اللہ تعالی کے نام پر وسوال کرنے والے کوخالی ہاتھ نہ لوٹایاجائے

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:54-- اللہ تعالی کے نام پر وسوال کرنے والے کوخالی ہاتھ نہ لوٹایاجائے (1)​

    عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ، فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ)[/qh](سنن ابی داود، الزکاۃ، باب عطیۃ من سال باللہ، ح:1672 وسنن النسائی، الزکاۃ، باب من سال باللہ عزوجل، ح:2568)
    “جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے، اسے (کچھ نہ کچھ)دو۔ اور جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے اسے پناہ دو۔ اور جو شخص تمہیں دعوت دے، اس کی دعوت قبول کر۔ اور جو شخص تمہارے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرے، تم بھی اسے اس کا بدلہ دو۔ اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے حق میں اس قدر دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔” (2)


    مسائل
    1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دی جائے۔
    2) اور جو شخص اللہ تعالی کے نام پر سوال کرے اسے بھی کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔
    3) اور دعوت دینے والے کی دعوت ضرور قبول کرنی چاہیے۔
    4) نیز جو شخص جسن سلوک کرے، اسے اس کا بدلہ بھی دینا چاہیے۔
    5) اور جو شخص احسان کا بدلہ نہ دے سکتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے محسن کے حق میں دعا ہی کردے۔
    6) اور دعا بھی اس قدر کرے کہ اسے یقین وہ جائے کہ اب بدلہ چکایا جاچکاہے۔

    نوٹ:-
    (1) جب کوئی سائل اللہ تعالی کا نام لے کر اور اس کا واسطہ دے کر سوال کرے یا کوئی چیز مانگے تو اللہ تعالی کی تعظیم کے پیش نظر ایسے سائل کو خالی ہاتھ لوٹا نا نہیں چاہیے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اور بہت سے محقیقن اہل علم کاقول ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالی کا نام لے کر اور اس کا واسطہ دے کر کسی ایک معین انسان کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور وہ انسان اس کی ضرورت پوری کرنے پر قادر ہو تو اسے خالی ہاتھ واپس کرنا حرام ہے۔ البتہ اگر وہ کسی شخص کو متعین کیے بغیر یوں ہی عمومی صدا لگائے تو اس کی ضرورت پوری کرنا مخص مستحب ہے ضروری نہیں ۔ اور اگر یہ معلوم ہو کہ یہ سائل جھوٹ بولتا ہے تو ایسی صورت میں جبکہ وہ اللہ تعالی کے نام پر سوال کرے تو اس کی حاجت پوری کرنا محض مباح ہے اور واجب ہے نہ مستحب۔
    (2) پناہ مانگنے والا چونکہ اللہ تعالی کی عظیم ذات کا نام لے کر پناہ مانگتا ہے ، اس لیے اسے پناہ دینی چاہیے۔ دعوت کے بارے میں اکثر اہل علم کا موقف ہے کہ پیش نظر حدیث میں جس دعوت کے قبول کرنے کا حکم ہے اس سے شادی کی دعوت (ولیمہ) مراد ہے ۔ عام دعوتون کو قبول کرنا ضروری نہیں بلکہ محض مستحب ہے۔ نیز حدیث مذکور میں یہ حکم بھی ہے کہ احسان مند شخص کو احساس کمتری کا شکار ہونے اور احسان کرنے والے کے سامنے اپنی بے بسی اور بے کسی کا اظہار کرنے کے بحائے اس کے احسان کا پورا پورا بدلہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے اس قدر دعا ضرور کرنی چاہیے کہ انسان کو یقین ہو جائے کہ میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔ یقینا تقوی و للہیت کا ایسا بلند ترین مقام ہے جس پر اہل اخلاص اور کامل موحدین ہی فائز ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ان میں سے کرے ۔آمین!
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں