غیر ملکی جہادی اور پاکستان

Riaz Ahmad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اپریل 27, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ (Epicenter)ہے اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ کا مسکن ہے۔ وزیرستان کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی مربع کلومیٹر پر پھیلا ہواہے اور یہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں منقسم ہے۔ان علاقوں کی آبادی کا تخمینہ بالترتیب چھ اور آٹھ لاکھ لگایا گیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کا علاقہ دریائے ٹوچی اور دریائے گومل کے درمیان پشاور کے مغرب و جنوب مغرب میں آتا ہے ۔ شمالی او ر جنوبی وزیرستان کی سرحدیں آپس میں بھی ملتی ہیں۔ میران شاہ ، شمالی وزیرستان کا صدر مقام ہے۔
    شمالی وزیرستان کا علاقہ پشتون اتمان زئی وزیر اور دایور قبایل کا مسکن ہے، ان کے علاوہ یہاں دوسرے چھوٹے قبائل گرباز ،خارسنز ، سادجیsaidgi)) اور محسود (Malakshis Mahsuds) بھی آباد ہین۔ شمالی وزیرستان کے بڑے شہر رزمک،میر علی،دتا خیل اور میراں شاہ ہین۔ دور دورتک دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے پھیلا ہونے کی وجہ سے یہ القاعدہ ، ازبک ،چیچن ،طالبان، پنجابی طالبان،لشکر ظل( الیاس کشمیری)، جیش محمد، حرکت جہاد اسلامی،لشکر جھنگوی، گلبدین حکمت یار حقانی اور دوسرےغیر ملکی جنگجووں کا محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے، جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیان کرتے ہین ۔ القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ مین روپوش ہین۔ یہ تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک سب سے بڑا اور خطرناک گروپ ہے اور یہ دوسرے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا ہے۔
    جب حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی جانب رجوع کیا تو انہیں یہا ں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا ۔ عسکریت پسندوں نے قبائلی لوگوں کی روایتی مہمان نوازی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جبکہ ان غیر ملکیوں کی موجودگی نے ریاست کے لیے امن و امان کے مسائل جنم دینے شروع کر دیے۔ بیرونی عسکریت پسندوں نے اپنی موجودگی کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر خاص طور پر مقامی اور غیر ملکی جہادیوں کو فوجی تربیت فرایہم کرنا شروع کی اور ان مقاصد کی راہ میں مزاحم ہونے والی کسی بھی عسکر ی طاقت کے خلاف نمٹنے کی ترغیب و تربیت فراہم کی۔
    حقانی نیٹ ورک کا بانی ،جلال الدین حقانی خوست،افغانستان کا رہنے والا ہے اور زردان قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کے خاتمہ پر ہجرت کر کے شمالی وزیرستان مین آ گیا اور میران شاہ مین آباد ہو گیا جہان بڑے حقانی نے مدرسہ منبا العلوم قائم کیا۔ اور اس نے شمالی وزیرستان میں ہی اپنا ہیڈ کوارٹرز قائم کررکھا ہے۔ افغانستان کے صوبہ خوست میں رہنے والے زردان قبائل حقانی نیٹ ورک کے حمایتی ہیں۔ اس گروہ کو قبائلی 1979ء میں افغانستان پر سوویت فوجوں کے حملے کے وقت سے ہی مجاہدین کا سب سے طاقتور گروہ تسلیم کرتے ہیں اور اس کا قبائل میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ اطلاعات کے مطابق القاعدہ اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تحریک طالبان اور ملا عمر سے بھی رابطے ہیں۔
    حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے"خوست کا پیالہ" کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔۔حقانی نیٹ ورک کا طالبان سے الحاق ہے۔ القائدہ سے تعلق رکھنے والا یہ گروپ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی قیادت جلال الدین حقانی کے ہاتھ مین ہے مگر جلال الدین حقانی کی مسلسل علالت اور پیرانہ سالی کے باعث سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے، اس گروپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
    " یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان کے درمیان رابطہ موجود ہے"، ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے بتایا جو کہ پاکستان کے لاقانونیت کا شکار قبائلی علاقوں میں سلامتی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے غیر ملکی دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہر گروپ دوسرے سے استفادہ کرتا ہے۔ اور بالآخر اس تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ کو پہنچتا ہے کیونکہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ہی اسے سرحدوں کے دونوں جانب سہولیات اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔
    قبائلی صحافی عمر دراز وزیر کا کہنا ہے۔ کہ "عسکریت پسندی بہت سے بے روزگار قبائلی نوجوانوں کے لئے ایک متبادل ذریعہ روزگار ثابت ہوئی ہے"۔ حقانی نیٹ ورک فاٹا کے نوجوانوں اور عورتوں کو فوجی و عسکری تربیت دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہین اور انہیں دہشت گرد و خود کش بمبار بنا رے ہین۔
    چونکہ جغرافیائی اعتبار سے کرم ایجنسی کا علاقہ اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا یہ علاقہ افغان صوبوں پکتیا، ننگرہار اور خوست کے سامنے واقع ہے۔ اسے شمالی وزیرستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کا مرکزی ٹھکانہ ہے۔ ماہرین کے مطابق کرم ایجنسی سے راستہ یقینی طور پر طلب کیا جائے گا اور اس کے ذریعے حقانی گروپ کے شدت پسند سرحدی علاقے کی اہم بلند چوٹیوں پر براجمان ہونے کے خواہشمند ہیں۔ حقانی گروپ ایک خبر کے مطابق کرم ایجنسی منتقل ہو چکا ہے۔ شمالی وزیرستان کےعلاقہ مین موجود طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ حقانی گروپ کی حمایت کرتا ہے۔
    حقانی نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کا ذمہ دار ہے ۔ یہ لوگ غیر ملکی ہین اور فاٹا کے علاقہ کا سکون غارت کر رہے ہین۔ پاکستان مین مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ مین قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہین اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہین۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہین۔ الیاس کشمیری اور بشمول القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہین۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان مین دہشت گردی کے ۹ تربیتی کیمپ ہین جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ مین سنگین خان کمانڈر کی زیر نگرانی، ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہین۔
    "ہر کوئی شمالی وزیرستان مین ہے،وہان عرب ہین ،ازبک ہین ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی" کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان مین ہین"( ڈیلی ڈان)
    حقانی نیٹ ورک نے علاقہ اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور یہ تجارت پر ٹیکس وصول کرتے ہین۔ ٹرک کمپنوں سے زبردستی بھتہ وصول کرنا اور باڈر کے پار لکڑی کی اور دوسری اشیا کی سمگلنگ کے کاروبار سے رقم بناتے ہین۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور لوئی پکتیا کے علاقہ مین ٹھیکہ دار اور ضلعی بزرگ ،حقانیوں کو "حفاظتی رقم( Protection Money)" ادا کرتے ہین۔ اس کے علاوہ مسجدوں میں چندہ وصول کرنا اور خلیجی ریاستوں سے حاصل شدہ عطیات ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہین۔
    حقانیوں کے پاس ۱۲ ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ جنگجو ہین اور یہ مہمان ہونے کے باوجود غیر قانونی وغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہین۔
    حقانی نیٹ ورک اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہین، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی لہذا تمام غیر ملکیوں جہادیوں کو شمالی وزیرستان سے نکال باہر کیا جانا چاہئیے۔
     
  2. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    اس رپورٹ کی سورس بھی بتادیں برادرم
    بغیر سورس کے کوئی رپورٹ ازراہ کرم پوسٹ نہ کیا کریں
     
  3. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    مغل صاحب:
    مشورہ تو بڑا صاءب ہے مگر آپ نے خود اس پر کبھی عمل نہیں کیا۔ اگر آپ مضمون کو غو ر سے پڑہیں تو آپ کو کچھ حوالاجات اس مین نظر آ جاءین گے۔ آپ تسلی کی خاطر عرض کرتا جاوں کہ یہ مضموں میرے انگریزی کے مضمون کی تلخیص ہے،جس مین ۱۸۵ حوالہ جات دیءے گءے ہین اور جو ۴۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ کی تسلی کے لءےکچھ حوالہ جات یہاں دے رہا ہون:

    حقانی نیٹ ورک،القائدہ اور طالبان مین رابطوں کی شراکت : اقبال خٹک ، سنٹرل ایشا آن لائن 2010-02-19
    کیا پاکستان دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے؟ ڈاکٹر طارق رحمن ایکسپرس ٹریبون،16-04-2011
    وزیرستان کی جنگ فیصلہ کن مرحلہ مین: رحیم اللہ یوسف زئی، اردو نیوز نیٹ
    غیر ملکی دہشت گرد !! اردو اسناف۔کام
    ڈیلی ڈان،، کامران خان ،ممبر پالیمنٹ، میران شاہ سے انٹرویو مورخہ
    2010-10-25
    انٹرویو سراج حقانی،لیتھ الخوری،البلاغ میڈیا، اپریل 14،2010
    اور بہت سارے
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    ریاض صاحب ۔ محترم مشتاق مغل کی بات صحیح ہے ۔ ہمیں نہیں‌ معلوم کہ یہ آپ کی تحریر ہے یا کسی اور کی ۔ لہذا سورس کا دینا ضرروری ہے ۔ مناسب یہ ہے کہ آپ پہلے تعارف کروائیں تاکہ ہمیں آپ کے بارے میں‌جاننے کا موقع مل سکے ۔ شکریہ
    مہمان یہاں آکر اپنا تعارف کروائیں : (مارچ+ اپریل-2011) ‏ - صفحہ 6 - URDU MAJLIS FORUM
     
  5. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    برادر عزیز
    الزام لگانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔ ازراہ کرم میری کوئی ایک پوسٹ کا حوالہ دے دیں جہاں میں نے سورس نہ دی ہو۔میں آپکا انتہائی مشکور ہوں گا۔
    اردو مجلس غالباً نیٹ کی دنیا کا واحد فورم ہے جہاں بے تکی نہیں ہانکی جاتی اور شرافت و نجابت و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلاف کیا جاتا ہے۔ ہاں البتہ ان کی ذرا کھنچائی کرنی پڑتی ہے جو اس دائرے سے نکل کربات کرتے ہیں اور بار بار سمجھانے کے باوجود نہیں مانتے۔
    دوسرے یہ کہ آپ نے انتہائی حساس موضوع پریہ موضوع شئیر کیا ہے۔
    رہا آپ کا یہ فرمانا کہ اس پوسٹ میں ہی بے شمار حوالہ جات موجود ہیں تو میرے پیارے بھائی سوائے ایک حوالہ کے (وہ بھی نامکمل) مجھے تو کوئی حوالہ نظر نہیں آیا۔

    اس کے علاوہ تو مجھے سوائے ایک دونام کے کوئی سورس یا حوالہ نظر نہیں آیا۔
    برادر عکاشہ کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ازراہ کرم اپنا تعارف کروادیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    پاكستان ميں ریمنڈ ڈیوس کی قبيل كے کچھ (بلکہ كافى ) "غير ملكى" گھسے ہوئے ہیں، ان كے متعلق بھی ايك باحوالہ تحقيقى مضمون بزبان "انگریزى" كا انتظار رہے گا !
    ايك غير ملكى سفارتخانہ كئی ایکڑ پر مشتمل قلعہ نما عمارت تعمير كر رہا ہے، جو عالمى سفارتى آداب كے منافى ہے ، جس ميں ہزاروں كى تعداد ميں "غيرملكى " سٹاف ہے۔ اس كى مذمت ميں بھی ايك زوردار مضمون بھی ہونا چاہیے۔بزبان "انگریزی " ہو تو اور اچھا ہے۔
    ايك غير ملك کے ڈرون طيارے آئے روز غريب و لاچار پاكستانيوں كا لہو ناحق بہاتے ہیں ، یہ اس "انگريزى" یو اين چارٹر آف ہیومن رائٹس کے قطعا منافى ہے۔ ان كے خلاف كوئى "انگریزی" صدائے احتجاج كيوں نہیں اٹھتی۔
    انگریزی جاننے والے صرف " مخصوص نفع بخش موضوعات" پر كيوں لکھتے ہیں؟
     
  8. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    یہ‎ ‎ساری‎ ‎معلومات‎ ‎آپ‎ ‎کی‎ ‎اپنی‎ ‎اختراع‎ ‎ہیں‎ ‎یا‎ ‎پھر‎ ‎
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    آپ کس سے مخاطب ہیں ، ؟
     
  10. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    ہمارے کئی دوست احباب مغربی میڈیاء کی غلط رپورٹ سن کر اسے سچ سمجھ لیتے ہیں بلا تحقیق
     
  11. ranaawaiss

    ranaawaiss -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 25, 2010
    پیغامات:
    20
    jazakallah salman bahi
     
  12. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    صاحب تحریر سے۔۔۔
     
  13. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    یہ پڑہ لیں:
    حقانی نیٹ ورک،القائدہ اور طالبان مین رابطوں کی شراکت : اقبال خٹک ، سنٹرل ایشا آن لائن 2010-02-19
    کیا پاکستان دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے؟ ڈاکٹر طارق رحمن ایکسپرس ٹریبون،16-04-2011
    وزیرستان کی جنگ فیصلہ کن مرحلہ مین: رحیم اللہ یوسف زئی، اردو نیوز نیٹ
    غیر ملکی دہشت گرد !! اردو اسناف۔کام
    ڈیلی ڈان،، کامران خان ،ممبر پالیمنٹ، میران شاہ سے انٹرویو مورخہ
    2010-10-25
    انٹرویو سراج حقانی،لیتھ الخوری،البلاغ میڈیا، اپریل 14،2010
     
  14. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    یہ پڑہ لین،جناب:
    حقانی نیٹ ورک،القائدہ اور طالبان مین رابطوں کی شراکت : اقبال خٹک ، سنٹرل ایشا آن لائن 2010-02-19
    کیا پاکستان دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے؟ ڈاکٹر طارق رحمن ایکسپرس ٹریبون،16-04-2011
    وزیرستان کی جنگ فیصلہ کن مرحلہ مین: رحیم اللہ یوسف زئی، اردو نیوز نیٹ
    غیر ملکی دہشت گرد !! اردو اسناف۔کام
    ڈیلی ڈان،، کامران خان ،ممبر پالیمنٹ، میران شاہ سے انٹرویو مورخہ
    2010-10-25
    انٹرویو سراج حقانی،لیتھ الخوری،البلاغ میڈیا، اپریل 14،2010
     
  15. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    بھائی آپ یہ پڑہ لین:
    حقانی نیٹ ورک،القائدہ اور طالبان مین رابطوں کی شراکت : اقبال خٹک ، سنٹرل ایشا آن لائن 2010-02-19
    کیا پاکستان دہشت گردی کو شکست دے سکتا ہے؟ ڈاکٹر طارق رحمن ایکسپرس ٹریبون،16-04-2011
    وزیرستان کی جنگ فیصلہ کن مرحلہ مین: رحیم اللہ یوسف زئی، اردو نیوز نیٹ
    غیر ملکی دہشت گرد !! اردو اسناف۔کام
    ڈیلی ڈان،، کامران خان ،ممبر پالیمنٹ، میران شاہ سے انٹرویو مورخہ
    2010-10-25
    انٹرویو سراج حقانی،لیتھ الخوری،البلاغ میڈیا، اپریل 14،2010
     
  16. مشتاق احمد مغل

    مشتاق احمد مغل -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2007
    پیغامات:
    1,216
    برادر ریاض صاحب
    کیا آپ کی تحریر کے لئے یہی چار چھ لوگ ہیں۔
    اورکوئی نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
     
  17. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    ڈرون حملے، دھرنے اور دہشت... نجم سیٹھی



    فاٹا میں ڈرون حملوں کے خلاف عمران خان کے دھرنے کو اس کے حامیوں نے انتہائی کامیاب قرار دیا ہے، تاہم اُن کے سیاسی حریف اس سے کوئی زیادہ متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ اُن کا دعوی ہے کہ شرکا میں سے زیادہ تر کا تعلق قبائلیوں سے تھا جن کو ایجنسیوں والے یہاں تک لائے تھے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ بعد دوبارہ یہاں آئیں گے اور اُس وقت تک نیٹو کی سپلائی کو روکے رکھیں گے جب تک امریکہ ہمیشہ کے لیے ڈرون حملے بند کرنے کا وعدہ نہیں کر لیتا۔ اگر عمران خان اپنے الفاظ پر قائم رہتا ہے کہ وہ نیٹو کی سپلائی کو روکے گا۔۔۔ اگرچہ ہمیں اس میں شک ہے۔۔۔ اور اگر امریکہ اپنے الفاظ پر قائم رہتا ہے کہ وہ ڈرون حملے جاری رکھے کا۔۔۔ ہمیں اس میں بالکل شک نہیں ہے۔۔۔ تو ایسی صورت میں ہمیں ایک سنگین مسلےٴ کا سامنا ہو گا۔ اسی اثنا میں مناسب ہو گا اگر ڈرون حملوں کی سیاست کے بارے میں کچھ مناسب اور سنجیدہ سوالات سامنے لائے جائیں اور طالبان کی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر بھی بات کی جائے۔
    2004 سے لے کر2007 تک دس ڈرون حملے ہوئے جبکہ 2008 سے لے کر 2011 تک ان کی تعداد 226 بنتی ہے اور ان حملوں میں اب تک کوئی 2000 کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ میجر جنرل غیور محمود، جو شمالی وزیرستان میں ساتویں ڈویژن کی کمانڈ کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں بہت کم عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ 2010 میں شمالی وزیرستان میں القاعدہ عناصر کے خلاف 117ڈرون حملے ہوئے ، جبکہ حقانی نیٹ ورک جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی تخلیق ہے، کے خلاف 26 حملے کیے گئے۔ اس سال ہونے والے 21 حملوں میں سے 17شمالی وزیرستان میں القاعدہ جنگجووں کے خلاف کیے گئے اور یہ علاقہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی رسائی سے باہر ہے۔ تاہم کوئی بھی جنرل غیور کے حقائق پر مبنی تبصرے کو سننا پسند نہیں کرتا کیونکہ عوامی اور عمومی تاثر یہ دیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر بے گناہ شہری ہوتے ہیں۔ کیا یہی آزاد میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی مفاد کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکائے؟
    ڈرون حملوں کی بابت جذباتیت کا شکار ہوتے ہوئے پاکستان میں طالبان کی طرف سے متواتر اوروسیع پیمانے پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں 3000 سے زائد بم دھماکے اور دھشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں جن میں 35,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے مگر کوئی سیاست دان عوام کو یہ اعداد وشمار یاد نہیں دلاتا۔ طالبان نے50 سے زائد مزارات، مساجد اور دوسری عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔ ان مقامات ِ مقدسہ پر ہلاک ہونے والے زائرین اور عبادت گزاروں کی تعداد 1100 سے زائد ہے جبکہ 3000 کے لگ بھگ شدید زخمی بھی حیات و موت کی کشمکش میں ہیں۔ تاہم کوئی سیاست دان بھی انہیں عوامی یادداشت کے لائق نہیں سمجھتا۔ فاٹا میں 250 سکول اور کم بیش اتنے ہی سکول سوات میں طالبان نے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے، لیکن اس کی پروا کس کو ہے۔ پچھلے برس 80 کے قریب فوجی تنصیبات کو طالبان نے نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں پاک فوج کے جوان شہید بھی ہوئے مگر شہدا کی یاد کس کو ہے۔ گزشتہ برس بم حملوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری ہلاک ہوئے اور آج اُن کی قبروں ، ناموں اور خاندانوں کا بھی کسی پتا نہیں ہے۔ 2003 سے لے کر اب تک 10,000 شہری اور 3500 کے قریب فوجی اور پولیس مین طالبان کی بھینٹ چڑھ گئے مگر آج بھی بہت سے افراد اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اسلام کے مقدس سپاہی ہیں۔
    گزشتہ سوموار کو طالبان نے کراچی میں کچھ پاک بحریہ کے جوانوں کو ہلاک کر دیا اور فوراً ذمہ داری قبول کر لی۔ تاہم اُن کی مذمت کرنے کے لیے کوئی عمران خان نہیں تھا ، اور نہ ہی کوئی صحافی جو اُن کے گھناؤنے عزائم کو فاش کر دے۔ عمران خان کا کہنا ہے: ” مجھے وزیر اعظم بنا دیں تو میں تین ماہ میں یہ جنگ ختم کر سکتا ہوں“۔ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟وہ امریکہ سے تمام روابط ختم کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو کی سپلائی کوروک سکتا ہے، پاکستان میں موجود امریکی اڈوں کو بند کر سکتا ہے، تمام امریکیوں کو پاکستان سے بے دخل ہونے کا کہہ سکتا ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے کہہ سکتا ہے کہ یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر لیں۔ تب وہ طالبان کے ساتھ امن کا معاہدہ کر سکتا ہے۔ تمام مسائل ختم؟
    نہیں! ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ جب بھی امن کا معاہدہ کیا گیا، اُنھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سرزمین ِ پاکستان پر مزید قبضہ جما لیا تاکہ اسے اسلامی امارات بنانے کے منصوبے کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔ وہ جمہوریت کو نہیں مانتے، میڈیاکی آزادی اُن کو گوارہ نہیں، مغربی نظام انصاف اور سیاسی نظام اُن کے نزدیک کفر ہے۔ اسی دوران امریکہ اور مغربی دنیا پاکستان پر پابندی لگا کر بھارت کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ بجٹ بنانے اورفوج کے لیے جدید اسلحہ خریدنے کے لیے کوئی رقم نہیں ہو گی۔ تمام سرمایہ کاری دوسرے ممالک میں چلی جائے گی اور مہنگائی عوام کا گلا گھونٹ دے گی۔ تب طالبان ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے آموجود ہوں گے۔
    عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ڈرون حملے بند ہو جائیں تو طالبان ہتھیار ڈال کر تحلیل ہو جائیں گے۔ مگر ریکارڈ تو یہ بتاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں 2008 سے شروع ہونے والے ڈرون حملوں سے قبل تقریباً 4000 پاکستانی طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے تھے۔ پاک فوج کو عوام کے سامنے کھل کر اس مسئلے پر اپنی پوزیشن واضح کرنی ہو گی۔ کیا امریکہ کے ساتھ مشترکہ تعاون ہمارے مفاد میں ہے یا نہیں؟ اس کے بغیر ہم امریکہ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیسے نمٹیں گے؟امریکہ کے ساتھ سیاسی مخاصمت کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ سیاست دان اور فوج اس مسئلے پر کس قسم کا قومی اتفاق رائے قائم کرنا چاہتے ہیں؟
    امریکہ کے ساتھ محدود مفاد کی خاطر بگاڑ لینا اور پاکستان کا لامحدود نقصان کر لینا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا جب ہمیں عوامی غیظ و غضب کا بھی سامنا کرنا پڑا اور آخر میں شرمندگی کا بھی ۔ امریکہ سے ناطہ توڑنے کی پالیسی ناکام ہوئی ہے۔ان راہوں پر چل کر ہم اندرون ملک یا بیرون ملک دوست نہیں بنا سکتے اور دوستوں کی ہمیں شدید ضرورت ہے۔

    http://search.jang.com.pk/archive/details.asp?nid=525041
     
  18. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    استعفے کیوں؟...سویرے سویرے…نذیر ناجی



    دہشت گردوں سے بڑا مسئلہ وہ خودسر اور برخود غلط دانشور اور مبصر ہیں‘ جو معاملات کو سمجھے اور جانے بغیردہشت گردوں کی اندھا دھند حمایت کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ وہ مایوس اور باربار الیکشن ہارنے والے یا اقتدار کے ہجر میں مبتلا ”ڈرون سیاستدان“ ہیں‘ جن کا تکیہ کلام ”امریکہ“ بن چکا ہے۔ یہ لوگ نہ مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے ہیں اور نہ قومی مفادات کی پروا کرتے ہیں۔دہشت گردوں نے ہمارے معاشرے کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ اب تک 30ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں۔ ہماری کوئی مارکیٹ‘ بازار‘ سکول‘ ہسپتال‘ مسجد‘ بزرگان کرام کے مزارات‘ امام بارگاہ‘ غرض کوئی جگہ ایسی نہیں‘ جہاں انہوں نے بم چلا کر بے گناہوں کو موت کی نیند نہ سلایا ہو۔ اس دہشت گردی کے نتیجے میں ہمارے ہاں سرمایہ کاری بند ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے کاروباری لوگ خوفزدہ ہو کر ملک چھوڑ رہے ہیں۔ شہریوں کا احساس تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ لیکن وہ نام نہاد دانشور اور ”ڈرون سیاستدان“ اس کے باوجود انہی دہشت گردوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں‘ جو ہمارے دشمن ہیں۔کیونکہ بقول ان سب کے وہ امریکہ سے لڑ رہے ہیں۔ گویا امریکہ کی مخالفت کر کے دہشت گردوں کو حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ ہمیں بھی قتل کریں۔ مگر وہ کتنے امریکی مارتے ہیں؟ تناسب نکالا جائے‘ تو وہ ایک امریکی کو ہلاک کرتے ہیں اور 500 پاکستانیوں کو مار ڈالتے ہیں۔ دشمن وہ کس کے ہوئے؟
    جب حکومت پر جرنیلوں کا قبضہ ہوتا ہے تو یہ لوگ ان کے درباری بن جاتے ہیں۔ اس وقت 90 ہزار فوج ہتھیار ڈال دے‘ تو یہ استعفے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ میں یاد دلانا چاہوں گا کہ جب یحییٰ خان مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈال دینے کے بعد بھی اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کر رہا تھا‘ تو اس کا ساتھ دینے والی جماعت اسلامی تھی۔ اس وقت کے جماعت کے امیر نے یحییٰ خان کے آئین کو اسلامی قرار دے دیا تھا‘ جسے وہ عوامی نفرت کے طوفان کے آگے نافذ نہ کر سکا۔ پوری قوم یحییٰ خان سے استعفیٰ مانگ رہی تھی اور یہ اس کے ساتھ کھڑے تھے۔ ضیاالحق نے سیاچن کے سارے علاقے پر بھارت کا قبضہ کرا دیا تھا۔ اس وقت بھی یہ جنرل ضیا کے ساتھ کھڑے تھے۔ استعفیٰ ان سے بھی نہیں مانگا گیا۔ جب پرویزمشرف نے کارگل پر احمقانہ اقدام کر کے‘ اپنے جوانوں اور افسروں کو بھارت کے نرغے میں پھنسا دیا تھا‘ انہوں نے اس سے استعفیٰ نہیں مانگا۔ ان ساری مثالوں میں جو مشترک بات نظر آتی ہے‘ وہ صرف ایک ہے کہ تب جرنیل حکمران تھے اور انہیں اقتدار کے دسترخوان کی سہولتیں میسر تھیں۔ فوجی حکومتیں ختم ہوتی ہیں‘ تو اقتدار عوام کے ووٹ لینے والوں کو ملتا ہے۔ تب یہ جنرلوں کو ترغیب دینے لگتے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ اگر وہ ان کی مان کر اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں‘ تو یہ خوش رہتے ہیں۔ پچھلے تین سال سے یہ مسلسل دردمندانہ اپیلیں کر رہے ہیں کہ جرنیل آگے بڑھ کر حکومت کا بوریا بستر لپیٹیں اور اقتدار خود سنبھال لیں۔ اس بار ان کی سنی نہیں گئی اور جیسے جیسے منتخب حکومت کی عمر بڑھتی جا رہی ہے‘ ان کا صبر گھٹتا جا رہا ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا ورنہ یہ دہشت گردوں کی مدد حاصل کر کے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرتے۔
    اب میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ کچھ سیاستدان ایسے ہیں‘ جنہوں نے آئی ایس آئی سے رابطے کر کے یہ فرمائش کی کہ اقتدار انہیں دے دیا جائے‘ تو وہ مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ان کی نہیں سنی گئی۔ اور پھر کچھ دوسرے سیاستدان جو اسمبلیوں کے اندر ہیں وہ بھی حاضر خدمت ہوئے اور درخواست کی کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کی مدد کر دی جائے‘ تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ مایوسی کی حالت میں انہوں نے آئی ایس آئی یا فوج کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا۔ ایبٹ آباد کا آپریشن ہوا‘ تو ان لوگوں کو حساب چکانے کا موقع ہاتھ آ گیا اور وہ سارے عناصر جنہیں فوج نے مایوس کیا تھا‘ اس کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے کھڑے ہو گئے اور استعفوں کے مطالبے ہونے لگے۔ میں آپ کو یاد دلا چکا ہوں کہ انہوں نے مشرقی پاکستان ‘ بھارت کے قبضے میں دینے والوں سے استعفیٰ نہیں مانگا تھا۔ سیاچن گلیشیئر بھارت کے قبضے میں دینے والوں سے بھی استعفیٰ نہیں مانگا تھا۔ کارگل پر ذلت اٹھانے والے جنرل سے بھی استعفیٰ نہیں مانگا تھا بلکہ جب وہ اقتدار پر قابض ہوا‘ تو انہوں نے ووٹ دے کر اس کو جائز حکمران تسلیم کر لیا مگرجب دنیا بھر کو مطلوب ایک دہشت گرد کو اٹھانے کے لئے دو امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان میں آ گئے‘ تو ان کی خودمختاری اور غیرت خطرے میں پڑ گئی۔ اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں‘ وہاں تو خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا اتحادی ملک اپنے مجرم کو اٹھانا کے لئے آ جاتا ہے‘ تب ان کی خودمختاری پامال ہو جاتی ہے۔ درحقیقت یہ پورے پاکستان کو دہشت گردوں کے قبضے میں دینا چاہتے ہیں۔ مگر انشاء اللہ ایسا نہیں ہو گا بلکہ شمالی وزیرستان پر بھی دوبارہ پاکستان کی عملداری قائم کی جائے گی۔
    اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں بٹھا کر جبکہ وہ ساری دنیا کو مطلوب تھا‘ اگر ہم یہ واویلا کریں کہ ہماری خودمختاری مجروح ہو گئی‘ تو یہ بالکل ایسے ہے ‘جیسے کوئی اپنے گھر میں کسی قاتل یا ڈاکو کو چھپا لے اور جن کا قتل ہوا یا جن کے گھر ڈاکہ پڑا‘ وہ تعاقب کرتے ہوئے اس گھر میں گھس کر اپنے ملزم کو پکڑ لیں‘ تو گھر کا تقدس کیسے پامال ہو گیا؟ گھر کا تقدس تو اس ڈاکو نے پامال کیا‘ جو جرم کرنے کے بعد چھپنے کے لئے وہاں گھس گیا تھا اور اس تقدس سے گھر کامالک اس وقت دست بردار ہو گیا‘ جب اس نے ایک قاتل اور ڈاکو کو پناہ دے دی۔ اس کے بعد اسے رونے دھونے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ ہمارا رونا دھونا بھی اسی قسم کا ہے۔ نہ ہم اسامہ بن لادن کو چھپاتے۔ نہ ہم اس کے دہشت گرد ساتھیوں کو پناہ دیتے اور نہ ان کے تعاقب میں کوئی یہاں آتا۔ امریکیوں نے ایبٹ آباد میں آ کر ہمارا کچھ نہیں اٹھایا۔ وہ اپنا ملزم اٹھانے آئے تھے اور اٹھا کر لے گئے۔ ہمیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا۔ رہ گئی ہماری آزادی و خودمختاری‘ تو اسے ختم کرنے کی پہل اسامہ بن لادن نے کی تھی۔ وہ یہاں ویزا لے کر نہیں آیا تھا۔ اس کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کی ریاست پر نہیں تھی۔
    آج کل ایس ایم ایس کا طوفان آیا ہوا ہے۔ ایک ایس ایم ایس نقل کر رہا ہوں‘ جو ایک مخصوص ذہنیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے ”کیا پاکستان واقعی اتناکمزور ہے کہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا؟ ایران سے بھی زیادہ؟ شمالی کوریا سے بھی زیادہ؟ افغان طالبان سے بھی زیادہ؟ اگر نہیں تو کیا ہمارے حکمران غدار ہیں؟ بزدل ہیں؟ یا پاکستانی بھی نہیں ہیں؟ اگر نہیں ہیں‘ تو امریکی ہمارے ملک میں کیسے گھس آئے؟“ آخری سوال کا جواب تو میں دے چکا ہوں۔ وہ اسامہ بن لادن کے تعاقب میں گھس آئے اور جن ملکوں کی پیروی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے‘ ہمارے عوام ان حالات میں چار دن نہیں رہ سکتے‘ جن حالات میں وہاں کے عوام زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس غیرت کا کیا فائدہ؟ جہاں نہ شہری حقوق حاصل ہوں۔ نہ لکھنے اور بولنے کی آزادی اور نہ ہی عزت اورجان کا تحفظ۔ آخر میں ملا عمر سے ایک گزارش ہے کہ وہ اپنی آزادی کی جنگ اپنے ملک میں بیٹھ کر لڑیں۔ ہوچی منہہ‘ ماؤزے تنگ اور فیڈل کاسٹرو نے اپنی جنگ وطن کے اندر رہ کے لڑی تھی۔ فلسطینی مجاہدین‘ امریکی پٹھو اسرائیل کے ظلم کا مقابلہ اپنے وطن میں رہ کے کر رہے ہیں۔اگر ملا عمریہیں رہے‘ تو امریکی ان کے پیچھے بھی آئیں گے اور ہماری خودمختاری ایک بار پھر مجروح ہو جائے گی اور چونکہ پاکستان میں فوج کی حکومت نہیں‘ اس لئے چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی چیف سے استعفے بھی مانگے جائیں گے۔

    http://search.jang.com.pk/print.asp?nid=527817&param=tbl
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں