فیضُو استاد اور بنکی۔۔۔۔

نعمان نیر کلاچوی نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏جولائی 31, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    جیسا کہ ہم نےپہلے اپنی ایک پوسٹ 27# میں ذکر کردیا تھا کہ۔۔۔۔۔
    ’’ ہم نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ پوری طرح ایک صوفیانہ معاشرہ تھا علم واخلاق تو جیسے اس معاشرے کے قریب سے بھی نہیں گزرے رہی سہی بات عبادات کی تو وہ بھی من چاہی۔۔۔جی میں آیا تو نماز پڑھ لی نہیں تو بیٹھ گئے پھر حضرتِ صوفی بن کے۔۔۔۔
    راقم جب 10 سال کا تھا تو بیچارے والدین ماجدین کو ہوش آیا کہ ہمارا فرزندِ ارجمند اسلامی تعلیمات سے یکسر بے بہرہ ہے اور بالخصوص قرآن پاک کی تلاوت تک میں بھی روانی نہیں تو اس لئے انہوں نے اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھ کر راقم کو گھر سے قریباً پانچ منٹ کے فاصلے پر ایک غریب الحال مسجد ’’زیتی والی‘‘ میں کسی دیہات سے آئے ہوئے مولوی فیض الرحٰمن صاحب کے حوالے کردیا تاکہ مولوی صاحب ہمارے بچے کو قرآن کا جوڑ پھر سے سکھلا دے۔۔۔راقم کا پہلا دن۔۔۔۔۔
    درس کا منظر کچھ اس طرح۔۔۔۔محراب کے بائیں جانب فیضُواستاد ساتھ ہی رکھے قریباُ ساڑھے تین گز لمبے بانس کے ڈنڈے سمیت مسجد میں براجمان ہیں راقم مسجد میں آکر قاعدہ کے مطابق فیضو استاد کے ساتھ مصافحہ کرکے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر ایک لڑکا غالباً دانش نام تھا راقم کے قریب آکر کہنے لگا بھائی مجھ سے نماز تو سن لو راقم نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھئی نماز کسی چیز کی نماز؟ لڑکا کہنے لگا بھائی ہم لوگ یہاں پر ظہر کے وقت استاد صاحب کو نماز بھی سناتے ہیں تاکہ الفاظ اچھی طرح پک جائیں۔۔۔راقم نے کہا۔۔جی اچھا سنائیے۔۔۔لڑکے نے کہا کہ سب سے پہلے نیت سناتا ہوں’’ نیت کرتا ہوں نماز کی۔ نماز پڑھنی ہے واسطے خدا کے۔چار رکعتاں نماز فرض ظہر۔منہ ہے خانہ کعبہ شریف کی طرف۔بنکی اللہ پاک کی۔۔۔۔راقم نے جھٹ سے کہا کہ بنکی؟ یہ کیا چیز ہے بھئی یہ لفظ بنکی نہیں بندگی ہے۔۔۔لڑکا ایک دم تو خوب حیران ہوا پھر کہنے لگا نہیں بھائی ہمیں تو استاد صاحب نے یوں پڑھایا ہے ، تم نئے آئے ہو اس لئے تمہیں پتہ نہیں میں نے کہا جا کر استاد صاحب سے پوچھ لو وہ خود ہی کہہ دیں گے کہ یہ لفظ بنکی نہیں بلکہ بندگی ہےلڑکا جھٹ سے اٹھا اور استاد صاحب کے قریب جا کر کہنے لگا استاد صاحب یہ نیا لڑکا کہتا ہے یہ لفظ بنکی ہے استاد صاحب بھی کافی حیران ہوئے کہ کون کہتا ہے کہ بنکی ہے لڑکے نے فوراً انگلی سے میری طرف اشارہ کردیا۔۔۔استاد صاحب نے غصیلی نگاہوں سے راقم کی جانب دیکھا اور کہنے لگے ادھر آؤ اُوئے مونی۔۔۔کیا کہا ہے تم نے دانچی سے؟ راقم ڈرتے ڈرتے استاد صاحب کے قریب گیا تو استاد صاحب یوں مخاطب ہوئے۔۔۔۔یہ کیا نخرہ ہے یہ کوئی تم نئی نیت پڑھتے ہو؟راقم نے کہا استاد صاحب ہمیں اسکول والے استاذ نے پڑھایا ہے کہ یہ لفظ بنکی نہیں بندگی ہے استاد صاحب مخاطب ہوئے کہ نہیں نہیں کسی نے غلط کہا ہے ہم نے ساری عمر بنکی پڑھا تم کون ہوتے ہو بندگی کہنے والے۔۔۔۔
    بس کیا تھا راقم کے تو جیسے پاؤن تلے زمین کھسک گئی ہو۔۔۔آرام سے جا کر اپنی جگہ بیٹھ گیا‘‘

    نعمان نیر کلاچوی کی کتاب ’’ اچار‘‘ سے اقتباس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں