دکن سے قومی زبان کا ابن صفی نمبر

Rashid Ashraf نے 'گوشۂ ابن صفی' میں ‏ستمبر 30, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2008
    پیغامات:
    89
    آندھرا پردیش اردو اکیڈمی حیدرآباد دکن سے قومی ابن کے ابن صفی نمبر کی اشاعت ایک اہم واقعہ ہے۔ مذکورہ شمارے میں احقر کا ایک مضمون "ابن صفی-شہرت اب سرحدوں کے پار" شامل ہے جسے یونی کوڈ میں جلد پیش کروں گا۔ قومی زبان کے ڈائرکٹر جناب ارشد زبیری کے نام راقم الحروف نے کل ایک خط بھیجا ، احباب کے مطالعے کے پیش خدمت ہے:

    جناب ارشد زبیری صاحب

    کل 28 ستمبر کی سہہ پہر پرچہ لاہور سے کراچی پہنچا اور گھر سے یہ خوش کن اطلاع مجھ تک فی الفور پہنچی۔ عرض کروں کہ ابن صفی صاحب کی شخصیت کا اگر قومی زبان میں محض ذکر ہی آجاتا تو وہ بھی ایک میرے نزدیک ایک اہم بات ہوتی، یہاں تو آپ ایک ایسا کام کرگئے ہیں جو ابن صفی صاحب کی ادبی حیثیت کو تسلیم کیے جانے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصل جھگڑا یہی تو ہے کہ ثقہ حضرات نے یا جنہیں ابن صفی ادب کے ٹھیکیدار کہا کرتے تھے، کبھی سری ادب کو ادب میں شمار ہی نہیں کیا اور راقم الحروف عرصہ دو برس سے اسی فکر میں غلطاں ہے کہ مشاہیر ادب سے ملاقات کرکے اس موضوع پر ان سے کچھ کہلوایا جائے۔ الحمد اللہ کہ اب تک عبید اللہ بیگ، کمال احمد رضوی، انوار صدیقی، محمد ڈاکٹر عزیر و دیگر اس موضوع پر اپنے خیالات ریکارڈ کرواچکے ہیں، یہ ویڈیوز یو ٹیوب پر موجود ہیں!

    عطاء الحق قاسمی، امجد اسلام امجد اور زاہدہ حنا صاحبہ سے اس سلسلے میں بات ہوچکی ہے کہ جب بھی موقع ملا، وہ راقم کے اپنے تاثرات ریکارڈ کروائیں گے۔

    گزشتہ ہفتے میں بابائے اردو مولوی عبدالحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو کے دفتر میں بیٹھا ان کے مدیر اعلی کو آپ کے شائع کردہ ابن صفی نمبر کے بارے میں اطلاع دے رہا تھا اور یہ باور کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ کام انمجن سے بھی ہونا چاہیے

    آپ کا اندازہ درست ہے۔ اردو اکیڈمی آندھرا پردیش کے علمی، فنی، سائنسی، لسانی اور ادبی جریدے ماہنامہ قومی زبان حیدرآباد (دکن) کا ابن صفی نمبر اس وقت میرے سامنے ہے اور میں اس کو دیکھ کر نہال ہورہا ہوں

    آپ نے تو اداریے میں خود یہ کہہ کر گویا بات ہی ختم کردی کہ " جاسوسی دنیا کا شمارہ جب شائع ہوتا تھا تو آپ اسے پہلی فرصت میں حاصل کرتے تھے اور یہ بات آپ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے نہ خجالت کا اس لیے کہ ہر عمر کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور ان تقاضوں کو جبلی او اخلاقی حدود میں طے کرنا ہی ایک متمدن انسان کی زندگی ہے""

    اس شمارے میں ڈاکٹر ابو الخیر کشفی، علامہ اعجاز فرخ،ڈاکٹر عقیل ہاشمی، ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر سید بشیر احمد،ڈاکٹر ریحان انصاری اور پروفیسر مجید بیدار جیسی جید شخصیات کے مضامین کا شامل ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ اردو ادب میں جناب ابن صفی کی خدمات کو اب کھلے دل سے تسلیم کیا جارہا ہے اور ایسا کرکے ہم اس ادبی بدیانتی کی نفی کررہے ہیں جو اب تک ابن صفی سے روا رکھی گئی ہے۔

    شاید یہی وہ تلخ حقیقیت ہے جس کے مدنظر رکھتے ہوئے راقم کے زیر نظر شمارے میں شامل مضمون کا آغاز اس گستاخانہ جملے سے ہوا کہ:

    "ابن صفی کے فلسفے کی خوشبو سرحد پار پہنچی۔ادب کے ٹھیکیدار اور ادب عالیہ کے علمبردار اسی دن سے تو ڈرتے تھے۔ ان میں سے بہتیرے تو دل میں یہ حسرت لیے دنیا سے چلے گئے کہ ان کا لکھا ہوا کبھی الماریوں سے نکل کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچے لیکن راقم گواہ ہے کہ وہ سب ٹنوں کے حساب سے شہر کی لائبریروں میں بندھا پڑا ہے اور مٹی آدم کے ساتھ ساتھ ایسی بے کیف تخلیقات کو بھی کھائے چلے جارہی ہے جن کو لکھنے والے اپنے ناموں کے ساتھ بھاری بھرکم ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں"

    امید ہے کہ ثقہ حضرات مندرجہ بالا تبصرے پر مجھے درگزر فرمائیں گے، ویسے بھی پرچے کے اندورنی صفحے پر آپ لکھ ہی چکے ہیں کہ " قومی زبان میں شائع شدہ مضامین میں اظہار کردہ خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے""

    جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے اپنے مضمون میں اس بات کی خواہش ظاہر کی ہے کہ "اگر کوئی ابن صفی کے ناولز کے ایسے ٹکڑوں کا انتخاب شائع کردے جن میں زببان و بیان کے محاسن بہت نمایاں ہیں تو یہ ان کے ادبی مرتبے کو تسلیم کروانے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔""

    عرض کروں کہ یہ کام جناب محمد حنیف، 1976 میں کرچکے ہیں جو تاحال غیر مطبوعہ ہے، حال ہی میں جب وہ کراچی تشریف لائے تو یہ گراں در تحفہ میرے واسطے لیتے آئے تھے۔ ایسا ہی ایک کام راقم الحروف نے عرصہ تین ماہ کی عرق ریزی کے بعد حال ہی میں مکمل کیا ہے۔ جناب ابن صفی کے 245 ناولز (عمران سیریز و جاسوسی دنیا) کے ہر صفحے پر موجود ادبی، تاریخی، فلمی، طنزیہ و مزاحیہ حوالوں کو یکجا کیا گیا اور ان کی مختصر تفصیل لکھی گئی۔ مشتاق قریشی صاحب کو اس کی اطلاع جلد پہنچا دوں گا۔ مشتاق صاحب کی راقم پر کیا کیا عنایتیں رہی ہیں، کیا عرض کروں، چند ماہ پیشتر انہوں نے جناب ابن صفی کے 20 ناولز کے اوریجنل مسودے مجھے عنایت کیے تھے، ان مسودات پر صفی صاحب کے بنائے ہوئے سینکڑوں "اسکیچز" موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دلچسپ بات اور سنیے، حال ہی میں انہوں نے ابن صفی صاحب کا ایک ایسا پورٹریٹ تحفتہ پیش کیا جسے 40 برس پہلے کراچی کے مصور مشیر صدیقی صاحب نے بنایا تھا، یہ وہی تصویر ہے جسے آپ نے قومی زبان کے ابن صفی نمبر کے سرورق کی زینت بنایا ہے۔ مشرق وسطی سے آئے ہوئے صفی صاحب کے ایک پرستار نے قریشی صاحب سے برسوں پہلے مذکورہ پورٹریٹ کو 5 لاکھ روپوں میں خریدنے کی پیکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ 20 ناولز کے مسودے، میں نے اخلاقی ذمہ داری جانتے ہوئے قریشی صاحب کی اجازت سے فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کے حوالے کردیے تھے کہ میری نظر میں ان سے زیادہ حقدار اور کوئی نہیں اور انہیں ابن صفی کے
    Family Archive
    کا حصہ بننا چاہیے تھا!

    مجھے اس بات پر کامل یقین ہے کہ آنے والے وقت میں جناب ابن صفی پر پی ایچ ڈی ہوگی اور ایسے میں یہ تمام چیزیبں ان پر تحقیق کرنے والوں کے لیے سود مند ثابت ہوں گی۔ برسبیل تذکرہ، شنید تھی کہ دہلی کے شعبہ اردو، جامعہ املیہ اسلامیہ میں ابن صفی صاحب پر ایک ایم فل اور ایک پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر خالد جاوید کی زیر نگرانی جمی ہونے جارہا تھا، خدا جانے اس کا کیا بنا۔ اس بات کا تذکرہ خالد جاوید صاحب نے اپنے مضمون "ابن صفی چند معروضات" میں کیا تھا، یہ مضمون سہہ ماہی اردو ادب میں 2007 میں شائع ہوا تھا۔

    قومی زبان کا ابن صفی نمبر نہ صرف ظاہری طور پر دیدہ زیب ہے بلکہ اپنے اندر ایسے مضامین کو سموئے ہوئے ہے جن کی خوشبو دکن سے نکل کر ساری دنیا میں پھیلے گی۔ اس سلسلے میں جناب سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ مجھے اس کے چیدہ چیدہ مضامین کو ابن صفی ڈاٹ انفو اور وادی اردو پر اور چند مزید ادبی پلیٹ فارمز (بزم قلم وغیرہ) پر ان کو شامل کرنے کی اجازت دیجیے۔

    راقم زیر نظر شمارے میں اپنی ویب سائٹ وادی اردو سے مواد کے لیے جانے
    کو اپنی انتہائی خوش قسمتی تصور کرتا ہے، اس سلسلے میں جناب مشاق احمد قریشی صاحب کا تعاون ہمیشہ کی طرح بے مثال رہا کہ ویب سائٹ پر شامل زیادہ تر مضامین ان کے جریدے نئے افق اور نیا رخ ہی سے ان کی مکمل اجازت کے بعد شامل کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پروفیسر مجنوں گورکھپوری کا اہم مضمون "اردو میں جاسوسی افسانہ" جناب ایچ اقبال کے الف لیلہ ڈائجسٹ کے 1972 میں شائع ہوئے ابن صفی نمبر سے لیا گیا جو عرصہ 39 برس بعد قومی زبان کے ابن صفی نمبر کی زینت بنا، ایچ اقبال صاحب تک بھی یہ اطلاع پہنچا چکا ہوں

    آپ نے قومی زبان کے اس پرچے کے 5 شمارے مجھے بھجوا کر بڑی کرم فرمائی کی اور اس سلسلے میں کو زحمت آپ کو اٹھانی پڑی اس کے لیے سوائے دعائوں کے میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ مشتاق احمد قریشی صاحب کی کاپی ان تک جلد پہنچ جائے گی۔

    اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ آج جو میں وادی اردو کے اجراء پر نازاں ہوں، اس کا اصل محرک تو فرزند ابن صفی جناب احمد صفی اور ہمارے مربی اور ابن صفی ڈاٹ انفو کے نگراں کار جناب محمد حینف صاحب کی شخصیات ہیں جنہوں نے قدم قدم پر حوصلہ افرائی و تعاون کیا اور آج بھی کررہے ہیں۔

    قومی زبان کے ابن صفی نمبر کے ایک پرچے کی قیمت دس روپے ہے لیکن میرے لیے تو یہ دس لاکھ کا کام ہے۔ پاکستان میں کتابوں اور جریدوں کی قیمتیں ہوشربا حد تک بڑھ چکی ہیں، اتنی کہ اب درمیانہ طبقہ انہیں خریدتے ہوئے گھبراتا ہے ۔ یقننا ہندوستان میں بھی اب یہ کوئی منفعت بخش کام نہ رہا ہوگا، لیکن پھر بھی ایسے میں اس قیمت پر پرچہ نکالنا ایک قابل تعریف عمل ہے۔ کہیں کہیں صورتحال غیر واضح معلوم ہوتی ہے مثلا" گزشتہ دنوں دہلی سے چند خودنوشت سوانح عمریوں مجھ تک پہنچیں، ان میں پروفیسر ملک زادہ منظور کی خودنوشت کی قیمت 500 روپے جبکہ نوشاد علی لکھنوی کی خودنوشت کی قیمت محض 150 روپے ہے، دونوں کتابوں کے صفحات کی تعداد بھی کم و بیش ایک جتنی ہے۔

    آپ سے ایک درخواست ہے اس شمارے میں شامل چند مضامین کے مصنفین کے بارے میں یک سطری معلومات فراہم کردیجیے کہ صاحب مضمون کہاں کس شہر میں مقیم ہے اور اگر ان کے ای میل پتے مل جائیں تو نہایت ممنون رہوں گا:

    علامہ اعجاز فرخ
    ڈاکٹر عقیل ہاشمی
    ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم
    ڈاکٹر سید بشیر احمد
    ڈاکٹر ریحان انصاری
    پروفیسر مجید بیدار
    م ز خان
    ظہیر دانش
    سردار ساحل
    شفیع اقبال
    حلیم بابر

    قومی زبان کے لیے چند مضامین آپ کو بھیجنا چاہتا ہوں، ان میں پروفیسر وارث کرمانی کی خودنوشت گھومتی ندی پر تبصرہ، ڈاکٹر انور سدید کے انٹرویز پر منبی کتاب آپس کی باتیں پر تجزیہ، مشفق خواجہ پر مضمون اور جناب اثر غوری کی شاعری پر مضمون " اثر غوری کی شاعری میں آسیبی کیفیات" شامل ہیں۔ لیکن پہلے یہ فرمائیے کہ قومی زبان کا عموی مزاج کیا ہے، کیا اس نوعیت کے مضامین کی گنجائش نکلتی ہے ?

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 30, 2011
  2. Rashid Ashraf

    Rashid Ashraf -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 22, 2008
    پیغامات:
    89
    اثر غوری کی شاعری میں آسیبی کیفیات قومی زبان دکن کے اکتوبر 2011 کے شمارے میں شائع ہوگیا ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں