ہوا اور آندھی کو گالی دینے اور برابھلاکہنے کی ممانعت

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:57-- ہوا اور آندھی کو گالی دینے اور برابھلاکہنے کی ممانعت (1)​

    ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ہوا کو گالی نہ دو جب تم ناپسندیدہ (ہوا) دیکھو تو یہ دعا پڑھو:
    [qh](اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ)[/qh](جامع الترمذی، الفتن، باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح، ح:2252)
    “اے اللہ !ہم تجھ سے اس ہوا اور جو اس میں ہے اور جس کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کی بہتری اور بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور (اے اللہ!) ہم ہوا کے شر اور جو اس کے اندر شر ہے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔”(2)


    مسائل
    1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہوا کو گالی دینا یا برا بھلا کہنا منع ہے۔
    2) اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب انسان کو کوئی ناپسنددیدہ اور ناخوش گوار چیز نظر آئے تو مفید چیز کی دعا کرنی چاہیے۔
    3) اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہوا ازخود نہیں چلتی بلکہ یہ اللہ تعالی کے حکم سے چلتی ہے اوراسی کی پابند ہے۔
    4) نیز ہوا کو کبھی بھلائی کا اور کبھی نقصان کا حکم بھی ہوتا ہے۔

    نوٹ:-
    (1) ہوا اور آندھی کو گالی دینا یا برا بھلا کہنا ، زمانے کو برا بھلا کہنے کی مانند ہے جو کہ اللہ تعالی کو ایذا پہنچانے کے مترادف ہے کیونکہ ہوائیں اور آندھیاں اسی کے حکم سے چلتی ہیں۔ البتہ یوں کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہوا تیز ہے، ہوا ٹھنڈی ہے، ہوا گرم ہے وغیرہ۔
    (2) یہ حدیث دلیل ہے کہ ہواؤں پر تصرف اللہ تعالی کا ہے اور یہ اسی کے حکم کی تابع ہیں۔ وہ انہیں جیسے اور جدھر چاہے چلاتا ہے اور جدھر چاہے موڑ دیتاہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ جب ناپسند ہوا (آندھی) دیکھو تو یہ دعا (مذکورہ بالا) پڑھا کرو۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں