عشق و محبت کے نقصانات

ام ھود نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مئی 27, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    دینی نقصانات
    1)

    شرک کا ارتکاب:

    عجیب تماشا عشق دیکھا الٰہی تیری دنیا میں
    تیرے ہی ایک بندے نے تیری یاد سے غافل کر دیا​

    عشق جب حد سے بڑھ جائے تو یہ شرک بھی بن جاتا ہے شرک جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور جس سے بچنے کی تلقین کی ہے اور جسے انسان اور جنت میں داخلے کے درمیان رکاوٹ بنایا ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا:

    (وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ ِانَّہُ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن)
    (اور شیطان کے پیچھے نہ لگ جاؤ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے )(البقرہ168)
    (انَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَار)
    (جو شخص اللہ سے شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اسکا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار بھی نہ ہو گا)(المائدہ72)
    (حُنَفَاء لِلَّہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ وَمَن یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاء فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ)
    (اللہ کے لیے یکسو ہو جاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کوشریک بنایا تو وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرے پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور دراز مقام میں پھینک دے )(الحج31)


    آئیے ہم دیکھیں کہ ہمارے معاشرے کی کن چیزوں سے یہ شرک ظاہر ہوتا ہے؟
    ایک گانے میں شرک کی انتہا ہے کہ'' تو ہی میری چاہت تو ہی اپنا پرایا ،اور کچھ نہ میں جانو بس اتنا ہی جانوں تجھ میں رب دکھتا ہے یارا میں کیا کروں''اس کے علاوہ شاعر نے کہا:
    اسے کہنا قسم لے لو تمہارے بعد اگر ہم نے،کسی کا خواب دیکھا ہو،کسی کو ہم نے چاہا ہو،کسی کو ہم نے سوچا ہو،کسی کی آرزو کی ہو،کسی کی جستجو کی ہو،کسی کی راہ دیکھی ہو،کسی کا قرب مانگا ہو،کسی کو ساتھ رکھا ہو،کسی سے آس رکھی ہو،کوئی امید باندھی ہو،کوئی دل میں اتارا ہو،کوئی گر تم سے پیارا ہو،کوئی دل میں بسایا ہو،کوئی اپنا بنایا ہو،کوئی روٹھا ہو اور ہم نے اسے رو رو کر منایا ہو،دسمبر کی حسین رات میں کسی کا ہجر جھیلا ہو۔کسی کی یاد کا موسم میرے آنگن میں کھیلا ہو،کسی سے بات کرنے کو کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں،کسی کی بے وفائی پر کبھی یہ آنسو برسے ہوں،اسے کہنا قسم لے لو ،اسے کہنا قسم لے لو۔

    اے امت مسلمہ کے نوجوانوں…!!یہ واضح اور صریح شرک ہے اور غیر اللہ کی عبادت ہے جو لوگ اس وہم میں مبتلا ہوئے اکثر کا یہی حال ہے چاہے وہ زبان سے اسکا اقرار کریں یا نہ کریں… بلکہ اکثر لوگوں نے تو اقرار بھی کیا یہ شعر مشہور ڈائجسٹ میں شائع ہوا ۔اور یہ بیہودہ ڈائجسٹ ہی امت مسلمہ کے نوجوانوں کے دل دماغ میں زہر گھول رہے ہیں …کیا یہ سچ نہیں کہ مسلمان نوجوان اپنا فارغ وقت ان فضولیات کو پڑھنے میں گزارتا ہے …فارغ اوقات میں یہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا بن جاتے ہیں…حتیٰ کہ خواتین …وہ خواتین …جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس نسل کو اسلامی راہ پر چلاتیں…جو اس نسل میں طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم بناتیں …وہ خواتین بھی اس گندے جوہڑسے زمزم تلاش کرتی نظر آتی ہیں…

    ایک شخص کہتا ہے:
    ''اے میری محبوبہ …اے سب سے پیارا نام جو پیدائش سے لے کر اب تک میری زبان نے ادا کیا …تو ہی سب سے حسین چیز ہے …جسے میری آنکھوں نے روشن ہونے کے بعد دیکھا …تو وہ نشانیوں سے اچھی نشانی ہے… تو میرے لیے اسی طرح حسین ہے …اور اسی طرح طرح رہے گی … حالات چاہیں یا نا چاہیں… میں تجھے کہتا ہوں کہ میں تجھ سے محبت کرتا رہوں گا… تجھے کبھی بھی کسی بھی حالات میں نہیں بھول پاؤں گا… سوائے اسکے کہ موت بھلا دے… اگر میری زندگی رہی… تو میں تیرے سے زندہ رہوں گا… تو میری زندگی ہو گی… اسکی خوشیاں اور خوشبوئیں تم ہو گی …میرے دل کی دھڑکن ،میری بصارت کی آنکھیں… تم ہو مجھے خوشیاں ملنی ہوںگی تو تم سے ہی ملیں گی …تمہاری معصوم مسکراہٹ میرے لیے خوشی کا باعث ہو گی… میری محبوبہ میں تم سے الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا… جس طرح تم نہیں کر سکتی…۔تمہارے بغیر زندگی کا کوئی رنگ و روپ نہ ہو گا…زندگی میں رونق نہ ہو گی… اس کے سارے فائدے تمہارے بغیر ختم ہو جاتے ہیں… اس کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے… تمہارے بغیر میرے لیے موت اور زندگی برابر ہے …لیکن میں کیا کر سکوں گا… اگر ہماری تقدیروں میں جدائیاں لکھی ہوں گی…''
    اس سے مرتے دم تک محبت کرے گا اور وہ اسے ہر گز نہ بھلا پائے گا چاہے کچھ بھی ہو جائے گا ہوی اسکی دل کی دھڑکن ہے اسکا خون ہے اسکی آنکھیں ہے …

    مجھے یہ بات سن کر حدیث قدسی یاد آ جاتی ہے جس میں اللہ فرماتا ہے ((وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتیٰ احبہ،فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ،وبصرہ الذی یبصر بہ))(البخاری)

    ایک اور شاعرہ کہتی ہے :
    ''اے میرے محبوب تم کہاں ہو ،کیا اتنی دوری کافی نہیں…؟اللہ کی قسم میں تو تمہیں ہر وقت اپنے ساتھ ہی تصور کرتی ہوں …دن میں تم ہی میرا سورج ہو …اور رات میں میرا چاند ہو…اللہ کی قسم… تم ہی میری دنیا ہو …اور تم ہی میری آخرت…اے زمانہ…تجھے دنیا کی…آسمان اورستاروں کی قسم… مجھے اس محبوب کے بارے میں بتاؤ …جو اب تک لوٹ کر نہیں آیا…''

    دیکھیے کس طریقے یہ لڑکی عشق کے دھوکے میں مبتلا ہوئی ہوئی ہے… ۔عشق بھی ایسے شخص سے جو اب تک لوٹ کر نہیں آیا ……نہ ہی آئے گا… !!جب کہ لڑکی نے تو اسے اپنی دنیا آخرت سورج چاند بنایا ہوا ہے… بلکہ وہ تو ہر وقت ہر جگہ اسی کے ساتھ ہوتا ہے… ،اللہ رب العزت کی قسم… ،مجھے بتائیے کہ اگر اتنی محبت …تعظیم… اور مراقبت… اپنے معشوق سے کر دی تو اللہ کے لیے کیا رہ جائے گا…؟؟!!

    ایک اور شاعر کہتا ہے:
    کون ہو تم…،میری انتظار کی راحت ہو تم…،میرے دل کی چاہت ہو تم…،تم ہو تو یہ دنیا ہے…،میں کیسے کہوں کون ہو تم…،چلو میں بتاوں کہ کیا ہو تم…؟چھو کر جو گزر جائے وہ ہوا ہو تم…،میں نے جو مانگی وہ دعا ہو تم…،کر دے جو مجھ کو روشن وہ دیا ہو تم…،،فضا میں مہکتی اک شام ہو تم…،پیار میں چھلکتا جام ہو تم…،میری زندگی کا دوسرا نام ہو تم…،بجھتی زندگی کی سانس ہو تم…،پھر کیسے نہ کہوں میری جان ہو تم…۔

    جو شخص اپنے محبوب کو ہی اپنی زندگی کی ہر چیز بنا لے… اسے ہی زندہ رہنے کا سبب تصور کر لے…اس کے دن اسی سے روشن ہوتے ہوں… تو ایسے شخص کو اللہ سے تعلق قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو گی… کیونکہ مومنین کی تو یہ محبتیں اللہ سے جڑی ہوئی ہیں…اور صحابہ بھی اپنی ایسی محبتیں رسول اللہ ۖسے کرتے تھے …انہیں دیکھ کر سکون حاصل کرتے تھے …آج کا نوجوان ان چیزوں میں گم ہو گیا ہے …تبھی تو امت تباہی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے…

    ایک اور میسج جو اکثر نوجوانوں کے موبائیلز میں پایا جاتا ہے:
    تیرے سوا…نہیں اور کچھ بھی'' تیرے سوا ''،میری دوستی،میری زندگی،میری خاموشی ،میری بے بسی،میرا علم بھی،میرا نام بھی،کہ میری صبح بھی ،میری شام بھی ،کچھ نہیں ہے'' تیرے سوا''،میں نے پھر بھی مانگی یہی دعا کہ گواہی دے گا میرا خدا میں نے جب بھی اس سے طلب کیا!!نہیں مانگا کچھ بھی'' تیرے سوا''

    غور و فکر کرنے والوں کے لیے ایسی محبت پر لکھے گئے اور بہت سے اشعار ہیں …شعر وشاعری ،شرکیہ الفاظ سے بھرے قصیدے کفریہ باتیں اور اردو ادب سب ہی ایسی باتوں سے بھرا ہوا ہے ۔)
    2
    حقوق اللہ کی ادائیگی میں سستی:
    ایسی محبت کرنے والا اگر شرک میں مبتلا ہو جانے سے بچ جائے تو اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکتا ،ایسی محبت میں مبتلا ہونے والا اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔بلکہ بعض حقوق تو بالکل ہی ادا نہیں کر پاتا۔اس وجہ سے اس کے دن و رات اللہ کے غضب میں گزرتے ہیں ،
    عام طور پر ایسے لوگ نماز میں سستی کرتے ہیں جو کہ دین کا ستون ہے ،اس کو بوجھ سمجھتے ہیں ،وقت سے تاخیر کر کے بغیر خشو ع خضوع کے ادا کرتے ہیں بلکہ بعض بد نصیب تو نمازیں پڑھنا چھوڑ ہی دیتے ہیں جو کہ کفر کی علامت ہے جیسا کہ نبی ۖ نے فرمایا ((آدمی اور شرک و کفر میں فرق کرنے والی چیز نماز ہے ۔))کیونکہ ان کو اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ اپنے محبوب ،محبوبہ کا خوف رہتا ہے…

    3)حقوق العباد کی ادائیگی میں کمی:
    اور اسی طرح اس مرض میں مبتلا فرد اپنے والدین کے حقوق اس طرح ادا نہیں کر پاتا جیسا اللہ رب العزت نے اسے حکم دیا ہے ۔ان کی نافرمانی بھی اس مرض میں مبتلا ہونے سے ہوتی ہے ۔ماں یا باپ پڑھائی کی طرف توجہ دینے کا کہتے ہیں یا فون پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں اور رات کو جلدی سونے کا حکم دیتے ہیں لیکن ایسے فرد کے لیے ان کے اوامر و نواہی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔مجھے بعض نے بتایا کہ وہ گھنٹوں گھنٹوں فون پر باتیں کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ انکے والدین انہیں ڈانٹتے ہیں لیکن انہیں والدین کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی حالانکہ والدین کی رضامندی میں اللہ کی رضامندی ہے اور ان کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے ۔


    اقتباس من کتاب

    عشق ومعشوقی
    (نقصانات،اسباب اور علاج)

    مرضِ عشق کی دوا!!!!


    مؤلف::
    الشیخ محمد بن عبدالعزیز المسند(حفظہ اللہ)
    الشیخ مصلح بن زوید العتیبی(حفظہ اللہ)
    ترجمہ و اضافہ::
    سیدة عمارہ شفيق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    اللہ تعالى سيدہ عمارہ شفيق اور بنت الاسلام سسٹر كو جزائے خير دے ۔ بہت اچھا ترجمہ ہے۔ [​IMG]
     
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    جزاکم الله خيرا وبارک فيکم
     
  4. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    اکثر شاعر لوگ ناکام عاشق ہوتے ہیں پھر وہ شراب نوشی اور گانے بجانے میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ ان کو کچھ یاد نہیں رہتا ،اس لیے آپ کو یہ سب کچھ شاعری میں نظر آتا ہے
    کفر و شرک اور الحاد
     
  5. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں