السلام علی اللہ کہنے کی ممانعت

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:51-- السلام علی اللہ کہنے کی ممانعت (1)​

    عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم
    [qh](السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلاَمُ عَلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ)[/qh]
    “اللہ تعالی پر اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو۔ فلاں فلاں شخص پر بھی سلام ہو۔” کہتے ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    [qh](لاَ تَقُولُوا السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ)(صحیح البخاری، الاذان، باب التشهد فی الاخرة، 831، 835، 1202، 6230 و صحیح مسلم، الصلاة، باب التشھد فی الصلوة، ح:402)[/qh]
    [qh]“السلام علی الله”[/qh] نہ کہا کرو کیونکہ اللہ تو خود [qh]“السلام”[/qh] (سلامتی عطا کرنے والا) ہے۔”(2)

    مسائل

    1) اس تفصیل سے سلام کی تفسیر ہوئی۔
    2) یہ کلمہ مسلمانوں ک اآپس میں ایک دوسرے کے لیے تحفہ ہے۔
    3)[qh]“السلام علی الله” [/qh]کہنا اللہ تعالی کے شایان شان نہیں۔
    4) اور[qh] “السلام علی الله”[/qh] کہنے کی ممانعت کی علت بھی واضح ہوئی کہ اللہ تعالی تو خود “السلام” یعنی سلامتی بخشنے والا ہے۔ اسے سلامتی کی دعا کی کوئی ضرورت نہیں۔
    5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو [qh]“السلام علی الله” [/qh]کی بحائے [qh]“اَلتَّحِيَّاتُ لِلهِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَّيِّبَاتُ”[/qh]کے الفاظ کے ساتھ اللہ تعالی کی جناب میں تحیۂ تعظیم و تہنیت کی تعلیم دی ہے جو اللہ تعالی کی ذات اقدس کے شایان شان ہے۔

    نوٹ:-

    (1) [qh]“السلام علی الله”[/qh] (اللہ تعالی پر سلام ہو) کہنا توحید کے منافی ہے۔
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    [qh](يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (سورة فاطر35: 15))[/qh]
    “لوگو! تم سب اللہ تعالی کے مختاج ہو۔ جبکہ اللہ تعالی سب سے مستغی (اور) قابل تعریف ہے۔”

    اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کا اور ان کے دعائیہ کلمات اک محتاج نہیں۔ لہذا توحید کا تقاضا یہ ہے کہ [qh]“السلام علی الله”[/qh] وغیرہ الفاظ نہ کہے جائیں کیونکہ اس سے بظاہر یہ ذہن میں آتا ہے کہ شاید اللہ تعالی بندوں کی طرف سے اس قسم کی دعاؤں اور کلمات کا محتاج اور طلب گار ہے۔ حالانکہ بندے تو خود اللہ تعالی کی سلامتی کے محتاج ہیں۔ اس قسم کے الفاظ توحید کے منافی ہیں اور ان سے توحید میں نقص واقع ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے الفاظ سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
    (2) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اللہ تعالی کے لیے بطور کلمۂ تحسین یہ جملہ کہا کرتے تھے ۔ ان کا قصدو ارادہ اگرچہ درست تھا لیکن اس کلمۂ تحسین کے الفاظ، چونکہ ذات باری تعالی کے شایان شان نہیں تھے بلکہ ان میں سوء ادبی تھی جو کہ اللہ عزوجل کی ربوبیت اور اس کے اسماء وصفات کے منافی ہے اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا اور ایسا کلمہ کہنے کو حرام قرار دیا۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں