انتخاب :- لاکھ مسمار کیے جائیں زمانے والے : سلیم کوثر

ٹرومین نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏جون 9, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ٹرومین

    ٹرومین -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2010
    پیغامات:
    343
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ جی ۔

    لاکھ مسمار کیے جائیں زمانے والے
    آہی جاتے ہیں نیا شہر بسانے والے

    اس کی زد پر وہ کبھی خود بھی تو آسکتے ہیں
    یہ کہاں جانتے ہیں آگ لگانے والے

    اب تو ساون میں بھی بارود برستا ہے
    اب وہ موسم نہیں بارش میں نہانے والے

    سر سے جاتا ہی نہیں‌وعدہء فروا کا جنوں
    مر گئے عدل کی زنجیر ہلانے والے

    ہم نہ کہتے تھے تجھے، وقت بہت ظالم ہے
    کیا ہوئے اب وہ ترے ناز اٹھانے والے

    سائے میں بیٹھی ہوئی نسل کو معلوم نہیں‌
    دُھوپ کی نذر ہوئے پیٹر لگانے والے

    گھر میں دیواریں ہیں اور صحن میں آنکھیں ہیں‌سلیم
    اتنے آزاد نہیں وعدہ نبھانے والے​

    کاتب و انتخاب :- بشر ع ز ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 9, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    "ہم نہ کہتے تھے تجھے، وقت بہت ظالم ہے "
    اس شعر میں اسلامی نقطہ نظر کے تحت ایک نکتہ کی طرف توجہ دلاؤنگا۔
    وقت یا زمانے کے پُرا نہیں کہنا چاہیئے۔ اسلئے کہ وقت اور زمانہ سے کسی ظلم کا یا بُرائی کا تعلق نہیں۔ بلکہ یہ لوگوں کا عمل ہوتا ہے۔
    واللہ اعلم۔
     
  3. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    بہر حال باقی نظم بہت زبردست ہے۔
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ۔
    بہت شکریہ ۔ مسافرعلم بھائی جی ۔ بہترین ۔
    درست فرمایا۔ ابرار بھائی آپ کو پتا ہے عموماً شاعر حضرات کہیں نہ کہیں پٹڑی سے اتر ہی جاتے ہیں‌۔ کیونکہ ان کا میدان ہی ایسا ہے ۔ ویسے آپ کو دوبارہ مجلس پر خوشی ہوئی ۔ کافی عرصے سے غائب تھے ۔ سب خیریت تو تھی ۔
     
  5. ٹرومین

    ٹرومین -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2010
    پیغامات:
    343
    پراجی آپ کی بات سے بالکل اتفاق کرتا ہوں ۔وڈے پراجی کی بات بالکل درست ہے کہ سخن ور اکثر پٹری سے اتر جاتے ہیں ۔جبکہ زمانے کے بارے میں تو بڑے واضح الفاظ میں منع کیا گیا ہے کہ زمانے کو برا نہ کہو ۔شاعر حضرات اکثر استعارے ،وزن ، تشبیہات یا لفظوں کی ہم آہنگی کے چکر میں بسااوقات احتیاط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں ۔
    اللہ تعالی لفظی و لاشعوری کوتاہیاں معاف فرمائے ۔امین یا رب العالمین
     
  6. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    بہت خوب !
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بہت عمدہ
     
  8. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    بہت شکریہ مسافر بھائی ایک بہترین انتخاب پوسٹ کرنے پر۔۔۔
    سلیم کوثر صاحب کے اس مصرعہ پر چونکہ چند معزز بھائیوں نے اعتراض کیا ہے تو سوچا اس کے متعلق اپنے معزز احباب کی تصحیح کر دوں تاکہ بات پوری طرح سمجھ آ جائے۔۔۔
    اصل میں بات یہ ہے کہ یہاں پر شاعر نے اپنے کلام کو خوبصورت بنانے کیلئے ’’ صنعتِ ایہام ‘‘ کا سہارا لیا ہے۔۔۔اور صنعت ایہام ادب کی اصطلاح میں ان کلمات کو کہتے ہیں جو ذومعنی ہوں یعنی ایک معنی قریب اور دوسر ابعید اور وہاں پر بعید معنی مراد لئے گئے ہوں۔۔۔
    وقت بہت ظالم ہے۔۔۔یعنی اب اس کا قریب معنی ۔۔۔ زمانہ بہت ظالم ہے جبکہ بعید معنی اہلِ زمانہ بہت ظالم ہیں۔۔۔اور پس بعید معنی نے کلام میں تمام تر قابلِ اعتراض اور خلافِ احتیاط امور کا قلع قمع کردیا۔۔۔لہٰذا اب کسی اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہی۔۔۔اور جہاں تک بات شاعر کی پٹڑی سے اترنے کی بات ہے تو اس پر میں صرف اتنا کہوں گا کہ شاعری کوئی بزنس یا تجارت نہیں کہ لے دے کی جائے بلکہ یہ ایک خداداد صلاحیت ہے اور شاعر چونکہ نہایت لطیف الطبع ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے کلام کو نفیس اور نرم وگداز الفاظ میں پرونے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کلام میں صنائع معنوی کا فقدان نہ صرف کلام کو بے رنگ کردیتا ہے بلکہ اسکے بغیر پھر نظم کی چاشنی باقی نہیں رہتی۔۔۔
    بھائی براہ کرم اس کو ذرا دوبارہ دیکھ لیں میرے خیال میں یہ وعدہ فردا ہو گا فروا نہیں۔۔۔
    شکریہ





     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    بہت خوب
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,904
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    جی ۔ اصل میں‌ ہم تو اردو شاعری سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے ۔ عموما شاعروں کے کلاموں میں‌جو چیز نظرآتی ہے وہ بیان کر دی ۔ والله من وراء القصد ۔ اب آپ نے وضاحت کردی ہے تو مان لیتے ہیں‌، ۔ اللہ آپ کو جزائے خیردے ۔ اس طرح اصلاح کرتے رہیں‌۔
     
  11. ٹرومین

    ٹرومین -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2010
    پیغامات:
    343
    جی بالکل نعمان بھائی شاعری کا حسن ہی اس میں ہے ۔آپ نے اچھے سے وضاحت کردی ۔ جزاک اللہ
    مجھے بھی اس لفظ پر شک تھا کہ یہ "فردا" ہونا چاہیے لیکن میں نے جس کتاب سے اس کو لکھا وہاں بہت غور کرنے پر بھی فروا ہی ملا ۔مزید تسلی کے لیے میں نے آن لائن تلاش کیا ۔یہ غزل تو نہیں ملی لیکن لفظ "وعدہ فروا" کا استعمال کئی مصرعوں میں نظر آیا اس لیے یہی رہنے دیا ۔برائے مہربانی آپ بھی اس لفظ کو اپنے پاس یا سلیم کوثر کے کلام میں کہیں دیکھ کر ضرور اصلاح کردیں کہ اصل لفظ کیا ہے ۔کیونکہ لفظوں کی معمولی سی غلطی شاعری کی روح کو بگاڑ دیتی ہے ۔
     
  12. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت عمدہ۔ اچھا انتخاب ہے۔

    جزاک اللہ خیرا نعمان بھائی۔ بہت ہی عمدہ انداز میں آپ نے سمجھایا۔
    پر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ شاعری میں شرکیہ کلمات یا خیالات کا بھی آزادانہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو نعمان بھائی ایسے میں تو ہم وہی مطلب لیں گے نہ جو یعنی ظاہری طور پر ہمیں نظر آ رہا ہو گا؟
     
  13. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    مہربانی۔ یہ تو ہے، شاعرحضرات میں یہ ایک مسئلہ ہے۔ نعمان بھائی کی بات سے ذرا سا اختلاف ہے۔ بعض ذو معنی الفاظ کا استعمال بھی شاید اسلامی سوچ کے مطابق معیوب ہے۔ (واللہ اعلم( البتہ شاعری میں الفاظ میں چُناؤ پر منحصر ہے۔ اپنی کم علمی کی وجہ سے زیادہ کچھ نہیں کہونگا۔
    بجا فرمایا۔ آپکا شکریہ بس آپ لوگوں کا خلوص کھینج لایا۔ اصل میں کچھ مصروفیت کچھ سستی۔ دونوں وجوہات ہیں۔
    باقی سب خیریت ہے۔ شکریہ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 11, 2011
  14. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    جی بالکل درست فرمایا آپ نے بھائی۔۔۔ایسی شاعری تو بلاشبہ قابل مذمت ہے بالخصوص بابا فرید کی شاعری تو شرکیہ الفاظ اور شطحیات یعنی ہفوات سے بھری پڑی ہے ایسی شاعری سے تو اللہ کی پناہ۔۔۔۔
    محترم بھائی آپ کا اختلاف سر آنکھوں پر ۔۔۔
    بھائی آپ کے ایک لفظ شاید نے پورے جملے کو غیر معتبر کردیا، ذومعنی الفاظ کا اسلامی سوچ سے کیا سمبندھ؟

     
  15. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    بہت خوب انتخاب ٹرومین بھائی جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں