نجران کا سفر

ابو ابراهيم نے 'دیس پردیس' میں ‏نومبر 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    اصحاب الاخدود کے علاقے کی سیر
    عبدالمالک مجاہد

    نجران سعودی عرب کے شمال میں یمن کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ سعودی عرب کے جنوبی منطقہ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ ریاض سے اس کا فاصلہ کم وبیش ہزار کلو میٹر ہے۔ یوں تو ہر شہراپنے علاقائی ،معاشرتی وجوہات کی بنا پر بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے مگر میرے لئے اس شہر میں باعث کشش دو چیزیں تھیں ایک اصحاب الاخدود کا مقام اور دوسرایہاں سے آٹھ ہجری میں عیسایوں کا وفد مدینہ منورہ آیا تھا ،اس وفد کے بارے میں قرآن کریم میں آیات مباہلہ نازل ہوئی تھیں۔جس سے عیسائی بھاگ گئے تھے،اور جز یہ دینا قبول کیا میری خواہش تھی کہ جس شہر کا ذکر قرآن میں آیا ہے اسے جاکے دیکھا جائے۔ میں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ شہرنجران کی سیر کا پروگرام بنایا تھا۔

    اس تاریخی شہر کو دیکھنے سے پہلے یہ طے پایا کہ ابہا کے پرفضا مقام پر جاکے کچھ وقت گزارا جائے پھر نجران کا رخ کیا جائے۔ 23 ستمبر کو سعودی عرب کا نیشنل ڈے تھامگر جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے حکومت نے 24 ستمبر کوبھی چھٹی کا اعلان کردیا تھا۔تو میں اپنے بچوں سمیت اس علاقے کی سیر کا پروگرام بنالیا۔ بچے تو گاڑیوں سے ایک دن قبل ہی ابہا پہنچ چکے تھے جہاں دارالسلام کی برانچ بھی ہے۔ ہمارے مصری مندوب مصطفی 6 سال سے یہاں مقیم ہیں۔ اگست ،ستمبر میں ابہا کا موسم نہایت معتدل ہوجاتا ہے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا مزا ہی الگ ہے۔سیاح بھی واپس جاچکے ہیں۔ اس لیے آرام سے اچھااور سستا فرنش اپارٹمنٹ مل گیا۔
    22 ستمبر 2011 کو علی الصباح جب میں اہلیہ کے ہمراہ ابہا ایر پورٹ پر اترا تو وہاں کا موسم نہایت سہانا تھا۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ یہ دن بڑا یاد گار رہا، کیونکہ ہم لوگوں نے سارا دن سودا اور جبل اخضر کی دلفریب وادیوں میں گزارا۔ قدرت کے کرشمے کو دیکھ کر ہم نے اللہ کی رحمت (بارش) کی دعا کی جو قبول ہوگئی۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بارش سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ سودا نامی پہاڑ ابہا کا سب سے خوبصورت مقام ہے۔ یہاں پر آنے کے بعد سوئٹزرلینڈ کا منظر یاد آجاتا ہے۔ پہاڑوں پر ہرے بھرے درخت ہیں جو پاکستان جیسے تو نہیں لیکن ہر طرف ہر یالی کی وجہ سے خوبصورتی کا سماں ہے۔
    23ستمبر 2011 بروز جمعہ ہم لوگ 11 بجے نجران کے لیے نکلے برادرم مصطفی مصری ہمیں قدیم راستے سے دور تک الوداع کرنے کے لیے آئے۔ ابہا سے نجران کم وبیش 250 کلو میٹر دور ہے۔ ہر چند کہ دو رویہ سڑک ہے مگر جگہ جگہ سڑک کی مرمت ہورہی تھی ۔ ویسے بھی ہمیں کوئی جلدی نہیں تھی۔ ہم راستے میں رکتے، نمازیں ادا کرتے کوئی تین ساڑھے تین گھنٹوں میں نجران پہنچ گئے۔ میں نے ریاض میں برادرم حافظ محمد طاہر حنیف سے پوچھا کہ نجران میں مکتب جالیات میں کون ہیں۔ تھوڑی دیر بعد برادرم ذبیح اللہ کا فون نمبر میرے ٹیبل پر تھا۔ میں نے ان کو فون کیا۔ وہ مجھے جانتے تھے میں نے بتایا کہ میں نجران آرہا ہوں تو بے حد خوش ہوئے۔ ہم نجران میں داخل ہوئے تو وہ سڑک پرہی ہم لوگوں کے منتظر تھے۔نہایت خوبصورت، دو بڑے بڑے صاف ستھرے کمروں کے فرنش اپارٹمنٹ انہوں نے ہمارے لیے بک کروا رکھے تھے، ہم نے اپنا سامان اس میں رکھا۔ دو پہر کا کھانا تناول کیا ، پھر ہمارا رخ اصحاب الاخدود کے منطقہ کی طرف تھا۔ کسی علاقے کی سیر کو جائیں تو مقامی ساتھی یا دوست مل جائے تو بڑی آسانی ہوجاتی ہے۔ وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ اجنبیت ختم ہوجاتی ہے۔ ہم ذبیح اللہ صاحب کی رہنمائی میں جنوب کی طرف چل دیئے۔ نجران کا شہر کوئی بہت بڑا نہیں مگر صفائی ستھرائی کے اعتبار سے بڑا خوبصورت اور امیر شہر ہے۔ اس وقت یہاں کے گورنر شاہ عبداللہ کے نوجوان بیٹے ''امیرمشعل ''ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ان کی نگرانی میں شہر میں کافی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ یوم الوطنی کی مناسبت سے شہر میں خاصی رونق تھی اور شہر کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
    ہمارے گائیڈ ذبیح اللہ گذشتہ سترہ سالوں سے یہاں مقیم اور دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔آبائی وطن یوپی (انڈیا) جامعہ سلفیہ بنارس اور مدینہ یورسٹی کلیة الحدیث سے فارغ ا لتحصیل ہیں۔ الحمد للہ ان کے ہاتھوں سیکڑوں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان کو متعدد زبانوں پر عبورحاصل ہے وہ نوجوانوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے جن کی زندگی ایک خوبصورت مشن کا نام ہے۔ اب جس شخص کے ہاتھوں سیکڑوںلوگوں نے اسلام قبول کیا ہو اس کی سعادت کا کیا کہنا۔
    اصحاب الاخدود کا علاقہ نجران سے کوئی آٹھ دس کلو میٹر دور ہوگا۔ خوبصورت سڑک کے کنارے دور دور تک یہ علاقہ نظر آتا ہے۔ اس منطقہ کو چار دیواروں کے ساتھ بند کردیا گیا ہے ،اس کو دیکھنے کے لئے شام 3 سے 6 بجے کا وقت تھا۔ آج کا دن فیملی کے لیے مختص تھا۔ اس علاقے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اس کاذکر آیا ہے۔ سورة البروج کے اندر اصحاب الاخدود کا ذکر بڑی تفصیل سے ہے۔ اس علاقہ پر بنی حمیر نے صدیوں تک حکومت کی ہے۔ موسی علیہ السلام کے بعد یمن کے علاقے میں یہودیوں کی حکومت رہی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس علاقے کی تاریخ عیسی علیہ السلام سے 600 سال قبل شروع ہوئی ۔ عیسی علیہ السلام کے 600 سال بعد ا صحاب الاخدود کا واقعہ پیش آیا۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے قارئین نے اصحاب الاخدود کا واقعہ ضرور پڑھا ہوگا۔ راقم الحروف نے بھی متعدد مرتبہ اس واقعہ کو پڑھا ہے مگر آج جب میں اس علاقے میں پہنچا تو پھر سے وہ واقعہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔آئیے اس واقعے کو مختصرا پڑھتے اور پھر آگے بڑھتے ہیں۔
    اس واقعہ کوتقریبا ڈھائی ہزار سال گزر چکے ہیں۔ یہاں کا حاکم ایک جادو گر کا خاص مرید تھا۔ وہ اس جادو گر کی ہر بات مانتا اور اس پر عمل کرتا تھا۔ بادشاہ عقیدہ کے اعتبار سے یہودی تھا۔ مگر اسلام سے اتنا دور تھا کہ اللہ تعالی پر ایمان کھوبیٹھا تھا۔ اور اپنی پوجا کروانا شروع کردیاتھا اور اپنے آپ کو خدا کہلوانے لگا۔
    اللہ رب العزت ہر دور میں اپنے بندوں کی آزمائش کرتا رہا ہے اور ہر دور میں دین کی تجدید ہوتی رہی ہے۔ ایک دن جادوگر بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں اب خاصا بوڑھا ہوچکا ہوں اور کسی وقت بھی موت آسکتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی ذہین وفطین بچہ مل جائے جسے میں اپنا کالا علم منتقل کرسکوں۔ تاکہ میرے مرنے کے بعد وہ میرا جانشیں بن سکے۔بادشاہ نے حکم دیا کہ کسی ذہین لڑکے کو منتخب کرکے اسے جادو گر کا شاگرد بنادیا جائے ۔ حکم کی تعمیل کی گئی اور ایک نہایت ذہین لڑکے کو جادو گر کے سپرد کردیا گیا۔ لڑکا صبح سویرے اپنے گھر سے جادو گر کے پاس جاتا اور ا س سے کالا علم سیکھتا راستہ میں ایک راہب کا ٹھکانہ تھا۔ ایک دن وہ راہب سے ملا تو اسے اس کی باتیں بڑی اچھی لگیں۔ وہ راہب موحد اور سیدنا عیسی علیہ السلام کا پیرو کار تھا۔ اس لڑکے نے کچھ وقت اس راہب کے ساتھ گزارنا شروع کردیا۔ وہ اس لڑکے کو عقیدہ توحید کی تعلیم دیتا۔ اس طرح وہ کالا علم بھی سیکھتا رہا اورراہب سے بھی علم ربانی حاصل کرتا رہا۔کچھ عرصے بعد اسے یقین ہوگیا کہ جادوگر کا علم کالا علم اور شیطان کا راستہ ہے۔ جبکہ راہب کا راستہ رحمان کا راستہ ہے اورحقیقتا یہی صراط مستقیم ہے۔ وہ اکیلے رب کی پرستش کرنے لگا۔

    وقت گزرتا گیا اور پھر میں چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ ایک دن وہی نوعمر لڑکا بازار میں جارہا ہے اس نے دیکھا کہ ایک بہت بڑے اور خوفناک جانور نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے اور لوگ اس کی وجہ سے راستہ عبور نہیں کرسکتے۔لوگوں کی خاصی تعداد وہاں جمع ہے،لڑکے نے دل میں سوچا آج وقت ہے کہ میں دیکھوں گا کہ راہب کا معاملہ جادوگر سے بہتر ہے یا نہیں۔اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہنے لگا اے اللہ اگر راہب کا معاملہ جادوگر کی نسبت تجھے زیادہ
    پسند یدہ اور زیادہ راضی کرنے والا ہے تو اس جانور کو ہلاک کردے تاکہ لوگ راستے سے گزرجائیں۔یہ دعا مانگ کر اس نے اس خوفناک جانور کو پتھر مارا،پتھر لگتے ہیں دیوہیکل جانور ہلاک ہوگیا ،لوگوں کے لئے راستہ صاف ہوگیا اور وہ آنے جانے لگے۔
    لڑکا بازار سے سیدھا راہب کے پاس پہنچا اور اسے سارا واقعہ سنایا۔راہب بہت خوش ہوا اور کہنے لگا بیٹے اب تم مجھ سے بھی بڑھ کر ہو،مگر عنقریب اور یقینا تم آزمائش میں ڈالے جاؤگے ،اگر تم آزمائش میں ڈالے جاؤ اورتمہیں حکمراں پریشان کریں تو میرے بارے میں ان کو نہ بتانا،وقت گزرتا چلاگیا،لڑکے کے کرامات میں اضافہ ہوتا چلاگیا،اس کے پاس اندھے اور پھلبہری کے مریض آتے اور وہ ان کا علاج کرتا اور وہ اللہ کے حکم سے صحت یاب ہوجاتے۔اس طرح اس کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔
    بادشاہ وقت کا ایک خاص درباری تھا،وہ آنکھوں کی بیماری میں مبتلاہوگیا اور ایک دن نابینا ہوگیا۔بادشاہ نے اس کا کافی علاج کرایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا ،کسی نے اسے اس لڑکے کے بارے میں بتایاتو وہ بہت سارے تحائف لے کر اس لڑکے کے پاس پہنچ گیا۔اس نے لڑکے سے کہا اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف اور سامان تمہار اہوگا،لڑکے نے جواب دیا۔۔۔۔۔
    میں کسی کو شفا نہیں دے سکتا،شفا دینا صرف اللہ کا کام ہے،ہاں اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤتو میں اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں بینائی عطا کردے۔بادشاہ کا خاص درباری اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسے شفا دے دی اور وہ دوبارہ دیکھنے لگا۔
    اب وہ دوبارہ بادشاہ کے دربار میں جانے لگا،بادشاہ نے جب دیکھاکہ اس کا خاص جانشین دوبارہ دیکھنے لگا ہے تو اس نے اس سے پوچھا کہ ارے تمہاری بینائی کون واپس لایا؟
    وہ کہنے لگا میرے رب نے مجھے دوبارہ بینائی عطا کی۔۔۔۔۔۔
    بادشاہ جو خود کو ہی رب سمجھتا اورکہلواتا تھا ،گویا ہوا ،ارے میں نے کب تمہاری بینائی درست کی؟
    خاص جانشین نے جواب دیا۔۔۔۔
    بادشاہ سلامت آپ نے نہیں بلکہ میری نظر اس رب نے درست کی ہے جو میرا بھی اور آپ کا بھی رب ہے۔
    بادشاہ کو شدید غصہ آیا ،کہ میرے علاوہ اور کون رب ہوسکتا ہے،اس نے اپنے اس درباری کی اس گستاخی پر اسے سخت سزا دی کہ وہ توحید سے انکار کردے۔ مگر اس نے استقامت اختیار کی۔
    قارئین اکرام: میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور مجھے مکرمہ میں مکی دور کے سیدنا بلال بن ریاح اور یاسر بن عمار یاد آگئے،ان کو بھی اسی طرح سزا دی گئی تھی ان کو بھی مجبور کیا گیا تھا کہ وہ تنہا رب کی عبادت چھوڑ دیں،وہ بھی سخت سے سخت سزائیں بھگتے رہے،مار کھاتے رہے مگر انہوں بھی توحید کا راستہ نہیں چھوڑا۔اس درباری کو بھی سزا ئیں ملتی رہیں وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ توحید کا سوتا کہاں سے پھوٹا ہے،اور آخر کار جانشین خاص نے لڑکے بارے میں بادشاہ کو بتادیا،
    بادشاہ اس لڑکے کو جانتا تھا اس نے اسے بلابھیجا۔
    لڑکا بادشاہ کے دربار میں کھڑا تھا ،بادشاہ اپنے جاہ وجلال اور تکبر کے ساتھ لڑکے سے مخاطب ہوا!
    ہاں تو اب تمہارا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ تم نے اندھوں سمیت جان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا علاج کرکے ان کو شفا دینی شروع کردی ہے۔
    لڑکے نے بادشاہ کو جواب دیا میں کسی کو شفا نہیں دیتا ،شفا دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے ،
    بادشاہ لڑکے کا جواب سن کر غصے سے کھول اٹھا اور بولا نہیں شفا میں دیتا ہوں۔۔۔۔
    لڑکے نے نہایت اعتماد سے کہا کہ نہیں،شفا دینا صرف اللہ کے بس میں ہے۔۔۔
    بادشاہ گویا ہوا:تو کیا میرے علاوہ بھی کوئی تیرا رب ہے۔
    لڑکے نے جواب دیا ہاں میرا اور تیرا رب تو اللہ تعالیٰ ہے۔
    بادشاہ نے لڑکے کو اندھیری کوٹھری میں ڈلوادیا اور اس سے تحقیق کی کہ اسے توحید کا درس کس نے سکھایا ،نہایت ظالمانہ تفتیش کے نتیجہ میں لڑکے نے مجبورا راہب کے بارے میں بتادیا۔
    کچھ دیر میں بادشاہ کے کارندے راہب کو دربار میں پکڑ کر لاچکے تھے۔
    بادشا ہ نے اس کو توحید کے انکار کا حکم دیا،راہب نے بادشاہ کو صاف جواب دے دیا کہ وہ توحید سے کسی بھی صورت ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے ،وہ صرف تنہا ویکتا رب کی ہی عبادت کرے گا۔
    بادشاہ نے حکم دیا کہ اس راہب کو آرے کے ساتھ چیر دیا جائے،چناچہ اس کے دو ٹکڑے کردیئے گئے۔
    بادشاہ نے اس شخص سے بھی دین چھوڑنے کے لئے کہا جس کی آنکھوں کی روشنی لڑکے کی دعا سے واپس آئی تھی۔
    اس شخص نے بھی آنکھوں کی بینائی کے ساتھ شعور کی بھی بینائی پالی تھی ،لہٰذا بادشاہ کی بات ماننے سے صاف انکار کردیا۔
    اس کے سرپر بھی آرا رکھ کر چلادیا گیا اور اس کے جسم کے بھی دوٹکڑے ہوکر زمین پر جاگرے۔
    اب بادشاہ نے لڑکے کو دین سے پھرنے کا حکم دیا ،لڑکے نے صاف انکا ر کردیا،بادشاہ کوسخت تیش آیا اور اس نے اسے اپنے سپاہیوں کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جاؤ وہاں پوچھنا کہ یہ اپنے دین کو چھوڑتا ہے یا نہیں،اگر انکار کرے تو پہاڑ سے نیچے گرادو۔
    قارئین اکرام: میں اس میدان میں کھڑا سامنے ان پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس وقوعہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہوں گے،میں چشم تصور سے دیکھ رہا تھا کہ بادشاہ کے سپاہی اس لڑکے کو لے کر اس پہاڑ کی چوٹی پر گئے ہیں۔
    چوٹی پر پہنچ کر بچے نے دعا کی۔۔۔
    [ar]اللھم!اکفنیھم بما شئت[/ar]: اے اللہ ،تو ان کے مقابلے میں جیسے تو چاہے کافی ہوجا۔
    دعا کرنے کی دیر تھی کہ پہاڑ لرزنا شروع ہوگیا اور سب کے سب سپاہی پہاڑ سے نیچے گر کر ہلاک ہوگئے جبکہ لڑکا صحیح سلامت واپس بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔
    بادشاہ نے حیرانگی سے پوچھا تو کیسے بچ گیا اور جنہیں میں نے توتجھے پہاڑی سے گرانے کے لئے بھیجا تھا کیا انہوں نے تجھے گرایا نہیں؟
    لڑکے نے جواب دیا: ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ میرے لئے کافی ہوگیا۔
    اب بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے سمندر میں پھینک دیا جائے اور حکم دیا کہ اگر یہ عقیدہ توحید سے انکار کردے تو واپس لے آنا اور اگر عقیدہ توحید پر قائم رہے تو سمندر میں پھینک دینا۔
    لڑکے نے سمندر میں پہنچ پر پھر وہی دعا کی۔۔۔اے اللہ !تو ان کے مقابلے میں جیسے تو چاہے کافی ہوجا۔
    چناچہ وہ سب سے سب غرق ہوگئے۔
    لڑکا پھر سے بادشاہ کے دربار میں پہنچا ،اور کہا کہ اللہ میرے لئے کافی ہے۔
    بچہ بادشاہ سے گویا ہوا،تو مجھے اس وقت تک قتل نہیں کرسکتا جب تک تو وہ کام نہ کرلے جس کا میں تجھے حکم دوں،اگر تونے وہ کام کرلیا تو مجھے قتل کرسکتا ہے۔
    بادشاہ نے پوچھا وہ کیا کام ہے؟
    بچے نے کہا !سب لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کر پھر مجھے ایک درخت کے تنے کے ساتھ لٹکااور میرے ہی ترکش سے ایک تیر نکال اور پھر یہ پڑھ
    [ar]بسم اللہ رب الغلام[/ar]۔۔۔۔۔۔ لڑکے کے رب ،اللہ کے نام سے۔
    بادشاہ نے بسم اللہ رب الغلام پڑھتے ہوئے تیر کمان کے درمیان رکھا ،پھر لڑکے کی طرف پھینکا،تیر لڑکے کی کنپٹی پر لگا، لڑکے نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھا جہاں تیر لگا تھا اور پھر اس کی روح پرواز کرگئی۔
    لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ کہہ اٹھے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے۔
    بادشاہ سے کہا گیا دیکھ وہی ہوا جس سے تو ڈرتا تھا ۔اب تو سب لوگ اللہ پر ایمان لے آئے ہیں،بادشاہ نے حکم دیا ،تمام گلیوں کے دھانوں پر خندقین کھودی گئیں ،ان میں آگ جلادی گئی،بادشاہ نے کہا کہ جو اپنے دین سے باز آجائے تو اسے چھوڑ دو ورنہ اسے اس میں پھینک دو،لوگوں نے دوڑتے ہوئے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر ان خندقوں میں چھلانگیں لگانا شروع کردیں،ایک عورت اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ آئی وہ آگ میں چھلانگ لگانے سے جھجھکی تو بچہ بول اٹھا:اماں !صبر کر۔تو یقینا حق پرہے۔
    اس قصے کو بیان کرنے کے بعد ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ لڑکے کے قتل کے بعد اہل نجران نے لڑکے کے دین ،یعنی دین نصرانیت کو قبول کرلیا تو ذونواس اپنے لشکر سمیت ان کے پاس آیا اس نے انہیں یہودیت قبول کرنے کی دعوت دی اورانکار پر قتل کی دھمکی دی،لوگوں نے یہودیت قبول کرنے سے انکار کردیا جس پر انہیں آگ میں جلایااور تلوار سے ان کا قتل عام اور مثلہ کیا حتیٰ کے بیس ہزار کے قریب انسان قتل ہوئے،چناچہ ذونواس اور اس کے لشکر کے بارے میں اللہ نے یہ آیا ت نازل فرمائی ہیں۔۔۔
    ترجمہ:''خندقوں والے ہلاک کئے گئے ،بڑی ایندھن والی آگ والے تھے،جبکہ وہ ان (خندقوں کے کناروں )پر بیٹھے تھے اور وہ جو کچھ اہل ایمان کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے اور انہوں نے ان (مومنوں)سے اس کے علاوہ کسی چیز کا بدلہ نہیں لیا کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے ،جو بڑا زبردست ،نہایت قابل تعریف ہے،وہ ذات کہ اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔''

    قارئین : بلاشبہ جس علاقے اور جگہ پر یہ واقعہ پیش آیا وہ بڑی تاریخی ہے ،میری بڑی مدت سے خواہش تھی کہ میں اس علاقے کو دیکھوں جہاں یہ ظلم ہوا اور لوگوںکو آگ میں جلایا گیا۔

    سڑک کے کنارے ہی نجران کا عجائب گھر تھا۔ اس سے متصل اصحا ب الاخدود کے علاقے میں جانے کا دروازہ تھا۔ کھلی پارکنگ میں کار پارک کی ۔ دروازے پر مختصراندراج مثلاًنام، قومیت، کتنے افراد ہیں کے بعد ہمیں اندر جانے کا اشارہ مل گیا۔ سامنے مٹیالے رنگ کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔میرے اندازہ کے مطابق اصحاب ا لاخدودکا ایریا دس کلو میٹر مربع ضرور ہوگا۔ آدھا کلو میٹر سے کچھ زیادہ چلنے کے بعد وہ گھاٹیاں شروع ہوجاتی ہیں جہاں پر اصحاب الاخدود کا واقعہ پیش آیا تھا۔ بڑے بڑے پتھروں سے چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے تھے۔ جن میں بعض دیواریں چند فٹ بلند تھیں۔ یہ کٹی پھٹی جگہ تھی بعض جگہوں پر گھاٹیاں تھیں۔ بعض اونچی جگہیں ٹیلوں کے مشابہ تھیں۔ پاکستان میں کھاریاں،جہلم سے آگے جائیں تو جس طرح اونچی نیچی زمین نظر آتی ہے یہ جگہ اسی کے مشابہ نظر آئی ، کم وبیش ایک کلو میٹر لمبی خندقیں کھودیں گئیں تھیں اور پھر شائد وہاں پر چھوٹی چھوٹی چہار دیواری بنائی گئی تھیں تاکہ آگ کو دھکایا جاسکے۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کمروں کو کی تعداد شمار کرسکوں لیکن میں پور ی طرح گن نہ سکا۔بہر حال یہ کمرے کافی تعداد میں تھے، بعض کمرے چھوٹے بعض بڑے تھے۔ بعض دیواروں کے پتھرتو بڑی صفائی سے لگائے گئے تھے۔ ایک ا ونچے ٹیلے پر کھڑے ہوکر میں نے اس کی چوڑائی کا اندازہ کیا تو وہ کم وبیش 300 میٹر تو ضرور ہوگی۔ گویا اندازاً ایک کلو میٹر لمبی اور 300 میٹر چوڑی جگہ پر یہ خندقیںکھودی گئیں ہیں۔ قرآن کریم بتاتا ہے۔۔۔۔۔

    [ar]''وھم علی ما یفعلون بالمؤمنین شہود''[/ar] حکمراں جب یہ ظلم وستم کررہے تھے اس وقت وہاں بیٹھے ان کو دیکھ بھی رہے تھے۔

    میں کھڑا سامنے اس پہاڑ کو دیکھ رہاتھا۔ جو سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔غالباً یہی وہ پہاڑ ہوسکتا ہے جہاں کے اوپر سے اس لڑکے کو دھکا دیا گیا ہوگا۔ میں نے ذبیح اللہ سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ہاں اس میں کون سی تعجب کی بات ہے ۔ ذو نواس نامی بادشاہ کا یہی علاقہ تھا۔ ان کھائیوں کے دائیں جانب ایک بڑا سا دائرہ نما گڑھا نظر آیا جس میں کئی سو افراد بیٹھ کر تماشا دیکھ سکتے تھے۔ غالباً اسی جگہ میں اعیان مملکت اور بادشاہ ان مظلوموں کو شہید ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
    قارئین کرام! کفر اور شرک ہر دور میں اسلام کوختم کرنے کی جد وجہد کرتا رہا ہے ۔ اہل حق نے ہر دور میں قربانیاں دی ہیں ۔ آگ کا عذاب سب سے ظالمانہ غذاب ہے۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے اس لیے کسی شخص کو جلا کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا: ''آگ کا عذاب آگ کا رب ہی دے سکتا ہے''۔
    میرا بیٹا عبدالرحمن مجاہد میرا بازو پکڑکرمجھے گھاٹیوں میں اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر لے جا رہا تھا۔ ہر چند کہ لوگوں کی کثرت آمد ورفت کی وجہ سے راستے بن گئے ہیں۔ مگر پھر بھی بڑی احتیاط سے ہی قدم رکھ رہے تھے کہ کہیں قدم پھسل نہ جائیں۔ فضا میں اداسی سی چھائی ہوئی تھی۔کیونکہ میں ان مظلوموں کو چشم تصور سے دیکھ رہا تھا۔ جن کو یہاں پر محض توحید کا اعلان کرنے کی وجہ سے آگ میں بھسم کردیا گیاتھا۔اہل شرک اہل توحید کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے جد امجد سیدنا ابراہیم خلیل علیہ السلام کو بھی نمرود نے آگ میں جلانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے لیے کئی ٹن لکڑیاں اکٹھی کی گئیں اور جب آگ کو جلایا گیا تو وہ کئی میل سے نظر آتی تھی۔یہ لڑائی اور کشمکش عقیدہ اور منہج کی ہے۔ یہ سلسلہ روز اول سے جاری ہے ۔ اہل توحید نے جلنا گوارہ کرلیا مگر شرک کے مرتکب نہیں ہوئے۔
    آج بھی کفر اسلام کو ختم کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے ،ان کے بس میں ہو تو وہ آنا فانا اسلام اور اہل توحید کو ختم کردیں
    مگر قارئین اکرام:اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہیں ،اس نے اس دین کو ہر حالت میں غلبہ عطا کرنا ہے،
    نورخدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا​
    قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ کفر چاہتا ہے کہ اللہ کا نور یعنی دین اسلام اپنے منہ سے بجھا دے جبکہ اللہ اپنا نور پورا کرنے والا ہے ،اگرچہ کافر ناپسند ہی کریں،وہ ذات جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرک ناپسند ہی کریں۔تو جناب یہ کشمکش صدیوں سے جاری ہے۔یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اسلام نے کبھی بھی ظلم اور شدت پسندی کی تلقین نہیں کی،اسلام کا معنی ہی سلامتی اور چین ہے۔وہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے سخت مخالف ہے،مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں شدت پسندی اور دہشت گردی دراصل کافروں کی صفات ہیں ،جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ملتاہے،اور دہشت گردی جیسی صفات کا مومنین اور صادقین سے کوئی تعلق نہیں۔کافروں اور منکرین حق میں دہشت گردی دراصل سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے عہد مسعود تک جاری رہی ۔قرآن مجید کی ان آیات پر غور کریں ۔۔
    *''انہوں (قوم)نے کہا :اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو یقینا تجھے سنگسار کردیا جائے گا۔''(الشعرا ئ116)
    *''انہوں نے جواب دیا:اے شعیب !تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہماری درمیان ایک بے زور آدمی ہے ،تیری برادری نہ ہوتی ہم تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔''(ھود91)
    *''آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ : یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔''(ابراہیم13)۔
    *''باپ نے کہا :ابراہیم!کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسا ر کردوں گا ،بس تو ہمیشہ کیلئے مجھ سے الگ ہوجا۔''(مریم 46)
    *''بستی والے کہنے لگے : ہم تو تمہیں اپنے لئے فال بد سمجھتے ہیں ،اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤگے۔''(یٰسین 18)۔
    *''اگر یہ کافر ہم پر غلبہ پالیں گے تو بس سنگسار ہی کرڈالیں گے یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے۔(الکہف 20)
    اور پھر جب رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی بعثت ہوئی تو منکرین حق نے وہی دہشت گردی استعمال کی ۔آپ صلى الله عليه وسلم کو قید کرنے ،قتل کرنے اور جلاوطن کرنے کی تدبیریں ہورہی تھیں۔
    *''وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منگرین حق آپ صلى الله عليه وسلم کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ صلى الله عليه وسلم كو قید کردیں یا قتل کر ڈالیں یا جلاوطن کردیں۔''(الاتفال30)۔
    سنگسار کرنا ،قید کرنا ،جلاوطن کرنا،آگ میں جلانا اور سخت سزائیں دینا ان دہشت گردوں کا شیوہ رہا ہے،تاریخ انسانی کا گزشتہ دس ہزار سالہ ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے۔
    ہم اس علاقے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخ پر بھی غور رہے تھے جبکہ کفار کی مومنین کے ساتھ دشمنی پر بھی تبادلہ خیال جاری تھا ،برادرم ذبیح اللہ کہنے لگے کہ اہل توحید کے ساتھ دشمنی آج بھی ویسے ہی جاری رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہندوستان کے شہر گجرات میں جو فسادات ہوئے ان میں بھی مسلمانوں کو چن چن کر گھروں سے نکال کر آگ میں جلایا گیا۔

    بالکل راہ حق کے راہی شروع دن سے اللہ کی توحید کو بلند کرنے کے لیے قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ اس لڑکے نے اپنی جان کی قربانی دے کر دین کی تجدید کردی۔ اگر میں یہ کہوں کہ وہ نو عمر لڑکا اس عہد کا مجدد تھا تو شائد اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ اس نے عقیدہ توحید کابیج ایک دن میں لوگوں کے دلوں میں بو دیا۔ وہ اتنے راسخ العقیدہ تھے کہ ان کو حکومت کی جبر ، ظلم وتشدد حتی کہ جان سے مارنے کی دھمکی عقیدہ توحید سے متزلزل نہ کرسکی۔
    سیدنا موسی علیہ السلام کے عہد میں جب ہم جادو گروں کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں وہاں بھی ایک منظر نظرآتا ہے کہ چند منٹوں کا ہی مقابلہ تھا۔ پہلے جادو گروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینکیں۔جو لوگوں کو ازدھا اور سانپ نظر آرہے تھے اور پھر چند منٹ کے بعد سیدنا موسی علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو حکم ربی سے وہ ازدھا بن کر چند لمحوں میں ان لاٹھیوں اور سیوں کو نگل گیا۔ پھر جادو گرفوراً ہی اپنے رب واحد کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔

    اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی حدیث ہے آپ نے ارشاد فرمایا:
    [ar] ''لا تشرک باللہ وان قتلت او حرقت''[/ar] اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرو خواہ تمہیں قتل کردیا جائے یا جلا دیا جائے''۔ (شعب الایمان :7835(
    ہم تقریباً 40 سے 50 منٹ تک اصحاب الاخدود کے علاقے کو دیکھتے رہے، اس واقعہ کا تذکرہ کرتے رہے ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔یہ دن چھٹی کا تھا اس لیے کافی تعداد میں فیملیز آئی ہوئی تھیں۔
    قارئین کرام! سورة بروج کے آیات کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر کو پڑھیں اور پھر ان شہداء کی قربانیوں کا تصور کریں جنہوں نے صرف اپنے رب کی توحید کو مانا اس میں تمام تر ترغیب اور ترہیب کو بالائے طاق رکھ دیا۔ان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں سبق اور درس دیتی ہیں کہ آج بھی عقیدہ توحید کے لیے ہمیں ہر قسم کی قربانیاں دینا ہوگی۔ اگر مشکل وقت آجائے تو ان اصحاب الاخدود کو یاد کریں ،توحید پر یہ ہر حالت میں قائم رہیں، اگر آپ کو جلا بھی دیا جائے تو بھی عقیدے پر آنچ نہ آنے دیں۔
    ہم نے واپسی پر عجائب گھر کا رخ کیا۔ نجران کے علاقے کی ثقافت کی عکاسی اس چھوٹے سے صاف ستھرے اور نہایت منظم عجائب گھر سے ہورہی تھی۔ اگلے دن دس بجے ہم نے ریاض کے لیے سفر کیا ۔ دو رویہ سڑک بڑی عمدہ ہے۔ ٹریفک زیادہ نہ تھی ہم مختلف مقامات پر رکتے، بڑے مزے سے سفر کرتے رات کو سات بجے بخیرت ریاض پہنچ گئے۔


    عبد المالک مجاہد​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا بہت ہی عمدہ تحریر شیئر کی
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ۔آمین۔۔۔ پوائنٹس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاکم اللہ خیرا
    اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح عقیدہ توحید پر قائم رکھے۔ آمین۔
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    آمین
     
  7. KAASH

    KAASH -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اگست 24, 2008
    پیغامات:
    2
    Najran

    Jazak am Allah khair Very informative
     
  8. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک الله خیرا
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    جزاک اللہ خیرا، بہت اچھا انتخاب ہے ۔
    اس کے متعلق عربی میں ایک ڈاکیومنٹری دیکھی تھی شاید الجزیرہ یا العربیہ کی بنائی ہوئی ، ملی تو ان شاءاللہ پوسٹ کرتی ہوں ۔
    اس علاقے کا ایک نقشہ
    بشکریہ
    ????? ??????? ??????? - ??????? ??????? ???????


    [​IMG]
     
  11. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    بھائی جی تھورا سا جغرافیہ مجھے بھی آتا ہے ۔ سعودی عرب کے جنوب اور یمن کے شمال میں یہ شہر واقع ہے :00038:
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں