اُمّی عائشہ رضی اللہ عنہا

عائشہ نے 'منقبت و خراج تحسین' میں ‏جولائی 1, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    نبوت کا چمن ہے یہ گلستان رسالت ہے​
    خزاں ہو یا کوئی طوفاں اسے رب کی حفاظت ہے​
    اے لوگو ہو اگر سینے میں دل بے باکیوں والا​
    سناتا ہوں تمہیں قصہ بہت غمناکیوں والا​
    زمین درد پر جب چھا رہا تھا آسمان ِ غم​
    یہ امی عائشہ پر ظلم کی ہے داستانِ غم​
    نبی پیاری زوجہ کا ہوا نڈھال کاندھا تھا​
    منافق بن ابی نے ان پہ ایک بہتان باندھا تھا​
    یہ شعبان المعظم پانچ ہجری کا زمانہ تھا​
    قریبِ نجد لڑنے کے لیے لوگوں نے جانا تھا​
    منافق جانتے تھے اس جگہ پر جنگ نہ ہو گی​
    امن والی جگہ ہے ہم پہ بالکل تنگ نہ ہوگی​
    لڑائی سے یہ گھبراتے تھے دنیا تھی انہیں مرغوب​
    روایت ہے کہ اس غزوہ پر ہی سہمے منافق خوب​
    نکالا مصطفی نے قرعہ سب ازواج کا جس دم​
    تو حضرت عائشہ اپنے محمد کے ہوئیں ہم دم​
    خوشی سے دل مچلنے لگ گیا شائق ہوا تن من​
    سفر کے واسطے تیاریاں کرنے لگیں فورا​
    ادھر اسماء کا پہنا ہار اور مخمل میں آ بیٹھیں​
    ادھر خوشیاں ہی خوشیاں عائشہ کے دل میں آ بیٹھیں​
    سفر سے واپسی پر قافلہ رات اک جگہ ٹھہرا​
    اسی خاموش منظر میں چھپا تھا اک اثر گہرا​
    گئی تھیں عائشہ جب رفع حاجت کو مگر آ کر​
    پریشاں ہو گئیں اپنے گلے میں ہار نہ پا کر​
    ادھر یہ جستجو ئے ہار میں تھیں رنج کے مارے​
    ادھر وہ قافلے والے روانہ ہوگئے سارے​
    تلاش ہار میں صدیقہ نے وہ ہار تو پایا​
    مگر جب واپس آئیں تو وہاں سناٹا تھا چھایا​
    خدا کی شان پیچھے آ رہے تھے حضرتِ صفواں​
    قریب آ کر جو دیکھا عائشہ کو ہو گئے حیراں​
    یہ بیٹھیں اونٹ پر ان کے وہ پیدل چل پڑے لے کر​
    تھے دل بھی صاف اور پاکیزگی کے دونوں تھے پیکر​
    بہت ہی جلد اپنے قافلے سے جا ملے دونوں​
    منافق بن ابی کو یہ کھٹکنے لگ گئے دونوں​
    کیا نہ تھا یہ وحشت ناک نظارہ مدینے نے​
    دیا الزام اماں عائشہ کو اس کمینے نے​
    منافق سب مدینے میں یہ پھیلانے لگے قصہ​
    جو جتنا تھا برا اتنا ہی لینے لگ گیا حصہ​
    ابھی تک پاک صدیقہ کو کچھ معلوم ہی نہ تھا​
    یہ تو معصوم تھیں پر دشمنوں کے دل میں کینہ تھا​
    صحابہ اس خبر پر انگلیاں کانوں میں رکھتے تھے​
    منافق بد چلن لیکن یہی بہتان بکتے تھے​
    سنا اک دن یہ قصہ امِ مسطح کی زبانی جب​
    تو لوٹیں عائشہ گھر الٹے پاوں کام بھولیں سب​
    یقیں اب بھی انہیں نہ تھا مگر یہ آ گئیں میکے​
    سسکتی عائشہ نے ماں کا دامن تھام لیا آکے​
    مگر ماں نے فقط تسکین دی کچھ بول نہ پائیں​
    اچانک ان کے دروازے پہ اک انصاریہ آئیں​
    جو دیکھا عائشہ کو اس نے سارا قصہ دہرایا​
    یہ سن کر پاوں لرزے عائشہ کے، سر بھی چکرایا​
    نہیں نازک کوئی شے عزت و ناموس جیسی ہے​
    یہ چکنا چور ہو جانے میں اک فانوس جیسی ہے​
    غموں سے بھر گیا تھا سینہ دل بھی پارہ پارہ تھا​
    فقط تنہائی کا دامن تھا آنسو کا سہارا تھا​
    ذکر کرتیں ہیں امی عائشہ یہ المیہ ہم سے​
    کہ آنکھیں خشک میری ہو گئیں رو رو کے اس غم سے​
    پھر اک دن آ گئے سرکار دو عالم ﷺمیرے گھر پر​
    کہا جب مجھ کو دیکھا غمزدہ ہوں اپنے بستر پر​
    اگر مجرم ہو توبہ کر لو اللہ معاف کر دے گا​
    اگر مجرم نہیں ہو تم تو پھر قرآن اترے گا​
    یہ سن کر ہو گیا حاصل مجھے اک اطمینانِ دل​
    سکون سے ہو گیا لبریز اب میرا مکانِ دل​
    کہا میں نے کہ میرا حال ہے یعقوب کے جیسا​
    قرارِ دل مجھے دیتا ہے اب صبر ِجمیل ایسا​
    اچانک ہو گئی پیارے نبی پر کیفیت طاری​
    براءت پر میری ہونے لگا اعلانِ رب جاری​
    اتار دیں رب نے دس آیات میری پاکبازی پر​
    غضب رب کا ہو فتین کی دشنام سازی پر​
    رہی صدیقہ پاکیزہ ہوئے بدنام سب اشرار​
    ہوا تھا ہار جس کا گم گئے دشمن اسی کے ہار​
    کوئی اپنے لیے بھی ماں کی گالی سہہ نہیں سکتا​
    ہو تہمت ام امت پر تو میں چپ رہ نہیں سکتا​
    ارے کچھ سوچ تو لیتے کہ کرنے جا رہے ہو کیا​
    کسی معصوم کو تڑپا کے آخر پا رہے ہو کیا​
    ابھی تو کھیلنے کے دن تھے وہ چودہ برس کی تھیں​
    شہِ معصوم کے ہمراہ روتیں اور ہنستیں تھیں​
    بنینِ عائشہ آو ، بنات عائشہ آو​
    جو نارِ دشمنی میں جل رہے ہیں ان کو سمجھاو​
    اے ام المومنیں کے دشمنو اسلام کے اعداء​
    ابھی اولادِ اماں عائشہ کی روح ہے زندہ​
    نہ چھیڑو اپنے ہتھکنڈوں سے اب بھی باز آ جاو​
    یہ بے تحقیق ہے دُشنام سازی اس سے کتراو​
    جو سمجھتا نہیں شیطاں کی چالوں میں پھنستا ہے​
    یہ دیکھو کس قدر ابلیس بھی ہم سب پہ ہنستا ہے​
    ہمیں آپس میں لڑوا کر ہمارا کر دیا نقصاں​
    اسی کی چال ہے انسان کو تڑپا رہا انساں​
    درودوں کا ہماری طرف سے ہدیہ محمدص کو​
    سلاموں کا ہماری طرف سے تحفہ محمدص کو​
    صحابہ پر بھی ہو ان کے خدا کی رحمتیں نازل​
    ہوں پیاری امہات المومنیں پر برکتیں نازل​
    مسلمانوں کی ماں میں ہوں اور صدیق کی بیٹی​
    کبھی صدیق کی آغوش میں لیٹی کبھی بیٹھی​
    میرے سرتاجﷺنے کل زندگی رکھا تھا پاس اس کا​
    میں بیٹی جس کی ہوں پہنا فرشتوں نے لباس اس کا​
    محمدﷺکے ابو بکر و عمر مجنون ہیں دونوں​
    میرے گھر میں ابو بکر و عمر مدفون ہیں دونوں​
    میری پاکیزہ خوئی کو سمجھنا خوب آساں ہے​
    لگا لو اس سے اندازہ میرا داماد عثمان ہے​
    اے تہمت دینے والو سرورِ کونین ﷺسے پوچھو​
    علی اور فاطمہ سے پوچھ لو حسنین سے پوچھو​
    ابو بکر و عمر ، عثمان و حیدر فاطمہ، حسنین​
    میری عصمت پہ تو شاہد ہے رب شاہ ذوالقرنین​
    اندھیر ا ہی اندھیرا ہے جو باطل کا اجالا ہے​
    خدا کی طرف سے طے ہے کہ حق کا بول بالا ہے​
    سلام اے بنتِ صدیق رفیقِ شاہ نورانی ص​
    سلام اے زوجہ و محبوبہءِ محبوبِ ربانی ص​
    سلام فاطمہ کے پیارے پیارے باپ ﷺکی رانی​
    سلام اے مصطفیﷺ کے لاڈلے حسنین کی نانی​
    یہ میرے چند آنسو ہیں حفاظت ان کی کر لینا​
    اے میرے بھائیو بہنو شراکت ان کی کر لینا​
    الہی اس نظم سے ہر کسی کے دل کو گرما دے​
    اسامہ اور انس کے دردِ دل کو عام فرما دے​
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں