ندا فاضلی

حیدرآبادی نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اکتوبر، 31, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    ندا فاضلی

    تنہا تنہا ہم رو لیں گے محفل محفل گائیں گے
    جب تک آنسو پاس رہیں گے تب تک گیت سنائیں گے

    تم جو سوچو وہ تم جانو ہم تو اپنی کہتے ہیں
    دیر نہ کرنا گھر جانے میں ورنہ گھر کھو جائیں گے

    بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
    چار کتابیں پڑھ کر وہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

    کن راہوں سے دور ہے منزل کون سا راستہ آسان ہے
    ہم جب تھک کر رک جائیں گے اوروں کو سمجھائیں گے

    اچھی صورت والے سارے پتھر دل ہوں ممکن ہے
    ہم تو اُس دن رائے دیں گے جس دن دھوکہ کھائیں گے​
     
  2. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    جو آدمی بھی ملا بن کے اشتہار ملا

    ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
    جسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

    وہ کوئی راہ کا پتھر ہو یا حسین منظر
    جہاں سے راستہ ٹھہرا وہیں مزار ملا

    کوئی پکار رہا تھا کھلی فضاؤں سے
    نظر اٹھائی تو چاروں طرف حصار ملا

    ہر ایک سانس نہ جانے تھی جستجو کس کی
    ہر ایک دیار مسافر کو بےدیار ملا

    یہ شہر ہے کہ نمائش لگی ہوئی ہے کوئی
    جو آدمی بھی ملا بن کے اشتہار ملا​
     
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

    سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
    سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

    اِدھر اُدھر کئی منزل ہیں چل سکو تو چلو
    بنے بنائے ہیں سانچے جو ڈھل سکو تو چلو

    کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
    تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو

    یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
    مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

    یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
    انہی کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

    ہر ایک سفر کو ہے محفوظ راستوں کی تلاش
    حفاظتوں کی روایت بدل سکو تو چلو

    کہیں نہیں کوئی سورج ، دھواں دھواں ہے فضا
    خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو​
     
  4. راضی

    راضی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2007
    پیغامات:
    10,524
    کہیں نہیں کوئی سورج ، دھواں دھواں ہے فضا
    خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو
    بہت خوب۔۔۔۔۔رے آپ تو واقعی صرف باتاں نہیں کرتے۔۔۔۔
     
  5. ام زینب

    ام زینب -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 19, 2008
    پیغامات:
    252
    آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
    بند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

    کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے
    رنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا

    بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی خاموشی سے
    اک ذرا سی ضد کی خاطر خود کو بہت برباد کیا

    بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
    چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

    پڑھے لکھوں کی بات نہ مانی کام آئی حیرانی سی
    سنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا
     
  6. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    بہت خوب
     
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
  8. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    دن سلیقے سے اُگا ، رات ٹھکانے سے رہی

    دن سلیقے سے اُگا ، رات ٹھکانے سے رہی
    دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی

    چند لمحوں کو ہی بناتی ہیں مصور آنکھیں
    زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی

    اس اندھیرے میں تو ٹھوکر ہی اجالا دے گی
    رات جنگل میں کوئی شمع جلانے سے رہی

    فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو
    دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی

    شہر میں سب کو کہاں ملتی ہے رونے کی فرصت
    اپنی عزت بھی یہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
     
  9. کمانڈر فہد

    کمانڈر فہد -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 29, 2009
    پیغامات:
    391
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بہت خوب بھائی بھائی
     
  11. نویدظفرکیانی

    نویدظفرکیانی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    15
    بہت ہی خوب
    ان شاعر کا مزید کلام کہاں ملے گا؟
     
  12. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    یہ تو حیدرآبادی بھائی ہی بتا سکتے ہیں‌
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں