اسماء حسنی کا بیان

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:50--اسماء حسنی کا بیان​
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    [qh](وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [/qh](سورة الأعراف7: 180))
    اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، پس تم اسے انہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں سے دور رہو جو اس کے اسماء گرامی میں الحاد(کجی)کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا ضرور ملے گی۔ (1)

    اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے الحاد کا معنی شرک کیا ہے۔ نیز انہوں نے فرمایا کہ مشرکین نے “اللہ” اسم الجلالہ سے “اللات”اور “العزیز”سے “العزی” مشتق کیا تھا۔ (تفسیر ابن ابی حاتم)
    اعمش کا قول ہے کہ اسماء الہیہ میں الحاد کا مفہوم یہ ہے کہ ملحدین اللہ تعالی کے اسماءحسنی میں اپنی طرف سے گھڑ کر بعض ایسے ناموں کا اضافہ کرتے ہیں جو حقیقت میں اس کے نام نہیں ہیں۔(2)

    مسائل
    1) اس باب میں اللہ تعالی کے لیے اسماء کے اثبات کا ذکر ہے۔
    2) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے سب نام اچھے ہیں۔
    3) آیت کریمہ میں اسماء حسنی کے ذریعے سے اللہ تعالی کو پکارنے اور دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
    4) آیت مبارکہ میں یہ حکم بھی ہے کہ جو جہلاء اور ملحدین ، اللہ تعالی کے اسماء یا صفات کا انکار کریں ان سےالگ تھلگ اور دور رہنا چاہیے اور ان سے معارضہ نہیں کرنا چاہیے۔
    5) ابن عباس رضی اللہ عنہما اور اعمش رحتہ اللہ علیہ کے اقوال سے الحاد فی الاسماء کی تفسیر بھی واضح ہوئی۔
    6) نیز اس تفصیل سے پتہ چلا کہ اللہ تعالی کے اسماء میں الحاد کرنے والوں کے بارے میں سخت و عید ہے۔

    نوٹ:-
    (1) تمام اچھے اچھے نام اللہ عزوجل کے شایان شان ہیں۔ لہذا اللہ تعالی کا حکم ہے کہ اسے انہی ناموں سے پکارا اور یاد کیا جائے۔ [qh]“فَادْعُوهُ بِهَا”[/qh]کا معنی مفسرین نے ثنا اور عبادت کا کیا ہے، یعنی اللہ تعالی کے ان اسماء حسنی کے ساتھ اس کی تعریف و ثنا کی جائے اور اس کے دوسرے معنی دعا اور پکار کے بھی ہیں، یعنی جب تم اللہ تعالی کو پکارو اور اس سے کوئی چیز طلب کرو تو اس کے اسماء حسنی اور بلند صفات کا وسیلہ اور واسطہ بنا کر اسے پکارو۔ اسی آیت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اللہ تعالی کے ناموں میں الحاد کرنے والوں سے الگ تھلگ رہیں۔ اللہ تعالی کے اسماء حسنی کا ایسا مفہوم لینا جو حقیقت کے برعکس اور اللہ تعالی کے حق میں نامناسب ہو الحاد فی الاسماء کہلاتا ہے اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔
    (2)الحاد فی الاسماء کی مختلف صورتیں:
    (الف) معبودان باطلہ کے نام اللہ تعالی کے ناموں جیسے رکھنا مثلا “الالہ” سے “اللات” اور “العزیز” سے “العزی” وغیرہ۔
    (ب) یوں کہنا کہ اللہ تعالی بھی صاحب اولاد ہے جیسا کہ عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کا بیٹا قرار دے دیا۔
    (ج) اللہ تعالی کے تمام اسماء وصفات کا یا ان میں سے بعض کا انکار کرنا جیسا کہ غالی(فرقہ)جہمیہ، اللہ کے کسی بھی نام یا صفت کو تو نہیں مانتے، البتہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ موجود ہے اور اس کا وجود برحق ہے لیکن بغیر کسی اسم اور صفت کے۔
    (د) اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے بارے میں مسلک حق سے عدول و اعراض کر کے ان کا ایسا مفہوم مراد لینا جس کی شرعی طور پر قطعا اجازت نہیں جبکہ سلف کا صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے تمام اسماء و صفات کو تسلیم کیا جائے اور ان پر ایمان رکھا جائے۔ان کی تاویل کرنا یا ان کے مجازی معانی مراد لینا جائز نہیں جیسا کہ معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ وغیرہ نے کیا۔
    اس تفصیل سے واضح ہوا کہ الحاد فی الاسماء کے مختلف مراتب اور درجے ہیں، الحاد فی الاسماء کی بعض صورتیں کفر ہیں اور بعض، مذکورہ بالا صورتوں میں سے سب سے آخری صورت بالخصوص، بدعت کے زمرے میں آتی ہے نہ کہ کفر کے زمرے میں لہذا اس صورت کے الحاد کے مرتکبین کا فر نہیں بلکہ بدعتی ٹھہریں گے۔
    اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے مسئلہ کے بارے میں بہت سے مباحث ہیں جنہیں عقائد کی مفصل کتابوں میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
    تعلیق از مترجم:صحیح البخاری ، کتاب الدعوات، باب للہ مائۃ اسم غیر واحدۃ، حدیث : 6410۔ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے ننانوے نام ہیں۔ جو انہیں یاد کرلے گا وہ جنت میں جائےگا، نیز اللہ وتر(ایک)ہے اور وہ وتر(طاق عدد)کو پسند کرتا ہے۔
    جامع ترمذی کی ایک روایت میں اللہ تعالی کے “99”اسماء حسنی بیان ہوئے ہیں۔ کتاب الدعوات، باب حدیث فی اسماء اللہ الحسنی مع ذکرھا تمام، حدیث : 3507 ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں