شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

نوید نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏نومبر 19, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. نوید

    نوید -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2007
    پیغامات:
    9
    دورِ حاضر کے عظیم اِسلامی مفکر، مفسر، مُعلّم، مُصلِح اور نابغہء عصر شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری پاکستان کے شہر جھنگ میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ اے اور قانون کے امتحانات اعلیٰ ترین اِعزازات کے ساتھ پاس کیے۔ 1986ء میں پنجاب یونیورسٹی نے آپ کو Punishments in Islam, their Classfication and Philosophy کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی۔

    آپ نے عالمِ اسلام کی عظیم المرتبت روحانی شخصیت قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی ( رحمۃ اﷲ علیہ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور ان سے طریقت و تصوف کی تربیت اور روحانی فیضان حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ کرام میں آپ کے والد گرامی ڈاکٹر فرید الدین قادری کے علاوہ مولانا عبد الرشید رضوی، مولانا ضیاء الدین مدنی، مولانا احمد سعید کاظمی، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور شیخ محمد بن علوی المالکی المکی (رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین) جیسے عظیم المرتبت علماء شامل ہیں۔

    آپ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام کل پاکستان فی البدیہہ تقریری مقابلہ میں اوّل آئے اور قائدِ اعظم گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے کئی گولڈ میڈلز حاصل کئے۔

    آپ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں قانون کے اُستاد رہے، اور علاوہ ازیں پنجاب یونیورسٹی سینٹ، سنڈیکٹ اور اکیڈمک کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ آپ مشیرِ فقہ وفاقی شرعی عدالت پاکستان، مشیرِ سپریم کورٹ آف پاکستان، اور ماہر قومی کمیٹی برائے نصاباتِ اسلامی رہے۔

    آپ نے پاکستان میں اور بیرونِ ملک خصوصاً یورپی ممالک میں اِسلام کے مذہبی و سیاسی، روحانی و اَخلاقی، قانونی و تاریخی، معاشی و اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور تقابلی پہلوؤں کو محیط مختلف النوع موضوعات پر ہزاروں لیکچرز دیئے۔ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری اور عصری موضوعات پر آپ نے فکر اَفروز لیکچرز دیے۔ آپ کے لیکچرز پاکستان، عالمِ عرب اور مغربی دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ آپ کئی برس پاکستان ٹیلی وژن کے ”فہم القرن“ نامی پروگرام میں ہفتہ وار لیکچر دیتے رہے۔ آپ کی اب تک قریباً 275 سے زائد اُردو، انگریزی اور عربی تصانیف شائع ہوچکی ہیں۔ اِن میں سے متعدد تصانیف کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی 800 سے زائد کتابوں کے مسوّدات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔

    آپ نے دورِ حاضر کے چیلنجوں کے پیشِ نظر اپنے علمی و تجدیدی کام کی بنیاد عصری ضروریات کے گہرے اور حقیقت پسندانہ تجزیاتی مطالعے پر رکھی، جس نے کئی قابلِ تقلید نظائر قائم کیں۔ فروغِ دین میں آپ کی تجدیدی و اِجتہادی اور اِحیائی کاوِشیں منفرد حیثیت کی حامل ہیں۔ جدید عصری علوم میں وقیع خدمات سرانجام دینے کے علاوہ آپ نے ”عرفان القرن“ کے نام سے قرآن حکیم کے اُلوہی بیان کا لغوی و نحوی، اَدبی، علمی و اِعتقادی اور فکری و سائنسی پہلوؤں پر مشتمل جامع اور عام فہم ترجمہ کیا، جو کئی جہات سے عصرِ حاضر کے دیگر تراجم کے مقابلے میں زیادہ جامع، منفرد اور معیاری ہے۔ آپ قرآن حکیم کی تفسیر پر بھی کام رہے ہیں۔ علم الحدیث میں آپ کی تالیفات گراں قدر علمی سرمایہ ہیں۔ آپ نے ”المنہاج السوی من الحدیث النبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ جیسی ضخیم کتاب کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پر کتبِ احادیث مرتب کی ہیں۔ آپ نے ”الخطبۃ السدیدۃ فی أصول الحدیث وفروع العقیدۃ“ کے نام سے اُصولِ حدیث پر ایک بے مثال اور جامع و مختصر ترین خطبہ تصنیف کیا جو آنے والی کئی صدیاں تشنگانِ علمِ حدیث کی سیرابی کا سامان بہم پہنچاتا رہے گا۔ آپ نے علم الحدیث کی تاریخ میں اِمامِ اَعظم ابوحنیفہ (رضی اللہ عنہ) کے فنِ حدیث میں مقام کو دلائل و براہین سے ثابت کیا، اور اس باب میں صدیوں سے موجود غلط فہمیوں کا اِزالہ کیا۔

    آپ کی قائم کردہ تحریکِ منہاجُ القرآن دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں اِحیائے ملّتِ اِسلامیہ اور اِتحادِ اُمت کے عظیم مشن کے فروغ کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ آپ نے پاکستان میں عوامی تعلیمی منصوبہ کی بنیاد رکھی جو غیرسرکاری سطح پر دنیا بھر کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ ہے۔ اِس میں ملک بھر میں پانچ یونیورسٹیوں، ایک سو کالجز، ایک ہزار ماڈل ہائی اسکول، دس ہزار پرائمری اسکول اور پبلک لائبریریوں کا قیام شامل ہے۔ پچھلے چند برسوں میں صرف اسکولوں کی تعداد ہی پانچ سو سے تجاوُز کرچکی ہے اور اس سمت تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ جب کہ لاہور میں قائم کردہ ”دی منہاج یونیورسٹی“ بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے چارٹر ہو چکی ہے۔ آپ کی قائم کردہ سیاسی جماعت ”پاکستان عوامی تحریک“ ملک میں رواداری، برداشت اور اُصول پسندی پر مبنی صحت مند سیاسی رِوایت کی تشکیل میں گراں قدر کردار ادا کر رہی ہے۔ آپ عالمِ اِسلام کی بین الاقوامی پہچان کی حامل شخصیت ہیں، جنہیں اِتحاد، اَمن اور بہبودِ اِنسانی کے سفیر کے طور پر پہچانا جاتا ہے؛ اور بہبودِ اِنسانی کے لئے آپ کی علمی و فکری اور سماجی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اِعتراف بھی کیا گیا ہے۔

    ماضی قریب میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ فردِ واحد نے اپنی دانش و فکر اور عملی جدّ و جہد سے فکری و عملی سطح پر ملّتِ اِسلامیہ کی فلاح کے لئے اِتنے مختصر وقت میں اِتنی بے مثال خدمات اَنجام دی ہوں۔ بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک فرد نہیں بلکہ ملّتِ اِسلامیہ کے دورِ نَو کے مؤسِس اور تابندہ و روشن مستقبل کی نوید ہیں۔
     
  2. نوید

    نوید -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 8, 2007
    پیغامات:
    9
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    بے شک بے شک !!

    ماضی قریب میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ فردِ واحد نے اپنی دانش و فکر اور عملی جدّ و جہد سے فکری و عملی سطح پر ملّتِ اِسلامیہ کی "۔۔۔۔۔۔" کے لئے اِتنے مختصر وقت میں اِتنی بے مثال خدمات اَنجام دی ہوں۔

    بلاشبہ "۔۔۔۔۔۔" ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک فرد نہیں بلکہ "۔۔۔۔۔۔" کے دورِ نَو کے مؤسِس اور تابندہ و روشن مستقبل کی نوید ہیں۔
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    صحیح ہے
    ویسے موصوف کی مزید تفصیل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
     
  5. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ ............رفیع بھائی اچھا لنک دیا ہے آپ نے.
    کافی اچھے طریقے سے اس کی تعریف کی گئ ہے......کارتوس بھائی کا کیا کہنا............
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    و علیکم السلام !

    شکریہ آفریدی بھائی

    اسی زمرے میں مزید چھان بین کریں تو آپ کو ان نام نہاد مبلغ اسلام کے بارے میں مزید چونکا دینے والی معلومات مل جائیں گی۔

    جیسے کہ یہ لنک دیکھیئے۔
     
  7. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    رفی بھائی ۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں جس لنک پر کارتوس صاحب (سب سے پہلے تو کسی مسلمان کو کارتوس، بم، راکٹ وغیرہ جیسے نام زیب ہی نہیں دیتے لیکن خیر ۔۔) یہ بتائیں کہ جس لنک پر کارتوس نے اپنی علمی موشگافیوں کے کارتوس داغے ہیں وہاں پر

    کسی کو اس کارتوسی نشانہ بازی پر تعریف و ستائش کی ایک لائن تک بھی نہیں لکھنے دی جا رہی ۔
    کیا اسکے پیچھے کوئی خاص خطرہ ہے ؟
    کہ کوئی آ کر کارتوس کے خالی خول کی بھرم نہ کھول دے ؟
    یا کوئی کارتوس سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار لے کر نہ آ جائے اور ساری کارتوسی کی ستیاناس کر دے ؟
    یا پھر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی جانبدارانہ انداز میں ہو رہا ہے ؟

    میرا خیال ہے کہ ویلا بیٹھ کر سینکڑوں ہزاروں صفحات کالے کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ عامۃ المسلمین (جو کسی طرح بھی کارتوس سے بےعلم نہیں) کو براہ راست ڈاکٹر طاہرالقادری کو سن کر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔
    میں انصاف اور اعتدال کے تقاضے کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہاں وہ لنک دیتا ہوں کہ جہاں پر سے ڈاکٹر طاہر القادری کے دورہ صحیح بخاری کی تقاریر سنی جا سکتی ہیں۔

    http://www.islamixound.com/index.php?PlayID=600
    یا
    http://video.google.com/videoplay?docid=2788728555452963536

    آئیے کسی کارتوسانہ سازش کو پڑھ کر اپنا ایمان تباہ کرنے کی بجائے براہ راست کسی عالم دین کو سن کر اپنے ضمیر سے فیصلہ کروائیں۔
     
  8. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم

    اللہ تعالیٰ طاہر القادری صاحب کو ہدایت دے آمین !
    بے سر و پا چیزیں پھیلا کر بھولے بھالے لوگوں کو گُمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
     
  9. برادر

    برادر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 8, 2007
    پیغامات:
    112
    السلام علیکم ۔ آپ شکر کریں کہ آپ بچ گئے۔ :00006:
    ورنہ طاہرالقادری کی قرآن وحدیث اور صحیح اسلامی تعلیمات پر مبنی گفتگو سننے والے اکثر “محبتِ و اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، محبت و تعظیم ِ اہلبیت اطہار رضوان اللہ علیھم اور محبت و تکریمِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور عقیدت و نسبتِ اولیائے کاملین رحمہ اللہ علیھم کے سچے عقیدے کو دل سے تسلیم کرکے ، وہابیت و نجدیت سے دور ہوکر بقول آپکے “گمراہ“ ہوجاتے ہیں۔ :00037:
     
  10. نیا آدمی

    نیا آدمی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 11, 2007
    پیغامات:
    18
    برادر کیا وہابیت اور نجدیت کابہانہ بنا کر لوگوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور میں موجود اسلام سے دور نہیں کیا جا رہا؟

    اللہ تعالی کہتا ہے میں تمہاری شہ رگ سے قریب ہوں اور یہ کہ جو مجھ سے مانگتا ہے میں اسے دیتا ہوں لیکن کیا وہ لوگ جو وہابیت اور نجدیت کے نعرے لگا کر خود کو صحیح مسلمان سمجھتے ہیں درگاہوں، مزاروں اور دوسری بزرگ ہستیوں کو جو اب اس عالم فانی سے کوچ کر چکی ہیں اپنا مشکل کشا، داتا، بچے دینے والا، مرادیں پوری کرنے والا وغیرہ وغیرہ نہیں سمجھتے اور کیا یہ آپ کے نزدیک اسلام اور اسلام کی بنیاد توحید کے عین مطابق ہے؟

    وہابیت اور نجدیت کو تو محض آڑ بنایا گیا ہے تاکہ آپ جیسے لوگ ان سے دور رہیں اور حقیقی اسلام تک نہ پہنچیں اور اس طرح حلوے مانڈے اور دکانداریاں چلتی رہیں۔

    محبت و اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر تو مومن ہونے کا تصور بھی نہیں ہے لیکن کیا غلو اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی کو اللہ تعالی کی ہستی سے عظیم ثابت کرنا بھی محبت اور اطاعت ہی کا خاصہ ہے؟ اللہ کے واسطے ٹھنڈے دل سے اور تعصب سے پاک ہو کر ذرا سوچیں تو!
     
  11. حافظ کامران

    حافظ کامران -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 2, 2009
    پیغامات:
    65
    اسلام و علیکم


    واہ کیا بات ہے انکی جو یہ سب کر رہے ہیں
    کیا تم طارق ج اور ظہیر کو ٹھیک سمجھتے ہو
    میں نے دیوبند میں بھی پڑھا ہے اور اھل حدیث کے ساتھ بھی رہا ہو
    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کس امان کے مقلد ہیں کس امام کا طریقہ اپناتے ہیں
    دعاؤں کا محتاج حافظ محمد کامران
     
  12. حافظ کامران

    حافظ کامران -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏مئی 2, 2009
    پیغامات:
    65
    اسلام و علیکم
    نوید بھائ آپ نے بہت اچھا کیا کوئ شک نہیں ہے ڈاکٹر صاحب کی دانشمندی کی۔
    انہیں کیا معلوم کہ صحابی کیسے صحابی بنے ہیں اورصحابی کا معنٰی کیا ہے
    لوگوں سیرت کون نہیں مانتا سیرت تو غیر مسلم بھی مانتے ہیں اصل چکر صورت کا ہے


    کبھی یٰسین کبھی طٰہ کبھی والیل آیا جس کی قسمیں میرا رب کھاتا ہے
    کتنی دلکش میرے محبوب کی صورت ہو گی
     
  13. Taha

    Taha محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2009
    پیغامات:
    222
    حضرت شيخ الاسلام آج کل خود کو سجدے کروا رهے هيں
    لا حول ولا قوة الا باالله العلي العظيم

    [ame]http://www.youtube.com/watch?v=AnBWWtz1jnE[/ame]
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں