دوسروں کی قدر کرنا سیکھیئے

ابو عبداللہ صغیر نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مئی 14, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔

    تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔

    کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔

    گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔

    گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،

    مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔

    کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔

    ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔

    کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔

    فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔

    ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟

    خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟

    بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟

    خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔

    بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    میرا پیغام

    ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔

    ربط
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟
    اچھی بات ہے
    بہت اچھا تھریڈ ہے
     
  3. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    بہت خوب
    کاش ہم دوسروں کی قدر کرنا سیکھ جائیں
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492

    خوب صورت پیغام ۔

    بہت اچھی شئیرنگ ہے۔، ليكن اگر یہ بيوى صحيح معنوں ميں گھر اور بچوں كى قدر كرتى تو گھر كا يہ حال نہ ہونے ديتى ، ميرا نہیں خيال كوئى ماں يہ برداشت كر سكتى ہے کہ اس كے دل کے ٹکڑے چند لمحوں کے لیے بھی گندے رہیں یا گندی مٹی ميں کھیلیں ۔اپنا گھر بھی عورت کے لیے ایک جنت سے کم نہیں ہوتا ۔

    کاش کہ ہم اپنے گھر پاکستان اور اسكے محافظوں كى بھی قدر كريں ۔ :00002:

     
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت زبردست پیغام۔ بعض اوقات دوسرے بھی اپنی محنت کا صلہ پانے کے لیے ہمارے منہ سے کچھ حوصلہ افزائی کے کلمات سننے کے منتظر ہوتے ہیں، جسکا ہمیں‌ خود خیال رکھنا چاہیے۔ مثلا کسی کو کوئی خوشی ملی ہے، کسی نے کوئی انوکھا کام کیا ہے، تھوڑی بہت حوصلہ افزائی لازمی ہوتی ہے۔
     
  6. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    بہت خوب بھائی۔۔۔ایک انتہائی اہم نقطہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔۔۔
    کہتے ہیں ’’اس لئے کہ ابھی ہمارا کوئی تجربہ نہیں آئی مین شادی وغیرہ کا‘‘ کہ بیوی کی قدر کرنا سیکھو کیونکہ آپ کے گھر کی رونق آپ کی اہلیہ کے مرہون منت ہے ۔۔۔۔۔ یہ سارا کچھ بیوی نے اپنے خاوند کو احساس دلانے کیلئے کیا تاکہ اسے اس چیز کا بخوبی اندازہ ہوجائے کہ ایک گھر کی رونق اور بہتری میں ایک بیوی کا کتنا رول ہوتا ہے۔۔۔۔بغیر اہلیہ کے تو گھر ، گھر نہیں چوراہا سمجھا جاتا ہے ۔۔اور بالخصوص ہم خوب جانتے ہیں کہ عورت کے بغیر ایک مرد کتنا ادھورا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔طوالت کے خوف سے ہاتھ روک لیا نہیں تو ابھی۔۔۔۔۔۔۔تو
     
  7. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    میں آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا سسٹر یقین جانیے میں خود یونسیف کے سٹاف کے ساتھ کئی دیہاتوں میں گیا ہمارے ساتھ جو فی میل سوشل آرگنائزر تھیں ۔وہ دہیاتی عورتوں کو صحت و صفائی کے بارے میں‌ سمجھا سمجھا کے تھک جاتی تھیں لیکن اُن عورتوں پر کوئی اثر نہ پڑتا۔بلکہ الٹا وہ کہتیں (سرائیکی زبان میں

    وجوں وے وجوں وڈے نخرے باز آگیو تہاڈے تاں پکے مکان ہن تے نخرے ڈیکھیدوں تہاڈے بال وی اساں غریباں دے بال آلی کار ہون ہا تاں تہاڈے کنوں پوجھوں ہا کہ کیوے مٹی اچ کم کریندے۔۔۔۔۔وجوں اپنی تنخواہ گھنو تے دفع تھیو اتھوں۔

    اب آپ بتائیں کہ کیا میں‌نے ٹھیک کہا۔؟ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔اور ہر کسی کی سوچ بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔
     
  8. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    ابو عبد اللہ صغیر بھائی عمدہ شیرنگ
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
     
  9. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    ابو عبداللہ بھائی آپ کا پیغام ماشاءاللہ بڑا زبردست اور خوبصورت ہے اور قابل تحسین ہے
     
  10. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    بھائی میڈے اے گل تہاڈی بلکل ٹھیک ہے ساڈے علاقہ وچ وی اس قسم دے لوک موجود ہن جیڑے ہنڑ تک وی صفائی ستھرائی کوں پیسے والے لوکاں کا کم سمجھیندے ہن اللہ انہاں کوں ہدایت ڈیوے آمین
     
  11. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    بہت خوب۔ جزاک اللہ خیرًا
     
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یہ معاملہ صرف عورت یہ صرف مرد کے ساتھ نہیں‌، نو بڑی از پرفیکٹ ان تھز ورلڈ، اللہ نے ہر کسی کے ساتھ اچھائیاں‌اور خامیاں‌لگادی ہیں کہ اسکے اندر تکبر پیدا نہ ہو، اگر کوئی بہت ہی سلیقہ مند عورت ہو لیکن ہوسکتا ہے کہ اسکے اندر کچھ ایسی خامیاں‌ہو، جو کہ اس سلیقہ مندی کے مقابلے میں‌کئی گنا زیادہ اہم ترین تھیں، یا پھر کوئی مرد اپنے پروفیشنل لائف میں‌کس بھی قدر کامیاب اور سلیقہ مندہو لیکن اپنی ذات کے بعض‌شعبوں‌کی حد تک وہ ہوسکتا ہے کہ بالکل ہی زیرو ہو۔۔۔ہر چیز بیالنس کی متقاضی ہے، اور گھرمیں‌بھی اگر بیالنس ہوجائے، اور اگر کچھ خامیاں‌ہیں اور اگر اس خامیوں‌کے ساتھ اسکے اندر بہت سی اچھایاں‌ہوں‌تب ان خامیوں‌کی آہستہ آہستہ اصلاح‌ہوسکتی ہے کہ جس کسی نے محسوس کیا کہ اس گھر میں‌خامی ہے، اس عورت میں کمی ہے، بد سلیقگی ہے، تب اس دکیھنے اور پرکھنے والی آنکھ بھی کئی شعبوں‌میں کمتر یا ہوسکتی ہے۔بس نیک ٹو نیک کوئی بھی نہ جائے، بلکہ ہر گھر اور ہر فرد کی حیثیت کے مطابق اسکو اصلاح اور بیالنس کے ایک درمیانی راستے میں‌سفر کرنا چاہئے۔اور ہر گزرنے والا لمحہ اصلاح اور بہتر سے بہتر کی جانب سوچے اور یہ سوچ مثبت اقدار کی حامل ہو۔
     
  13. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    ابو عبد اللہ صغیر بھائی بہت پیاری شیئرنگ کی ہے
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں