تصویر کشی کرنے والوں کا حکم

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:60-- تصویر کشی کرنے والوں کا حکم (1)​
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh]( قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب نقض الصور، ح:5953، 7559 وصحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ...،ح:2111)
    “اللہ تعالی فرماتا ہے: اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری تخلیق جیسی تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے لوگ ایک ذرہ، ایک دانہ یا ایک جو ہی بنا کر دکھلائیں۔”(2)

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہھا سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب ما وطئی من التصاویر، ح:5954 و صحیح مسلم، اللباس، تحریم تصویر صورۃ الحیوان ...، ح:2107)
    “قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو (چیزوں کو بنانے اور پیدا کرنے میں) اللہ تعالی کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔”(3)

    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
    [qh](كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، يَجْعَلُ لَهُ، بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا، نَفْسٌ يُّعَذِّبُ بِهَا فِي جَهَنَّمَ)[/qh](صحیح البخاری، البیوع، باب بیع التصاویر التی لیس فیھا روح...، ح:2225، 5963، 7042 و صحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ...، ح:2110)
    “ہر مصور جہنم میں جائے گا۔ اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر کے بدلے میں ایک جان بنائی جائے گی جس کے ذریعہ سے اس (مصور)کو جہنم میں عذاب دیا جائےگا۔”(4)

    ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ([qh]مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ)[/qh](صحیح البخاری، اللباس، باب من صور صورۃ کلف یوم القیامۃ...، ح:5963 وصحیح مسلم، اللباس، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ...، ح:2110)
    “جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی ، اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا مگر وہ اس میں روح ہر گز نہ پھونک سکے گا۔”(5)

    ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا:
    ([qh](أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ صُورَةٌ إِلَّا طَمَسْتَهَا وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ)[/qh](صحیح مسلم، الجنائز، باب الامر بتسویۃ القبر، ح:969)
    “کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا ۔ وہ یہ کہ تم کسی تصویر کو مٹائے بغیر اور کسی بلند قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر نہ چھوڑنا”۔(6)


    مسائل

    1) مذکورہ احادیث میں تصویر بنانے والوں کے لیے شدید وعید بیان ہوئی ہے۔
    2) اس وعید کا سبب اور قباحت و حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل ، اللہ تعالی کی جناب میں بہت بڑی بے ادبی اور گستاخی ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: “اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری طرح پیدا کرنے اور بنانے کی کوشش کرتا ہے۔”
    3) اللہ تعالی کی عظیم قدرت اور مخلوق کی کمزوری اور ازحد عاجزی کا بھی بیان ہے کہ یہ لوگ ایک ذرہ ، ایک دانہ یا ایک جو بھی بنانے پر قادر نہیں۔
    4) احادیث میں صراحت ہے کہ تصویر بنانے والوں کو سب سے سخت عذاب ہو گا۔
    5) وہ اس طرح کہ اللہ تعالی ہر تصویر کے بدلے ایک جان پیدا کرے گا جس کے ذریعے سے تصویر بنانے والے کو جہنم میں عذاب دیا جائےگا۔
    6) اور مصور کو اس کی بنائی ہوئی تصاویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا مگر وہ اس میں روح نہ پھونک سکے گا۔
    7) یہ بھی معلوم ہوا کہ تصویر جہاں بھی ہو اسے مٹا دینے کا حکم ہے۔

    نوٹ:-
    (1) ہاتھ سے کسی چیز کی اصل صورت جیسی شکل بنانے والے کو مصور (پینٹر) یا عکاس (فوٹوگرافر) اور اس پیشہ کو مصوری (پینٹنگ)یا عکاسی(فوٹوگرافی) کہتے ہیں۔کسی جاندار کی تصویر بنانا دو وجہ سے حرام ہے۔
    ایک تو اس لیے کہ اس میں اللہ تعالی کی تخلیق سے مشابہت ہے کہ جیسے اللہ تعالی نے وہ چیز بنائی ، مصور یا عکاس بھی اس جیسی چیز بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے، یہ کہ تصویر اور مجسمہ سازی اللہ تعالی کے ساتھ شرک کا سبب اور ذریعہ بھی بنتی ہے۔ بہت سےمشرکین تصاویر اور مجسموں کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوئے۔ اسی لیے تو حید کا تقاضا یہ ہے کہ تصاویر کو باقی نہ رہنے دیا جائے۔
    (2) تصویر سازی اور تصویر کشی کا عمل گویا اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مصور ، اللہ تعالی کی تخلیق جیسی تخلیق کرنا چاہتا ہے جبکہ درحقیقت ، اللہ تعالی کی تخلیق جیسی تخلیق کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مصور کا یہ عمل اپنے آپ کو اللہ تعالی کے مشابہ بنانے کے مترادف ہے۔ اسی لیے وہ مخلوق میں سب سے بڑا ظالم ہے۔
    تصویر کشی (فوٹوگرافی) اور تصویر سازی کرنے والوں کو ان کی بے بسی اور بے کسی کا احساس اور شعور دلانے کے لیے اللہ تعالی انہیں چیلنج کر رہا ہے کہ یہ لوگ اگر میری تخلیق جیسی تخلیق کرنے کی کوشش میں ہیں تو پھر ذرا ایک ذرہ، ایک دانہ یا ایک جو تو بنا کر دکھلائیں تاکہ انہیں اپنی قدرت و اختیار کا اندازہ ہو سکے۔
    (3) تصویر اور مجسمہ سازی میں اللہ تعالی کی تخلیق کے ساتھ مشابہت کی ایک صورت تویہ ہے کہ مصوریا مجسمہ ساز اس ارادہ سے کوئی بت، مجسمہ یا تصویر نبائے کہ لوگ اس کی پوجا کریں ۔ ایسا کرنا کفر ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مصور کو‏ئی تصویر بنائے اور یہ سمجھے کہ میری بنائی ہوئی فلاں چیز کی تصویر اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیز سے زیادہ بہتر اور خوبصورت ہے۔ یہ بھی کفر ہے۔ ان دونوں صورتوں میں سواباقی صورتوں میں ہا تھ سے تصویر یا مجسمہ بنانا ایسا کفر تو نہیں جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے البتہ کبیرہ گناہ ضرور ہے۔ ایسا کرنے والے پر لعنت اور اسے جہنم کی وعید ہے۔
    (4) اس حدیث سے یہ اشادہ ملتا ہے کہ جن احادیث میں تصاویر بنانے پر وعید آئی ہے ، ان سے جان دار اور ذی روح کی تصویر بنانا مراد ہے۔
    (5) روح پھونکنا اللہ تعالی کا کام ہے ۔ کوئی انسان نہ تو روح بنا سکتا ہے اور نہ کسی میں روح ڈال سکتا ہے۔
    (6) چونکہ تصویر شرک کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ اس لیے ان احادیث میں اس پر زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ پیش نظر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند قبر اور تصویر کو برابر حیثیت سے ذکر فرمایا ہے کیونکہ جس طرح بلند قبر شرک کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح تصویر بھی شرک کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے یہ حکم دیا کہ کوئی تصویر باقی رہنے دی جائے نہ کوئی بلند قبر۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں