نائن الیون سے ایبٹ آباد تک (ایس ایم امین شاہ )

ابوعکاشہ نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏جون 15, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,902
    دہشت گردی کے خلاف جنگ ، ڈرون اٹیک کی صورت میں سامراج نے ہمیں ایک تھپڑ رسید کیا تو دوسرے کے لیے ہم نے اپنا گال سامنے کردیا،نائن الیون کے بعد سے ایک تھپڑکے بعد دوسرے تھپڑسے بچنے کی بجائےدوسرا گال پیش کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں ایبٹ آباد میں جو گھونسا رسید کیا گیا ہے اسکی گونج نے دنیا بھرمیں ہماری خودمختاری ہی نہیں آزادی بھی داو پر لگ گئی ہے۔ ایک حکایت ہے کہ ایک شکاری پرندوں کو ذبح کررہاتھا اور ساتھ ہی ان کوتڑپتے دیکھ کر روبھی رہاتھا ،دور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھا ایک پرندہ اپنے ساتھی پرندے سے کہنے لگا یہ شکاری بہت رحم دل ہے ،دوسرے پرندے نے جب یہ بات سنی تو بڑی حیرانگی سے اِس کی جانب گھورکردیکھا اور بولا مجھے تو تم پاگل لگ رہے ہو....اس نے کہا۔۔۔ارے بیوقوف! اِس کے آنسووں کونہ دیکھ اس کے ہاتھ کو دیکھ کہ یہ کس قدرتیزی سے ہم جیسے معصوموں کی کمزورگردنوں پر چھری پھیر رہاہےاور اپنے ہاتھ اِن کے خون سے رنگ کر اپنامنہ پیچھے کر کے مسکرا(جشن منا ر)ہاہے۔ آج ہمارے حکمرانوں ،سیاستدانوںاور قوم کو بھی اس دوسرے پرندے کی کہی ہوئی یہ بات سمجھ آجانی چاہئے کہ شکاری کو روتا مت دیکھیں بلکہ اِس کے ہاتھ میں پکڑی گئی چھری اور اس چھری کے کام ، ملک میں بڑھتی بیرونی مداخلت ، ڈرون اٹیک کو دیکھیں،جس سے وہ تیزی سے پرندوں (ہم پاکستانیوں)کی گردنیں کاٹنے کاکام لے رہاہے۔ یعنی پاکستان میں معصوم اور نہتے انسانوں کی گردنوں پر بیدردی سے چھری پھیر کر انہیں موت کی وادی میں دھکیلنے والا اس شکاری عالمی سامراج ایک طرف تو یہ ظاہرکررہاہے کہ وہ پاکستان کا استحکام چاہتاہے اور اِسے مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لئے وقتاََ فوقتاََ اربوں ڈالرز کی امداد اورانتہائی آسان اقساط پر قرضے بھی مہیاکرتارہتاہے مگردوسری طرف درحقیقت اِس کی اِن تمام ہمدردیوں کے منظر اور پس منظر میں اِس کایہ ایک ہی مفاد وابستہ ہے کہ پاکستانی حکمران اور عوام اِس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اِس کے آلہ کار بننے رہیںاور اِس کے ڈالرز کی مد میں ملنے والی امداد اوراِس کے دیئے گئے قرضوں کے بدلے میںیہ اپنی آنکھیں اور زبان بند رکھیں۔

    ایبٹ آباد کی سبق آموز سامراجی کارروائی سے عسکری اورسیاسی قیادت کیا کچھ حاصل ہوا ، مملکت کے چوتھے ستون نے جو سوالات اٹھائے قوم کی بے چینی دورہوئی یا نہیں لیکن ہم اٹھارہ کروڑ کی خود مختاری پر حملہ آورنے قوم کی خون پسینے کی کمائی اوربھیک میں دیے گئے حربی سازوسامان کو جام کرکے جس طرح ہماری سرحدوں کو پامال کیا اس امرنے سوچنے پر مجبورکردیا ہے کہ۔۔۔۔ کل کسی دشمن سے مقابلے اورسرحدوں کی حفاظت کے دوران اس نے ایبٹ آباد والی سازش کو دہراتے ہوئے حربی آالات کو جام کرکے ہمیں عضو معطل بنادیا توکیا ہوگا، سامراج کی چالیس منٹ کی مداخلت نے قومی سلامتی پر جو سوالیہ نشان لگا یا ہے اس کے بعد ہم اٹھارہ کروڑ میں ہر فرد یہ سوچنے پر مجبورہے کہ میں کون ہوں۔۔۔۔۔؟

    نائن الیون کے بعد سے اب تک ہماری معیشت کو چھپن ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، دستاویزات کے مطابق نائن الیون کے بعد سے سامراج اب تک عراق اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ایک ہزار دو سو اڑتالیس ارب روپے خرچ کر چکا ہے۔ جسکا دو فیصد حصہ بھی اگر پاکستان کو دیا جاتا تو پاکستان کے مسائل حل ہو جاتے۔ انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے اب تک پاکستان کی معیشت کو چھپن ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جسکی قیمت اٹھارہ کروڑ عوام نے ہی چکا ئی ہے۔

    نائن الیون کے بعد سامراج اپنے اتحادیوں اور روئے ارض کے ہولناک جنگی ذخائر کے ساتھ افغانستان پرچڑھ دوڑا توالقاعدہ و طالبان کا وجود مٹانے کے نام پر ایک طرف اگر خطہ افغان کے ایک ایک انچ پر کارپٹ بمباری کی تو دوسری طرف گوری فوج کے بھیڑیوں نے تاریخ کے خونی ابواب میں سفاکیت و جبریت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ فرعون ہٹلر اور ہلاکو خان کی روحیں بھی تڑپ اٹھیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری مدد کے بغیر اتنی دور سے سرحد کے اندر آ کر اس طرح کا حساس آپریشن کرنا ممکن ہی نہیں،بعض کا خیال ہے کہ امریکیوں نے پاکستان کے ریڈار جام کر کےایسے خودکار انتظامات کئے کہ پاکستانی فورسز کو ان کی آمدکا پتہ ہی نہیں چل سکا، ریٹائرڈ جرنیلوں اور عسکری تجزیہ نگاروں کے نزدیک قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ غیرملکی فورس نے ہماری خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے ہمارا دفاعی حصار اس طریقے سے ناکام بنا دیا ہو اور دارالحکومت کے اتنا قریب پہنچ گئے ہوں، ایسا کام کسی نہ کسی سطح پر پاکستان کے عملی اشتراک اور تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں، ایبٹ آباد کارروائی سے ہماری حکومت کی اہلیت اور اداروں کی مستعدی سوالیہ نشان بن گئی ہے اورایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو مزیددباو میں لانے کی امریکی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور بھارت کو ایک بار پھر یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے، افغانستان کا ردعمل بھی جارحانہ ہے اس پس منظر میں اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان مخالف قوتیں اسکے گرد سازشوں کا جال بن رہی ہیں،ایبٹ آباد میں اسامہ کو نشانہ بنایا گیا یا کسی اورکو حالیہ آپریشن کو بنیاد بنا کر اب سامراج پاکستان سے ڈومور کے مزید مطالبے کرے گا۔دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کیلئے اس طرح کے کام وہ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ سامراج اور چنگیزی لشکر آگے چل کر کیا چاہتے بہرحال اس نازک صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکمران سیاسی قائدین اور دفاعی اداروں کے ذمہ دار لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کی پالیسی پر حقیقت پسندانہ غور و خوض کے بعد اسے قومی مفادات کے مطابق بنائیں، ایبٹ آباد آپریشن نے قومی سلامتی پر جو سوالیہ نشان لگایا ہے عسکری سیاسی قیادت اورحساس اداروں کو اسکا جواب ہی نہیں مستقبل میں داخلی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ازسرنو لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا،ایبٹ آباد پر چینگیزی لشکرکشی کے بعد ہم جن مسائل کا شکار ہیں سیاسی عسکری قیادت نے بالغ نظری کا مظاہرہ نہ کیا تو خاکم بدہن یوگوسلاویہ بن کر رہ جائیں گے، جن حالات کا ہم آج سامنا کر رہے ہیں ان کی ہولناکی کو نائن الیون کے بعد سے بیان کرنا شروع کر دیا گیا تھا اور تسلسل سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر قوم متحد نہ ہوئی تو خدانخواستہ ہمارا انجام یوگوسلاویہ جیسا ہوگا۔

    مقام افسوس ہے کہ جن خطرات کی نائن الیون کے بعد بار بارجن خطرات کی نشاندہی کی جاتی رہی اس پر توجہ نہیں دی گئی ورنہ آج یہ حالات نہ ہوتے،ا مریکی وزیر دفاع جنرل پیٹریاس کو سی آئی اے کا چیف نامزد کر نے کے بعد نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پیٹریاس اپنی تیسری جنگ پاکستان میں لڑیں گے، اخبار لکھتا ہے کہ پیٹریاس کی نامزدگی سے آئی ایس آئی خوش نہیں، ان کی تقرری سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید بگڑسکتے ہیں، اخبار کے مطابق اب پیٹریاس براہ راست ڈرون آپریشنز کو کنٹرول کریں گے، امریکہ میں فوجی اور سیاسی اشرافیہ کا ایک حصہ اس بات پر مصر ہے کہ طالبان اور القاعدہ تنہا اتنا کچھ نہیں کرسکتے اس کے لئے انہیں مدد پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے فراہم کرتی ہیں، کچھ حلقوں نے دلیل دی کہ براہ راست پاکستان پر حملہ کرکے اسے سبق سکھایا جائے جبکہ کچھ نے اس کی مخالفت کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایٹمی پاکستان کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہوا تو وہ بپھر کر کچھ بھی کرسکتا ہے، شاطر ذہنوں میں ایک اورسازش یہ آئی کہ کیوں نہ پاکستان کو ساتھ ملا کر پہلے ان عناصر کا خاتمہ کیا جائے جو امریکہ کے سخت دشمن ہیں اور جب یہ ہدف حاصل ہو جائے تو آخر میں پاکستان کو ہی اپنا ہدف بنایا جائےاب کرنے کا کام یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ جنرل پیٹریاس اپنے ایجنڈے پر کام شروع کریں حکومت اور افواج پاکستان کو سامراجی ٹیکنا لوجی کے حامل حربی آلات کو جام کرنے کی سازش کو مد نظررکھتے ہوئے اپنی طرف سے تمام تر تیاریاں کرلینی چاہئیں۔

    *حوالہ
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکہ نہ تو پاکستان کے ساتھ حالت جنگ ميں ہے اور نہ ہی کبھی ايسا ہو گا۔ ہماری جنگ القائدہ کے خلاف ہے، ايک ايسی دہشت گرد تنظيم جس نے زيادہ سے زيادہ بے گناہ افراد کو ہلاک کرنے کا تہيہ کر رکھا ہے۔ اسامہ بن لادن ہی وہ ليڈر تھا جو القائدہ کی سرپرستی کر رہا تھا۔ اس کی ہلاکت القائدہ کے قدم اکھاڑنے، متزلزل کرنے اور اسے شکست دينے کے ہمارے مصمم ارادے کے ضمن ميں کاميابی کا ايک باب ہے۔ يہ ايک واضح اشارہ ہے کہ اپنے مقاصد کی تکميل تک ہم پيچھے نہيں ہٹيں گے۔

    يہ حقیقت بھی پيش نظر رہنی چاہیے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف لڑائ ميں ہم تنہا نہيں ہیں۔ ہم اپنی کاوشيں حکومت پاکستان اور پاکستان کی افواج کے باہم تعاون اور اشتراک عمل سے جاری رکھے ہوۓ ہيں۔ دنيا کی کوئ بھی فوج اپنے وسائل اور اپنے فوجيوں کی جان کی قربانی صرف اپنے عوام کے بہترين مفاد میں ہی صرف کرتی ہے۔ يہی اصول کسی بھی ملک کی منتخب حکومت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
    ميں آپ کو يہ بھی ياد دلا دوں کہ پاکستان کی تمام فوجی اور سول قيادت اور عمومی طور پر سول سوسائٹی بھی اس بات پر متفق ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کے بہترين مفاد ميں ہے۔

    اسامہ بن لادن نے حلفيہ خود کو امريکہ کا دشمن قرار ديا تھا اور وہ تمام انسانيت کے ليے خطرہ تھا۔ وہ نہ صرف 911 کے واقعے میں ہزاروں معصوموں کے قتل کا ذمہ دار تھا بلکہ اس کی جانب سے دنيا بھر ميں کيے جانے والے حملوں کے نتيجے ميں مسلمانوں سميت کئ مذاہب اور قوميتوں کی عورتیں، بچے اور مرد بھی ہلاک ہوۓ۔ وہ امريکہ، پاکستان اور دنيا بھر ميں مزيد ہلاکتوں کا بھی متمنی تھا۔

    اسامہ بن لادن کی شکست اور پرتشدد دہشت گردی کا خاتمہ امريکہ اور پاکستان سميت دنيا بھر کے ان تمام انسانوں کے لیے کاميابی ہے جو امن، عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس ميں کوئ شک نہيں ہونا چاہيے کہ خطے ميں اپنے اتحاديوں کے تعاون سے ہم جن افراد کا تعاقب کر کے نشانہ بنا رہے ہيں، يہ وہ لوگ ہيں جنھوں نے اپنی زندگياں معصوم لوگوں کی جانوں اور انسانی ترقی کو تباہ کرنے کرنے کے ليے وقف کر رکھی ہيں۔ ان کا خاتمہ بالآخر ايک محفوظ پاکستانی معاشرے کی تشکيل کا سبب ہو گا اور دنيا بھر ميں ان سب کے ليے توقيت کا باعث ہو گا جو تخريب کی بجاۓ تعمیر کے خواہاں ہیں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    امریکہ کتنی ہلاکتوں کا متمنی ہے؟ عراق، افغانستان، پاکستان کے مختلف علاقوں میں جو معصوم امریکی بمباری سے ہلاک ہوئے، انکا حساب کون دے گا؟ بس دو لفظ معذرت کے بول کر امریکہ کی معافی قبول ہو گئی؟؟

    امریکہ ہر مسلم ملک سے اپنی دہشت گردی ختم کر دے، یہی اس دنیا کے امن کا راز ہے۔
     
  4. اداس ساحل

    اداس ساحل -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2010
    پیغامات:
    183
    [/rچاہے فواد صاحب کا انداز تھوڑا سا الگ ہے لیکن بات تو ٹھیک ہے کہ اسامہ بن لادن واقعی دہشت گردوں کا سردار تھا۔ اور اس کی ہلاکت پاکستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے لیے ہی فائدہ مند ہےight]​
     
  5. abdullah100098

    abdullah100098 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 3, 2009
    پیغامات:
    13
    فواد صاحب کیا آپ کو ڈرون حملوں میں مرنے والے معصوم لوگ نظر نہیں آتے کیا ان کو اسامہ مارتا ھے؟
    امن جرگے پر جو حملہ ہوا کیا اسامہ نے کروایا؟
    افغانستان میں عام شہریوں پر طیاروں سے بمباری ھوتی ہے کیا وہ امن کے ٹھیکے داروں نے کی یاں دہشت گردوں نے؟
    ایک نائین الیون مین جو "معصوم"لوگ مرے۔ ان کو مارنے والے کو کسی نے مار دیا آو دعا کریں کہ اے اللہ جو معصوم مسلمان عراق افغانستان پاکستان میں مارے گئے ان کے قاتلوں اے میرے رب تباہ و برباد کردے۔
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    اس حقیقت سے کوئ انکار نہيں ہے کہ ہم ان بے رحم مجرموں کا تعاقب پوری استقامت اور تندہی سے کر رہے ہيں جو دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر انھيں قتل کر رہے ہيں۔

    يہ ہمارا واضح کردہ ايجنڈا اور ہدف ہے۔ ليکن اس کاوش ميں ہم تنہا نہیں ہيں۔ ہميں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی مکمل حمايت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی تائيد اور تعاون بھی حاصل ہے۔ اس تناظر ميں آپ کا يہ دعوی کہ ہم پاکستان میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہيں، اس ليے بھی درست نہيں ہے کہ حکومت پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر سيکورٹی کے امور کے لیے کلی طور پر خودمختار ہے۔ ہم پاکستان کی حکومت کی درخواست پر ہی فوجی امداد، لاجسٹک سپورٹ اور وسائل کی شراکت داری کے صورت ميں تعاون اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    ميں نے متعدد بار يہ واضح کيا ہے کہ پاکستان کے عام شہری ہمارا ہدف ہرگز نہيں ہیں۔

    بدقسمتی سے يہ القائدہ اور اس سے منسلک تنظیموں کا خود بيان کردہ نصب العين ہے۔ خطے میں ہماری کاروائ ان عناصر کے خلاف ہے جو بچوں کو خود کش حملہ آور بنا کر معصوم شہريوں کا قتل عام کر رہے ہيں۔ لیکن ہماری کوششيں پاکستان کی حکومت، سول اور فوجی انتظاميہ کی مرضی کے بغير ہرگز نہيں ہیں۔

    ميں پاکستان کے فورمز پر شدت کے ساتھ پيش کيے جانے والے اس غلط تاثر اور غیر متوازن دليل سے واقف ہوں جس کے تحت يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا مسلۂ نہيں ہے اور پاکستانی شہری اپنی سرزمين پر محض امريکہ کی جنگ لڑ رہے ہيں، جس کا مقامی آبادی کو کوئ فائدہ نہيں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ہميں اس حقيقت کو ماننا پڑے گا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت نہ صرف يہ کہ پاکستانی معاشرے کو گہنا رہی ہے بلکہ اس کی جڑيں اب قباۂلی علاقوں سے نکل کر شہروں تک پہنچ چکی ہيں۔

    القائدہ کی قيادت کے بيانات اور عوامی موقف کے برعکس، امريکہ اور اس کے شہری دہشت گردی کی اس مہم کے واحد ہدف ہرگز نہيں ہیں۔ حقائق اس سے بالکل مختلف ہيں۔

    پاکستان ميں وہ سينکڑوں خود کش حملے جن کی بدولت معاشرے کی بنياديں ہل کر رہ گئ ہيں، ان میں کتنے امريکی شہری ہلاک ہوۓ ہيں؟ اسی طرح افغانستان ميں دانستہ اور بلاتفريق بے گناہ شہريوں کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد صرف امريکہ ہی کے خلاف حالت جنگ ميں نہيں ہیں۔

    ايک متوازن اور تعميری تجزيے کے لیے ضروری ہے آپ امريکہ کی دہشت گردی کے خلاف ايک ايسی کوشش کے حوالے سے تنقيد پر ہی بضد نہ رہيں جس ميں حکومت پاکستان سميت اقوام متحدہ کے ممبران کی اکثريت شامل ہے بلکہ دہشت گردی کے اس عفريت کا قلع قمع کرنے کی ضرورت کو بھی ملحوظ رکھيں جس سے تمام سياسی اور مذہبی افکار سے منسلک پوری دنيا کے پرامن شہريوں کے ليے يکساں خطرہ ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں