شدید زخمی حالت میں گرفتار کرنل معمر قذافی دم توڑ گئے

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 21, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    لیبیا کے معزول صدر کرنل معمر قذافی زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔لیبیا کی عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے تحت ملیشیا نے کرنل معمر قذافی کو سرت کے نواح سے چند گھنٹے قبل ہی زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔

    عبوری کونسل کے کمانڈروں کے حوالے سے مغربی میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سابق صدرکی دونوں ٹانگوں میں اورسر میں زخم آئے تھے۔انھیں شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔انھیں ایک ایمبولینس کے ذریعے کسی اسپتال میں منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ دم توڑ گئے ہیں۔کرنل قذافی اور ان کے ساتھی مبینہ طور پر گاڑیوں کی قافلے کی شکل میں سرت سے راہ فرار اختیار کر کے جا رہے تھے اور اس دوران راستے میں ان کے قافلے کو نیٹو کے جنگی طیاروں نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب فضائی حملے کا نشانہ بنایا جبکہ این ٹی سی کے جنگجوٶں نے ان پر زمینی حملہ کردیا۔

    لیبیا کے عبوری وزیراعظم محمود جبریل نے طرابلس میں نیوزکانفرنس میں کرنل قذافی کی جنگجوٶں کے ہاتھوں موت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی لاش تحفے کے طور پر مصراتہ پہنچا دی گئی ہے۔العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ کرنل قذافی کی میت مصراتہ کی تیونس مارکیٹ میں رکھی گئی ہے اور کسی نامعلوم مقام میں ان کی تدفین کی جائے گی۔عبوری کونسل کے عہدے دار قذافی کی تدفین کے مقام کو رکھ رہے ہیں۔

    این ٹی سی کے ایک عہدے دار عبدالمجید ملغتہ نے رائیٹرز کو بتایا کہ کرنل قذافی نے جمعرات کو سرت سے اپنے حامیوں کے ایک قافلے ساتھ فرار کی کوشش کی تھی۔ اس قافلے کو نیٹو کے جنگی طیاروں نے بمباری کا نشانہ بنایا جس میں قذافی شدید زخم ہوگئے تھے۔قافلے میں شامل قذافی کے بیٹے معتصم ،ان کے انٹیلی جنس چیف عبداللہ السنوسی ،سابق وزیردفاع ابوبکر بھی مارے گئے ہیں.تاہم ان کے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

    دوسری جانب معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے ایک فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ وہ لیبیا میں کرنل قذافی کی گرفتاری اور ہلاکت کی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں اوراس کی تصدیق میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔اگر یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو یہ لیبی عوام کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔

    کرنل قذافی کے بیالیس سالہ اقتدار کا 23اگست کو خاتمہ ہوگیا تھا اور عبوری کونسل کی ملیشیا نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرلیا تھا۔قذافی تب سے اپنے وفادار جنگجوٶں کے ساتھ سرت اور بنی ولید میں عبوری ملیشیا کی سخت مزاحمت کرتے رہے تھے۔سرت میں ان کی موت کی اطلاع عام ہونے کے ساتھ ہی این ٹی سی کے جنگجووں نے جشن منانا شروع کردیا اور وہ ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔

    سابق لیبی صدر اقتدار چھن جانے کے بعد سے روپوش تھے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ لیبیا کے صحرائی علاقے میں کہیں چھپے ہوسکتے ہیں لیکن وہ کہیں اور نہیں بلکہ اپنے آبائی شہر سرت ہی میں موجود تھے اور انھوں نے دوماہ تک وہاں عبوری کونسل کے تحت ملیشیا کی مزاحمت کی ہے۔

    واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی)کے پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکیمپو نے لیبیا کے صدر معمر قذافی ،ان کے بیٹے سیف الاسلام اورانٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کےالزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےلیکن یہ وارنٹ دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور کرنل قذافی نے ملکی اور عالمی عدالتوں میں ذلیل ورسوا ہونے کے بجائے میدان جنگ میں جان دینے کو ترجیح دی ہے۔
    درج ذیل لنک پروڈیوبھی ملاحظہ کریں
    شدید زخمی حالت میں گرفتار کرنل معمر قذافی دم توڑ گئے
     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    فاطمى رياست قائم ہوتے ہوتے رہ گئی ۔
     
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,395
    جبکہ گرفتاری کے وقت لی گئی ویڈیو میں وہ اپنے پاؤں پر چل پھر رہے تھے اور اس قدر شدید زخمی دکھائی نہیں دے رہے تھے کہ ان کی موت واقع ہو جاتی!

    ایک آمر کو جو انجام متوقع تھا وہی ہوا، بچ نکلتے ہیں‌ تو صرف پاکستان سے!!!
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    انا للہ وانا الیہ راجعون -خس کم جہاں پاک ـ
    1974ء کی لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں اسلامی بلاک کا خواب دیکھنے والے سربراہان کو ذلت کی موت مروایا گیا ، معمر قذاقی نے بھی ایسے ہی مرنا تھا ، اس کے علاوہ میرا خیال ہے کوئی نہیں بچا - شاید یہ اس کانفرنس میں شامل آخری سربراہ تھے ، اس سے پہلے ، ذوالفقارعلی بھٹو، شاہ فیصل شہید رحمہ اللہ ، کا انجام بھی ہم دیکھ چکے ۔ مستقبل میں کسی اسلامی ملک کا سربراہ '' اسلامی بلاک '' کا خواب نہ دیکھے اور نہ مسجد اقصی پر یہودی حملے کے نتیجے میں کسی ''او آئی سی'' کا قیام عمل میں‌لایا جائے ،نہیں تو انجام انتہائی برا ہو گا ۔
     
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    قذافى نے اس زمانے ميں دیکھا ہو گا اسلامى بلاك كا خواب ، ليكن اس كے نظريات ميں بہت ٹوئسٹ آتے رہے ہيں۔ كبھی عرب قوميت کبھی پان اسلامزم ، کبھی تيونس سے ادغام اور اب افريقى رياستوں سے اتحاد ۔
    پاكستان ميں بڑے سے بڑا ڈکٹيٹر بھی عرب آمروں جيسا فاشسٹ نہيں آيا ، اور دس گيارہ سال سے زيادہ برداشت نہيں کیا گیا ۔ ہم آزادى ميں عربوں سے پيچھے نہيں آگے ہيں۔ کسى خليجى رياست ميں موجودہ صدر يا حكمران كے خلاف ميسجز ، فورمز ، ٹی وی ريڈیو پر لطيفے چلتے ہيں؟
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    درست ۔ لیکن اسلام کے اصل دشمن یہود ہیں ، ۔اس وقت شاہ فیصل کو کنڑول کرنا مشکل تھا ، فورا ہی مروادیا ، ذوالفقارعلی بھٹو سے لاکھ اختلاف کے باوجود اس نے اسلامی اتحاد کے لیے اچھی کوشش کی ، اس کا انجام بھی موت پر ہوا، ۔باقیوں کو بھی عیاری سے مروایا گیا ، کسی کو سیکولر بنا کر ، کسی کو عرب کا ہیرو بنا کر، اور کسی کو عرب ممالک کا دشمن بنا کر۔
    عرب آمروں جیسا ؟ ۔ یقیننا بعض عرب آمروں جیسا فاشسٹ نہیں آیا ۔ نہیں‌لطیفے نہیں چلتے ، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں لطیفوں والی کوئی خوبی نہیں‌۔-
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 21, 2011
  7. عبدالمتین

    عبدالمتین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 25, 2009
    پیغامات:
    20
    ہندو یہودیوں سے ہر گز کم نہیںِ، فرق صرف زبان کا ھے
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    موضوع پر دھیان رہے ۔ یہاں ہندوؤں کی بات نہیں ہو رہی ، سو بی کئیر فل ، عنوان تھا ۔
     
  9. عبدالمتین

    عبدالمتین -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 25, 2009
    پیغامات:
    20
    مسمانوں کا آپس میں قتلء عام اس وقت کا بہت بڑا فتنہ ھے لیکن "غفلت کا پردہ، نفاق کی بیہوشی اور خیانت کا غبار" ایک ایسا فتنہء "صماء " ھے کہ جس قاتل اور مقتول دونوں ہی کی آنکھوں کو بصیرت سے محروم اور زبان کو حق بات سے گونگا کر کےدکھ دیا ھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جہاں تک مغرب اورامریکہ کاتعلق ہے تووہ اپنے مفادکی خاطرقذافی کے خلاف تھے جواس نے افریقی ممالک سے اتحادکیااورمالی طورپرانتظامی طورپرانہیں آزادکرنے کانظریہ دیاامریکہ اس کے خلاف تھا۔اس نے لبنان کی تحریک جواچھی عوامی حکومت کے حصول کے لیے تھی اسے ہائی جیک کیا۔اورافریقہ میں جوقذافی کھیل کھیل رہاتھااسکی سزادی گئی۔واضح رہے قذافی کونیٹوکی افواج نے نشانہ بنایا۔قذافی ظالم تھالیکن ظالم حکومتوں کی لسٹ ہے جس کے ساتھ امریکہ کے اچھے تعلقات ہیں توکیاوہاں کی عوام کے ساتھ بھی امریکہ نے ایساہی رضاکارانہ رویہ رکھاہے توجواب نفی میں ہوگا۔امریکہ نے وہاں ملیشیابنادی جسکے تجربات دیگرممالک میں انتہائی تباہ کن نکلے ہیں مثلاپاکستان میں طالبان،بھارت میں تامل ٹائیگرزوغیرہ لیکن امریکہ تواپنے ملک میں بلیک واٹرجیسی تنظیموں سے بھی سبق نہیں سیکھ رہاہے۔ہٹلرکی فاشزم کے خلاف مغرب اپنے خطے میں نئی طرح کی سرمایہ دارانہ فاشزم کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    قذافی کے قتل میں مقتول کا ہاتھ: ندیم سعید کی تحریر

    کرنل معمر قذافی نیٹو اور لیبیا کی نیشنل ٹرانزیشن کونسل کے مسلحہ حامیوں کی ایک مشترکہ کارروائی میں اپنے آبائی شہر سرت کی سڑکوں پر مارے گئے ہیں۔مجھ سمیت بہت سے پاکستانی کرنل قدافی کے آمرانہ طرز حکومت کے مخالف ہونے کے باوجود آج افسردہ ہیں۔اپنے ملک پر چالیس سال سے زیادہ حکومت کرنے والے کرنل قذافی کا اپنی عوام کے ساتھ رویہ آمرانہ تھا لیکن بین الاقوامی سطح پر عالمی آمروں کے خلاف کھل کر بات کرنے کی وجہ سے وہ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک اور لوگوں میں مقبول بھی تھے۔
    قذافی کے قتل میں مقتول کا ہاتھ: ندیم سعید کی تحریر | Top Story Online
     
  12. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    احمد الشیبانی: کرنل قذافی کا 18 سالہ قاتل

    عرب اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک لیبی نوجوان کی تصویر بڑے پیمانے پر دیکھی جا رہی ہے۔ اٹھارہ سالہ احمد الشیبانی کو ہجوم نے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور وہ اپنے ہاتھ میں ایک سنہری پستول اٹھائے ہوئے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پستول اس نے کرنل قذافی کو قتل کرنے سے پہلے ان سے چھینا تھا۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے احمد الشیبانی کی سنہری پستول کے ساتھ جاری کردہ تصویر کے بھیجی گئی کیپشن میں اس نوجوان کا تعارف لیبیا کے مقتول مرد آہن کرنل معمر القذافی کے قاتل کے طور پر کرایا گیا ہے۔

    انقلابی الشیبانی کی ویڈیو یو ٹیوب سمیت تمام ٹی وی چینلز پر چلوا رہے ہیں، جس میں وہ قذافی کے سنہری پستول کو لہراتے ہوئے فخریہ انداز میں اعتراف کر رہا ہے کہ اس نے کرنل قذافی کو قتل کیا۔ الشیبانی کے گرد جمع نوجوان اسے کاندھوں پر اٹھانے کو بے چین ہیں اور وہ اللہ اکبر کے فلگ شگاف نعرے لگا رہے ہیں۔
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    قذافی کی زندہ گرفتاری کی فوٹیج ، "این ٹی سی" کی خفیہ مقام پر تدفین کی تصدیق

    لیبیا میں گذشتہ روز شمالی اوقیانوس کی تنظیم "نیٹو" اور باغیوں کی مشترکہ کارروائی میں سابق مردآہن کرنل معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد ملک کی عبوری کونسل نے ان کی ایک نامعلوم مقام پرتدفین کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب باغیوں کے زیر انتظام نشریات پیش کرنے والے ایک ٹیلی ویژن چینل"الصمود" پر کرنل قذافی کی شدید زخمی حالت میں گرفتاری کے بعد کی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے یف پی" نے بھی کچھ غیر مصدقہ تصاویر دکھائی ہیں جن میں کرنل قذافی کو ایک گٹر پائپ لائن میں چھپے دکھایا گیا ہے۔ "اے ایف پی" کی جانب سے جاری کردہ کرنل قذافی کے خفیہ ٹھکانے کی تصاویر میں انہیں ایک گڑھے کے سامنے دکھایا گیا ہے جہاں شدید زخمی کرنل قذافی چاروں طرف سے باغیوں میں گھِرے ہوئے ہیں۔

    کرنل قذافی کے سامنے باغیوں کے ہاتھوں ایک عبارت لکھی بھی دکھائی گئی ہے جس میں "قذافی کا ٹھکانا ۔۔ چوہوں کا مسکن ۔ اللہ اکبر"کے الفاظ تحریر ہیں۔ پائپ لائن کے ایک دوسرے سرے پر کچھ لاشیں بھی پڑی دکھائی گئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کرنل قذافی کے حامیوں کی ہیں جو لڑائی میں مارے گئے تھے۔

    ادھر"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق باغیوں کی بَری فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز کرنل قذافی کےخلاف جنگ کا آخری دن تھا جسے لیبیائی قوم کی "فتح" اور ملک کی آزادی کا دن قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کرنل قذافی کے قتل کے بعد ہم نے لیبیا مکمل طور پر آزاد کرا لیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں جنرل حفتر نے کہا کہ "کرنل قذافی کا آبائی شہر سرت بھی فتح ہو چکا۔ انقلابی فوج نے لیبیا کے چپے چپے کو آج ایک ظالم اور مطلق العنان سے آزاد کرا لیا ہے۔ کرنل کی باقیات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کی حمایت میں لڑنے والے یا قتل کر دیے گئے ہیں یا انہیں گرفتار کیا چکا چکا ہے۔
    کرنل قذافی خفیہ مقام پر دفن

    درایں اثناء ملک کی عبوری کونسل کی قائم کردہ حکومت نے کرنل معمرقذافی کی ہلاکت کے بعد ایک خفیہ مقام پر ان کی تدفین کی تصدیق کی ہے۔ عبوری کونسل"این ٹی سی" کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں کے اندر لیبیا کی مکمل آزادی کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کرنل قذافی کو لڑائی میں ہلاک کرنے کے بعد ایک نامعلوم مقام پر دفن کر دیا ہے۔

    کرنل قذافی اور اس کے بیٹوں سیف الاسلام اور معتصم کی ہلاکت اور سابق جابرانہ نظام کے خاتمے کے بعد لیبیا کو آزاد کرا لیا گیا ہے اور آج کا دن قوم کی آزادی اور فتح کا دن ہے۔ این ٹی سی نے کرنل قذافی کو ٹھکانے لگانے کے بعد ملک میں نئے دستور کا بھی اعلان کیا ہے، جس کی تیاری کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ کرنل معمرقذافی کے بیالیس سالہ شخصی دور حکومت میں انتخابات ہوئے اور نہ ہی ملک میں حقیقی معنوں میں ادارے وجود میں آسکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این ٹی سی کو عبوری دور میں کئی قسم کی سنگین نوعیت کی مشکلات سے گذرنا پڑے گا۔
    کرنل قذافی کے آخری لمحات

    لیبیا میں کرنل معمر قذافی کےخلاف اس سال 17 فروری کو اٹھنے والی عوامی بغاوت کے بعد 20 اکتوبر تک نو ماہ کے عرصے میں کرنل قذافی نے اپنے کئی ٹھکانے تبدیل کیے۔ باغیوں کو "کیڑے مکوڑوں اور چوہوں" سے تشبیہ دینے والے کرنل قذافی کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ آخری وقت میں جب انہیں شدید زخمی حالت میں پکڑا گیا تو وہ آبائی شہر"سرت" کے قریب کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کے بیچ سیوریج کی ایک پائپ لائن کے پاس چھپے ہوئے تھے۔

    کرنل قذافی کو زندہ پکڑنے والے ایک ستائیس سالہ باغی فوجی اہلکار "احمد السحاتی" نے "رائیٹرز" کو بتایا کہ "کرنل قذافی کو سرت میں کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینکے کے لیے بنائے گئے دو گڑھوں کے پاس سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے سابق مرد آہن کے الفاظ کی تضحیک کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دینے والے صاحب بہادرخود کہاں پائے گئے تھے، ہمیں معلوم ہے۔ وہ خود ایک ایسی جگہ چھپے ہوئے تھے جہاں کیڑے مکوڑوں اور گندگی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں تھا"۔

    العربیہ ٹی وی کے مطابق کرنل قذافی کےخلاف جمعرات کے روز ہوئے آپریشن اور ان کی ہلاکت کے بارے میں کئی اور حوالوں سے بھی اطلاعات آتی رہی ہیں۔ ایک اطلاع یہ آئی تھی کہ کرنل قذافی جمعرات کو نماز فجر سے کچھ پہلے اپنے دسیوں وفاداروں کی حصار میں سرت سے فرار ہوئےتھے۔ اس وقت ان کی فوج کے سربراہ ابوبکر یونس جبر بھی ان کے ہمراہ تھے، تاہم اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ کرنل قذافی اپنے حامیوں کے ساتھ ایک قافلے کی صورت میں سرت کی مغرب کی سمت فرار ہو گئے تھے۔ابھی کچھ دور ہی پہنچے تھے کہ نیٹو کے طیاروں نے ان پر بمباری کر دی۔

    باغیوں کی بری فوج کے دستے پہلے ہی کرنل قذافی کے تعاقب میں نکل چکے تھے۔ مقامی وقت کے مطابق کوئی ساڑھے آٹھ بجے صبح کرنل قذافی کے قافلے پر نیٹو طیاروں نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم سے کم پچاس افراد موقع پر ہلاک ہو گئے تھے لیکن کرنل قذافی کے وفادار انہیں شدید زخمی حالت میں درختوں کی اوٹ میں ایک غیر آباد مقام پر لے گئے جہاں گندگی پھینکنے کے لیے ایک گڑھا کھودا گیا تھا۔ کرنل قذافی اس گڑھے میں اتر گئے تاکہ باغیوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔

    ایک دوسرے باغی فوجی اہلکار سالم بکیرنے بتایا کہ کرنل قذافی شاہراہ عام کے قریب ہی ایک گندگی کے ڈھیر میں چھپے ہوئے تھے۔ ہم ان کا تعاقب کرتے ہوئے موقع پرپہنچے توقذافی کے ایک حامی نے اپنی بندوق ہوا میں لہراتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے اسے وہیں گولی مار کرقتل کر دیا۔ وہاں قذافی کے کئی دیگر حامی جنگجو موجود تھے، ہم نے ان پر بھی فائرنگ کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جوابی فائر نہیں کیا گیا۔ ہمیں ایسے لگا کہ کرنل قذافی نے انہیں جوابی فائر نہ کرنےکا کہا ہے۔ ہم فائرنگ کرتے ہوئے کرنل قذافی کے قریب پہنچ گئے۔ اسی اثناء میں شدید زخمی کرنل قذافی کے پاس بیٹھے ایک شخص نے چیخ چیخ کر کہا کہ "میرے آقا ادھر ہیں، میرے آقا ادھر ہیں، کرنل قذافی یہاں ہیں اوریہ زخمی ہیں"۔

    سالم بکیر نے کہا کہ ہم جب کرنل قذافی کے پاس پہنچے تو ان کے حامیوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔ ہم نے کرنل قذافی کو گڑھے سے نکال کر ایک گاڑی میں ڈالا اور دیگر تمام افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ بکیر کے مطابق گرفتاری کے وقت کرنل قذافی کی کمر اور ٹانگوں میں گولیوں کے گہرے زخم تھے اور وہ شدت تکلیف کی وجہ سے کراہ رہے تھے۔

    لیبی عبوری کونسل کے وزیر اطلاعات محمود شمام کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہیں مصراتۃ لے جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ تاہم وزیر اطلاعات نے قتل مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
    وڈیودرج ذیل لنک پرملاحظہ کریں
    قذافی کی زندہ گرفتاری کی فوٹیج ، کی خفیہ مقام پر تدفین کی تصدیق
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,063
    السلام علیکم

    بہرحال اس واقعہ کے بہت سے پہلووں‌سے ایک پہلو پر شائد سب کی نظر ہو۔۔! صدام حسین کیا تھے کیا نہیں، کیا کیا، اور کیا نہیں‌کیا سے قطع نظر۔۔انکا قتل بھی عید الاضحٰی کے دن ہوا، اور مسلمان یہ خبر سنکر مجروح دلوں‌کے ساتھ عید کا دن منائے کہ ایک مسلم ملک کے حکمراں کو کس انداز میں مغرب نے تختہ دار پر لٹکایا، اور قطع نظر انکے عقائد، اور معاملات، مسلم کمیونیٹی کو عید کے روز ایک کانٹا چبھایا گیا، اور پھر چند سالوں کے اندر، کسی اور طریقے سے ، قذافی کو بھی قتل کروادیا گیا۔

    بہرحال گلف اور مسلم ممالک میں‌ہونے والی شورشوں کے پیچھے بنیادی طور پر کونسے ذہن ہیں ہر کوئی جانتے ہیں، ڈکٹیٹر شپس کا انجام ایک دوسرا پہلو ہے۔۔۔لیکن یکے بعد دیگرے تیونس سے آغاز کے بعد کس طرح اس شورش کو ہوا دیکر کس رخ پر لیجایا جارہا ہے، یہ واقعی سوچنے کی بات ہے۔

    اس لپیٹ میں‌مصر، بحرین، لیبیا، یمن ، تیونس آلریڈی آچکے ہیں‌کہیں‌پر کچھ ار کہیں‌پر کچھ۔۔۔فی صد کا فرق ہے، لیکن روح۔۔۔۔۔!!!

    اللہ مسلم کمیونیٹی کو بہرحال ایمان کی صحیح‌حالت میں عزت کے ساتھ زندگی گذارنے کی توفیق بخشے اور مسلم حکمرانوں‌کو ایسی عبرتناک کہانیوں‌کے بعد کم از کم توفیق ہو کہ دشمن اسلام کے عزائم کو بھی سمجھیں اور اپنا اپنا احتساب بھی کریں جو کہ سب سے اہم ترین بات ہے، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔

    قذافی کی دولت کے بارے میں‌کون نہیں‌جانتا تھا، صدام حسین کے کروفر کے بارے میں‌ بچہ بچہ واقف ہے، اور دونوں‌کا انجام اللہ نے جس طرح سے دنیا کے سامنے لایا اوہ بھی ایک عبرتناک حقیقت ااور تازیانہ ہے۔
     
  15. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    صدام حسین اپنی زندگی کے آخری دنوں میں قابض افواج کے خلاف برسر پیکار تھے.

    اور ان کی زبان پر آخری کلمات لالہ الا اللہ ساری دنیا نے سنے اور کیسے انہوں نے جوانمردی سے موت کو گلے لگایا، سب نے دیکھا.

    اس لیے میرے خیال میں قذافی کا موازنہ یا جوڑ کسی صورت صدام کے ساتھ نہیں بنتا.

    واللہ اعلم
     
  16. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,063
    نہیں‌بھائی۔

    میرا کنسرن کوئی کمپیریزن نہیں‌ہے، میں‌ اوور ویو دیکھ رہا تھا، اور کسطرح سے مسلم حکمرانوں‌ کے ساتھ مغرب کا رویہ ڈایرکٹلی یا انڈراکٹلی ہے اس پر ایک طائرانہ نظر تھی، میرا کنسرن اوپر کے کامنٹ پر کچھ اور ہے۔ صدام حسین کے بارے میں‌آپکی رائے سے میں‌کوئی اختلاف نہیں‌کرونگا، اور نہ اتفاق کیوں کہ میرا کنسرن سرے سے کچھ اور ہے۔

    جزاک اللہ خیرا۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں