شاہ جہاں اور تاج محل

محمد عرفان نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏مئی 1, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    شاہ جہاں اور تاج محل
    ابن انشاء​


    شاہ جہاں جہانگیر کا بیٹا اور اکبر کا پوتا تھا کسی عمارتی ٹھیکیدار کا نور نظر نہ تھا نہ کسی پی ڈبلیو ڈی والے کا مورث اعلی تھا جیسا کہ لوگ اسے اتنی ساری عمارتیں بنانے کی وجہ سے سمجھ لیتے ہیں ۔

    تاج محل اس کی بنائی ہوئی عمارتوں میں سب سے پہلے زیادہ مشہور ہے اس کی تعمیر میں بھی اتنے ہی برس لگے جتنے قائد اعظم محمد علی جناح کے مقبرے کو لگے تھے، اگر کوئی فرق ان دونوں مقبروں کی خوبصورتی اور تعمیر میں ہے تو اس کی وجہ ظاہر ہے شاہجہاں کے زمانے تک تعمیر اور نقشہ سازی میں اتنی ترقیاں نہ ہوئی تھی پتھر وغیرہ ڈھونے گھسنے چمکانے وغیرہ کے طریقے بھی پرانے اور دیر طلب تھے مشینی گاڑیاں اور بجلی کی سریع الرفتار مشینیں بھی ایجاد نہ ہوئی تھیں۔

    ایک بات یہ بھی ہے کہ قائد اعظم کروڑوں آدمیوں کے محبوب تھے جبکہ ممتاز محل صرف ایک شخص کی محبوبہ بایں ہمہ اس زمانے کے اعتبار سے ہم تاج محل کو بہت اچھی عمارت کہہ سکتے ہیں ۔

    شاہ جہاں بہت دور کی نظر رکھتا تھا تاج محل نہ ہوتا تو آج بھارت کی ٹورسٹ انڈسٹری کو اتنی ترقی نہ ہوتی، اتنا زرمبادلہ نہ حاصل ہوتا اس کے دیگر نتائج بھی دور رس ہیں تاج محل نہ ہوتا تو تاج محل بیٹری بھی نہ ہوتی تاج محل چپل بھی نہ ہوتی تاج محل مکھن نہ ہوتا جو صحت بخش اجزا کا مرکب ہے اور جسے تیاری کے دوران میں ہاتھوں سے نہیں چھوا جاتا، حتٰی کہ کپڑے دھونے کی خاطر تاج محل صابن بھی نہ ہوتا یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ تاج محل نہ ہوتا تو لوگ کیلینڈروں پر تصویریں کس چیز کی چھاپتے ۔

    شاہجہاں نے کئی مسجدیں بھی بنائیں موتی مسجد اور دلی کی جامع مسجد وغیرہ لال قلعہ بھی بنایا۔ بہادر شاہ ظفر اسی میں مشاعرہ وغیرہ کرایا کرتے تھے تخت طاؤس بھی شاہجہاں ہی نے بنایا تھا اس میں اپنی طرف سے ہیرے جواہر وغیرہ جڑے تھے لیکن اس کے جانشینوں کو پسند نہیں آیا محمد شاہ نے اسے اٹھا کر نادر شاہ کو دے دیا وہ ایران لے گیا اور اس کا کھوپرا کھا لیا ۔

    شاہجہاں کا زمانہ امن کا زمانہ تھا پھر بھی اس نے چند فتوحات کر ہی ڈالیں تاریخوں والے لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں چوری چکاری بھی نہیں ہوتی تھی رشوت خوری بھی نہ تھی خدا جانے اس زمانے کے اہلکار کیا کھاتے ہوں گے ۔

    جہانگیر کا مقبرہ بھی شاہجہاں نے بنایا تھا یہ قیاس کرنا غلط ہے کہ شیر افگن نے بنوایا ہو گا ۔


    تحریر : ابن انشاء
     
  2. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,024
    انتہائی قابل غور اور مزاح سے بھرپور تحریر ہے۔
    ابن انشاء کا یہی انداز مجھے بہت پسند ہے۔ مختصر لفظوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے ہیں اور وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں۔ شکریہ بھائی
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    بہت خوب ۔ تاج محل نہ ہوتا تو وہاں کے مسلمان لیڈر الیکشنز میں تاج محل کی مسلمانوں کی طرف نسبت پر فخر نہ کرتے ۔ گویا ایک قبر کاروبار کا ذریعہ بن گئی ۔ بھلا یہ بھی فخر کرنے کی بات ہے ۔
     
  4. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    اچھی تحریر ہے
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مزاح اچھا ہے۔
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    انشاجی کی نثراپنی نوعیت کی ہوتی ہے۔
     
  7. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    ان احمق مغلوں نے اسلام کی تو کوئی خدمت نہیں کی ،صرف شراب اور کباب میں مگن رہے اور اپنی عیاشیوں کی یادگاریں بناتے رہے جس زمانے میں یہ تاج محل بن رہا تھا اسی زمانے میں یورپ اور برطانیہ اور امریکہ صنعتی میدان میں ترقی کر رہے تھے اور یونیورسٹیاں بنا رہے تھے اور مسلمان قلعے اور اپنی محبوباؤں کے مقبرے بنانے میں مصروف تھے جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں
     
  8. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    شیئرنگ کا شکریہ بھائی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں