کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟

ناصر نعمان نے 'نقطۂ نظر' میں ‏دسمبر 1, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابو دواد بھائی عبارتوں کو علیحدہ علیحدہ کرکے جواب دینے کے بجائے پوری عبارت کے مفہوم اور مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جواب فرمائیں
    کیوں کہ علیحدہ علیحدہ عبارت کرنے سے مفہوم تبدیل ہوجاتا ہے
    امید ہے کہ آپ خیال رکھیں گے
     
  2. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    اس بات کی وضاحت پہلے ہی کر دی ہے، دوبارہ پیش کرتا ہوں!!
    ناصر نعمان بھائی آپ متاخرین احناف کی ہی نہیں ، بلکہ آپ کی اپنی شروحات بھی بصد شوق بیان کیجئے گا مگر بس اس بات کا خیال رکھ کر کے "خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد" والا معاملہ نہ ہو۔ اور تعریف متقدمین فقہاء احناف کی!!
    ناصر نعمان بھائی! اب آپ تقلید کی تعریف نقل کر کے گفتگو کا آغاز کریں!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  3. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
    ناصر نعمان بھائی ، ہم بھی اہل زبان ہیں ، مفہوم سمجھنے اور سمجھانے سے آگاہی ہے۔ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ ان شاءاللہ!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  4. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابو داود بھائی علماء احناف کی طرف سے کی گئی تقلید کی تعریف ہی ہماری طرف سے جواب ہے

    لیکن ہم ابو طلحہ بھائی سے کیا ہوا سوال دہرائیں گے کہ
    کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کے مقلدین حضرات غیر منصوص علیھا مسائل اور منصوصہ (بظاہر) متعارض فیھا مسائل میں تقلید کے قائل ہیں ؟
     
  5. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    ناصر نعمان صاحب! اس طرح تو تقلید کی تعریف میں ہی ابہام رہے گا، پھر مزید تقلید پر گفتگو میں ابہام در ابہام چلتے رہے گا اور بات مبہم سے مبہم تر ہوتی ہی چلی جائے گی۔ آپ تقلید کی تعریف بیان کر دیں ۔ تا کہ گفتگو کا آغاز کیا جا سکے!!

    میرے بھائی! یہ بات بھی تقلید کی تعریف کے بعد ہی زیر گفتگو آئے گی۔ ان شاء اللہ ! یکے بعد دیگر!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  6. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابو طلحہ بھائی نے اپنی شروع کی پوسٹ میں تقلید کی کچھ تعریفیں پیش کی ہے وہیں ملاحظہ فرمالیں
     
  7. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    تقلید کی لغوی تعریف


    دیوبندیوں کی لغت کی مستند کتاب ”القاموس الوحید“ میں لکھا ہے:

    1:- قلّد۔۔فلاناً: تقلید کرنا،بنادلیل پیروی کرنا،آنکھ بن کر کے کسی کے پیچھے چلنا (القاموس الوحید:1346)
    2:-التقلید:بے سوچے سمجھے یا بنادلیل پیروی،نقل،سپردگی (القاموس الوحید:1346)

    3:-امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "اما التقلید فاصلہ فی الغة ماخوزمن القلادہ التی یقلد غیربہاومنہ تقلیدالہدی فکان المقلد جعل زلک الحکم الذی قلد فیہ المجتھد کالقلادة فی عنق من قلدہ۔
    "یعنی تقلیدلغت میں گلے میں ڈالے جانے والے پٹے سے ماخوز ہے اور وقف شدہ حیوانات کے گلے میں طوق ڈالنا بھی اسی میں سے ہے، تقلید کو تقلید اس لئے کہتے ہیں کہ اسمیں مقلد جس حکم میں مجتہد کی تقلید کرتا ہے، وہ حکم اپنے گلے میں طوق کی طرح ڈالتا ہے۔"(ارشاد الفحول ص:۱۴۴)

    4:- اسی طرح غیاث الغات میں تقلید کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

    ”گردن بنددرگردن انداختن وکار بعھد کسی ساختن وبر گردن خود کار بگرفتن و مجاز بمعنی پیروی کسی بے در یافت حقیقت آن“
    یعنی تقلید گلے میں رسی ڈالنے یا کسی کے زمےکوئی کام لگانے کا نام ہے۔اسی طرح اپنے زمہ کوئی کام لینابھی تقلید کہلاتا ہے ، اس کے مجازی معنیٰ یہ ہیں کی حقیقت معلوم کیے بغیرکسی کی تا بعداری کی جائے۔ (غیاث الغات ص:۳۰۱)

    تقلید کی اصطلاحی تعریف

    1:-حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“میں لکھا ہے:

    ”التقلید: العمل بقول الغیرمن غیر حجةکا خذ العامی والمجتھد من مثلہ، فا لرجوع الی النبی علیہ الصلاٰة والسلام او الی ا الجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لا یجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد، قال الامام: وعلیہ معضم الاصولین“ الخ
    تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر (قرآن و حدیث کی) دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (کم علم شخص) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق)ہیں“۔ الخ
    (مسلم الثبوت ص:289طبع 1316ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص400)


    2:-امام ابن ہمام حنفی (متوفی۱۶۸ھ) نے لکھا ہے:
    ”مسالة:التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الحجج بلا حجة منھا فلیس الرجوع النبی علیہ الصلاة والسلام واالاجماع منہ“
    مسئلہ:تقلید اس شخص کے قول پر بغیر دلیل عمل کو کہتے ہیں جس کا قول (چار) دلائل میں سے نہیں ہے۔پس نبی علیہ الصلاةوالسلام اوراجماع کی طرف رجوع تقلید میں سے نہیں ہے۔ (تحریر ابنِ ہمام فی علم الاصول جلد 3 ص453)

    نوٹ : بلکل یہی تعریف ابنِ امیر الحجاج الحنفی نے کتاب التقریروالتحبیرفی علم الاصول ج ۳ص ۳۵۴،۴۵۴ اور قاضی محمد اعلیٰ تھانوی حنفی نے کشاف الاصطلاحات الفنون ج ۲ص۸۷۱۱ میں بیان کی ہے کہ نبی علیہ الصلاةوالسلام اور اجما ع کی طرف رجو ع کرنا تقلید نہیں (کیونکہ اسے دلیل نے واجب کیا ہے)

    3:-تقلید کی ایک اور مشہور اصطلاحی تعریف یہ کی گئی ہے:
    ”ھو عمل بقول الغیر من غیر حجة“
    کسی دوسرے کی بات پر بغیر (قرآن وحدیث کی) دلیل کے عمل کرنا تقلید ہے۔ (ارشاد الفحول ص441، شرح القصیدة الامالیة لملا علی القاری حنفی و تفسیر القرطبی 2112)

    4:-قاری چن محمد دیوبندی نے لکھا ہے:
    ”اور تسلیم القول بلا دلیل یہی تقلید ہے یعنی کسی قول کو بنا دلیل تسلیم کرنا، مان لینا یہی تقلید ہے“ (غیر مقلدین سے چند معروضات ص۱ عرض نمبر ۱)

    5:-مفتی سعید احمد پالن پوری دیوبندی نے لکھا ہے:
    کیونکہ تقلید کسی کا قول اس کی دلیل جانے بغیر لینے کا نام ہے۔ (آپ فتویٰ کیسے دیں گے؟ ص۶۷)

    6:-اشرف علی تھانوی کے ملفوضات میں لکھا ہے:
    ایک صاحب نے عرض کیا تقلید کی حقیقت کیا ہے؟ اور تقلید کسے کہتے ہیں؟ فرمایا : تقلید کہتے ہیں: ”اُمتی کا قول بنا دلیل ماننا“ عرض کیا کہ کیا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا بھی تقلید ہے؟ فرمایا اللہ اور رسول علیہ الصلاةوالسلام کی بات ماننا تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے۔ (الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ملفوضات حکیم الامت ج۳ص۹۵۱ ملفوض:۸۲۲)
     
  8. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    ناصر نعمان !
    لغوی تعریف ہمارا موضوع بحث نہیں۔ اصطلاحی تعریف کے متعلق بتلائیں کہ آپ ان تعریفات و شروحات سے متفق ہیں؟

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  9. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    جی جناب ہم نے پہلے بھی عرض کی کہ ہمیں علماء احناف کی طرف سے پیش کی گئی تقلید کی تعرئف پر اعتراض نہیں
    مگر نہ جانے آپ کی کیا خواہشات ہیں ہمیں سمجھ نہیں آرہی
    میرے بھائی یہ عدالتی کاروائی نہیں جس میں آپ ہم سے حلفیہ اقرار لے کر کیس لڑنا چاہتے ہیں
    اگر کوئی بات قابل وضاحت ہوئی تو اُسی وقت وضاحت کردی جائے گی
    از راہ کرام بات کو آگے بڑھائیں
    شکریہ
     
  10. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    ناصر نعمان صاحب! یہ تعریفات و شروحات لکھنے سے قبل آپ نے اس تحریر کو ابو طلحہ بھائی کی طرف منسوب کیا تھا۔ تو اس کی وضاحت ضروری تھی تا کہ بات مبہم نہ رہے!!
    میرے بھائی ! علمی گفتگو میں ہر نکتہ اور پہلو کو مد نظر رکھا جاتا ہے، اورمؤقف سمجھنے سمجھانے کے لئے ابہام کا ازالہ ضروری ہوتا ہے!!

    ناصر نعمان بھائی! اب آپ تقلید کے شرعی حکم کا تعین کر کے اس پر شرعی دلیل قائم کر دیں۔ جزاک اللہ!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 11, 2010
  11. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    اس سے پہلے آپ یہ وضاحت فرمادیں کہ کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کے مقلدین حضرات غیر منصوص علیھا مسائل اور منصوصہ (بظاہر) متعارض فیھا مسائل میں تقلید کے قائل ہیں ؟
    کیوں کہ بات آگے لے کر چلنے سے پہلے اس نقطہ کی وضاحت ضروری ہے تاکہ آگے کی بات چیت میں ہمارے سامنے یہ بات پیش نظر رہے کہ ہم کس چیز پر تقلید کی بات کررہے ہیں ؟
    (نیز آپ اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ ہم ایک عامی کے نقطہ نگاہ سے مسئلہ سمجھنے کے تناظر میں بات کررہے ییں کسی روایتی مناظرے کے طرز پر نہیں(
     
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 11, 2010
  12. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ!
    جی ہمیں علم ہے کہ مقلدین احناف غیر منصوص علیھا مسائل اور منصوصہ (بظاہر) متعارض فیھا مسائل میں تقلید کے قائل ہیں !!
    ہم ہر اس "چیز" پر بات کر رہے ہیں جو بیان شدہ تقلید کی تعریف میں داخل ہے۔ اسی لیئے تقلید کی تعریف کا تعین ضروری تھا ،اور تقلید کی تعریف علماء مقلدین احناف کے قلم سے آپ نے خود پیش کردی ہے۔
    فیصل نعمان بھائی ! آپ کا سوال کا جواب میں نے دے دیا ہے، مگر آپ کا سوال جامع نہیں۔ لیکن میں آپ کا مقصد سمجھ رہا ہوں کہ آپ اس بات کے مدعی ہیں کہ مقلدین احناف صرف غیر منصوص علیھا مسائل اور منصوصہ (بظاہر) متعارض فیھا مسائل میں تقلید کے قائل ہیں۔
    تو جناب! ہم مقلدین احناف کے اس دعوی سے واقف ہیں ، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ مقلدین احناف کا یہ دعوی باطل ہے۔ اس پر بھی گفتگو ہو گی ۔ ان شاء اللہ !لیکن یکے بعد دیگر!!
    فیصل نعمانی بھائی! عامی نقطہ نگاہ سے شرعی مسائل کو نہیں سمجھا جاتا، شرعی مسائل کو سمجھنے کے لیئے علمی نقطہ نگاہ درکار ہے۔ لہذا ہم علمی گفتگو ہی کریں گے!! ان شاءاللہ!!
    اور ہماری گفتگو روایتی مناظرے کے طرز پر نہ اس وقت ہے اور نہ ان شاءاللہ ہو گی!!
    ناصر نعمان بھائی! اب آپ تقلید کے شرعی حکم کا تعین کر کے اس پر شرعی دلیل قائم کر دیں۔ جزاک اللہ!!


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  13. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ہم آپ کی دوسری بات کا بھی جواب دیتے ہیں لیکن ہم ایک اہم بات یہ سمجھنا چاہیں گے کہ اگر عامی نقطہ نگاہ سے ’’تقلید‘‘ جیسے مسئلہ کو نہیں سمجھا جاسکتا
    تو پھر آپ کے نزدیک کیا شریعت عامی کو ایک ایسی چیز (تقلید(کرنے یا نہ کرنے کےفیصلہ کرنے کا مکلف ٹہراتی ہے جس کو وہ سمجھ ہی نہ سکیں ؟؟؟
    آپ حضرات تقلید کو شرک و بدعت کہتے ہیں
    تو پھر آپ کے نزدیک کیا عامی مقلدین حضرات پر ایسے مسئلہ پرعمل کرنے کرنے سے شرک و بدعت کا فتوی لگ سکتا ہے کہ جس مسئلہ کو وہ سمجھ ہی نہ سکیں ؟؟؟
    (نوٹ یہ ایک انتہائی ضروری سوال ہے کہ جس سے پہلے یہ تعین ہوجائے کہ یہ مسئلہ سمجھنا عامی کے لئے کتنا اور کس حد تک ضروری ہے ؟
    (اگر ہمارے سمجھنے میں کہیں غلطی ہے تو نشاندہی کی درخواست ہے۔جزاک اللہ
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 11, 2010
  14. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    ناصر نعمان بھائی! آپ کا یہ اشکال انشاءاللہ تقلید پر دلائل کی بحث رفع ہو جائے گا۔ آپ پہلے تقلید کے شرعی حکم کا تعین کر کے اس پر شرعی دلیل قائم کر دیں۔ آپ دلیل بیان کرنے سے قبل ہی اشکالات کی بحث شروع کرنے لگے ہیں!!
    اب یہ دیکھیں! ابھی تو آپ نے تقلید کا نہ شرعی حکم بیان کیا ہے نہ اس پر کوئی شرعی دلیل اور اس کے رد پر اشکالات کا اظہار کردیا!!
    ناصر نعمان صاحب! ہم تقلید کو کیا کہتے ہیں اور کن دلائل کی بنیاد پر کہتے ہیں یہ تمام باتیں زیر بحث آئیں گی مگر اپنے محل پر۔ یکے بعد دیگرے، ایک ایک کرکے!!
    ناصر نعمان بھائی! سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ تقلید کے شرعی حکم کا شرعی دلائل کی روشنی میں تعین کیا جائے۔ لیکن یہ سب سے آخر میں دلائل پر بحث کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
    اسی طرح آپ کے سوال بھی اہم ہے مگر اس کا محمل بعد میں ہے!!


    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  15. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ​
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

    ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ الخ النساء59
    ترجمہ :اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کرو اور اپنے آپ میں سے اولوالامر کی اطاعت کرو)النساء59
    اولوالامر کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ اس سے مراد مسلمان حکام ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے فقہاءمراد ہیں ۔۔۔ یہ دوسری تفسیر حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (ابن جریر ج 5 ص 88)،حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت عطاءبن ابی رباح رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت عطاءبن السائب رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ،حضرت ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ اور بہت سے دوسرے مفسرین سے منقول ہے ۔۔۔اور امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے اسی تفسیر کو متعدد دلائل کے ذریعہ ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے ” اس آیت میں لفظ اولوالامر سے مراد علماءلینا اولیٰ ہے “(تفسیر کبیر ج 3 ص 334)
    اور امام ابو بکر جصاص فرماتے ہیں کہ دونوں تفسیروں میں کوئی تعارض نہیں بلکہ دونوں مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ حکام کی اطاعت سیاسی معاملات میں کی جائے اور علماءو فقہاءکی مسائل شریعت کے باب میں (احکام القرآن للجصاص ج 2 ص 256”باب فی طاعة اولی الامر“)
    اور علامہ ابن القیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امراءکی اطاعت کا نتیجہ بھی بالآخر علماءہی کی اطاعت ہے کیوں کہ امراءبھی شرعی معاملات میں علماءکی اطاعت کے پابند ہیں ”فطاعة الامراءتبع لطاعة العلمائ“ (اعلام الموقعین لابن القیم ج 1 ص 7)
    بہرحال اس تفسیر کے مطابق آیت میں مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں ،اور اُن علماءو فقہاءکی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے کلام کے شارح ہیں “اسی اطاعت کا اصطلاحی نام ”تقلید“ ہے ۔اس آیت کا اگلا جملہ جس میں ارشاد ہے :
    فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ الخ
    ترجمہ : پس اگر کسی معاملے میں تمہارا باہم اختلاف ہوجائے تو اس معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو اگر اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو“
    یہ اس تفسیر کے مطابق جملہ ہے ،جس میں مجتہدین کو خطاب کیا گیا ہے ۔۔۔۔چناچہ امام ابوبکر جصاص رحمتہ اللہ علیہ ”اولوالامر “ کی تفسیر ” علماء“ سے کرنے کی تائید میں لکھتے ہیں
    ”اور اولوالامر کی اطاعت کا حکم دینے کے فورا بعد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو “اس بات کی دلیل ہے کہ ”اولوالامر“ سے مراد فقہاءہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو اُن کی اطاعت کا حکم دیا ،پھر ”فان تنازعتم الخ “ فرماکر ”اولوالامر “ کو حکم دیا کہ جس معاملے میں اُن کے درمیان اختلاف ہو ا سے اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف لوٹا دو ،یہ حکم فقہاءہی کو ہوسکتا ہے کیوں کہ عوام الناس اور غیر اہل علم کا یہ مقام نہیں ہے ،اس لئے کہ وہ اس بات سے واقف ہونے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور سنت کی طرف کسی معاملے کو لوٹانے کا کیا طریقہ ہے ؟اور نہ انہیں نت نئے مسائل مستنبط کرنے کے لئے دلائل کے طریقوں کا علم ہوتا ہے لہٰذا ثابت ہوگیا کہ یہ خطاب علماءکو ہے “( احکام القرآن ج 2ص 257)
    اور یہی علامہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر میں اعتراف فرمایا ہے کہ ”فان تنازعتم “ کا خطاب مجتہدین کو ہے ۔۔چناچہ فرماتے ہیں کہ ”اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مستقل خطاب ہے جس میں روئے سخن مجتہدین کی طرف ہے “( تفسیر فتح البیان ج 2ص 308)
    اس تفصیل میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلے جملہ میں خطاب اُن لوگوں کو ہے جو قرآن وسنت سے براہ راست احکام مستنبط نہیں کرسکتے ،او ر اُن کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں ،جس کا طریقہ یہ ہے کہ ”اولوالامر“ یعنی فقہاءسے مسائل پوچھیں ،اور اُن پر عمل کریں ،دوسرے جملہ میں خطاب مجتہدین کو ہے کہ وہ تنازعہ کے موقعہ پر کتاب اللہ اور سنت رسو ل صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا کریں اور اپنی اجتہادی بصیرت کوکام میں لاکر قرآن اور سنت سے احکام کو نکالا کریں ،لہٰذا پہلے جملے میں عام مسلمانوں کو ”تقلید “کا حکم ہے ،اور دوسرے جملہ میں مجتہدین کو اجتہاد کا ۔

     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 12, 2010
  16. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جزاک اللہ ناصر نعمان بھائی! آپ تقلید کا شرعی حکم بتلانا شاید بھول گئے ہی:
    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  17. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    ابن داود بھائی آپ نے غور نہیں فرمایا ’’شرعی حکم‘‘ ہماری تفصیل میں‌ موجود ہے۔
    ’’اس تفسیر کے مطابق آیت میں مسلمانوں سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں ،اور اُن علماءو فقہاءکی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے کلام کے شارح ہیں “اسی اطاعت کا اصطلاحی نام ”تقلید“ ہے ۔

    اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ الخ (النساء 83(
    ترجمہ : اور جب ان (عوام الناس( کے پاس امن یا خوف کی کوئی بات پہنچتی ہے تو یہ اس کی اشاعت کردیتے ہیں ،اور اگر یہ اس معاملے کو رسول (صلیٰ اللہ علیہ وسلم(یا اپنے اولی الامر کی طرف لوٹادیتے تو ان میں‌سے جو لوگ اس کے استنباط کے اہل ہیں وہ اس کی (حقیقت(کو خوب معلوم کرلیتے
    اس آیت کریمہ میں‌ عوام الناس کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ہر بات ان کے سمجھنے کی نہیں ہوتی لہٰذا جب وہ کسی امن یا خوف کی بات کو سنیں‌ تو جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اوراولی الامر سے اس کی بابت پوچھ لیا کریں ۔پھر جیسا وہ مناسب خیال فرمائیں گے بتلادیں گے ،پھر عوام اس پر عمل کریں
    اگر چہ اس آیت میں امن و خوف کا ذکر ہے اور یہ ایک خاص معاملے میں نازل ہوئی ہے لیکن جیسا کہ اصول تفسیر اور اصول فقہ کا مسلم قاعدہ ہے کہ آیات سے احکام و مسائل مستنبط کرنے کے لئے شان نزول کے خصوصی حالات کے بجائے آیت کے عمومی الفاظ‌ کا اعتبار ہوتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے اصولی ہدایت مل رہی ہے کہ جو لوگ تحقیق و نظر کی صلاحیت نہیں رکھتے اُن کو اہل استنباط کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور وہ اپنی اجتہادی بصیرت کو کام میں‌ لا کر جو راہ عمل متعین کریں اس پر عمل کرنا چاہیے۔۔اسی کا نام تقلید ہے

    اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ الخ (النحل 43 )
    ترجمہ : اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو
    اس آیت میں اصولی ہدایت دے دی گئی ہے کہ جو لوگ علم و فن کے ماہر نہ ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اس علم و فن کے ماہرین سے پوچھ پوچھ کر علم کیا کریں ۔۔۔اور یہی چیز ”تقلید کہلاتی ہے ۔
    باقی اگر ہم اب بھی آپ کی بات کا مفہوم نہ سمجھ پائیں ہوں تو وضاحت کی درخواست ہے ۔جزاک اللہ
     
  18. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ناصر نعمان بھائی! آپ کی تفصیل میں "شرعی حکم" کا تذکرہ بھی نہیں۔ آپ شرعی حکم بتلا دیں کہ تقلید فرض ہے؟ واجب ہے؟ یا کیا؟
    تاکہ آپ کے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیا جائے!!
    مزید ایک التماس کہ اصل عربی عبارت کسی بھی حوالہ کی آئندہ لازمی پیش کریں۔

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 12, 2010
  19. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    دل چسپ ! تقليد كى اس تعريف كے لیے آپ نے كن اہل علم و فن سے استفادہ كيا ہے؟ حوالہ دينا پسند فرمائيں گے؟
    فرض كيے ليتے ہیں : اگر اسی كا نام تقليد ہے تو اہل الحديث اور متبعينِ محدثين بھی ماہرین ہی سے رجوع كرتے ہیں ، ان ہی سے سوال كر كے ان كى اطاعت كرتے ہیں، تو پھر آپ ان كو غير مقلدين كيوں کہتے ہیں؟؟؟
    كوئى تو فرق ہے جس كو چھپانے كى سعى كى جارہی ہے ؟
    معاف كيجيے گا تقليد كى يہ تعريف خود آپ مقلد کے بھائى بند بھی نہیں مانيں گے اور نہ ہی عربى لغت كا فہم ركھنے والا كوئى انسان۔ اگر لفظ تقليد اور اتباع كا محض لغوى تقابل كيا جائے تو ہی بات واضح ہو جاتى ہے ۔ قلد_ تقليد كے معنى اور تبع _ اتباع کے معنى ميں زمين آسمان كا فرق ہے!
    اگر تقليد اتباع ہے تو امام شافعي رحمہ اللہ جيسے فصيح اور قادر الكلام اور عارف باللغة نے ايسا كيوں کہا؟
    [QH]اِذَا قُلْتُ قَوْلاً وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خِلَافَ قَوْلِی فَمَا يَصَحُّ مِنْ حَدِيْثِ النَّبِیِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْلیٰ فَلَا تُقَلِّدُوْنِیْ (عقد الجيد ص54)[/QH]
    جب میں‌کوئی فتویٰ دوں اور حدیث رسول اس کے خلاف ہو تو میرے فتویٰ کو چھوڑ کر حدیث صحیح پر عمل ہو اور میری تقلید نہ کرو۔
    اور اگر تقليد اتباع ہی ہے تو امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے اس قول ميں كيا اتباع سے منع فرمايا گیا ہے؟
    امام احمد رح فرماتے ہیں :
    [QH]لَا تُقَلِّدُوْنِیْ وَلَا تُقَلِّدَنَّ مَالِکاً وَلَا الْاَوْزَاعِیَ وَلَا النَّخْعِیَّ وَلَا غَيْرَهُمْ وَخُذِ الْاَحْکَامَ مِنْ حَيْثُ اَخَذُوا مِنَ الْکِتَابَ وَ السُّنَّةِ (اليواقيت جلد 2 ص96)[/QH]
    نہ میری تقلید کرو اور نہ امام مالک ، اوزاعی ، نخعی اور نہ کسی اور کی بلکہ قرآن اور حدیث سے احکام لو۔
    بشكريہ: تقلید، معنی/تعریف/ابتدا - URDU MAJLIS FORUM
    كيا آپ ان سوالوں كا جواب دينا پسند كريں گے کہ:
    كن اہل اللغة نے تقليد كو اتباع كا مترادف لفظ قرار ديا ہے؟
    قرآن كريم جا بجا لفظ اتباع اور اطاعت كا استعمال كرتا ہے مگر لفظ تقليد قرآن كريم ميں لفظ تقليد ايك مرتبہ بھی مذكور نہیں؟
    صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين ميں سے كسى ايك كا مستند قول دکھائیے جس ميں لفظ اتباع كا مفہوم تقليد ليا گیا ہو؟
    كسى مستند عرب ماہر باللغة مفسر كى تفسير سے كسى ايسے مقام كا حوالہ ديں جہاں اتباع كى تفسير كرتے ہوئے لفظ تقليد كو استعمال كيا گیا ہو؟
    فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ الخ (النحل 43 ) كا جو مطلب آپ نے بيان كيا ہے(تقليد) اسے تفسير بالمأثور سےثابت كيجیے؟ اگر ايسا نہ كر سكيں تو اللہ تعالى سے توبہ كريں۔ خود سے كلام اللہ کے غلط معنى بيان كرنے پر!
    بہتر ہے :۔۔۔۔ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ الخ (النحل 43 )ترجمہ : اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو ۔۔۔ اس آبت پر عمل كيا جائے اور صرف ماہرین ہى كے اقوال سے تقليد كى تعريف كى جائے ۔ ورنہ ہر طلوع ہوتے دن كے ساتھ نئى تعريف متعارف ہو گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    اس آیت سے کیا مراد لیا جائے؟؟؟۔۔۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں