ظلِ سبحانی اور محبوبِِ سبحانی

خالد کیانی نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مئی 15, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. خالد کیانی

    خالد کیانی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    19
    ظلِ سبحانی اور محبوبِِ سبحانی

    مسلمان حکمرانوں نے جب غیر اسلامی طرزحکمرانی اختیار کیا تو اسلامی روح غائب ہوتی گئی اور دین ودنیا میں دوریوں کی خلیج وسیع ہونی شروع ہوئی اسلام ایک دین ہے اس کا نعرہ صرف ایک ہی رہا ہے کہ دنیا اور آخرت ایک وحدت ہے دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور آخرت اس کی جزا ہے لہذ ا لازم ہے کہ اللہ تعالی کے قوانیں کے مطابق دنیا کا نظام قائم کیا جائے اور انسانوں کی اجتماعی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے عالمگیر نظام کے تابع کیا جائے اس طرح جو اسلامی ریاست قائم ہوگی وہ اسلامی شعائر کی سر پرستی کرتے ہوئے اجتماعی نظام زندگی کو شریعت الٰہی کی پابند بنادے گی ۔مختصر الفاظ میں ہم یو ں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تبارک تعالٰی کی حاکمیتِ اعلیٰ کو پوری زندگی اور ریاست کے پورے نظام پر تسلیم کیا جائے یہی دین ہے

    لیکن حکمرانوں نے نظام دنیا کو آخرت سے الگ کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا جس میں اہل سیاست تو دنیا کا نظام سنبھا لیں اور نماز و روزہ وغیرہ کو ارباب مذہب ِ کے سپرد کردیا جائے جو انسان کی انفرادی زندگی تک ہی محدود رہے یعنی گھروں کی چاردیواری واحاطہ مساجد کے اندر ہی مقید ہو جائے حکمرانوں کے لیے دین کی مداخلت سے نجات پانے کا اس سے آسان طریقہ اورکوئی نہیں تھا ۔اس سے شہنشائیت و آمریت نے جنم لیااسلامی تاریخ کا یہی سیاہ ترین موڑ ہے جہاں سے دین و دنیا الگ ہوئے۔اور پھر دین کی چند باتوں کو اپنا کر اس کے اجتماعی نظام کو ہمیشہ کے لیے سلا دیا گیا اور یہ چند باتیں مذہب قرار پائیں اب مذہب اور سیاست میں ایک سمجھوتہ طے پا گیا۔جس کی روح سے مذہب نے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کر لیا جس کے عوض انہیں بڑی بڑی جاگیریں، عیاات اور وظائف ملنے شروع ہوئےپس ایک طرف حکمران آمریت کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو کر "ظلِ سبحانی" یعنی اللہ کا سایہ کہلانے لگے دوسری طرف اہلِ مذاہب نے "محبوبِِ سبحانی" ایجاد کرنے شروع کر دیے۔ دونوں ہی اپنی اپنی دنیاؤں کے مطلق العنان بادشاہ قرار پائے۔ ظلِ سبحانی کی دنیا و آخرت میں کامیابیوں کا راز محبوبِِسبحانی کی دعاؤں اور نظرِکرم کے ساتھ مشروط ہو کر رہ گیا اور اس طرح عوام پر صوفیاءاور حکمرانوں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہونے لگی پھر ان دونوں کا حکم عوام الناس کے لیے حکمِ الہیٰ قرار پایا۔ بادشاہوں کی زندگیاں اگرچہ سراسر غیر اسلامی تھیں (سوائے چند ایک کے) لیکن ان میں ہر ایک پیرِطریقت کا مرید ہوتا تھا وہ اسلام کا نام لے کر حکومت کرتے تخت نشین ہوتے ہی اسلامی روایات کے مطایق بیعت لیتے اور دین کے حامی بننے کے لیے کوئی لقب اختیار کرتے جیسے جلال الدین قطب الدین شمس الدین وغیرہ۔ پھر اس کے بعد ساری زندگی عیاشیوں میں گزارتے مال و دولت کی فراوانی ہوتی اکبر کی وفات پر اس کے ذاتی خزانے میں اسی من سونا اور ان گنت روپے تھے ایک بادشاہ سلامت نے اپنی بیگم کی یادگار تعمیر کرنے کے لیےبیس ہزار انسان کام پر لگائےجو پورے بائیس سال تک کام کرتے رہے تب جا کر تاج محل آگرہ مکمل ہوا جو اس وقت ہندستان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن افسوس دین کو غالب کرنے کے لیے بائیس روپے بھی خرچ نہ کیے۔ تخت شہنشاہی کے سامنے سجدے کیے جاتے اکبر کو قبلۂ حاجات قرار دے کر اس کے سامنے سجدہِ تعظیمی کو علماء نے جائز قرار دے دیا
    صرف مجددالف ثانی وہ انقلابی شحصیت تھے جنوےں نے سجدہ تعظیمی کے خلاف جرات مندانہ موقف اختیار کیالیکن شہنشائیت یا ملوکیت کے بارے میں وہ بھی خاموش ہی رہے شاہد کہ دورِاستبداد کا یہی تقاضا تھا زمیں پر بندوں نے خودمختاری کا اعلان کر دیا فطری طور پر حل طلب معاملات کے لیے حکمران اور فوق الفطری معاملات کے حل کے لیے صوفیا ءکی طرف رجوع کیا جانے لگااس ہجوم میں عام انسان حالقِ کاہنات سےکٹ گے اور پھر تمام ملکی اداروں کی غیر اسلامی بنیادوں پر تشکیلِ نو ہونے لگی جس کے نتیجے میں اغیار کی بالا دستی قائم ہونا شروع ہوئی۔
    ان کی حکمت عملی سے مسلم معاشروں میں مسلمان حکمرانوں کے علاوہ کچھ اور عناصر بھی شامل ہوتے رہے جو کافروں کے مقاصد کو پوراکرتے رہے پھر اس طرح حب دنیا کی اک لہر چل پڑی جس کی دلفریب روشنی نے مسلم معاشرے پر مکروفریب 'خوشامد،وچاپلوسی، دین فروشی ،ملت فروشی، ریاکاری ،نفاق اور جہاد سے دوری جیسی تباہ کن اخلاقی بیماریوں کو مسلط کر دیاان حالات میں اللہ تعالٰی کے کچھ مجاہد بندے میدان میں آتے رہے اور پوری قوت کے ساتھ کافروں کے نظاموں سے ٹکراتے رہے اور ساتھ ہی یہ مطالبات بھی کرتے رہے کہ حکمران وہی طریقہ حکمرانی اختیار کریں جو نبیﷺ اور خلفاء راشدیں رضی اللہ عنہم نے اختیار کیا تھا
    جذبہ جہاد کو بیدار کریں
    مسلمان اپنے اسلامی نظام زندگی کی طرف واپس لوٹ آئیں ​
    اور جن غیر اسلامی نظریات نے بدعات و خرافات کی صورت میں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے چشمہ صافی کو گدلا کر رکھا ہے اسے اسلام کے جسم اطہر سے الگ کر دیا جائے ان مطالبات کو مختصر الفاظ میں ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ لوگو قرآن وسنت کی طرف واپس لوٹ آؤ اور اقبال کے الفاظ میں "بھٹکے ہوئےآہو کو پھر سوئےحرم لے چل"
    جب اس آواز میں قوت شامل ہوتی ہے تو اسے تحریک کا نام دیا جاتا ہے۔اور جب کمزور پڑتی ہے تو بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کا مطالبہ کہلاتی ہے کیونکہ کا فروں کو اس بات کا یقین ہے کہ اگر مسلمان اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے تو پھر دنیا پر ان کی بالا دستی کو روکنا ممکن نہیں رہے گا۔لہذا انہوں نے ہر دور میں ان تحریکوں کا راستہ روکاہے اور روک رہیں ہیں‎
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ دین کے لیے لڑنے والوں کی مدد فرمائے اور ان کے ذریعے تمام امت کو کافروں کے نظاموں ان کی تہذیبوں اور ان کے ظلم سے نجات عطا فرمائے اور ہماری اس جان کو اپنے دین کے لیے قبول فرمائے
    آمین


    ماخوذ ( اٹھتے ہیں حجاب آخر)‎
     
  2. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925

    سب سے پہلے لوگوں کو اک اچھا مسلمان بنائیں پھر حالات اچھے ہو سکتے ہیں
     
  3. قاسم

    قاسم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 29, 2011
    پیغامات:
    875
    ماشااللہ
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں