مسائل میں جس تقلید کا جواز بیان کیا ہے اُس کے رد سے ہر عامی پر اجتہادی مسائل کی" دلیل جاننا" واجب قرار پاتا ہے۔

    ۳: علامہ خطیب بغدای کی عبارت میں جہاں تقلید کا اثبات ہے اسی کے ضمن میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں: "فروعی مسائل احکام میں تقلید درست ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے سوال کرو ۔" اب یہ جاننے کے لئے کہ علامہ صاحب نے جہاں تقلید کا اثبات فرمایا ہے وہاں معنی اصطلاحی ہے یا لغوی، آپ اتنا کام کریں آپ کے معتبر حنفی فقہاء نے تقلید(اصطلاحی) کی جو تعریف کی ہے، اُس تعریف کی رو سے "اہل علم سے سوال کرنے" کے طرز عمل کو اصطلاح میں تقلید ثابت کر دیں۔ برائے مہربانی اس پر بھی توجہ فرمائیں۔ شکریہ

    آمین۔

    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 8, 2010
  4. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    میرے پیارے بھائی فیصل کسی دلیل کا جاننا یعنی سمجھنا اور بات ہے
    جبکہ دلیل کو یاد کرلینا اور بات ہے
    صرف اسی بات پر غور فرمائیں ان شاءاللہ تعالیٰ آپ کو بات سمجھ آجائے گی
    اور بالفرض اگر آپ اب بھی بات نہ سمجھ سکیں تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم مزید تفصیل سے سمجھا دیں گے

     
  5. محمد فیصل

    محمد فیصل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 20, 2007
    پیغامات:
    73
    جی ناصر نعمان بھإی اپنی بات کی وضاحت کیجٕے میں منتظر ہوں، نیز نکتہ نمبر 3 پر بھی کچھ تبصرہ کریں، شکریہ
     
  6. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38

    ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی تفسیر کی چار قسمیں ہیں
    ایک وہ جو کلام عرب سے سمجھی جاتی ہے دوسری وہ جس کی جہالت میں کوئی معذور نہیں تیسری وہ جسے ذی علم جان سکتے ہیں چوتھی وہ جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (تفسیر طبری 75/1

    ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ایک مرفوع حدیث بھی اس بارے میں مروی ہے لیکن اس کی سند میں کلام ہے ۔۔۔۔ اس کا متن یہ ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کا نزول چار طریق پر ہوا ہے ۔حلال حرام آیتیں جن سے اگر کوئی ناواقف رہے تو اس کا عذر قیامت کے دن کام نہ آئے گا اور وہ تفسیر جسے عرب بیان کریں اور وہ تفسیر جو ذی علم جان سکے ۔ اور وہ متشابہ آیتیں جن کا حقیقی علم بجز ذات باری تعالیٰ کے کسی اور کو حاصل نہیں ۔جو لوگ اس کے جاننے کا دعویٰ کریں وہ جھوٹے ہیں ۔

    یعنی قرآن پاک میں حرام حلال کے وہ احکا مات جو صراحت سے ارشاد ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ احکامات ہر مسلمان با آسانی سمجھ سکتا ہے ۔۔۔۔ اور حرام حلال کے احکامات جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اس سلسلہ میں جہالت کا عذر آخرت میں قابل قبول نہ ہوگا (یعنی قرآن پاک میں صراحت سے بیان ہوئے حرام حلال کے احکامات کے برعکس کسی کی تقلید کرتے ہوئے گمراہ ہوئے اور آخرت میں یہ عذر کیا کہ ہمیں علم نہ تھا تو یہ عذر قابل قبول نہ ہوگا (

    تو فیصل بھائی اس لحاظ سے اگر کوئی عامی مسلمان یعنی موچی ، نائی قصائی دھوبی مزدور وغیرہ قرآن پاک میں صراحت سے بیان کئے گئے احکامات سے لاعلم رہتا ہے تو یہ اُس کی کوتاہی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہر مسلمان کے لئے کم از کم دین کا اتنا علم رکھنا ضروری ہے کہ وہ بنیادی احکامات جان سکے۔

    یہ ہے منصوص احکامات کا جاننا اور سمجھنا
    جبکہ غیر منصوص معاملات پر عامی مسلمان کا دلیل کا جاننا اور سمجھنا ضروری نہیں (جس کی وضاحت ہم پچھلی پوستوں میں کرچکے ہیں(

    باقی آپ کے تیسرے پوائنٹ کا جواب اس تفصیل کو سمجھنے میں منحصر ہے
     
  7. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ناصر نعمان صاحب! آپ نجانے کیوں ابو طلحہ بھائی سے خفا ہو گئے ہو، خیر اس طرح کے معاملات ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ :
    اور آپ نے پیشکش کی بھی کی ہے کہ :
    ہم ان شاء اللہ آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے آپ کی خواہش پوری کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ اور جیسا کہ آپ نے ایک اور جگہ تحریر فرمایا ہے کہ:
    ہم بھی تمام نکات پر یکم بعد دیگرے گفتگو کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو !!
    تو کیا خیال ہے آپ کا؟ آپ نے اب تک جو تحریر فرمایا ہے اس سے گفتگو کا آغاز کیا تو بات یکم بعد دیگرے والی نہیں رہے گی، لہذا ہم اپنی گفتگو کو بنیاد سے شروع کرتے ہیں۔ اور ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جس موضوع پر گفتگو ہے اس کی تعریف کا تعین سب سے قبل کر دیا جائے!
    لہذا آپ چاہیں تو آپ تقلید کی جامع و مانع تعریف پیش کر دیں ۔ ابھی اس پر دلیل قائم نہیں کیجئے گا تا کہ گفتگو یکم بعد دیگرے کے اصول کے تحت کی جا سکے۔
    ایک التماس اور ہے کہ تقلید کی تعریف دارلعلوم دیوبند کی بناء سے پہلے کی کسی کتاب سے بیان کیجئے گا۔ تاکہ "خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد" والا معاملہ نہ ہو جائے!! مزید یہ کہ عربی عبارت ضرور پیش کیجئے گا اور ساتھ ترجمہ بھی تاکہ کوئی بات مبہم نہ رہے۔

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  8. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    785
    ناصر بھائی میں آپ سے بحث تو نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر آپ کو مناسب معلوم ہوتو میرے ایک دو سوالات کا جواب عنایت فرمادیں۔
    میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے یہاں جس مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے اس کا کوئی معیار بھی ہے یا نہیں؟؟؟ اگر ہے تو کیا ہے؟! اور اگر کوئی معیار نہیں تو کیوں؟!

    زرا ایک سرسری سی نظر امام ابوحنیفہ کے معیار اور قابلیت پر ڈالتے ہیں۔

    ۱۔ امام ابوحنیفہ کی نسبت کہا گیا ہے کہ انہیں سترہ حدیثیں پہنچی ہیں (تاریخ ابن خلدون)
    ۲۔ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ حدیث میں یتیم تھے (قیام اللیل)
    ۳۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ابوحنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں: نہ ان کی رائے کام کی ہے نہ حدیث (مناقب شافعی للرازی)
    ۴۔ خود اپنی رائے کے بارے میں ابوحنیفہ کہتے ہیں: اے یعقوب(ابویوسف) تیری خرابی ہو، میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہےاور کل بدل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہےتو پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔(تاریخ یحیی بن معین، تاریخ بغداد)
    ۵۔ تاریخ ابن خلکان جلد۲ صفحہ ۲۹۶ میں ابوحنیفہ کے بارے میں لکھا ہے: ان کی زات میں سوائے عربیت کی کمی کےکوئی عیب نہ تھا۔

    اب میں ناصر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہی وہ امام ہیں جن کی تقلید کی طرف آپ لوگوں کو دن رات بلاتے ہیں؟ کیا کسی امام کا یہی معیار ہوتا ہے؟؟؟
    سچی بات یہ ہے جس امام میں یہ خصوصیات ہوں وہ خود اس بات کا مستحق ہے کہ کسی مجتہد کی تقلید کرے۔ نجانے کیوں حنفی مقلدین نے تعصب اور ضد میں ہر معیار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ابوحنیفہ کو امام کی مسند پر بٹھادیا ہے۔ اور ان کو وہ لقب دیا ہے جس کے وہ حق دار ہی نہیں تھے بلکہ اس لقب (امام اعظم) کے حقیقی حقدار تو ہمارے پیارے رسول ﷺ ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. محمد فیصل

    محمد فیصل -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 20, 2007
    پیغامات:
    73
    السلام و علیکم،

    ۱: ناصر نعمان بھائی، آپ نے اپنی وضاحت میں مختلف حوالہ جات کے بعد بطور نتیجہ لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معذرت کے ساتھ میں سمجھ نہیں سکا کہ آپ اس نکتہ پر مجھ سے کس چیز کا اختلاف کر رہے ہیں، کیونکہ اپنی پچھلی پوسٹ میں میں نے بھی یہی تحریر کیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکی اور میری یہ دونوں تحریریں شاہد ہیں آپ اور ہم متفق ہیں کہ بنیادی مسائل کے احکامات کا علم ہونا ہر عامی کے لئے بھی ضروری ہے، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی مثال دی تھی کہ مسئلہ احکامات کے "دلائل" جاننے کا ہے۔ میں نے لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور اسی نکتہ پر بطور نتیجہ یہ بھی لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ"دلیل کو یاد کرلینا اور بات ہے "۔ جبکہ احکامات جاننے سے مراد میں نے اُن(احکامات) کی دلیل کو زبانی یاد کر لینا لیا ہی نہیں، بلکہ درحقیقت صرف احکامات جاننے سے دلیل کا علم ہونا بھی لازم نہیں آتا ، زبانی طور پر دلیل کو یاد کرنا تو پھر دور کی بات ہے۔

    ۲: میں نے ایک دوسرا نکتہ تحریر کیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ نے لکھا کہ اس نکتے کا تعلق بھی پہلے نکتے کہ ساتھ ہی ہے، جبکہ درحقیقت پہلے نکتے کے حل سے تو صرف یہ معلوم ہوگا کہ آیا علامہ صاحب نے دونوں جگہ تقلید کا لفظ ایک ہی معنوں میں استعمال کیا ہے یا نہیں، اثبات کی صورت میں دوصورتیں پیدا ہوں گی، دونوں جگہوں پر تقلید کا معنی لغوی ہے، یا دونوں جگہوں پر تقلید کے معنی اصطلاحی ہے ۔ اور نفی کی صورت میں بھی دوصورتیں پیدا ہوں گی کہ یا تو پہلی جگہ پر تقلید کا معنی اصطلاحی اور دوسری جگہ پر لغوی ہے ،یا اسی کے الٹ۔

    اب ان دو صورتوں میں سے کسی ایک کو متعین کرنے کٕے لٕےاس نکتے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔کیونکہ اس نکتے سے تو اس بات کا علم ہوگا کہ جہاں تقلید کا اثبات ہے وہاں معنی لغوی ہیں یا اصطلاحی،پہلے اور دوسرے نکتے میں فرق ہے۔ اس کے علاوہ اس نکتے کا حل پہلے نکتے پر منحصر بھی نہیں۔

    باقی اب ابو طلحہ بھائی کی جگہ ابن داؤد بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اس نکتے پر مجھ سے مزید بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مجھے بتا دیں، فورم تبدیل کر لیتے ہیں۔ بصورت دیگر مختلف لوگوں سے ایک وقت ایک ہی تھریڈ میں بحث میرے خیال سے مناسب نہیں اور اسطرح بات کچھ بھی سمجھ نہ آئے گی اور ایک ہی فورم پر ایک ہی موضوع پر ایک ہی وقت میں دو تھریڈز بھی شاید مناسب نہیں۔ نیز شاہد نذیر بھائی کو میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی علمیت کے بارے میں بات کرنے کے متمنی ہیں تو ایک الگ تھریڈ شروع کر دیں کیونکہ تقلید کے تھریڈ میں اسطرح ایک نئی بحث شروع ہو جائے گی جو کسی طرح بھی درست نہیں، امید ہے بات سمجھنے کی کوشش کریں گے، شکریہ۔

    والسلام
     
  10. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
    ناصر نعمان صاحب! فورم تو یہی ہے یعنی اردو مجلس، آپ کی پیشکش اور خواہش دونوں اسی فورم اور اسی تھریڈ میں ہے۔ آپ کو دوسرا تھریڈ قائم کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ فیصل بھائی ان شاء اللہ اپنی گفتگو کو مؤخر کر دیں گے۔ میں اسی تھریڈ میں گفتگو کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہوں تاکہ جو گفتگو اب تک اس تھریڈ میں ہوئی ہےاس کی بنیاد کا اندازہ بھی قارئین کو ہو سکے، کہ آخر کس وجہ سے ایک دوسرے کی بات سمجھ نہیں آرہی!!آپ پھر بھی ایک علیحدہ تھریڈ قائم کرنا چاھتے ہوں تو اسی عنوان کے ساتھ گفتگو مابین ناصر نعمان و ابن داود کا اضافہ کر دیں یعنی اس عنوان سے:
    کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟ گفتگو ما بین ناصر نعمان و ابن داود
    ناصر نعمان صاحب ! آپ کو اختیار ہے جو آپ مناسب سمجھیں!!


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  11. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    ناصر نعمان صاحب کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے مجھ سے بھی ان نکات پر گفتگو کرسکتے ہیں بس شرط صرف اتنی ہے کہ غیرمقلدانہ استدلال نہ ہو کہ مستند ہے میرافرمایا ہوا۔علم اورتحقیق کے ساتھ باتیں ہوں۔
     
  12. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب! غالبا شاہد نذیر بھائی آپ کی مقلدانہ کج فہمی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتے۔ خیر اس کی وضاحت تو وہ کر دیں گے۔ آپ تقلید کے حوالے سے ہی جس بحث کو ادھورا چھوڑ آئیں ہیں اس کی فکر کریں۔ رفیق طاہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تھریڈ میں آپ کی تحقیق کا منتظر میں بھی ہوں!!۔ آپ ویسے ہی قلت وقت کا دکھڑا سناتے ہیں۔ اس تھریڈ کو ناصر نعمان نے قائم کیا ہے، یہاں انہیں ہی اپنا مدعا بیان کرنے دیں۔ ان شاءاللہ!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  13. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    تعجب ہے کہ جن صاحب سے یعنی ابوطلحہ سلفی صاحب سے گفتگو ہورہی تھی وہ تو از قبیل غائب اورآپ واحد حاضر کے ساتھ واحد متکلم بننے کی کوشش میں ہیں اورجہاں ناصرنعمان صاحب نے دوسروں کو صرف کمنٹ یاتبصرہ کرنے کیلئے کہاتھاوہاں شاہد نذیر صاحب نے دخل دراندازی اورموضوع سے بالکل الگ ہٹ کر بات کرنے کی کوشش کی ہے اور مدعی سست گواہ چست کی مثال بنتے ہوئے آپ نے شاہد نذیر کی جانب سے ترجمانی کی خواہ مخواہ کوشش کی ہے ہم اس کو کیانام دیں۔ غیرمقلدانہ علم کلام یاکچھ اور
     
  14. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
    الطحاوی صاحب! آپ نے پھر مراقبہ کی حالت میں پڑھنے لکھنے کا شوق فرمایا ہے!! ذرا حالت مراقبہ سے باہر آ کر اس مراسلہ کا مطالعہ فرمائیں!!
    URDU MAJLIS FORUM - تنہا پوسٹ دیکھیں - کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟
    آپ ناصر نعمان صاحب کے اس تھریڈ کو اپنی ماتم گاہ نہ بنائیں ، وہ علمی گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں !!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 9, 2010
  15. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    وہی بات توہم کہناچاہ رہے ہیں ابن دائود صاحب کہ غیرمقلدانہ استدلال جو جہالت پر مبنی ہوتاہے اس کو چھور کر ذرا عقل وفہم کو کام میں لائیں ۔میں بفضل خدا پورادیکھ چکاہوں اوریہ بھی دیکھ رہاہوں کہ جواصل صاحب ہیں وہ تو واحد غائب ہیں اورطفیلی حضرات واحد حاضر بن کر جمع متکلم بننے کی کوشش میں‌لگے ہوئے ہیں۔لہذاکوئی وجہ نہیں کہ شاہد نذیر کے اوٹ پٹانگ اورجاہلانہ بلکہ غیرمقلدانہ سوال کی اگرگنجائش نکلتی ہے توپھر میری گنجائش کیوں‌نہیں نکل سکتی ۔
     
  16. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    الطحاوی صاحب! ناصر نعمان صاحب کی علمی گفتگو کی خواہش کے مدنظر آپ کی ہفوات کو درگذر کرتا ہوں!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  17. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ !
    سب سے پہلے تو ابو داود بھائی آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہماری پیشکش قوبل فرمائی اور ہماری خواہش کے مطابق ایک ایک نقطہ پر علیحدہ علیحدہ بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی

    ابو داود بھائی ایک دو نقطہ ہم اور بھی پیش کئے تھے اگر آپ ان نکات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ہم سے بات چیت کریں گے تو زیادہ بہتر ہوگا
    جیسا کہ ہم نے اپنی درخواست میں لکھا تھا کہ ’’کوئی بھی اعتدال پسند بھائی اسی پوائنٹ سے بات چیت کا خواہشمند ہو تو ضرور کرسکتا ہے‘‘

    اس سے مراد ہماری یہ تھی کہ اگر کوئی بھائی مثبت نظر سے اپنے نظریات کو سوچتا سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے ۔۔۔۔ تو اس کے دل میں اتنی گنجائش بھی ہونی چاہیے کہ وہ مخالفین کے نظریات پر بھی اسی مثبت نظر سے دیکھتے ہوئے اس پر غور کرے اُس کے بعد جہاں مخالفین کی غلطی نظر آئے اُس کی نشاندہی کرے ۔۔۔۔ اور جب مخالفین اُس کی وضاحت کریں بجائے اُس پر اصرار کرنے کے تو اُس کی وضاحت پر بھی غور فرمائیں اس کے بعد بھی اگر آپ کو مخالفین کے سمجھنے میں غلطی نظر آتی ہے تو پھر اس کی نشاندہی فرمائی۔

    نیز جیسا کہ ہم نے اپنی پہلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں ۔۔۔۔اور ہر مسلمان کا ہر نیک عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتا ہے ۔۔
    اس لئے اس بات چیت کو ”مقلدین اور غیر مقلدین کے درمیان جنگ(جس میں صرف مخالفین کو نیچا دکھانا مقصود ہو) “ سمجھ کر نہیں بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی کو سامنے رکھتے ہوئے کریں گے ۔
    جہاں جس کی بات قابل غور و فکر ہو اس کو کھلے دل سے تسلیم کریں گے ۔‘‘
    یہ بات ہم نے اس لئے بھی دہرائی کیوں کہ آپ کی ایک بات پر ہمیں جانبداری محسوس ہوئی۔
    جیسا کہ آپ نے فرمایا :

    یہاں تک تو آپ کی بات ٹھیک تھی ۔۔۔۔ لیکن اس کے بعد آپ نے فرمایا :
    آپ کی اس بات سے کیا مطلب لیا جائے ؟؟؟
    بالفرض آپ کا کہنا ہے کہ علماء احناف سابقین نے جو تقلید کی تشریح کی ہے وہ درست نہیں۔۔۔۔۔ جس پر آپ کو اعتراض ہے
    لیکن جب علماء متاخرین اس تشریح کی وضاحت کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔ تو پھر آپ کو کس بات پر اعتراض ہے ؟
    کیا آپ کے نزدیک علماء دیو بند کی کی ہوئی تشریح سے آپ کا تقلید پر اعتراض دور ہوجاتا ہے ؟ یا اس کے بعد بھی آپ کو اس تشریح پر اعتراض رہتا ہے ؟
    اگر تو آپ کا اعتراض دور ہوجاتا ہے تب تو آپ کو اپنی طرف سے یوں ہی تسلیم کرلینا چاہیے کہ مقلدین کی ’’تقلید‘“ کی تعریف کرنے میں جو اعتراض تھا وہ دور ہوگیا ؟
    پھر آپ کا یہ اصرار کرنے کا کیا فائدہ ہے کہ ’’آپ نے سابقین مقلدین علماء کی فلاں تعریف کو لے کر ہی بات چیت کرنی ہے ؟
    کیوں کہ ہم جسیے عامی کو آپ کے اصرار پر یہ ہی بات سمجھ آتی ہے کہ آپ کا مقصد بحث برائے اصلاح نہیں بلکہ مقلدین کو ہرانا اور چت کرنا ہے ۔۔۔۔۔ اور آپ کا یہ مقصد اُسی وقت پوارا ہوسکتا ہے جب ’’تقلید ‘‘ کی فلاں تعریف پیش کی جائے ؟؟؟
    اور اگر واقعی آپ کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مقلدین کی غلط فہمیاں دور کرنا ہے تو اتنی معمولی بات تو آپ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ پھر آپ کو تعریف پر اصرار کرنے کے بجائے اپنے اعتراضات کو پیش فرمانا چاہیے ؟؟؟

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین 
     
  18. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    الحمدللہ!
    اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین!!
    ناصر نعمان صاحب! اس کا مطلب صریح الفاظ میں پہلے ہی بیان کر دیا ہے کہ تشریح "خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد" کو نہیں کہا جاتا۔
    نہیں ہمارا اعتراض دہرا ہو جاتا ہے!!
    ناصر نعمان صاحب! تقلید کی تعریف بیان سے قبل ہی "اگر مگر" کے تخیلات سے بحث الجھ جائے گی۔ آپ تعریف بیان کر دیں ۔ اس تشریحات کا مقبول ہونا یا مردود ہونا بھی واضح ہو جائےگا۔
    وہ اس لیئے کہ مقلدین احناف کا وجود دارلعلوم دیوبند سے کئی صدیوں پہلے سے ہے۔ اور اس سے قبل کے کے فقہا ء احناف تقلید کی تعریف فقہ حنفیہ کی کتب میں متعین کر چکےہیں۔ اور فقہ حنفیہ میں وہ ہی معتبر ہیں۔ اس کے بعد مسلک دیوبند کی شروحات اسی صورت مقبول ہیں جو حقیقتا شروحات کی نوع سے ہوں ۔ اور اگر ان شروحات سے فقہ حنفیہ کی پہلے سے متعین تعریف کی نفی و ابطال یا تضاد ثابت ہو تو وہ شروحات مردود ہیں۔
    آپ کو ہرانے، چت کرنے کا گمان اس لیئے ہو رہا ہے کہ آپ عامیانہ طرز سے سوچ رہے ہیں، اگر علمی طرز سے سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کسی اصطلاح کی تعریف کا تعین متاخرین کی شروحات سے نہیں کیا جاتا، بلکہ متقدمین کے بیان سے جب سے یہ اصطلاح رائج ہوئی ہو!! ان شاءاللہ آپ کی اس معاملہ میں اصلاح ہو گئی ہو گی۔ اسی بات سے اندازہ کر لیں کہ اصلاح ہماری گفتگو کا خاصہ ہے۔ الحمدللہ!!
    ناصر نعمان بھائی!! تعریف تو بیان ہو جائے اعتراض تو بعد میں نقل کیا جائے گا۔ یہ تو الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے کہ پہلے اعتراض پیش کر دیں اور جس پر اعتراض وارد ہوں اس کا تذکرہ بعد میں آئے!!

    آمین!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  19. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
    ناصر نعمان بھائی ! ہماری گفتگو جنگ کی صورت اختیار نہ کرے اس لئے ہم دونوں نے اپنی اپنی تحریر میں الفاظ کے انتخاب و استعمال کا خیال کرنا ہوگا۔ اور ہم دونوں کا دعوی اہل السنۃ والجماعۃ ہونے کا ہے، آپ خود کو "مقلدین "احناف کہلواتے ہیں، اور ہم خود کو "اہل الحدیث "کہلواتے ہیں۔ لہذا آپ ہمیں اہل الحدیث سے ہی تعبیر کریں۔ یہ غیر کا صیغہ لغت کے اعتبار سے بھی درست نہیں!! ان شاءللہ آپ اس معاملہ میں اپنی اصلاح فرما لیں گے!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  20. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ !
    جیسا کہ آپ کا فرمانا ہے :
    کسی اصطلاح کی تعریف کا تعین متاخرین کی شروحات سے نہیں کیا جاتا، بلکہ متقدمین کے بیان سے جب سے یہ اصطلاح رائج ہوئی ہو
    ابو داود بھائی یہ تو سوچیں کہ جب کوئی اس اصطلاح پر اعتراض کرتا ہو
    تو علماء احناف مقدمین تو کتابوں سے نکل کر جواب دینے یا تشریح کرنے کے لئے باہر نہیں آسکتے
    اس لئے علماء سابقین کے کسی بھی قول پر اعتراض کی وضاحت یا تشریح علماء متاخرین ہی فرما سکتے ہیں
    آپ کے خیال میں اور کون وضاحت فرمائے گا ؟
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 10, 2010
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں