آئیے ’’علمِ ادب ‘‘ سیکھیں۔۔۔۔حصہ اول

نعمان نیر کلاچوی نے 'ادبی مجلس' میں ‏اپریل 20, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ٓآپ نے لفظ ”ادب“ تو سنا ہو گابلکہ آپ نے کہیں یہ جملہ ضرور پڑھا ہوگا کہ ”باادب با نصیب بے ادب بے نصیب“ ۔۔۔۔
    مگر یہاں پر ہم اس ادب کا ذکر نہیں کر رہے جو عموماً تعظیم کیلئے بولا جاتا ہے بلکہ یہاں ہم علم ادب کا ذکر کریں گے اوراس ادب کو بنیاد سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔۔۔تو آئیے بسم اللہ کریں اور اہل ذوق بننے کیلئے علم ادب کو بنیاد سے سیکھنے کی ابتداءکریں۔۔۔۔
    سب سے پہلے ادب کو لغت سے جاننے کی کوشش کریں گے کہ لغت میں اسکی کیا حیثیت ہے۔۔۔۔
    1: ادب لغت میں۔۔۔
    ادب باب”کرم“ سے بھی آتا ہے اور ”ضرب“ سے بھی، کرم سے اس کا مصدر ا¿ دَباً ”بفتح الدال“ آتا ہے ،ادب والا ہونااور اسی سے ادیب ہے جس کی جمع ادباءہے اور باب ”ضرب“ سے اس کا مصدر اَد’باً ”بسکون الدال “ دعوت کا کھانا تیار کرنے اور دعوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اسی سے اسم فاعل ”آداب“ ہے جس کے بارے میں علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں:
    نحن فی المشتدہ ندعو الجفلیٰ
    لا تری الادب فینا ینتفر
    ” ہم موسم سرما میں دعوت کا خاص اہتمام کرتے ہیں ،آپ ہم میں سے کھانے کی طرف بلانے والے کو ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ کسی کو بھگائے یا دعوت کی طرف نہ آنے دے“
    ادب باب ”افعال“ سے بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے ،باب ”تفعیل“ سے علم سکھلانے کے معنی میں مستعمل ہے
    زجاج کا قول ہے ”وھذا ما ادب اللہ بہ نبیہ “ ای علم اللہ بہ نبیہ
    باب ”استفعال“ اور باب ”تفعل“ دونوں سے ادب سیکھنے اور ادب والا ہونے کے معنی میں آتا ہے۔۔۔۔
    2: ادب اصطلاح میں
    ادب کی اصطلاحی تعریف میں علماءکی مختلف تعبیریں ملتی ہیں:
    ۱: علامہ مرتضیٰ زبیدی نے اپنے شیخ کے حوالہ سے یہ تعریف نقل کی ہے :
    الاب ملکہ تعصم عمن قامت بہ عما یشینہ
    ادب ایک ایسا ملکہ ہے کہ جس کے ساتھ قائم ہوتا ہے ہر ناشائستہ بات سے اس کو بچاتا ہے
    ۲: ابو زید انصاری نے ادب کی تعریف کچھ یوں کی ہے:
    کل ریاضہ محمودہ یتخرج بھا الاانسان فی فضیلہ من الفضائل
    ادب ایک ایسی اچھی ریاضت ہے جس کی وجہ سے انسان بہتر اوصاف سے متصف ہوتا ہے
    ۳: بعض لوگوں نے یہ تعریف بھی کی ہے:
    ھو تعلم ریاضہ النفس و محاسن الاخلاق
    ادب ریاضت نفس اور بہتر اخلاق کی تعلیم کا نام ہے
    ۴: حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں اور علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں ادب کی تعریف یوں نقل کی ہے:
    الادب ھو حفظ اشعار العرب واخیار ھا والا خذ من کل علم بطرف
    ادب عرب کے اشعار ، انکی تاریخ واخبار کے حفظ اور عربی زبان کے دوسرے علوم سے بقدر ضرورت اخذ کا نام ہے
    ۵:سید شریف جرجانی نے ”تعریفات“ میں اور صاحب منجد نے ”المنجد“ میں علم ادب کی تعریف یوں کی ہے:
    ھو علم یحتر زبہ من الخلل فی کلام العرب لفظاً وکتابہ
    علم ادب وہ علم ہے جس کے ذریعہ انسان کلام عرب میں لفظی اور تحریری غلطی سے بچ سکے:
    3: علم ادب کا موضوع
    علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں علم ادب کے موضوع کے متعلق لکھا ہے کہ
    ھذا العلم لا موضوع لہ ینظر فی اثبات عوارضہ اونفیھا
    اس علم کا کوئی موضوع نہیں ، جس کے عوارض ذاتیہ کے اثبات یا نفی سے بحث کی جائے:
    یہی قول حاجی خلیفہ کا ہے اور اسی کو شیخ الادب علامہ اعزاز علی نے حق کہا
    بعض لوگوں نے تکلف کرکے موضوع متعین کیا ہے ۔۔۔کسی نے کہا کہ اس کا موضوع ۔۔نظم ونثرہے۔
    بعض حضرات کا خیال ہے کہ اس کا موضوع طبیعت اور فطرت ہے جو خارجی حقائق اور داخلی کیفیات کی ترجمانی کرتی ہے
    صاحب کشف الظنون نے لکھا:
    وقد لا یظھر الا بتکلف کما فی بعض الادبیات اذربما تکون صناعہ عبارہ عن عدہ او ضاع واصطلاحات۔۔۔۔۔متعلقہ بامر واحد ، بغیر ان یکون
    ھنالک اثبات اعراض ذاتیہ لموضوع واحد۔
    اور کبھی فن کا موضوع متعین واضح نہیں ہوتا،، تکلف کرکے متعین کرنا اور بات ہے جیسے بعض ادبیات کا معاملہ ہے وجہ اسکی یہ ہوتی ہے کہ بسا اوقات کوئی فن مختلف موضوعات واصطلاحات سے عبارت ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک موضوع کے عوارض ذاتیہ کا اثبات یا اس سے بحث اس فن کا مقصد نہیں ”کہ اس فن کا موضوع قرار دیا جائے“
    4: علم ادب کی اہمیت
    ۱: ادب اخلاق کے چہرہ کے حسن اور انسان کی زبان کی زینت کا نام ہے کسی زبان کا ادب اسکی ثقافت کا بہترین عکس ہوتا ہے اور ادب ہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کسی قوم کی ثقافت تہذیب وتمدن ،اسکے اخلاق ،ماحول کا معیار اور اسکے معاشرہ کی سطح کی بلندی یا پستی دیکھی جاسکتی ہے۔
    خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے شعر پوچھتے اور سنتے اور اچھے اشعار پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرماتے کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ کا قصہ مشہور ہے ،یہ فتح مکہ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف اشعار کہا کرتا تھا جب مکہ فتح ہوا تو ان کے بھائی بحیر نے ان کو پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے ایسے شعراءکو قتل کرنے کا حکم ہے الا یہ کوئی تائب ہو کر مسلمان ہونے کا اعلان کردے،کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میںوہ لافانی قصیدہ کہا جس کی باز گشت سے آج تک ادب عربی کی فضا گونجتی ہے جس کا مطلع یہ ہے۔۔
    بانت سعادہ فقلبی الیوم مبتول
    متیمم اثر ھا ،لم یفد مکبول
    ”سعادہ جداہوئی،سو میرا دل آج غمگین ،پژمردہ اور ایسے قید وگھٹن میں ہے جس کا کوئی مداوا نہیں“
    تو آپ نے بطور انعام اپنی چادر انہیں مرحمت فرمائی۔۔
    دوسری جگہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سو سے زائد بار بیٹھا ہوں آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہھم مسجد میں اشعار پڑھتے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات بیان کرتے ،آپ انہیں سن کر بسا اوقات تبسم فرماتے۔
    5: علم ادب میں شامل علوم
    صاحب منتہی الادب نے درج ذیل بارہ علوم علم ادب میں شامل کئے ہیں
    1:علم لغت
    2:علم صرف
    3:علم اشتقاق
    4:علم نحو
    5:علم معانی
    6:علم بیان
    7:علم عروض
    8علم قافیہ و اصول
    9:علم رسم الخط
    10:علم قرض الشعر
    11:علم انشائ
    12:علم محاصرات ”تاریخ“فروع شامل ہیں۔انشاءاللہ اگلی تحریر میں ان تمام علوم پرباری باری روشنی ڈالی جائے گی۔۔۔۔۔جاری ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    جزاک اللہ خیرا نعمان بھائی !
    بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔
    ماشاء اللہ ۔
    اللہ مزید توفیق دے۔
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا نعمان بھائی !
     
  4. ابودجانہ

    ابودجانہ --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏دسمبر 9, 2010
    پیغامات:
    763
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جب وہ خود آئيں گے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں