اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور امان دینے کی ممانعت

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:62--اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور امان دینے کی ممانعت​

    ارشاد الہی ہے:
    [qh](وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ [/qh](سورة النحل16: 91))
    “اور جب تم اللہ سے عہد (واثق)کرو تو اس کو پورا کرو اور قسمیں پختہ کرنے کے بعد ان کو مت تو ڑو، حالانکہ تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن بنا چکے ہو، اللہ تمہارے تمام افعال سے باخبر ہے۔”(1)

    بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوج یا دستے پر کسی کو امیر مقرر فرماتے تو اسے اللہ تعالی سے ڈرنے اور اپنے رفقائے سفر کے ساتھ جسن سلوک کی خصوصی طور پر وصیت کرتے اور فرماتے:
    [qh](اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَّإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ المُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهَنَّ مَا أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلَامِ،فَإِنْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ المُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى المُهَاجِرِينَ، إِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا،مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ المُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْألْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللهِ، ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللهِ أَمْ لَا)[/qh](صحیح مسلم، الجھاد، باب تامیر الامام الامراء علی البعوث و دصیتہ ایاھم باداب الغزو و غیرھا، ح:1731)
    “اللہ تعالی کی راہ میں اس کا نام لے کر لڑائی کرنا اور ہر اس شخص سے لڑنا جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے لڑائی کرنا اور خیانت نہ کرنا ۔ بدعہدی نہ کرنا ۔ مثلہ نہ کرنا(یعنی کسی مقتول کے اعضاء نہ کاٹنا) اور نہ بچوں کو قتل کرنا ۔ جب مشرک وشمن سے تمہارا سامنا ہو تو انہیں تین باتوں کی پیش کش کرنا، اگر وہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی مان لیں تو منظور کرلینا اور جنگ سے رک جانا:
    1:- سب سے پہلے اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ اسے قبول کرلیں تو اسے منظور کرلینا اور انہیں علاقہ مہاجرین کی طرف ہجرت کی دعوت دینا۔ اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ہجرت کریں گے تو انہیں وہ سب حقوق حاصل ہوں گے جو مہاجرین کوحاصل ہیں اور جو بار مہاجرین کو برداشت کرنا پڑتا ہے انہیں بھی برداشت کرنا ہوگا۔ اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کردیں تو پھر انہیں بتادینا کہ وہ ان بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے جن پر اللہ کا حکم جاری ہے، انہیں مال غنیمت یا مال فے سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔
    2:- اور اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں تو پھر ان سے جزیہ طلب کرنا، اگروہ جزیہ دینے پر راضی ہوجائیں تو قبول کرلینا اور جنگ سے رک جانا۔
    3:- اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کردیں تو اللہ تعالی سے مدد مانگ کر ان سے لڑائی کرنا ۔ اور جب تم قلعہ بنددشمن کا محاصرہ کرو اور دشمن چاہیں کہ تم انہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی امان اور تحفظ دے د و تو ایسا ہر گز نہ کرنا بلکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے امان اور تحفظ دینا ، اس لیے کہ اگر تم(کسی صورت میں) اپنا یااپنے ساتھیوں کا ذمہ(ضمانت)تو ڑدو تو یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑنے سے کم تر ہوگا اور جب تم قلعہ میں بند کسی دشمن کا محاصرہ کرو اور وہ چاہے کہ اللہ تعالی کی ذمہ داری پر اس سے صلح کر لو تو ایسا ہرگز نہ کرنا بلکہ تم اپنی ذمہ داری پر اس سے صلح کرنا کیونکہ معلوم نہیں تم ان کے بارے میں اللہ تعالی کی مرضی اور فیصلہ کو پا سکو یا نہیں؟”(2)

    مسائل
    1) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ذمہ و امان میں واضح فرق ہے۔
    2) حدیث میں یہ ہدایت بھی ہے کہ جب کہیں دو مختلف صورتیں درپیش ہوں تو ان میں سے جو صورت آسان تر ، بہتر اور جس میں نقصان کم از کم ہو اسے اختیار کرلینا چاہیے۔
    3) یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالی کی راہ میں اللہ تعالی کا نام لے کر جہاد کیا جائے۔
    4) اور یہ شخص اللہ تعالی کے ساتھ کفر کا مرتکب ہو اس سے قتال کیا جائے۔
    5) نیز کفار سے جہاد اور قتال میں بھی اللہ تعالی سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
    6) اہل علم اور اللہ تعالی کے فیصلوں میں نمایاں فرق ہے۔ اہل علم کا فیصلہ غلط ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالی کا کوئی فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا۔
    7)نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت، صحابی کوئی فیصلہ کرے تو کوئی بھی حتمی طور پر نہیں جانتا کہ اس کا یہ فیصلہ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔

    نوٹ:-

    (1) اس آیت مبارکہ میں عہد سے مراد قسم ہے اور پختہ کی ہوئی قسموں سے مراد لوگوں کے باہمی وہ عہدو پیمان ہیں جنہیں مضبوط کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہوں۔ لہذا حق باری تعالی کی تعظیم کرتے ہوئے قسم اور باہمی عہد و پیمان کو پورا کرنا واجب ہے کیونکہ کسی کا م پر قسم کھانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان اس کام کو اللہ تعالی کی خاطر پورا کرنے کی تاکید کر رہا ہے اور اسے اپنے ذمے لے رہا ہے۔ جب وہ اپنی قسم کے خلاف کرے گا یا اللہ تعالی کے ساتھ کیے ہوئے اس عہد کو توڑے گا تو گویا اس نے اللہ تعالی کی تعظیم اس طرح نہیں کی جس طرح اسے کرنی چاہئے تھی کہ اس تعظیم کا پاس کرتے ہوئے قسم کھاتے وقت ہی اس بات سے ڈرجاتا کہ قسم کو پورا کرنے میں اللہ کا یہ واجبی ادا نہیں کرسکے گا۔
    (2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو ہر معاملہ میں اللہ تعالی کی عظمت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ کوئی شخص لوگوں کو اللہ تعالی یا اس کے رسول کی طرف سے امان اور تحفظ نہ دے بلکہ اپنی طرف سے امان اور تحفظ دینا چاہیے۔اہل توحید اور علوم دینیہ کے طلبہ جو دین کے حوالہ سے شہرت رکھتے ہیں انہیں خاص طور پر ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان سے کوئی ایسا لفظ یا بات یا فعل سرزد نہیں ہونا چاہیے جو ان کے مقام و مرتبہ کے منافی ہو۔ کیونکہ فتنوں سے بھرپور موجودہ زمانہ میں لوگ اہل علم ، اصحاب دین اور حاملین توحید و کتاب و سنت پر خاص نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کے ساتھ معاملات ، تعلقات اور میل جول میں ایسا انداز اپنانا چاہیے جس سے ظاہر ہو کہ یہ لوگ اللہ تعالی کی خوب تعظیم بجالاتے ہیں۔
    انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی احتیاط کریں گے اور اللہ تعالی کی تعظیم کماحقہ بجالائیں گے۔
    قسم اٹھانے، گواہی دینے اور لوگوں کے ساتھ عمومی معاملات میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ معمولی سی بے احتیاطی اور بد معاملگی، اہل علم و دین کے لیے مضرثابت ہو سکتی ہے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں