ازراہ غرور وتکبر اللہ تعالی کی قسم کھانے کا انجام

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:63-- ازراہ غرور وتکبر اللہ تعالی کی قسم کھانے کا انجام(1)​

    جندب بن البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [qh](قَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلَانٍ، فَقَالَ اللهَ تَعَالَى مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ، فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ )[/qh](صحیح مسلم، البر و الصلۃ، باب النھی عن تقنیط الانسان من رحمۃ اللہ، ح:2621)
    “ایک آدمی نے کہا: اللہ تعالی کی قسم!اللہ تعالی فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا: یہ کون ہوتا ہے جو میری قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا۔ میں نے اس کی مغفرت کردی اور تیرے(یعنی قسم اٹھانے والے کے)اعمال ضائع کر دیے ہیں۔”(2)

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ یہ بات کہنے والا عابد و زاہد آدمی تھا۔
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کرکے رکھ دیا۔”(3)


    مسائل

    1) اس بحث سے ثابت ہوا کہ غرور پارسائی کے طور پر اللہ تعالی کی قسم کھانے کا انجام انتہائی خوفناک اور بھیانک ہے۔
    2) دوزخ انسان کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے کہ بسا اوقات بظاہر کسی معمولی سی بات کی بنا پر انسان دوزخ میں جاپہنچتا ہے۔
    3) اسی طرح جنت بھی انسان کے بالکل قریب ہے اور انسان بظاہر کسی معمولی اور چھوٹے سے عمل کی بنا پر جنت کا حق دار بن جاتا ہے۔
    4) اس حدیث سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تائید ہوتی ہے:
    [qh](نَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالاً.... الخ)[/qh]
    “بسا اوقات انسان کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ انسان کو تو اس کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا مگر اس سے اس کے سب اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔”

    5) گزشتہ تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بسا اوقات کسی کا انتہائی ناپسندیدہ قول یا فعل، کسی دوسرے کی مغفرت کا سبب بن جاتا ہے۔

    نوٹ:-

    (1) تعلی ، تکبر اور غرور کے طور پر اللہ کی قسم کھانا ، اللہ تعالی پر کسی قسم کا حق ثابت کرنا اور یہ سمجھنا کہ اللہ تعالی وہی فیصلہ کرے گا جو میرا ہے، یہ سب توحید کے منافی ہے۔ لیکن اگر ازراہ عاجزی اور انکسار اللہ تعالی پر قسم ڈالی جائےتو یہ جائز ہے، کیونکہ ایسی صورت میں اللہ تعالی پر حسن ظن کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے، آپ نے فرمایا:
    “اللہ تعالی کے بعض محبوب و مقبول بندے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر قسم ڈالیں تو اللہ تعالی ان کی قسم کو پورا فرماتا ہے”[qh](صحیح بخاری، الجهاد والسیر، باب قول الله عزوجل من المومنین رجال.....،ح:2806۔)[/qh]
    (2) یہ فلاں شخص ، فاسق تھا اور قسم کھانے والا ، عابد و زاہد۔ اس عابد و زاہد نے خود کو بڑا جانا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ عرصۂ دراز اللہ تعالی کی عبادت میں گذار کر وہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اللہ تعالی کے افعال میں بھی اپنا حکم چلا سکتا ہے اور وہ جس چیز کی بھی تمنا و آرزو کرے اسے مل کر ہی رہے گی جبکہ یہ بات سراسر مقام عبودیت کے منافی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے اس عابد شخض کا مواخذہ کیا اور فرمایا: کون ہے جو ازراہ تکبر و غرور میری قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا۔ میں نے اسے تو معاف کر دیا اور (اے تکبر و غرور اور پارسائی ظاہر کرنے والے عابد!)تیرے اعمال اکارت کردیے۔
    اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کی کماحقہ تعظیم نہ کرنے اور توحید کے خلاف اور منافی عمل کرنے کا نتیجہ کیا ہو تا ہے۔
    یاد رہے! لفظ [qh]“يَتَاَلّى”اِيلاء[/qh] اور[qh] اَلِيَّة[/qh] سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ازراہ تکبر وغرور قسم کھانا ہے۔
    (3)(سنن ابی داود، الادب، باب فی النھی عن البغی، حدیث: 4901، مسند احمد، 323/2)
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں