اصل مجرم تو یہ ہیں۔۔۔۔۔

نعمان نیر کلاچوی نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جولائی 28, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ’’ یہ پیغامِ عشق ہے‘‘
    سِکھ رِیت روش منصوری نوں
    ہنڑ ٹھپ رکھ کنز قدوری نوں
    ہادی نہ سمجھ ہدایہ کافی نہ سمجھ کفایہ
    کر پرزے جلد وقایہ ایہو دل قرآن کتاب ہے۔۔۔۔۔یہ خواجہ غلام فرید ہماری شاعری ہے۔۔۔۔۔

    عاشق ہونویں عشق کماویں دل رکھے وانگ پہاڑاں ہُو
    سہہ سہہ بدیاں ہزار اُولاویں کر جانڑیں باغ بہاراں ہُو
    منصور جئیں ُچک صولی ڈتے جیڑے واقف کل اسراراں ہو
    سجدیاں سر چئیں نہ باہُو توڑے کافر کہنڑ ہزاراں ہُو

    عاشق سوہی حقیقی جیڑا قتل معشوق دے منیں
    سب نوں جوڑے مکھ نہ موڑے بانویں سو تلواراں کھنیں
    سچا عشق حسین دا باہُو سر ڈتے تے راز نہ بنیں
    والذین امنو اشد حب للہ ۔۔۔۔۔ اس آیت کا یہ ترجمہ ہے۔۔۔۔

    یہ الفاظ کسی دربار میں بیٹھنے والے پیر سیاں کے نہیں اور نہ ہی کسی ملنگ بابا کے ہیں بلکہ یہ اقتباس ہے خطیبِ عصر شعلہ بیان حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کے اوسلو میں دیئے گئے ایک خطبہ سے۔۔۔۔
    منبر پر جلوہ افروز ہوکر حضرت مولانا بے چاری لاعلم عوام کو عشقِ منصوری کا درس دے رہے ہیں انہیں سبقِ عشق سکھارہے ہیں اور ساتھ اس عشق کی باریکیاں بھی سمجھانے کی کوشش میں ہیں۔۔۔۔اور جواب میں بے چاری عوام بجائے سبحان اللہ یا ماشاء اللہ کے یار لوگوں کی طرح ہائے ہائے اُوئے ہوئے کے الفاظ سے حضرت مولانا کو داد سے نواز رہی ہے۔۔۔۔۔
    کیا یہی اس جماعت کی دعوتِ توحید ہے کہ ایک کھلم کھلا کافر و زندیق کو عاشق الہٰی مان کر لوگوں میں اسکی روش کو پھر سے زندہ کیا جائے؟ افسوس صد افسوس کہ حضرت بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ بے چاری لاعلم عوام کوعشقِ منصوری درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔۔۔
    سِکھ رِیت روش منصوری نوں
    استغفر اللہ ربی ۔۔۔۔ نعوذ باللہ من ذلک
    قہر الہٰی سے پناہ۔۔۔اتنا بڑا ظلم۔۔۔افسوس کہ حضرت مولانا کو ذرا بھی معصوم عوام پر ترس نہ آیا کہ انہیں اسی طرح کھلے عام کفر والحاد کی دعوت دے ر ہے ہیں اورا نہیں پتہ بھی نہیں کہ موصوف ہمیں اسپیشل پاکستان سے آکر یہاں کون سی دعوت دینے کے چکر میں ہیں کاش کہ اس مجلس میں کوئی ایک سچا اور نڈر موحد اٹھ کرحضرت مولانا کوٹوک لیتا کہ حضرت آپ پاکستان سے یہاں محض اس لئے تشریف لائے ہیں کہ ہمیں عشقِ منصوری سے بہرہ مند فرمائیں کیا یہی آپ لوگوں کی دعوتِ توحید ہے؟
    مگر افسوس وصد افسوس سب حاضرین یار لوگوں کی طرح ہائے ہائے اوئے ہوئے کرتے رہے۔۔۔۔
    دوسرے بند میں حضرت مولانا فرماتے ہیں۔۔۔
    ہنڑ ٹھپ رکھ کنز قدوری نوں
    ہادی نہ سمجھ ہدایہ کافی نہ سمجھ کفایہ
    کر پرزے جلد وقایہ اِیہو دل قرآن کتاب ہے

    تو حضرت جی آپ نے کیوں پڑھی ہیں کنز اور قدوری ہدایہ وقایہ؟ آپ بھی بن جاتے سیدھے سادے منصوری۔۔۔تف ہو ایسی منصوریت پر۔۔۔ہم تو لگے شعراء حضرات کو کوسنے یہاں پر تو سارا آوا کا آوا بگڑا ہوا ہے۔۔۔حضرت مولانا مزید باہُو سرکار کے اشعار سناتے ہوئے۔۔۔
    عاشق ہونویں عشق کماویں دل رکھے وانگ پہاڑاں ہُو
    سہہ سہہ بدیاں ہزار اُولاویں کر جانڑیں باغ بہاراں ہُو
    منصور جئیں ُچک صولی ڈتے جیڑے واقف کل اسراراں ہو
    سجدیاں سر چئیں نہ باہُو توڑے کافر کہنڑ ہزاراں ہُو

    کون سا عشق حضرت جی؟ کس عشق کی بات فرمارہے ہیں؟ کیا اس عشق کا کوئی تصور شریعت میں موجود ہے؟ کیا اس عشق کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے ملتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھلے پیروکاروں سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟ ائمہ کرام رحمہم اللہ سے ملتا ہے؟
    اگر واقعی یہ عشق کوئی کمال کی چیز ہے تو پھر آپکی اور ہماری شریعت اس سے یکسر کیوں خالی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کیوں خالی ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا ارشاد قرآن میں موجود ہے کہ بندہ کسی ایک مقام پر پنہچ کر معاذ اللہ خدا بن جاتا ہے؟
    نہیں نہیں اور نہیں اللہ تعالیٰ صاف ستھری شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی ان تمام کفریہ باتوں سے پاک صاف ہے۔۔۔تو پھر سے یہ چیزیں کہاں سے دین میں گھس آئیں۔۔۔اس کا صحیح جواب تو شاید مولانا بھی خوب جانتے ہوں گے کہ یہ سب یہودی لابی کی اسلام مخالف سازش اور یونانی فلسفہ کا بھوت سر سوار ہونے کے پیشِ نظر ہوا ہے۔۔۔مگر حضرت مولانا سب کچھ جانتے ہوئے بھی بے چاری عوام کو عشقِ منصوری کا درس دے رہے ہیں۔۔۔
    آپ نے اسی تقریر میں ایک جگہ فرمایا کہ میں تو خطیب نہیں ہوں حالانکہ ہمارے نزدیک آپ سے بڑا خطیب شاید ہی کوئی اس ملک میں ہو کیونکہ اہلِ کلام جانتے ہیں کہ خطابت ایک فن اور چالاکی ہے جو بلاشبہ ایک طویل جہد سے انسان اپنے اندر لے آتا ہے۔۔۔اور یہ دونوں صفات حضرت مولانا میں بدرجہ اتم موجود ہیں اس لئے تو لوگ رات کو حضرت مولانا کا بیان سنتے ہوئے یہی تصور کرتے ہیں کہ صبح قیامت ہے اس لئے سورج نکلنے سے پہلے پہلے توبہ تائب ہوجائیں۔۔۔
    ہمارا حضرت مولانا سے کوئی ذاتی عناد نہیں اور نہ ہی اس تحریر میں حضرت مولانا کی قدح بیان کرنی مقصود ہے ہمارا درد تو شاید ہی کوئی جانے کہ ہمیں کس قدر دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے نام نہاد ٹھیکدار جب مبنر پر بیٹھ کر اور اپنے سامنے ایک پر ہجوم مجمع دیکھ کر اپنا ہوش وحواس کھو بیٹھتے ہیں اور اسی چکر میں ہوتے ہیں کہ کسی طور عوام کو زیادہ سے زیادہ متاثر کیا جا سکے اور اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو پھر اپنا آخری حربہ شُم شُم یعنی ہلکا پھلکا رونے بھی لگ جاتے ہیں تاکہ بات کی تاثیر دوبالا ہوجائے۔۔۔۔
    آخر میں حضرت مولانا باہُو سرکار کی ایک رباعی کچھ یوں سناتے ہیں۔۔۔
    عاشق سوہی حقیقی جیڑا قتل معشوق دے منیں
    سب نوں جوڑے مکھ نہ موڑے بانویں سو تلواراں کھنیں
    سچا عشق حسین دا باہُو سر ڈتے تے راز نہ بنیں
    والذین امنو اشد حب للہ ۔۔۔۔۔ اس آیت کا یہ ترجمہ ہے۔۔۔۔

    استغفر اللہ ربی
    پناہ خدا کی۔۔۔حضرت مولانا سلطان باہو کے ان چند اشعار کو قرآن کا ترجمہ کہہ رہے ہیں۔۔۔
    آج تک کسی بھی مکاتب کے اہلِ علم نے سلطان باہو کے ان اشعار کو قرآن کا ترجمہ کہا؟
    کبھی نہیں اور نہ کوئی کہنے کی جرات کرسکے گا یہ جرات تو حضرت مولانا کے حصے میں آئی۔۔
    اچھا ہوا کہ حضرت مولانا نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ان اشعار کو قرآن کا ترجمہ کہنا کشف کے ذریعے سے معلوم ہوا ہے کیونکہ اس قسم کے عجیب وغریب کشف اکثر انکے بزرگوں کو ہوئے ہیں۔۔۔
    افسوس صد افسوس کہ یہ لوگ دین کے ٹھیکدار بن کر بے چاری لاعلم عوام میں کیا کچھ پھیلانے کے چکر میں ہیں ایک طرف تو لوگوں کو توحید کی نام نہاد دعوت دی جاتی ہے اور دوسری طرف عشقِ منصوری کی دعوت۔۔۔۔یہ دوغلا پن بالکل سجھ سے بالا تر ہے۔۔۔۔۔
    جن ملحدوں کی وجہ سے آج دین تقسیم ہوکر رہ گیا یہ مولانے انہیں دین کی اساس بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔
    میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
    یہ تحریر نہ تو کسی کی ہجو میں لکھی گئی ہےاور نہ کسی سے ذاتی عناد کو ظاہر کرنے کی خاطر۔۔۔
    بلکہ یہ تحریر تو ایک درد ہے ایک سوز ہے جو ہر موحد کے دل میں اس وقت تڑپ اٹھتا ہے جب دین کے نام نہاد ٹھیکدار دین کی اساس کو کھوکھلا کرکے اور عوام کو اپنا تابع بنا کر گمراہ کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔۔۔تب کسی نہ کسی موحد کیلئے حق کا پرچار کرنا اور اصل حقیقیت کو سامنے لانا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔
    حضرت مولانا کا درسِ منصوری

    خصوصی تحریر : نعمان نیر کلاچوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    شکریہ نعمان بھائی ۔ جزاکم اللہ خیرا وبارک فیکم ۔ آپ نے واقعی کمال کردیا ۔ بہترین تحریر ۔ مولانا طارق جمیل دامت برکاتہم نے کنز، قدوری ، ہدایہ ، وقایہ پر بھی منصوریت کی تلوار چلا دی ۔ چالیس سال تک بخاری پڑھانے کے بعد بھی مولانا پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ کتاب الوحی اور کتاب الایمان بھی شاید نظرسے نہیں گزرے ۔ یہ کونسی بخاری پڑھاتے رہے ؟ اللہ ہدایت دے ۔آمین
     
  3. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    یہاں پر بھی یہی اصول فِٹ کرلیں؟؟
     
  4. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,024
    کونسی بخاری اور کس نے پڑھائی؟؟؟؟ یہ بھی ذرا واضح فرما دیں
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,867
    معلوم نہیں ؟
    اس کے لیے آپ ویڈیو دیکھیں جس کا لنک نعمان بھائی نے تحریر کے آخر میں دیا ہے ۔ پھر یہ سوال مبلغ اسلام سے پوچھ کر ہمیں بتائیں کہ مولانا کونسی بخاری پڑھاتے رہے !!

    نوٹ :: یاد رہے کہ ہمارا مقصد کسی کی ذاتیات پر بحث کرنا نہیں ۔ جو ایسا کرے گا وہ اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہو گا ۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ بنت الاسلام سسٹر ۔
    شايد آپ نے وفور غضب ميں ميرے اس جملے كو يكسر نظر انداز كر ديا:
    پہلى درخواست: حسن ظن كا لحاظ كيجيے ۔ فقيرہ ، منصور الحلاج كى جرات كو واضح لفظوں ميں باطل کی حمايت كہہ چکی ہے۔
    ايك دوسرى درخواست : كسى بھی شخص كے الفاظ كو سياق وسباق سے ہٹ كر كوٹ كرنا ميرے نزديك اخلاقى لحاظ سے غلط ہے۔يادش بخير آپ کے ايك موضوع ميں بعض افراد غلط فہمى كا شكار ہو گئے تھے۔ تو كيا ميں آپ کے حسن ظن كى حق دار نہیں؟
     
  7. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    ارے نہیں سسٹر اس میں غصہ کی تو کوئی بات نہیں معذرت شائید آپ کچھ اور سمجھ گئیں!

    میرا مطلب صرف اس جملے کے متعلق تھا کہ جیسے علامہ اقبال کے لیے ہم یہ عذر پیش کر رہے ہیں ، طارق جمیل کے لیے بھی ویسے نہیں کر سکتے کیا؟
     
  8. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    مولانا طارق جمیل اور ان بزرگوں کے عقیدے کے بارے میں پہلے زیدی برادان کی تمام کتب اور تقاریر سن لی جائیں تو اچھا رہے گا
     
  9. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    لیجئے محترم بھائی جان۔۔۔حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔
    ’’ میں چالیس سال سے پڑھ بھی رہا ہوں پڑھا بھی رہا ہوں بخاری سب سے بڑی کتاب ہے میں پڑھاتا ہوں‘‘
    حضرت مولانا کی زبانی بھی سماعت فرما لیں
    محترم المقام بہن۔۔۔دریں محل آپ کا محترمہ ام نورالعین صاحبہ کے مذکورہ اصول سے استدلال بے موقع معلوم ہوتا ہے کیونکہ ہم لوگ مولانا طارق جمیل کے کسی وصف کی تحسین نہیں کررہے بلکہ ہم تو انکے باطل نظریات کارد کررہے ہیں۔
     
  10. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    اصل مجرم تو یہ ہیں( (
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    ميرى بہن غصہ نہیں، وضاحت كى ہے۔
    یہاں موضوع اور ہے۔اگر اقبال كے الفاظ وہی ہوتے جو علام فريد كے ہیں تو يہ بات درست ہوتی۔
     
  12. ام حمزہ

    ام حمزہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 31, 2011
    پیغامات:
    207
  13. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاکم اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں