اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش کرنا گستاخی اور انتہائی حماقت ہے

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 10, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:64--اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش کرنا گستاخی اور انتہائی حماقت ہے۔​
    ​
    ​

    جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک بدوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! جانیں تلف ہو گئیں، بچے بھوک سے بلکنے لگے اور مویشی مرنے لگے، آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا فرمائیں۔ ہم اللہ تعالی کو آپ کے پاس اور آپ کو اللہ تعالی کے حضور سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے(اس کی بات سن کر)بار بار سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھا۔ آپ بدستور سبحان اللہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ اس کا اثر صحابہ کرام کے چہروں پر ظاہر ہونے لگا۔ پھر آپ نے فرمایا:
    [qh](وَيْحَكَ تَدْرِي مَا اللهُ؟ إِنَّ شَأْنَ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ ذلِكَ، إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللهِ عَلَى أَحَدٍ)[/qh](سنن ابی داود، السنۃ، باب فی الجھمیۃ، ح:4726)
    “تجھ پر افسوس! کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کیا ہے؟(یعنی اس کا کیا مقام اور کیا شان ہے؟)اللہ تعالی کی شان اس سے کہیں بلند تر ہے۔ اسے کسی کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔”(1)


    مسائل
    1) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے بطور سفارشی پیش کرنا توحید کے منافی اور اللہ تعالی کے حق میں بے ادبی اور گستاخی ہے۔ اسی لئے جب بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ “ہم اللہ تعالی کو آپ کی خدمت میں بطور سفارشی پیش کرتے ہیں۔” تو آپ نے اس بات پر ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
    2) بدوی کی بات سے آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ اس قدر متغیر ہوا کہ اس کے اثرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہروں پر بھی ظاہر ہوئے۔
    3) آپ نے اعرابی کی بات کے دوسرے حصے “کہ ہم آپ کو اللہ تعالی کے ہاں بطور سفارشی پیش کرتے ہیں” پر نکیر نہیں فرمائی۔ گویا مخلوق کو تو اللہ تعالی کے ہاں بطور سفارشی پیش کیا جاسکتا ہے مگر اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے نہیں۔
    4) اس حدیث سے “سبحان اللہ” کے متعلق یہ و ضاحت ہوگئی کہ بطور انکار و اظہارے تعجب یہ کلمہ کہا جاسکتا ہے۔
    5)اور یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بارش کی دعا کرایا کرتے تھے۔

    نوٹ:-

    (1)یعنی اللہ تعالی کو مخلوق کے سامنے بطور واسطہ اور وسیلہ پیش کرنا درست نہیں کیونکہ اللہ تعالی کی شان اس سے کہیں بلند تر ہے جبکہ مخلوق، رب تعالی کے سامنے وضیع و حقیر ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدوی کی بات کو سن کر بار بار ، سبحان اللہ، کہا کہ اللہ تعالی ایسے امور و اوصاف سے بلکہ ہر شائبۂ نقص اور سوء ظن سے منزہ اور بالا تر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں