اللہ تعالی کے فیصلوں کے متعلق بدگمانی کرنے کی ممانعت

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:58-- اللہ تعالی کے فیصلوں کے متعلق بدگمانی کرنے کی ممانعت (1)​
    ارشاد الہی ہے:
    (يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لَا يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (سورة آل عمران3: 154))
    “یہ (منافقین) اللہ کے بارے مین (ایام)جاہلیت کے سے ناحق گمان کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ (اس امرمیں) ہمیں بھی کچھ اختیار ہے؟ آپ فرمادیں کہ (ان امور میں کسی کا کچھ حصہ نہیں) سارے اختیارات اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں (بہت سی باتیں) مخفی رکھتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے، کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی موت لکھی تھی ، وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے اور (یہ سارا ماجرا) اس لیے (پیش آیا) کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات کو آزمائے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اسے خالص کردے اور نکھاردے۔ یقینا اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔”

    نیز فرمایا:
    (الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ(سورة الفتح48: 6))
    “جو لوگ اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں، برائی کا وبال انہی پر پڑے گا۔”


    امام ابن القیم رحمہ اللہ علیہ اول الذکر آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں لوگوں کے جس جاہلانہ ناحق گمان کا ذکر ہے، وہ یہ ہے کہ وہ لوگ گمان کرنے لگے تھے کہ اللہ سبحانہ و تعالی اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا اور اس کی دعوت اور مشن جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ اور اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ گمان کرنے لگے تھے کہ مسلمانوں پر جو مصیبت آئی ہے وہ اللہ تعالی کی تقدیر اور حکمت سے نہیں تھی۔ گویا وہ لوگ اللہ تعالی کی حکمت ، تقدیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کا انکار کرنے اور سمجھنے لگے تھے کہ یہ دین باقی ادیان پر غالب نہیں آئے گا۔
    منافقین اور مشرکین کا یہی وہ غلط گمان ہے جس کا ذکر سورۃ الفتح کی آیت میں ہوا ہے۔
    (الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ(سورة الفتح48: 6))
    “جو لوگ اللہ کے بارے میں برے گمان رکھتے ہیں، برائی کا وبال انہی پر پڑے گا۔”

    کیونکہ ایسا گمان اللہ تعالی کی شان ، مرتبہ، اس کی حکمت ، تعریف و بزرگی اور سچے وعدہ کے خلاف ہے۔پس جو شخص سمجھے کہ اللہ تعالی باطل کو حق پر ہمیشہ غالب رکھے گا اور اس کے نتیجہ میں حق مٹ جائے گا، یا جو شخص یہ سمجھے کہ فلاں فیصلہ اللہ تعالی کی قضا و قدر سے نہیں ہوا، یا جو انسان یہ سمجھے کہ اللہ تعالی کی تقدیر ، حکمت تامہ پر مبنی اور قابل تعریف نہیں بلکہ یہ محض مشیت ہے تو ایسا عقیدہ رکھنے اور ایسی باتیں کرنے والے کافر ہیں، ان کے لیے جہنم کاعذاب ہے۔ بہت سے لوگ اپنے اور دوسروں سے متعلقہ کاموں میں اللہ تعالی کے بارے میں سوء ظن رکھتے ہیں۔ اس بدگمانی سے وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جو اللہ تعالی کی ذات ،اس کے اسماء وصفات اور اس کی حکمت و تعریف کے اسباب کو پہچانتے ہیں۔ پس جو عقل مند شخص اپنی بھلائی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ مذکورہ بالا امور کا خیال رکھے اور اللہ تعالی کے حضور اپنی بدگمانی اور بدظنی کی معذرت پیش کرکے توبہ و استغفار کرے۔
    اگر آپ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اکثر لوگ تقدیر کے شاکی اور راہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں۔ وہ تقدیر کاشکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں کام یوں ہونا چاہئے تھا اور فلاں یوں۔ کسی شخص میں یہ نقص تھوڑا ہے اور کسی میں زیادہ ۔ آپ بھی اپنا جائزہ لیں کہ آپ کی کیا صورت حال ہے؟ کیا آپ ایسی بدگمانی سے بچے ہوئے ہیں ؟

    فَإِنْ تَنْجُ مِنْهَا تَنْجُ مِنْ ذِي عَظِيْمَةٍ
    وَإِلاَّ فَإِنِّي لاَ إِخَالُكَ نَاجِيًا
    ​
    “اگر آپ اس سے بچے ہوئے ہیں تو آپ ایک بہت بڑی مصیبت سے نجات پاچکے ہیں۔ و گرنہ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے لیے کوئی راہ نجات ہو۔”(2)

    مسائل

    1) اس باب سے سورۂ آل عمران کی آیت 154 کی تفسیر ہوئی جس میں اللہ تعالی کے بارے میں بدگمانی رکھنے والوں کا تذکرہ ہے۔
    2) سورۃ الفتح کی آیت 6 کی تفسیر بھی معلوم ہوئی کہ جو لوگ اللہ تعالی کے بارے مین بدگمانی رکھتے ہیں ، اس کا وبال انہی پر پڑے گا۔
    3) بدگمانی کی صورتیں بے شمار ہیں۔
    4) اللہ تعالی کے بارے میں بدگمانی سے وہی محفوظ رہ سکتا ہے جو اس کے اسماء و صفات کی حقیقت پہچاننے اور جاننے کے ساتھ ساتھ معرفت نفس سے بھی بہرہ مند ہو۔

    نوٹ:-

    (1) ربوبیت اور اسماء وصفات میں اللہ تعالی کی یہ بھی عظمت ہے کہ وہ کوئی کام، حکمت بالغہ کے بغیر نہیں کرتا۔ اس لیے واجب ہے کہ اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے۔ اس کی کمال حکمت، رحمت اور عدل کا یہ بھی تقاضا ہے کہ کفار کی مانند اس کے بارے میں کوئی بدگمانی نہ کی جائے۔ یہ توحید کے منافی ہے۔ شرک کرنے کے ساتھ ساتھ کفاریہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال درست نہیں ۔ ان کے اس عقیدہ میں اللہ تعالی کی حکمت اور تقدیر کا انکار ہے۔ کفار کے ان عقائد کو بیان کرکے اللہ تعالی نے ان کی تردید کی ہے۔
    (2) اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ عام طور پر اللہ تعالی کے مقام و مرتبہ سے واقف وہی نہیں ۔ اور بہت سے لوگ ایسی بدگمانی سے بظاہر محفوظ ہوتے ہیں مگر مخفی طور پر ان کے دلوں میں بھی بدگمانیاں اور بدعقیدگی پائی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مومن اپنے دل کو اللہ کے بارے میں ہر قسم کی بدگمانی سے صاف رکھے اور اللہ تعالی کے اسماء و صفات اور کائنات میں ان کے اثرات پر غور و فکر کرتا رہے تاکہ اس کے دل میں اللہ تعالی کے بارے میں یہ عقیدہ راسخ رہے کہ اللہ تعالی کی ذات، حق ہے اور اس کا ہر فعل اور فیصلہ برحق ہے اگرچہ بڑی سے بڑی مصیبت ہی کیوں نہ آپہنچے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں