عید میلاد کی ممانعت اور بطلان قران وحدیث‌ دونوں میں‌ ہے

کفایت اللہ نے 'ماہِ ربیع الاوّل' میں ‏فروری 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    قرآن و حدیث کی رو سے اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ ''عیدمیلاد'' بدعات میں سے ایک بدترین بدعت ہے ،بہت سارے لوگوں کویہ غلط فہمی ہے کہ قران وحدیث میں اگرعید میلاد کاحکم نہیں ہے تو اس کی ممانعت بھی نہیں ہے ،حالانکہ یہ غلط خیال ہے کیونکہ عید میلاد کی ممانعت اور اس کابطلان قرا ن وحدیث دونوں میں موجودہے۔

    لیکن قران وحدیث کی یہ دلیلیں دیکھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ قران وحدیث میں بعض چیزوں کوعام(جنرل)طورپرباطل قرار دیاگیاہے اورکسی خاص چیز کانام نہیں لیاگیاہے ۔لہٰذا یہاں یہ نہیں سمجھناچاہئے کی اس کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہیں ہے ۔

    مثال کے طورپر اہل حدیث سمیت پوری امت کے نزدیک کافرقراردئے گئے ''مرزغلام احمدقادیانی ''کانام قران وحدیث میں کہیں نہیں ہے ،لیکن اس کے باوجود بھی اہل حدیث سمیت پوری امت کامانناہے کہ قران وحدیث کی روسے قادیانی کی نبوت باطل ہے ،کیونکہ قرآن میں جویہ کہاگیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جوبھی نبوت کادعوی کرے گااس کی نبوت باطل ہے تواس بطلان میں قادیانی کی نبوت بھی شامل ہے ۔اسی طرح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جوبھی نبوت کادعوی کرے گااس کی نبوت باطل ہے تواس بطلان میں قادیانی کی نبوت بھی شامل ہے ۔

    ٹھیک اسی طرح عید میلاد بھی قرآن وحدیث کی رو سے باطل ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے :''آج میں نے تمہارادین مکمل کردیا''(مائدہ:3/5) یعنی اب اگرکوئی دین میں کسی نئی چیز کادعوی کرے گاتو وہ باطل ہے ،عید میلاد بھی دین میں نئی چیزہے لہٰذاقرآن کی اس آیت کی روشنی میں باطل ہے۔

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ :''جس نے بھی ہمارے دین میں کوئی نئی چیزایجاد کی وہ مردود ہے ''(بخاری:ـکتاب الصلح:اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود،نمبر2697 )اور عید میلادبھی دین میں نئی چیز ہے لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں باطل ہے ۔نیز اللہ تعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے کہ :''اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے مت بڑھو''(الحجرات :1/49)یعنی دین میں جس عمل کاحکم اللہ اور اس کے رسول ۖنہ دیں اسے مت کرو،عیدمیلاد منانے کاحکم نہ اللہ نے دیانہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لہٰذاقرآن کی اس آیت میں عیدمیلاد سے منع کیاگیاہے ۔اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''دین میں نئی چیزیں مت ایجاد کرو''(أبوداؤد:ـکتاب السنة:باب فی لزوم السنة،4607والحدیث صحیح)یعنی دین میں جس عمل کاحکم نہ ہواسے مت کرو،عیدمیلاد منانے کاحکم دین میں نہیں ہے لہٰذا اس حدیث میں عیدمیلاد سے منع کیاگیا ہے ۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ عید میلاد قران وحدیث کی روشنی میں باطل اور ممنوع ہے ۔لہٰذا اب یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ عید میلاد منانے کاحکم نہیں ہے تواس سے منع بھی نہیں کیاگیاہے کیونکہ قران و حدیث سے اس کابطلان اوراس کی ممانعت پیش کی جاچکی ہے ۔

    واضح رہے کہ جہاں تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کاتعلق ہے تو اس سے کسی کوانکار نہیں ،بلکہ حدیث رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہماراعقیدہ تویہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں ،لیکن محبت کاطریقہ کتاب وسنت سے ثابت ہوناچاہئے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    جزاک اللہ بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,849
    السلام علیکم!

    میلاد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ کرنے پر تو آپ نے بھی قرآن و حدیث سے کوئی اہم دلیل پیش نہیں کی کہ جس سے میلاد کرنا منع قرار دیا گیا ہو۔

    والسلام
     
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    جزاکم اللہ خیرا
    کونین بھائی آپ کی دیگر تحریریں پڑھ کرہماراحسن ظن تو یہی ہے کہ آپ عید میلادالنبی(صلی اللہ علیہ وسلم) منانے والوں میں‌سے نہیں‌ ہیں (واللہ اعلم) پھر بھی معلوم نہیں کیوں‌ آپ بات بڑھا رہے ہیں۔
    آپ کی بات کا جواب مذکورہ تحریر میں موجود ہے آپ دوبارہ غورسے تحریر پڑھیں ، اوراگردوبارہ پڑھنے پر بھی اپ کواپنی بات کا جواب نہ ملے، توہم آپ کی خدمت میں ایک سوال عرض کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ان شاءاللہ اس کے جواب سے آپ کواپنی بات کاجواب مل جائے گا۔
    واضح رہے کہ کسی بات کے جواب میں سوال بلکہ سوالات اٹھا نا یہ بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جس کا ثبوت کئی احادیث‌ میں ہے مثلا ملاحظہ ہوصحیح بخاری کی یہ حدیث:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنَّى ذَلِكَ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ صحيح البخاري [13 /313رقم5305 ]
    صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں‌ آئے اورعر‌ض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں توایک کالا بچہ پیداہواہے،اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے( سوال کرتے ہوئے)فرمایا:
    ’’کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں ‘‘؟
    انہوں نے کہا جی ہاں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے( سوال کرتے ہوئے)فرمایا:
    ’’ ان کے رنگ کیسے ہیں‘‘؟
    انہوں نے کہا:سرخ رنگ کے ہیں ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سوال کرتے ہوئے)فرمایا:
    ’’ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے‘‘؟
    انہوں نے کہا جی ہاں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے( سوال کرتے ہوئے)فرمایا:
    ’’ پھریہ کہاں سے آگیا‘‘؟
    انہوں نے کہا :اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر پڑاہوگا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دورکے رشتہ دار پرپڑاہوگا۔ (صحيح البخاري:13 /313رقم5305)
    اس حدیث‌سے معلوم ہوا کسی بات کے جواب میں سوال بلکہ سوالات کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
    کچھ دنوں پہلے ایک صاحب میرے پاس آئے اورسوال کیا کہ :
    آپ مجھے صرف اتنا بتادیں کہ جوشخص نماز میں رفع الیدین نہیں کرتا اس کی نماز صحیح‌ ہوتی ہے یا نہیں؟
    میں انہیں سمجھانے لگا کہ بھائی صحیح وغلط کوایک طرف رکھیں پہلے جان لیجئے کہ نماز میں‌ رفع الیدین نہ کرنے والے روزآنہ ہزاروں‌ نیکیوں سے محروم ہوتے ہیں
    http://www.vblinks.urdumajlis.net/showthread.php?t=16201

    اس پروہ بضد ہوئے اورکہا یہ سب میں نہیں سننا چاہتا آپ مجھے صرف اتنا بتادیں کہ رفع الیدین کے بغیر نماز ہوتی ہے کہ نہیں ؟
    اب میں‌ نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے کہا: کہ ٹھیک ہے میں آپ کی اس بات کاجواب دوں گا لیکن اس سے پہلے آپ میرے اس سوال کا جواب دے دیں کہ اگر کوئی شخص نماز میں تکبیر تحریمہ والا پہلا رفع الیدین نہ کرے تواس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟
    میرے اس سوال پر وہ بری طرح بوکھلا ئے اورکہنے لگے کہ آپ میرے سوال پرسوال کررہے ہیں !
    پھر میں نے کئی احادیت پیش کرکے بتلایا کہ سوال پرسوال کرنابھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ان احادیث‌ سے مجبور ہوکر انہوں میرے سوال کا جواب دیا اورکانپتی ہوئی آواز کے ساتھ کہا : تکبیر تحریمہ والا رفع الیدین چھوڑنے والے کی نماز نہیں ہوتی۔
    میں نے کہا بھائی اب میں کیا عرض کروں آپ ہی بتائیے کہ جب ایک مقام پر مشروع رفع الیدین چھوڑدینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے توجوشخص تین مقامات پرمشروع رفع الیدین چھوڑ دے اس کی نماز کا کیا حال ہوگا۔
    اس پر انہوں نے بات آگے نہیں بڑھا ئی کیونکہ میراسوال ہی ان کے لئے جواب ثابت ہوا۔
    اب میں یہاں بھی آپ کی خدمت میں ایک سوال پیش کرتاہوں، جواب دیں

    ’’ ہمارے نزدیک مرزاغلام احمدقادیانی کو نبی نہ ماننے کی اہم دلیل قران اورحدیث‌ دونوں میں ہے ، کیا آپ کے نزدیک قران وحدیث‌ میں قادیانی کو نبی نہ ماننے کی اہم دلیل ہے یا نہیں ؟ اگر ہے توپیش کریں یاد رہے کہ آپ کے بقول اہم دلیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    واضح رہے کہ ہم نے انڈے اوربھینس کی بات نہیں کی ہے کہ بڑی آسانی سے کہہ دیاجائے کہ قران وحدیث‌ میں اس کاحکم نہیں ، ہم نے بات کی ہے نبوت کے ایک خاص دعویدارمرزاغلام احمد قادیانی کی ، اگرآپ یہاں بھی کہہ دیں کہ اسے نہ ماننے کی اہم دلیل نہ قران میں ہے اورنہ حدیث میں‌ توشاید ہی عوام آپ کومعاف کرے یہ انڈے اوربھینس کا مسئلہ نہیں ہے کہ آپ عوام کومطمئن کردیں گے۔
    آپ کے جواب کامنتظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کفا یت اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. محمد جابر

    محمد جابر -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 27, 2010
    پیغامات:
    74
    یہ لیں جناب دلیل حاضر ہے :
    من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہو رد
    جس نے بھی کوئی بھی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہ ہو وہ مردود ہے
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بارہا یہ دن آتا رہا لیکن آپ نے اسے بطور جشن نہ منایا


    پیدائش نبوی کے دن کھانا پینا اور جشن منانا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت ہے
    کیونکہ
    آپ صلى اللہ علیہ وسلم تو اپنی پیدائش کے دن یعنی سموار کو روزہ رکھا کرتے تھے
    تو جس دن نبی صلى اللہ علیہ وسلم روزہ رکھیں اس دن عید منانا شیطان کا کام ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,875
    وعلیکم السلام
    اچھا سوال کیا ہے ۔

    منع کی دلیل تو فجر کی دو رکعت فرض نماز کو تین رکعت پڑھنے میں‌ بھی نہیں‌۔ تو کیا آپ فجر کی فرض نماز تین رکعت پڑھیں گئے ؟

    اسی طرح جمعہ کی نماز دو رکعت فرض ہے کہیں چار رکعت کی منع نہیں تو کیا آپ جمعہ کی نماز چار رکعت پڑھیں گئے ؟

    جو ان دو کا جواب ہو وہی جواب میلاد مصطفی پرفٹ کر لیں۔ ؟ تو دلیل مل جائے گی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,849

    السلام علیکم! برادر

    علم حاصل کیا ہو تو کسی بھی گفتگو کے لئے کسی کا ایسا ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہوتا اسے منانا یا نہ منانا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اصل فوکس موضوع ہوتا ھے، جن کے پاس ایسے جواب ہوں وہاں میں بحث نہیں کرتا جب آپکو منع ہونے پر کوئی دلیل مل جائے گی تو آپ لگا دینا میں پڑھ لوں گا اس دھاگہ میں میرا آپ کا ساتھ یہیں تک کا تھا۔

    جزاک اللہ خیر۔

    والسلام
     
  9. عاکف سعید

    عاکف سعید محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 16, 2010
    پیغامات:
    181
    میرے خیال سے کنعان برادر چاہتے ہے کہ ایسی حدیث بتائی جائے جس میں ہو بہو یہ الفاظ ہو کہ کہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہو کہ عید میلاد مت منانا۔ شاید اسی لیے انہے باقی احادیث بن نہیں پڑی۔۔۔

    وگرنہ محمد جابر بھائی نے حدیث پیش کی ہے کہ:-


    من عمل عملا لیس علیہ امرنا فہو رد
    جس نے بھی کوئی بھی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہ ہو وہ مردود ہے


    اب اس میں ہر وہ نیا کام آجاتا ہے جسے ہم بدعت کہتے ہیں اور اس حدیث میں تمام بدعات کا رد موجود ہے۔۔۔۔پر غور کون کرے؟

    کہی کنعان برادر نے تقلید کی عینک پہنی ہوئی تو نہیں
    :think:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

    سبحان اللہ ! عدم علم کا طعنہ وہ لوگ دے رہے ہیں جنہوں‌ نے جہالت کو اپنا مقدر سمجھ لیا ہے ، اوراس کی وجہ سے تقلید کرنے پرخود کو مجبورسمجھتے ہیں !
    حیرت ہے کہ ایک طرف تومقلد ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، اور دوسری طرف عید میلاد کی بات آتی ہے تو مجتھد بن کردلائل پربحث کرنے لگتے ہیں !
    یہ عجیب تضاد ہے کبھی مقلد اورکبھی مجتھد !
    کیا مقلد کوبھی دلیل مانگنے کی اجازت ہے ، اسے تو اپنے امام کا قول ہی کافی ہے اوربدقسمتی سے اس مسئلہ میں ان کے پاس ان کے امام کا بھی کوئی قول نہیں ہے۔
    غور کریں کہ نہ قران سے کوئی دلیل جانتے ہیں نہ حدیث سے کوئی دلیل معلوم ہے نہ ہی امام کے کسی قول کا علم ہے پھر بھی معلوم نہیں کون سے علم پرفخر کرتے ہیں۔


    یعنی اگرآپ موضوع سے متفق ہیں صرف دلائل الگ رکھتے ہیں تو موضوع پر اتفاق کے باوجود محض اختلاف دلائل پر بحث کریں ، تویہ علم کا صحیح مصرف ہے !

    واہ ! اگرکوئی عدم قرات، ترک رفع الیدین وغیرہ کے موضوع سے اتفاق نہ کرے اور پھر دلائل پربحث کرے توآپ لوگ شورمچانے ہیں کہ علمی صلاحیتیں ضائع کی جارہی ہیں، یہ فلسفہ سمجھ میں نہیں آتا کہ موضوع سے اختلاف ہو تو دلائل پر بحث کرنا علمی صلاحیتوں کا ضیاع ہے ، اوراگر موضوع سے اتفاق ہو تو بحث کرنا علمی کمال ہے !

    اسی پس منظر میں ہم نے تعجب کا اظہار کیا تھا کہ ایک طرف آپ حضرات اختلافی مسائل پر بحث کرنے سے روکتے ہیں‌ اوردوسری طرف جن مسائل سے اتفاق ہے ان پر بھی بحث کرنا علم کا تقاضہ سمجھتے ہیں !


    جناب میں نے دوسری تحریر میں چند کلمات موضوع سے ہٹ کر لکھ دئے لیکن آپ نے دوسری تحریرکے جواب میں اس کے موضوع پرسرے سے بات ہی نہیں کی ۔


    واہ ! میری تمہید کو آپ جواب سمجھ بیٹھے ، جناب یہ سطریں بطور جواب نہ تھیں جواب تو اس کے بعد کی سطریں تھیں چنانچہ اوپر کی تحریر آپ پھر سے پڑھیں ان سطروں کے فورا بعد یہ الفاظ ہیں :
    آپ کی بات کا جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جناب یہاں سے جواب شروع ہے ، آپ تمہیدی کلمات کو جواب سمجھ رہے ہیں ، ایک طرف یہ مبلغ علم اوردوسری طرف غیروں کو عدم علم کا طعنہ !


    اس دوسری تحریر میں ہم نے آپ سے بطور جواب ایک سوال کیا تھا ، اورسوال کے ذریعہ جواب دینے کی صحیح اورصریح حدیث بھی پیش کردی گئی تھی ، لیکن میرے سوال کاجواب دینے کے بجائے آپ موضوع سے الگ تمہیدی کلمات پر نقطہ سنجی کرنے لگے،لہذا آپ کی یہ تحریر میری دوسری تحریر کاجواب نہیں ہے ے۔

    جناب آپ نے تو میرے سوال کاجواب دئے بغیر ہی راہ فراراختیار کرلی ،اگرآپ میرے سوال کاجواب دیتے توآپ کا یہ جواب ہی آپ کے اپنے اعتراض کاجواب ہوتا، یعنی قادیانی کونبی نہ ماننے پر جس نوعیت کی دلیل قران وحدیث‌ میں ہے اسی نوعیت کی دلیل عیدمیلاد نہ منانے پر بھی ہے۔

    مثلا قادیانی کی رد میں قران مجید کی یہ آیت دلیل ہے:
    { مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا } [الأحزاب: 40]

    اس آیت میں قادیانی کا نام لئے بغیرایک عمومی بات کہی گئی کہ اب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے ، یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اب کسی بھی نئے نبی کی گنجائش نہیں ، چاہے قادیانی ہویا کوئی اور۔
    ٹھیک اسی طرح اسی قران میں یہ آیت بھی ہے کہ:

    { الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [المائدة: 3]

    اس آیت میں عید میلاد کا نام لئے بغیر ایک عمومی بات کہی گئی کہ اب شریعت سازی کا سلسلہ ختم گیا ہے، یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اب دین میں کسی بھی نئے عمل کی گنجائش نہیں ہے، خواہ عید میلاد کا عمل ہویا کوئی اورعمل۔

    اورقادیانی کے رد میں حدیث رسول دیکھیں :
    عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين وحتى يعبدوا الأوثان وأنه سيكون في أمتي ثلاثون كذابون كلهم يزعم أنه نبي وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح (سنن الترمذي:4 /499 رقم2219)
    اس حدیث‌ میں قادیانی کا نام لئے بغیر عمومی بات کہی گئی ہے کہ آئندہ زمانے میں کچھ ایسے دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعوی کریں گے حالانکہ میرے بعد کسی نبی کی گنجائش نہیں ہے۔
    یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اب کسی بھی نئے نبی کی گنجائش نہیں ہے خواہ قادیانی ہو یا کوئی اور۔
    ٹھیک اسی طرح یہ حدیث بھی ہے کہ:
    عن أبي عثمان الأصبحي قال سمعت أبا هريرة يقول ان رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سيكون في أمتي دجالون كذابون يحدثونكم ببدع من الحديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم فإياكم وإياهم لا يفتنونكم (مسند أحمد بن حنبل:2 /349 رقم8580والحدیث حسن)
    اس حدیث‌ میں عید میلاد کا نام لئے بغیر عمومی بات کہی گئی کہ آئندہ زمانے میں کچھ دجال قسم کے لوگ (ببدع من الحديث )دین میں نئی نئی باتیں بتائیں گے تم ان کی بات مت ماننا یہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
    یہ حدیث‌اس بات کی دلیل ہے کہ اب دین میں کسی بھی نئے عمل کی گنجائش نہیں ہے خواہ عیدمیلاد ہو یا کوئی اورعمل۔
    خلاصہ کلام یہ کہ قادیانی کو نبی نہ ماننے پر جس نوعیت کی دلائل قران وحدیث‌ میں موجود ہیں اسی نوعیت کے دلائل قران وحدیث‌ میں عید میلاد نہ منانے پر بھی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    جزاک اللہ خیرا بھائی
    واقعی یہ لوگ یہی چاہتے ہیں کہ قران وحدیث سے ایسی دلیل لائی جائے جس میں ’’عید میلاد‘‘ کا لفظ‌ ہو۔
    اسی لئے ان سے ہماراسوال ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے رد میں‌ قران وحدیث سے ایسی دلیل لاؤ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی کا لفظ ہواوراگر اس شرط کے ساتھ نہ لاسکو تواپنے عوام میں اعلان کرو کہ قادیانی کے رد میں قران وحدیث‌ میں کوئی دلیل نہیں۔

    ہمارے پاس الحمدللہ قادیانی کے کفر اوراس کی نبوت کے بطلان پر قران وحدیث‌ دونوں سے دلائل موجود ہیں ، اورپوری دنیا میں سب سے پہلے جس نے قادیانی کوقران وحدیث‌کی روشنی میں کافر قراردیا وہ اہل حدیث‌عالم ہی تھے ، اوریہ فتوی مع دلائل قران وحدیث کتابی شکل میں مطبوع ہے اوراس کتاب میں بعض بریلوی مولویوں کی تصدیقات بھی مع دستخط موجود ہیں ۔


    اگربریلوی حضرات ختم نبوت پرقران وحدیث‌ کے عمومی دلائل سے ایک خاص مدعی نبوت قادیانی کی تردید درست مانتے ہیں ۔
    توپھر ردبدعت پر قران وحدیث‌ کے عمومی دلائل سے ایک خاص بدعت عید میلاد کی تردید کیوں نہیں‌ مانتے؟


    { أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ } [البقرة: 85]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,332
    جزاک اللہ خیرا
     
  13. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  14. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاک اللہ خیرا کفایت بھائی
    اللہ ایسی بدعات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین۔
     
  15. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    یا شیخ ، جزاک اللہ خیرا.
     
  16. جلال سلفی

    جلال سلفی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 16, 2011
    پیغامات:
    53
    جزاکم اللہ خیرا شیخ
    كفايت الله
     
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    قند مکرر
     
  18. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    461
  19. لبید غزنوی

    لبید غزنوی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 7, 2015
    پیغامات:
    19
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔
     
  20. majeedtoufeeq

    majeedtoufeeq رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 25, 2015
    پیغامات:
    16
    jazakallah khair an kareena shaik bahot hi umdahpost
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں