کیا ہمیں تقلید نہیں کرنی چاہیے ؟

ناصر نعمان نے 'نقطۂ نظر' میں ‏دسمبر 1, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابن داود

    ابن داود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2010
    پیغامات:
    278
    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    ناصرنعمان صاحب! آپ اپنی نیت کے اخلاص کا وضیفہ صبح شام فرمائیں!! اللہ آپ کی نیت کو خالص کرے۔ آمین
    اللہ تعالیٰ آپ کو دلائل کو جو ٹھوس اور اٹوٹ ہیں قبول کرنے کی تو فیق دے آمین!

    آپ کے پاس تقلید کے وجوب پر قرآن و حدیث سے کوئی دلیل ہو تو پیش کریں۔
    اگر قرآن و حدیث سے کوئی اور دلیل نہیں ہے تو بتلا دیں!!
    تا کہ "الانصاف "سے پیش کردہ آپ کی قیاسی دلیل کا جواب دیا جائے!! اور اس سے قبل اگر اجماع کی کوئی دلیل ہو تو بہتر رہے گا!!

    ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
    صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ و فن نیست
    ہم اہل حدیث ہیں، دھوکہ نہیں جانتے، صد شکر کہ ہمارے مذہب میں حیلہ اور فنکاری نہیں۔​
     
  2. ناصر نعمان

    ناصر نعمان -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 24, 2009
    پیغامات:
    38
    معاف کیجیے گا حرب بن شداد بھائی ۔۔۔۔ گلے میں تو آپ نے بھی پٹہ ڈالا ہوا ہے ۔۔۔۔ بس آپ کو نظر نہیں آتا۔۔۔۔ دعوے آپ لوگوں کے خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔ لیکن عمل مقلدین سے کچھ ہٹ کرنہیں ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے آپ جذبات میں آکر کچھ لکھنا شروع فرمائیں ۔۔۔۔ جواب دیجییے کہ
    کیا آپ کے نزدیک بھی معتبر بزرگوں میں فروعی مسائل پر فہم دلائل کی وجہ سے اختلاف رہا ہے ؟؟؟
    اور کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ معتبر بزرگوں کے درمیان ایسے اختلافی فروعی مسائل جن میں‌ کوئی قائل ہو یا کوئی منکر ہو لیکن کیا آپ ایسے مسائل میں دونوں فریقین کو حق پر سمجھتے ہیں ؟؟؟
    جس طرح مقلدین مجتہدین سے اجتہاد میں خطا کا احتمال رہتا ہے
    اسی طرح آپ کے مجتہدین سے بھی اجتہاد میں خطاء کا احتمال رہتا ہے
    اور آپ لوگوں کا خصوصی نعرہ تحقیق کا بھی ہے ۔۔۔۔ اور آپ لوگ اپنے قول کے مطابق نہ تو کسی کی اندھا دھند تقلید کرتے ہیں اور نہ کسی کے قول کو گلے میں‌ پٹہ کی طرح ڈال کے رکھتے ہیں
    تو پھر آپ لوگ کیسے ایک مخصوص رائے پر جمع نظر آتے ہیں ؟؟؟
    کیا آپ کے عالم کو اپنی تحقیق کے دوران کسی بھی معتبر بزرگ کا ایسا قول پسند نہیں آتا جو آپ کی جماعت کی مخصوص رائے کے خلاف ہو ؟؟؟
    اگر آتا ہے تو نظریں پیش فرمائیں کہ کن کن مسائل پر آپ کی جماعت میں علیحدہ علیحدہ رائے ہیں ؟؟؟(جس طرح معتبر بزرگوں میں بہت سے معاملات پر علیحدہ علیحدہ رائے رہی ہیں(
    پچھلے سو سالوں میں کتنے ایسے فتاوی جات ہیں جن پر آپ کے علماء نے پچھلے علماء کے قول کے خلاف فتوی دئیے ہیں ؟؟؟
    یا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی جماعت کی طرف سے پیش کئے گئے فتوی جات کے مجموعے خطاء سے پاک ہیں ؟؟؟ اسی لئے صرف انہی مخصوص فتوی پر عمل کرتے ہیں جو آپ کے غیر مقلد علماءکرام کے مطابق ہیں؟؟؟؟
    کہیں ایسا تو نہیں کہ” تحقیق“ کا لفظ صرف نعرے کی حد تک محدود ہے ۔۔۔اور آپ حضرات بھی (مقلدین کی طرح )ایک مخصوص فقہ پر ہی عمل کرتے ہیں ؟(بس فرق صرف اتنا ہے کہ آپ حضرات نے اس فقہ کا کوئی نام نہیں رکھا۔۔۔اور مقلدین نے نام رکھا ہوا ہے ۔۔۔آپ حضرات” تحقیق “کہتے ہوئے بھی ایک مخصوص (بے نام )فقہ اور فتوی جات پر عمل کرتے ہیں جس سے کوئی اختلاف نہیں کرتے۔۔۔۔ اور مقلدین بے چارے کھلے الفاظ میںاپنے امام کی تقلید کا اعلان کرتے ہوئے اپنے امام سے کوئی اختلاف نہیں کرتے )
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 18, 2010
  3. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔۔۔
    نعمان صاحب۔۔۔ میں بہت پیاری سی بات سے اپنی گفتگو پھر سے شروع کرتا ہے اس نیت سے کے ہم دونوں ساتھیوں کی انفرادی محنت سے صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کردیا جائے باقی اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے۔۔۔ نعمان صاحب مسلمان اس مسئلے پر متفق ہیں کے دلوں کا حال اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے لیکن جن لوگوں کی زندگیوں کا اولین مقصد اسلام کی حفاظت (بات سمجھنے کی کوشش کیجئے گا) اور اشاعت ہو تو وہی لوگ قیاس اور آراء کی ہمیشہ سے سخت الفاظ کے ساتھ مذمت کرتے چلے آئے ہیں (اور الحمداللہ اس پُر فتن دور میں بھی وہ اپنے ہی اسلاف کے نقشے قدم پر ثابت قدمی سے جمے ہوئے ہیں۔۔۔) پوچھئے کیوں؟؟؟۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے۔۔۔ اسلئے یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں اور نظر رکھئے ہوئے ہیں کے اگر قیاس اور آراء کی سخت لفظوں میں مذمت نہ کی گئی تو اسلام کبھی بھی اپنی اصلی صورت میں محفوظ نہیں رہ سکے گا۔۔۔ جس کی ایک نہیں کئی مثالیں یہاں دی جاسکتی ہیں۔۔۔

    نعمان صاحب۔۔۔ اس تحریر میں جو سوالات آپ نے کئے ہیں۔۔۔ کیا ضروری ہے کے ان سب کے جوابات دیئے جائیں؟؟؟۔۔۔ حالانکہ ابھی تک تقلید کے حق پر ہونے کی کوئی مستند دلیل آپ کی جانب سے پیش ہی نہیں کی گئی۔۔۔ اور رہی بات ہماری کے ہم تقلید کا رد کیوں کرتے ہیں تو بھائی یہ رد کوئی چوتھی یا پانچوی صدی ہجری پرانا تھوڑی ہے یہ رد تو ان بزرگان دین کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔۔۔ ہمارے موقف اور آئمہ کے موقف میں اگر آپ کو کہیں فرق نظر آتا ہے تو بخوبی یہاں پیش کیجئے۔۔۔ کیوں جس دور کی بات ہم کرتے ہیں اس دور کے تو شاگردوں نے بھی اپنے استادوں کی دھجیاں خود اڑائی ہوئی تھیں فروعی مسائل میں دلیل کو قیاس پر حجت تسلیم کرکے۔۔۔

    چلیں کم سے کم ہمارے پاس بقول آپ کے لگانے کو خصوصی نعرہ تو ہے مگر آپ اپنے گریباں میں جھانکیں اور دیکھیں۔۔۔ آپ کے اپنے پاس خود کیا ہے سوائے دیومالائی کہانیوں کے جسے ایک کتاب میں جمع کرکے دین کے داعی بننے کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔۔۔

    نعمان صاحب۔۔۔ سچ بولنے کی تلقین سب کرتے ہیں لیکن جب موقع آتا ہے تو کوئی بھی سچ سے گریز کرنا برا نہیں سمجھتا۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 19, 2010
  4. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    تھریڈ تو چوں چوں کا مربہ بن چکاہے حرب بن شداد صاحب کا یہ جملہ آب غیرزر سے لکھنے کے قابل ہے
    کیاعامیانہ فلسفہ بیان کیاہے بزرگ،علم سے اگرواسطہ نہیں تو خواہ مخواہ اس کا اظہار کیوں ضروری ہے۔اس موضوع پر دیگر اچھی اچھی تحریریں موجود ہے۔کسی فارسی شاعر کا شعر ہے
    فرق است میان شنیدن من وتو
    توغلق باب ومن فتح باب من شنوم
    ہمارے اورتمہارے درمیان سننے کا فرق یہ ہے کہ ایک آواز آتی ہے تم اسکو دروازہ بند ہونے کی آواز سمجھتے ہو اورمیں اس کودوازہ کھلنے کی آواز سمجھتاہوں۔
    اگراس پر بھی تسلی نہ ہو فریڈرک لنگ برج جوانگریزی کاشاعر ہے اس کے اس قول کو دیکھتے
    Two men look out through the same bars
    one sees the mud,and one the stars
    یااگراس سے بھی تسلی نہ ہوتی تومنطق کی کتابوں میں مشہور مثال دی گئی ہے کہ دھواں آگ پر دلالت کرتاہے۔یعنی دھواں کو دیکھ کر ایک شخص‌کے دماغ میں صرف دھواں کا خیال آتاہے جب کہ دوسرا فکر وسوچ رکھنے والااس سے وہاں آگ کی موجودگی پر استدلال کرتاہے۔لیکن ان سب کو چھوڑ کر محترم حرب بن شداد نے جو اظہار خیال کیاہے
    والدین کبھی جنم نہیں‌دیئے جاتے ۔والدین بناکرتے ہیں۔
    بہرحال افسوس تو یہ ہے کہ نہ فکر کاسلیقہ اورنہ اظہار خیال کی طرزوادا سے واقف لیکن حوصلہ اورہمت کہ مجتہد ہم بھی ہیں تو سابقہ مجتہدین کے اجتہاد کی ضرورت کیاہے؟اناللہ واناالیہ راجعون
     
  7. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    کیسے مزاج ہیں الطحاوی صاحب۔۔۔ بھئی معذرت قبول کیجئے کے آپ کی پوسٹ پر میں برقت جواب دینے سے قاصر رہا۔۔۔ وجہ کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔ بس تھوڑا وقت دے رہا تھا لکھنے اور پڑھنے والوں کو۔۔۔ چلیں مکالمے بازی شروع کرتے ہیں ۔۔۔ اس درد سے جو آپ اپنے جگر میں لئے گھوم رہے ہیں۔۔۔

    ویسے کمال کی چابکدستی ہے مگر افسوس جس چابکدستی سے آپ نے اپنے عالمانہ فلسفے کا اظہار کیا ہے۔۔۔ اس کے لئے تو مؤرخ کو بھی الفاظ ڈھونڈے پڑیں گے تاریخ میں رقم کرنے کو۔۔۔ لیکن میں یہ باور کرواتا چلوں کے اس چابکدستی کا موضوع پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔۔۔ ہاں البتہ جس علمی قابلیت کا دعوٰی موصوف کی جانب سے گاہے بگاہے دیکھنے کو ملتا ہے اس سے اگلی پچھلی ساری علمی قلعیاں ایک ایک کر کے نہیں بلکہ دو دو کر کے کھل گئیں۔۔۔ المہم۔۔۔

    آپ کی اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں کے جب دو فریقین آپس میں کسی موضوع پر گفتگو کررہے ہیں تو سننے والے یا پڑھنے والوں کو پھٹے میں ٹانگ اڑا نے سے گریز کرنا چاہئے۔۔۔ ورنہ اجتماعی طور پر یہ ہی سمجھا جاتا ہے کے بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہونے کی غیر ضروری کوشش کررہا ہے۔۔۔ یا پھر انفرادی سوچ رکھنے والے قارئیں یوں سوچیں گے کہ یہاں تو دیغ سے زیادہ چمچہ گرم نظر آرہا ہے۔۔۔ لیکن اس نشاندہی کے بعد میں پوری اُمید رکھوں گا کے آپ ان پہلوؤں کو ان شاء اللہ مستقبل میں نظر انداز کرنے سے ہمیشہ گریز کریں گے۔۔۔

    اور ہاں اگر پھر بھی آپ بضد رہے تو میں انتظامیہ سے بہت ادب سے یہ گذارش کروں گا کے اس پوسٹ کو گپ شپ والے سیکشن میں منتقل کردیں تاکہ گپ شپ کے شوقین ساتھی وہ بھی ہماری اس گفتگو سے محزوز ہوسکیں۔۔۔ آخری بات شاعری ہمیں بھی بہت اچھی طرح آتی ہے مگر کرتے اس لئے نہیں کے شاید پشتو آپ سمجھ نا پائیں اور ہماری کاوش کو آپ اپنی عزت نفس پر حملہ سمجھ کر لامحالہ پھٹ پڑیں اور پھر جس گند سے ہم بچانا چا رہے ہیں اس سے بچنا ہمارے لئے ناممکن ہوجائے۔۔۔

    اُمید ہے ناصر نعمان صاحب جلد ہی اس موضوع پر واپسی کا ٹکٹ کٹا کر لوٹیں گے۔۔۔ اور اس الزام کو فورا رد کریں گے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

    والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 23, 2010
  8. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    حرب بن شداد صاحب ۔ہماری معروضات پر ’’معروضی‘‘طریقہ سےغورکرتے تو اس طیش کا اظہار نہ ہوتا جوفی الوقت آپ کی پوسٹ میں ہے۔
    دیگ سے زیادہ کون ساچمچہ گرم ہے یہ تواس بات سے ظاہر ہے کہ پہلے گفتگو ابوطلحہ سلفی اورناصر نعمان کے درمیان ہونی تھی ابوطلحہ سلفی غائب ہوئے ،بعد ازاں ابن دائود کا ورود ہوااوردرمیان میں آنجناب نے بھی ’’انٹری‘‘ماردی ۔ اب لوگ خود ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ چمچہ بھی کون ہے اوردیگ کاتعلق بھی کس قبیلہ اورجماعت سے ہے۔
    بیگانے کی شادی میں عبداللہ ضروردیوانہ ہواہے لیکن دیکھناچاہئے کہ وہ اصل اورحقیقت میں ہے کون۔آنجناب تو’’ مدعی سست اورگواہ چست ‘‘کی عملی مثال نظرآرہے ہیں شروع میں ناصر نعمان نے جوباتیں کہی تھیں اس کو مد نظررکھتے توشاید بیگانہ کی شادی میں عبداللہ بننے سے ضرور بچتے۔
    آپ ملول خاطرنہ ہوں۔ ہمیں آپ کی علمی لیاقت اورقابلیت کاتجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔لیکن جناب کے ’’عامیانہ فلسفہ ‘‘کودیکھ کرایک ہلکاساتبصرہ کیاگیا کہ ’’دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا‘‘
    پشتو شاعری واقعتاسمجھ میں نہیں آتی اورظاہر سی بات ہے کہ جس طرح ہندوستان میں رہنے والے کو پشتو نہیں آتی اسی طرح پاکستان میں رہنے والوں کو کنڑا،تلگو اورتمل نہیں آتی ہوگی۔اس لئے مناسب ہے کہ اسی زبان میں شاعری کریں جو فریقین سمجھتے ہوں۔
    امید ہے کہ بخیرہوں گے اورعامیانہ فلسفہ بیان کرنے سے گریز کریں گے۔والسلام
     
  9. Abu Umar

    Abu Umar -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 21, 2010
    پیغامات:
    61
    ناصر نعمان نے لکھا!

    پھر ناصر نعمان صاحب نے لکھا!

    اس کے بعد ابن داود بھائی نے لکھا!

    جس کے جواب میں ناصر نعمان صاحب نے یہ لکھا!
    لہذا قارئین سے التماس ہے کہ وہ خود فیصلہ فرما لیں کہ!

    فی امان اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    برائے مہربانی موضوع میں رہتے ہوئے گفتگو کریں ۔ موضوع سے غیر متعلقہ پوسٹس حذف کر دی جائیں گی ۔ شکریہ ۔
     
  11. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم ورحمهَ اللہ وبرکاتہ

    کیسے مزاج ہیں الطحاوی صاحب اُمید ہے سب اچھا ہی ہوگا، آپ کی اس شاندار تحریر پر جواب دینے سے پہلے میں محترم عُکاشہ جو اردو مجلس پر ناظم خاص کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہیں ہیں سےکچھ عرض کرنا چاہوں گا کے گفتگو کے کئی ڈھنگ ہوتے ہیں اور یقینی طور پر ڈھنگ میں پہلو بھی پنہاں ہے اور عین ممکن ہے کے ماحول میں گرما گرمی بھی پائی جائے جس سے ایسے اسباب پیدا ہوں کے مخالفین پر لعن طعن اوچھے نہیں لیکن مہذب طریقے سے کی جاسکے کیونکہ ڈھنگ کا اظہار کرنے والا آپ کے نظریئے سے اختلاف رکھتا ہے ـ المہم

    قابل احترم ناظم خاص عُکاشہ صاحب! اگر ہم اپنی تاریخ کا جائزہ لیں تو ایسی لاتعداد مثالیں صفحات پر رقم ہیں جو مشرکین مکہ، حاسدین اسلام اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں اور اُن کے طریقے پر چلنے والوں کے خلاف موجود ہیں چاہے وہ ابولہب ہو، چاہئے ابوجہل یا پھر منافقین کا وہ گروہ جس نے مسجد ضرار تعمیر کی تھی اُسے کچھ بھی کہا جاسکتا ہے مثلا اسے گرما گرمی کہہ لیں، یا بقول ناصر نعمان صاحب معرکہ آرائی کہہ لیں یا پھرمحترم المعروف شیطان کا آدم سے حسد رکھنا سمجھ لیں غرض یہ کے وجوہات وہی پرانی ہیں کچھ نہیں بدلا ـ سازشیں ہر دور میں متبع سنت کے خلاف ہوتی رہی ہیں ـ

    لیکن ہماریے لئے جہاں یہ خوشی کی بات ہے وہیں افسوس کی بھی ـ خوشی اس لئے کے اللہ رب العزت نے ہمیں بھی وہی موقع عطاء کیا کے ہم اپنے اسلاف کے راستے پر چلتے ہوئے دین کی تبلیغ اور ترویج کا حصہ بنیں اور ایسے لوگوں کا رد قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کریں جیسےہمارے اسلاف اپنے وقت میں کیا کرتے تھے اُن مخالفین پر جو خود ساختہ مذہب کے داعی اور اپنے آباواجداد کی روش پر چل رہے تھے اور آج تک اُن کی نسل چل رہی ہے ـ

    قرآن میں اللہ رب العزت نے کئی مقامات پر ایسے لوگوں کے قصے بیان فرمائےہیں جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو چھوڑ کر اپنے آباواجداد کے بنائے ہوئے طریقے یعنی طریقیت کو صف اول میں رکھا اور شریعت پر چلنے والوں کے ساتھ کھل کلڑیاں کیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر ومجنون تک کہنے سے گریز نا کیا ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد کیا تھا؟ـ یہ علماء ہی بہتر بتا سکتے ہیں لیکن پھر بھی یہ واقعات تاقیامت موجود رہیں گے اور حق و باطل کے اس معرکے (بقول نعمان صاحب)کو سمجھنے میں اُن لوگوں کی مدد کریں جو اپنے رب کا تقوٰی اختیار کرنا چاہتے ہیں ـ

    اس چھوٹی سی تمہید کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کے دوران گفتگو جو بھی تحریر جس ڈھنگ سے بھی ہمارے مخالفین یا اُن کے مخالفین کی جانب سے پیش کی جائے اس کو حذف نہ کیا جائے بلکہ بعد میں آنے والوں کے لئے وہ تحریر جوں کی توں موجود رہے تاکہ پڑھنے والا خود فیصلہ کرےکے ابتداء کس نے کی اور انتہا کیا ہوئی مجھے اُمید ہے میری اس درخواست کو نظرثانی کے لئے پیش کیا جائے گا ـ

    ہاں تو بھائی المعروف الطحاوی صاحب! مجھے اندازہ تھا آپ کے رد کا یقین جانیئے مجھے سوفیصدی یقین تھا کے جہاں میں پتھر پھینک رہا ہوں وہاں سے چھیٹوں کا اوچھل کرمیرے دامن پر آنا یقینا ہوگاـ لیکن میں مزید سنگ بازی سے اجتناب برتتے ہوئے آپ سے معذرت کا خاستگار ہوں کے میری پچھلی تحریر کی وجہ سے جس اذیت سے آپ گزریں ہیں وہ آپ کی پہلی تحریر میں بالکل دکھائی نہیں دی جس کے جواب میں میں نے اپنا رد پیش کیا تھا لیکن آپ کو کرب میں دیکھ کر میں مزید کچھ نہیں کہوں گا سوائے معافی کے اور مجھے اُمید ہے آپ جتنے نرم دل دوسروں کے لئے ثابت ہوئے ہیں میرے لئے بھی ہونگے اور مجھے معاف کردیں گے تاکہ ہم موضوع پر دوبارہ سے ایک اچھے ماحول میں بات چیت کا آغاز کرسکیں ـ

    میرے آخری جواب میں ایک سوال تھا نعمان صاحب سے آپ سے درخواست ہے کے اگر آپ کا اُن سے رابطہ ہو یا وہ آپ سے رابطے میں ہوں تو میرا اٹھایا ہوا سوال اس کا جواب عنایت کردیں تاکہ جو قاری یہاں آرہا ہے تقلید کے حق یا باطل پر ہونے کی حقیقت کو سمجھے وہ مزید انتظار سے بچےـ

    شکریہ

    تمام احباب اُن سے بھی میری یہ ہی درخواست ہے اگر میری تحریر سے اُن کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ مجھے معاف کردیں
     
  12. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    میں حرب بن شداد بھائی کی بات سے پوری طرح متفق ہوں
     
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بہت شکریہ جناب حرب بن شداد صاحب
    آپ کی عرض میں‌ہی آپ کے سوال کا جواب موجود ہے ۔
    اگر رد قرآن و سنت کے مطابق ہو جو کہ ہمارے اسلاف کا طریقہ تھا تو ایسے ایکشنز کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ موضوع سے غیر متعلقہ پوسٹ وہی کرتا ہے جس کے پاس نہ تو دلائل ہوتے ہیں اور نہ ہی علم ۔ یا پھر وہ ایسی پوسٹس کرکے موضوع سے فرار چاہتا ہے ۔ یا پھر چاہتا ہے کہ مخالف فرار ہو جائے ۔ اگر پوسٹ کا مقصد اصلاح ہو تو غیر متعلقہ پوسٹس نہیں کی جاتیں‌۔ علمی گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ فریقین موضوع پر گفتگو کریں ۔ اگرکسی نے نئے موضوع پر گفتگو کرنی ہے تو وہ ایک نیا تھریڈ سٹارٹ کر کے اس کو جاری رکھ سکتا ہے ۔

    قوانین برائے مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں