“یا اللہ ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے” کہنا درست نہیں

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:52-- “یا اللہ ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے”کہنا درست نہیں (1)
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ( لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ المَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ)(صحیح البخاری، الدعوات، باب لیعزم المسالۃ فانہ لا مکرہ لہ، ح:6339، 7363 و صحیح مسلم، الذکر و الدعاء و التوبۃ و الاستغفار، ح:2679)
    “تم میں سے کوئی یوں دعا نہ کرے کہ یا اللہ ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ ! تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ اللہ تعالی سے پورے وثوق سے سوال و دعا کرے، کیونکہ کوئی اللہ تعالی کو مجبور کرنے والا اور اس پر دباؤ ڈالنے والا نہیں۔”(2)

    اور صحیح مسلم میں ہے:
    (وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ)(صحیح مسلم، الذکر والدعاء و التوبۃ و الاستغفار، ح:2679)
    “اور چاہیے کہ وہ خوب رغبت اور توجہ کے ساتھ دعائیں کرے کیونکہ کوئی چیز عطا کرنا اللہ تعالی کے لیے کچھ مشکل نہیں۔”(3)


    مسائل

    1) اس واضاحت سے معلوم ہوا کہ دعا میں استثنا کی ممانعت ہے یعنی یوں نہیں کہنا چاہیے کہ “یا اللہ ! تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے۔”
    2) اس کی علت یہ ہے کہ ایسا کہنے سے انسان کی بے پروائی اور تکبر کا اظہار ہوتا ہے۔
    3) پورے وثوق کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
    4) اور دعا میں رغبت اور دلی میلان بھی بہت زیادہ ہونا چاہیے۔
    5) اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بے بس اور محتاج ہے جبکہ اللہ تعالی غنی اور صاحب قدرت ہے، اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی چیز عطا کرنا کچھ مشکل ہے۔

    نوٹ:-
    (1) اس قسم کے الفاظ میں اللہ تعالی کی مغفرت سے بے پروائی اور استغفاء کا اظہار ہوتا ہے کہ قائل کو اللہ تعالی کی مغفرت اور بخشش کی ضرورت نہیں۔ اور وہ اللہ کے حضور عاجزی و انکسار نہیں کرنا چاہتا۔ گویا وہ اللہ کا محتاج نہیں بلکہ اس سے مستغنی اور لاپرواہے۔ چونکہ یہ بات توحید کے منافی ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔
    توحید کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حضور اپنی احتیاج کا اظہار کرتا رہے کیونکہ بندہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے مستغنی نہیں رہ سکتا ۔ بلکہ وہ ہر دم اس کی مغفرت، غفوو کرم اور اس کے فضل کا محتاج ہے۔
    (2) یعنی وہ جب دعا کرے اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرے تو استغفاء، بے پروائی اور اظہار تکبر کی بحائے احتیاج اور عاجزی ظاہر کرے۔
    (3) انسان کو چاہیے کہ جب بھی اللہ تعالی سے سوال کرے تو بے پروائی اور تکبر کا اظہار کرنے کے بحائے محتاج و فقیربن کر، پورے عزم و جزم اور انتہائی عجزو انکسار کے ساتھ سوال کرے کیونکہ یہ تو انسان کے خود اپنے یقین کی پختگی کی علامت ہے ورنہ اللہ تعالی کو تو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا ۔ وہ اہل جہاں سے غنی، قہار اور بے حد غلبہ وقدرت رکھنے والا ہے اور یہی اس کے اسماء وصفات کا تقاضا ہے ۔ اس کے لیے کوئی چیز عطا کرنا کچھ مشکل نہیں۔
    یاد رہے ! بیمار پرسی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو یہ ثابت ہے کہ آپ: (لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللهُ)
    کہا کرتے تھے تو اس کا مطلب ہرگز بے یقینی نہیں تھا کیونکہ یہ کلمات تو سرے سے دعا ہی نہیں بلکہ خبر اور اطلاع ہے کہ اگر اللہ تعال نے چاہا تو یہ بیماری گناہوں سے پاک کر دینے کا ذریعہ ہوگی۔ گویا دعا میں پختگی اور یقین کے ساتھ اس بات کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
Similar Threads
  1. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    71
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    51
  3. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    36
  4. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    49
  5. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    62
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں