داعیاتِ دین حفظہن اللہ برساتی جھینگروں کے نرغے میں

عائشہ نے 'مسلم شخصیات' میں ‏فروری 23, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    تعصب کی چادر اوڑھے ہوئے لوگ اس بات کو واضح کر دیں گے تو ان کی دکانیں بند ہوجائے گی۔ ضرورت ہے ایسے لوگوں کو پرواہ کیے بغیر دین کا کام جاری رکھا جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 19, 2012
    پیغامات:
    28
    ماشاء اللہ بھن جی اللہ تعالی آپ کی علم وعمل میں اضافہ فرماے اور اللہ تعالی آپ کی قلم میں مزید برکت پیدا فرماے اللہ تعالی نے آپ کو حق کی دفاع کیلیے منتخب کی ہے
     
  3. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    مذکورہ موضوع سے متعلق فتاویٰ ثنایہ مدنیہ سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:
    سوال:
    عورتوں کے مدارس میں جو تبلیغی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جن میں صرف خواتین مبلغات ہی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتی ہیں ۔کچھ لوگ اس کام کو اچھا نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے مبارک زمانہ میں اور صحابہ رضی اللہ عنھم کے دور میں خواتین ایسا نہیں کرتی تھیں اور صرف مرد صحابہ رضی اللہ عنھم ہی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ خواتین کو تبلیغ کا موقع نہ ملےتو خواتین مبلغات کتمان علم کی مجرم تو نہ ہوں گی اور : بلغوا عني ولوا اية کی ذمہ داری ان پر بھی واجب ہے یا نہیں؟
    جواب:
    دین حنیف کی نشرواشاعت جسطرح مرد پر واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی ضروری ہےکہ مختلف ذرائع سے اس فریضہ کو ادا کرے تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ اسلام کی اشاعت میں عورت کا ہمیشہ سے عظیم کردار رہا ہے۔ دراصل یہی وہ پہلا مدرسہ ہے جہاں سے ہر فرد ابتدائی مراحل میں تعلیم و تربیت حاصل کرتا ہے جس کے اثرات تا زندگی انسان کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ پھر آغاز وحی میں اس کی جدوجہد سے پیغام نبوت کی آبیاری ہوئی ۔ جو بعد میں اقوام عالم کے لیے رشد و ہدایت کا باعث بنی۔
    کژت ازواج النبیﷺ میں یہی حکمت مضمر تھی کہ فریضہ دعوت و تبلیغ بطریق احسن سر انجام دیا جا سکے ۔بالخصوص آنحضرتﷺ کا گوشئہ خانگی جس پر مطلع ہونا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے علم و فضل سے کون واقف نہیں ۔ کبار صحابہ کرام مشکل ترین مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے ، کئی ایک مسائل میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے کمزور پہلوؤں پر گرفت فرماتی تھیں ، اس سلسلہ میں علامہ زرکشی کی معروف تصنیف ’’ الاجابۃ بما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابہ‘‘ کے موضوع سخن سے یہ بات عیاں ہے۔ پھر حضرت اسماء بنت یزید کی خطابت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جو خطیبۃ النساء کے لقب سے معروف تھیں۔ (الاصابۃ، ۴؍۲۲۹ )
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’ الذرر الکامنۃ‘‘ میں ۷۰ محدثات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان میں سے وہ بھی تھیں جن کی شاگردی امام احمد بن حنبل ، علامہ سیوطی ، ابوبکر الخطیب بغدادی ، اور مؤرخ ابن عساکر رحمۃ اللہ علیھم جیسے اجلاء نے اختیار کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے انصار کی عورتوں کی تعریف درجہ غایت بیان فرمائی ہے کہ’’ تفقہ فی الدین‘‘ میں ان کو حیاء مانع نہیں۔ ان جملہ دلائل سے معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت بھی اشاعت دین اور دعوت و تبلیغ کی مکلّف ہے لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ جملہ تحفظات کے ساتھ اس واجب کو ادا کرے۔
    (فتاوٰے ثنائیہ مدنیّہ ، جلد اوّل، صفحہ۲۲۱۔۲۲۰، تالیف:شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. محمد اسد حبیب

    محمد اسد حبیب -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 3, 2011
    پیغامات:
    411
    ایک اقتباس شیخ مبشراحمد ربانی حفظہ اللہ کے فتاویٰ سے​

    سوال:کیا عورتیں مساجد میں دینی و تبلیغی اجتماعات منعقد کر کے ایک دوسرے کو وعظ و نصیحت کر سکتی ہیں۔جس طرح مرد مساجد میں جلسے اور کانفرنسیں کرتے ہیں؟ کتاب و سنت کی رو سے مسئلے کی صحیح نوعیت واضح کریں۔(ایک سائلہ، لاہور)
    جواب:دعوت و تبلیغ ہر مسلمان کا حق ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ اللہ وحدہ‘ لا شریک نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جس طرح مردوں کا وظیفہ ذکر کیا ہے اسی طرح عورتوں کے بارے میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    [font="al_mushaf"]( وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُوْتُوْنَ الزَّکَاۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ اُولٰئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللہُ اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ)[التوبہ:71][/font]
    ’’ مؤمن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اچھی بات کا حکم کرتے ہیں اور بری بات سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بہت جلد رحم فرمائے گا ۔ بےشک اللہ تعالیٰ غلبے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
    اس آیت کریمہ میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کی مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کی صفات و خوبیوں میں سے ایک خوبی و صفت امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے جس طرح مرد کو اچھی بات کہنے اور بری بات سے روکنے کا حکم ہے اسی طرح عورت کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے۔ یاد رہے صدرِ اوّل میں مردوں کے اجتماعات شکل و صورت کے اعتبار سے ہمارے آج کے جلسوں اور کانفرنسوں کی طرح منعقد نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا جواز دعوت و تبلیغ کی عمو می آیات و احا دیث سے ماخوذ ہے۔ اسی طرح عورتوں کا معاملہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے لیے بھی دعوت و تبلیغ کا ہر وہ طریقہ درست ہو گا جس میں شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اپنے گھر سے نکلیں گی مثلاً عورت باپردہ ہو ، مہکنے والی خوشبو لگا کر نہ نکلے، فیشن ایبل ہو کر نہ نکلے ، مردوں سے اختلاط نہ ہو۔اس طرح اجتماعات میں شریک نہ ہوں جس طرح آج کل گلوکارائیں اور اداکارائیں فیشن ایبل ہو کر سٹیج پر نمودار ہوتی ہیں۔ یوں معلوم نہ ہو کہ وہ کسی فیشن شو یا حسن و آرائش کے مقابلہ کے لیے آئی ہیں بلکہ مکمل طور پر شرعی لباسوں میں ملبوس اور آرائش و نمائش سے مبرّا ہو کر دعوت و تبلیغ کے اجتماعات میں آئیں اور اگر تبلیغی اجتماع گھر سے دور ہو تو ایسے سفر پر نکلنے کےلیے اپنے محرم کو ساتھ لے کر جائیں محرم کے بغیر بالکل سفر نہ کریں۔ ان تمام شرعی حدود کو مد نظر رکھ کر عورتیں مساجد میں اپنا دعوتی و تبلیغی پروگرام منعقد کر سکتی ہیں ۔ مساجد دین اسلام کا شعائر ہیں اور ان کا مقصد انھیں آباد کرنا ہے اور مساجد کی آبادی نماز ، روزہ،تلاوت، ذکر و اذکار، قرآن و سنت کی تعلیم و تبلیغ اور عبادات سے ہی ممکن ہے جس طرح مسجد کو آباد کرنے کا مرد کو حق ہے، بالکل اسی طرح عورت کا بھی ہے۔
    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    [font="al_mushaf"](لَا تَمْنَعُو ا النِّسَآءَ حُظُوظَھُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ اِذَّ ا اسْتَاْذَنُوکُمْ) [/font]
    [font="al_mushaf"][مسلم ، کتاب الصلاۃ ، باب خروج النساء الی المساجد (140-442) ][/font]
    ’’جب عورتیں تم سے اجازت طلب کریں تو ان کو مساجد کے حصہ سے منع نہ کرو۔‘‘
    اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ مساجد میں عورتوں کا بھی حصہ ہے اور اس عموم میں تبلیغی و اصلاحی اور اسلامی اجتماعات بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح عورتوں کا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا اور مردوں کے پیچھے آکر نماز پڑھنا اورعیدگا ہ جو مسجد کے حکم میں ہے وہاں پر عورتوں کو حاضر ہونے کی تاکید کرنا اور بعض بے سہارا خواتین کا مسجد نبوی میں قیام کرنا وغیرہ امور اس بات کے مؤید ہیں کہ عورت کو بھی مسجد میں قیام کی اجازت ہے اور مسجد میں قیام کا مقصد مسجد میں ذکر اللہ، عبادات اور وعظ و نصیحت ہے۔ لہٰذا عورتیں شرعی حدود میں رہتے ہوئے مرد و زن کے اختلاط سے اجتناب کرتے ہوئے مسجد میں تبلیغی اجتماع دعوتی و اصلاحی پروگرام منعقد کر سکتی ہیں۔ اس میں کوئی شرعی مانع موجود نہیں۔
    (آپکے مسائل اور ان کا حل،ج2، ص197،تالیف:ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ، طبع:مکتبہ قدوسیہ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    بھائى ہم سب كو سمجھ ہے ليكن جو بچياں لڑكياں تھوڑا بہت سٹيپ لے كر آگے آ جاتى تھيں ايسے حالات ديكھ كر ان پر جو گزر رہی ہے اور اگر كوئى ڈر كر واپس پلٹ جاتى ہے تو اس كا ثواب كس كو ملے گا ؟ ہر كسى ميں اتنى ہمت نہيں ہوتى كہ وہ اس طرح كيچڑ اچھلتا ديكھے اور ثابت قدم رہے۔
    بدعتى مشرك يہ سب كريں تو انسان ہنس كر سہہ سكتا ہے جب پتھر مارنے والوں كى صفوں ميں اپنوں (بظاہر اپنوں) كے چہرے نظر آئيں تو سر پر قيامت ٹوٹ پڑتی ہے۔

    دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
    ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں ؟


    ميں اپنی ہر بہن سے كہتى ہوں :

    دیارِ عشق میں دامن جو چاک ہو جائے
    یہ ابتدائےِ جُنوں ہے ابھی رفو نہ کرو

    کبھی جھکاؤ نہ سَر ظالموں کی چوکھٹ پر
    جو سَر کٹے تو کٹے پر کبھی رکوع نہ کرو



     
  6. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    گل بوسی کے اس جذبہ میں چبھ جاتے ہیں کچھ کانٹے بھی .......!
     
  7. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    تف ہے ایسے "اپنوں" پر
    میرے خیال سے یہ اکھڑ قسم کے لوگ ہونگے جو ہرمعاملے کو خامخاں طول دیتے ہیں۔
     
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    میں چونکہ اس موضوع سے ابھی تک واقف نہیں رہا لیکن میں صرف یہ مشورہ دوں گا کہ چونکہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظہا اللہ کی کردار کشی کی گئی اس لیے آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اسی سیکشن یعنی مسلم شخصیات میں محترمہ کے حوالے سے ان پر ایک موضوع پوسٹ کیا جائے جس میں ان کا تعارف، دینی علوم، دین کی خدمت اور دیگر باتوں پر روشنی ڈالی گئی ہو۔
    اگر ان کے بارے میں ہمیں صحیح معلومات نہیں پہنچیں گی تو پھر ہم جیسے کم علم اور ان کے بارے میں کم جاننے والے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کا شکار ہوسکتے ہیں
    کوئی بھی انسان فرشتہ نہیں ! لیکن غلطی کا مطلب یہ نہیں‌کہ ہم ان کی ساری خوبیوں کو نظر انداز کردیں۔ ہاں!! ان کی غلطی کی اصلاح ضرور کی جائے لیکن ان کی خوبیاں بھی بیان کی جائیں اور حوصلہ افزائی کی جائے۔
    ہمارے اندر اعتدال کا پہلو ختم ہوچکا ہے ۔ خامیاں اور خوبیاں سب میں موجود ہوتی ہیں ! لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خوبیاں کتنی ہیں اور خامیاں کتنی ؟ چھوٹی خامیوں کی وجہ سے بڑی بڑی خوبیوں پر پانی پھیرنا ظلم و ناانصافی ہے۔
    اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے اور اگر ہم غور کریں تو مستقیم راستہ افراط و تفریط سے پاک ہوتا ہے !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاک اللہ خیرا سسٹر، ماشاءاللہ بہترین اور مدلل انداز میں آپ نے ڈاکٹر فرحت ہاشمی کا دفاع کیا۔ اور بالکل حق دفاع ہے۔ پتہ نہیں یہ اسلام کی کون سی خدمت اور تحقیق ہے جو کہ لوگوں‌کو داعیان دین سے ہی متنفر کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اللہ ایسی "تحقیق" کرنے والوں کو ہی ہدایت دے اور انکی اس قسم کی "تحقیق" سے لوگوں‌کو محفوظ رکھے۔ آمین۔
     
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    آمین۔ اگر آپ غور كريں تو يہ "تحقيق" ويسى ہی ہے جيسے آج كل لوگ سرچ انجنز ميں كى گئی تلاش كو اپنی "رى سرچ " كہتے ہيں ۔ آپ اس ريسرچ كے اعتراضات كو سرچ كريں تو علم ہو جائے گا كہ يہ كہاں كہاں سے امپورٹ كيے گئے ہيں۔
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جس فورم پر يہ سب اعتراضات اور مباحثے كئی ماہ سے چل رہے ہيں اس پر كئى ايسى شخصيات موجود ہيں جو براہ راست محترم ڈاكٹر ادريس زبير يا محترمہ ڈاكٹر فرحت ھاشمى سے رابطہ كر كے ان كا موقف معلوم كر سكتے تھے مگر افسوس يہاں وہاں سے اٹھائے گئے اعتراضات پيش كرنے والے نيم صحافيوں كو آزادى ہے ليكن جواب دينے والوں كے مراسلے حذف كر ديے جاتے ہيں ۔ الٹا اسى موضوع ميں حضرت عائشہ رضى اللہ عنہا كے فقہ و اجتہاد كے متعلق ايك بے كار بحث شروع كر دى گئی اور جوابات آنے پر كبھی تھريڈ غائب كر ديا جاتا ہے كبھی مقفل ، اب اس آنكھ مچولى كو كيا كہا جائے؟ جناب سيكيولر فورمز كا بھی يہ اخلاق نہيں ! كم از كم كچھ حوصلہ پيدا كيجیے اپنے اندر ، اس قدر ان سيكيور فيلنگز كے ساتھ مباحثے نہيں ہوتے ۔
     
  12. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    4,978
    جب دلیل ندارد ہو تو اہل باطل ایسا ہی کرتے ہیں۔ بجائے کہ حق کو کھلے دل سے قبول کریں اور اپنی اصلاح کریں، اپنے موقف پر اڑ جاتے ہیں اور بلا دلیل اپنی بات منوانے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    بعض لوگوں كو اصلاح كى نسبت عذرِ گناہ والا راستہ پسند ہوتا ہے حالاں كہ سيانے كہہ گئے ہيں : عذر گناہ بدتر از گناہ!
     
  14. سعد نظامی

    سعد نظامی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    60
    شکریہ بہن۔

    ویسے ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے اس دنیا میں 98% مرد حضرات خواتین کی کوششوں کو بظاہر سراہتے ہیں پر جہاں ان سے آگے نکلنے لگیں تو پھر مردانگی ان کے علم و عقل پر چھا جاتی ہے۔ اللہ سب کو سچا اخلاص عطا فرمائے
     
  15. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بھائ اگر یہ بات درست ہے تو آپ مجھے ان باقی 2٪ مرد حضرات میں شامل کرلیجیۓ۔ اصل مردانگی یہ ہے کہ ہر اچھے کام کرنے والے کو (خواہ وہ مرد ہو یا کوئ خاتون) سراہا جاۓ اور اس کی حوصلہ ا‌فزائ کی جاۓ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. دین حنیف

    دین حنیف -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 10, 2011
    پیغامات:
    10
    جزاک اللہ خیرا ام نورالعین
    اتنی لمبی پوسٹ لکھ کر اپنے تئیں یا اپنے ہمنواؤں تئیں شروع موضوع کا حق تو شاید ادا کردیا ہو لیکن رائٹر تو ضرور اس سے بگڑ گیا ہوگا۔کیونکہ آپ نے اصلاح کی نظر سے تو نہ لکھا اورنہ لکھنے کی کوشش کی۔ اور ویسے بھی شاید اسلام کی تعلیم جتنی آپ نے سیکھی ہو اس میں اس طرح کی جوابی کاروائی کرنے کی اجازت ملتی ہو۔
    کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ جب ڈاکٹر فرحت ہاشمی﷾ پر اس طرح کا یا اس قسم کا کوئی بھی حملہ ہوتا ہے تو وہ کس انداز میں جواب دیتی ہیں ؟ اگر آپ ڈاکٹر صاحبہ﷾ کے نقش قدم کو پسند کرتی ہیں تو پھر اسی نقش قدم پر بھی چلنا ہوگا جس کی وہ تعلیم دیتی ہیں ۔منہ میں رام رام اور بغل میں چھری کی مثال تو نہ بنیں۔
    اور ہاں ایک بات جس پر غور کرنے اور اسی کو موضوع بنانے کی اشد ضرورت تھی اسی کو تو سرے سے پس پشت ہی ڈال دیا گیا۔میں نے جس فورم پر یہ تحریر ہے مکمل پڑھا ہے اور الحمدللہ جس نے جہاں غلطی کی ہوئی سب بخوبی جانتا بھی ہوں ۔ جس نے جو غلطی کی اللہ تعالی اس کی غلطی کو معاف فرمائے اور آئندہ محتاط رہنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمین
    ام نورالعین
    سرے سے جس بات کو ٹھکرا دیا گیا وہ تھی ڈاکٹر صاحبہ پر کیے گئے اعتراضات کے جواب۔۔اچھا ہوتا کہ آپ تعلیمات اسلام کا لحاظ رکھتے ہوئے کیئے گئے اعتراضات نقل کرتی جاتی اور پھر مدلل جوابات دیتی جاتی اور ہاں ان مسائل میں صرف بات بھی ڈاکٹر صاحبہ کے حوالے سے کرنی تھی۔(نہ کہ یہ کہ یہ تو فلاں کا موقف بھی ہے یہ بھی فلاں کا موقف ہے۔) کیونکہ معترض نے ڈاکٹر صاحبہ کے حوالے سے ہی پوچھا ہے ۔اور جن مسائل میں ڈاکٹر صاحبہ کا موقف قرآن وحدیث کے خلاف بھی ہوتا تو آپ برملا لکھتی کہ ڈاکٹر صاحبہ نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے۔حالانکہ دین حنیف کا یہ موقف ہے۔پھر میں اور میرے جیسے کئی بھائی یہ تسلیم کرتے کہ آپ حقیقت میں ڈاکٹر صاحبہ سے محبت کرنے کے ساتھ ان کی تعلیم کو آگے پھیلاتے ہوئے ان کی خوبی کو خوبی سمجھتی ہیں اور ان میں موجود وہ موقف جو قرآن وحدیث کے خلاف ہے ان پر بھی ڈاکٹر صاحبہ﷾ کی تائید نہیں کرتی بلکہ آپ اسلام کی بات کی پیروی کرتی ہیں۔
    مزا تو بت تھا۔اور اسلام بھی ہمیں اس طرح کے اسلوب پر عمل پیرا ہونے کی تلعیم دیتا ہے۔
    مجھے معلوم ہے کہ شاید میرے بارے میں بھی کوئی غلط بات پھیل جائے۔کیونکہ غلط بات اچھی بات سے بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔کیونکہ اس بات کی ڈرائیو شیطان کررہا ہوتا ہے۔ اس لیے میں اپنی ان باتوں کے ساتھ اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتے ہوئے کررہا ہوں کہ
    ’’ہر وہ عالم یا عالمہ اس کوبھی وسیع کرتے ہوئے یوں کہہ دیتا ہوں کہ ہر وہ مسلمان مرد ہوں یا عورتیں جو اسلام کی وہ تبلیغ جس کو محمدﷺ جوان لے کر آئے اسی صورت میں‘ کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہوں ان کی ہر طرح مدد کرنا ہمارا فرض ہے‘‘ بس سمجھنے والوں کے لیے میرے یہ چند جملے ہی کافی ہیں۔
    اس پوسٹ کا لب لباب آخر میں ایک بار پھر واضح کردوں
    کہ جس فورم پر بھی جس طرح کا موضوع شروع کیا گیا تھریڈ شروع کرنے والے کے دل میں کیا تھا یا کیا نہیں تھا یا کس صورت میں آکر اس نے اس طرح کے نام سے تھریڈ شروع کیا اس سے لاغرضی برتتے ہوئے ہمیں اس کے ردعمل میں کیا کرنا چاہیے تھا۔؟ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب یا گالیاں ؟

     
  17. دین حنیف

    دین حنیف -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 10, 2011
    پیغامات:
    10
    شکریہ ناظمین بھائیوں اور بہنوں کا
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ بھائیوں اور بہنوں کا بہت بہت اینڈ بہت بہت شکریہ کے آپ نے میرے غلط انداز اور غلط پوسٹ کی وجہ سے مجھے موڈریشن ٹول میں ڈال دیا ہے۔اللہ تعالی آپ کو صلہ دے۔پر ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔اس عمل پر ردعمل کے طور پر کچھ جاننے کی کوشش کررہا ہوں
    1۔کس چیز کو بنیاد بناکر میرے ساتھ ایسا احسن سلوک کیا گیا۔؟
    2۔میں نے اس فورم میں کس جگہ اور کہاں اور کن الفاظ میں کوئی نامہذب حرکت یا پوسٹ کی ہے اس کو واضح کیا جائے کیونکہ واضح کرنا آپ لوگوں کا حق نہیں بلکہ فرض ہے اور یہ میرا حق آپ لوگوں پر ہے جس کی ادائیگی اب کریں یا پھر آخرت میں ادائیگی کےلیے منتظر رہیں
    3۔اگر ایک ناظم کسی ممبر کے ساتھ کوئی حرکت کرے جو اس ممبر کےلیے تکلیف دہ ہوتو آپ کے ہاں اس کا کیا سلوک کیا جاتا ہے ممبر کو بین کیا جاتا ہے یا پھر ناظم وغیرہ کو بھی کچھ تنبیہ کی جاتی ہے؟
    نوٹ
    بھائیو اور بہنو
    شاید کچھ میری ابتدائی پوسٹ کو دیکھ کر آپ لوگوں نے ایسا کیا اور شاید آپ نے احسن فیصلہ کیا ہوگا پر ایک بات واضح کرتا چلوں کہ میں کوئی اتنا پاگل، بے وقوف، بولا، نا سمجھ، جذبات و غصہ میں کنٹرول نہ کرنے والا، کسی بھی اختلاف کو ذاتیات پر لینے والا وغیرہ وغیرہ اللہ کے فضل سے ان سب باتوں سے دور ہوں ۔۔ اور مجھے اتنی سمجھ بوجھ ہے کہ میں نے کیسے کسی کے ساتھ بات چیت کرنی ہے۔ الحمدللہ
    جس طرح کہتے ہیں کہ جذبات میں ہوش کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اللہ کی توفیق سے یہ صفت اکمل طور پر مجھ میں پائی جاتی ہے۔۔جس سے بھی بات ہوگی کسی بھی مسئلہ میں اخلاق کے دائرے میں ہوگی اگر اگلا کوئی بھی اس طرح کی بات کرے گا جو اخلاق سے دور ہوتو قرآنی فیصلہ ’’واذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاما‘ ہی میرے لیے کافی ہے اور میں اسی پر ہی عمل کرتا ہوں ۔اللہ کی توفیق سے
    محدث فورم
    ایک شکایت بھی کرتا چلوں کہ اگر میری کوئی حرکت آپ لوگوں کو بری لگی تو مجھے ایک وارننگ دی جاتی اور کہا جاتا کہ آپ نے یہ غلطی کی ہے اور آپ کو وراننگ دی جاتی ہے آئندہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ پہلی خطا تو ......خود سمجھ لیں
    اس حوالے سے میں داد دیتا ہوں محدث فورم والوں کو کہ ان کی پالیسی مجھے بہت اچھی لگی اورہونا بھی ایسے چاہیے بساوقات اختلاف کرتے کرتے آدمی عقل سے کم کام لینا شروع کردیتا ہے تب اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں شروع ہوجاتی ہیں تو محدث فورم والے اوپن فورم پر ہی کہہ دیتے ہیں کہ آپ کی یہ حرکت وغیرہ نازیبا ہے وغیرہ وغیرہ اور تین چار بار وارننگ بھی جاتی ہے ۔ چلو خیر آپ کی اپنی پالیسی مبارک ہو
    بس میں نے شکوہ اس وجہ سے کیا کہ مجھے دکھ تھا کہ
    میں نے کوئی اس طرح کی بات ہی نہیں کی اور میرے ساتھ یہ سلوک۔۔اس لیے چند باتیں لکھیں ہیں

    نوٹ
    یہاں اس تھریڈ میں اس وجہ سے لکہی ہیں کیونکہ مجھے نیو تھریڈ کی اجازت بھی نہیں ہے۔اگر میری باتیں مناسب ہیں تو پھر اوپن فورم بھی بھی لایاجائے اور اگرنامناسب ہیں تو گلے وشکوے پرغور کیا جائے اور اگر گلہ وشکوہ بھی قابل غور نہیں تو پھر کوئی بات نہیں ۔۔۔کوئی بات بری لگی تو سوری
    والسلام
     
  18. ثانیہ

    ثانیہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 14, 2010
    پیغامات:
    165
    حق کا ساتھ دیتیں! اورمحترمہ فرحت ہاشمی ہی کی حثیت سے جواب دیتیں نا کہ نئی آئی ڈی بنا کر کسی اور کو بھیجتیں۔

    آمین۔ ایسا کیجیئے ان سے کہیے کہ ابو الحسن صاحب بذات خود اس بارے میں لکھیں جیسا کہ اس مراسلہ میں اختلاف کی صورت میں لکھتے رہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ایک غلطی تھی ناکہ ادارے کے دیگر اراکین سے لکھوائیں کیوں کہ عظیمت اسی میں ہے انسان سے جہاں جو غلطی ہو اسے تسلیم کر لے۔

    عدل کرنا چاہیئے ناکہ صرف یطرف آکر لیکچر دینا چاہیئے۔ کیوں ان کے مراسلہ اسی وقت حذف نہیں کیے گئے؟ ایسا موضوع دیکھ کر ان کے کسی منتظم میں سے کسی کو خیال نہ آیا؟ ایک نہ صحیح دو نہ سہی تین نہ سہی کسی ایک کو تو آتا؟؟

    سبحان اللہ! معترض خود صحافی ہیں اور قرآن و سنت کی تبلیغ بھی کرتے ہیں ایسا موضوع رکھنا اور ایسے سوالات یہ خود آپ اپنے آپ سے پوچھیئے۔۔ ۔ ۔ ۔ الہدی کی تین ویب ساٹ ہیں کسی ایک پر وزٹ کرتے اس کےعلاہ جب ابو الحسن صاحب نے موضوع سے ہٹ کر بات کی تو معترض نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی جیسا کہ مفتی عبد اللہ بھائی کی کرتے آئے؟؟؟

    اور

    میرے بھائی اللہ تعالی کے پاس ہمیں اکیلے جانا ہے نہ ہی کوئی بندہ ہمارا حساب دے گا اور نہ ادارہ!
    اللہ تعالی سب کو سچا اخلاص عطا فرمائے اور نیتوں کو اپنے لئے خالص کرے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. دین حنیف

    دین حنیف -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 10, 2011
    پیغامات:
    10
    ان بیان شدہ الفاظ میں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں عزیز بہنا۔! کس نئی آئی ڈی کی بات کررہی ہیں اور کیوں ؟ کیا کوٹ شدہ الفاظ کا جواب یہی تھا جو آپ نے دیا ؟ دوبارہ ذکر کردیتا ہوں کہ میں نے سوال پوچھا اگر ڈاکٹر فرحت ہاشمی ﷾ پر اسی طرح کا کوئی حملہ ہو تو وہ ردعمل کےطور پر کیا کرتیں مجھے پس اس کا جواب چاہیے ۔موضوع سے ہٹ کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بہن پیاری
    کہاں کی باتوں کو کہا ڈال دیا تم نے بہنا۔بے مقصد باتیں اچھی نہیں ہوتی
    عدل کی بات سب کرتے ہیں بہنا فی الحال آپ مجھے اس بات کا جواب دیں ردعمل میں آکر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب یا گالیاں ؟
    بہن جی
    صحافی ہوں یا کچھ اور اگر اس نے سوالات کے جوابات طلب کیے بھی ہیں تو ہمیں جوابات دینے چاہیے تھے یا پھر ؟؟؟؟؟ اور دوسری بات سنجیدگی سے آپ سوچیں کہ جب محدث فورم پر باتیں ہی صرف ڈاکٹر فرحت ہاشمی﷾ کے بارے میں ہورہی تھیں اور اس ضمن میں آکر ڈاکٹر صاحبہ کی طرف منسوب حقیقی یا عارضی سوالات کے جوابات طلب کر بھی لیے تو ہمیں بھی سوالات کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے جوابات سلجھے ہوئے انداز میں دینے چاہیے تھے۔اب آپ بتائیں کہ اس مسئلے کے شروع سے اب تک کس نے ان سوالات کومدلل جواب میں پیش کیا ہے۔اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کا یہ مشورہ کہ ان کی ویب سائٹ سے دیکھ لیا جائے آپ خود ہی دیکھ کر اس فورم پر بھی اور محدث فورم پر بھی پوسٹ کردیں ۔جزاکم اللہ خیرا
    اس بات کا نہ کوئی انکاری ہے اور نہ ہی کبھی ایسا ہو سکتا ہے آپ کی طرف سے کی جانیوالی دعاؤں پر آمین ثم آمین
    نوٹ
    بڑی بہن
    بحث ومباحثہ کو طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں میری آپ سے اور سب سے جو ڈاکٹر فرحت ہاشمی﷾ سے دینی طور پر محبت کرنے والے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اٹھائے گئے سوالات کی حقیقت کو واضح کیا جائے

     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    ميں اپنى بات عرض كر چكى ہوں مزيد وضاحت كى كوئى ضرورت نہيں، جن كو اس تحرير ميں بداخلاقى نظر آئے وہ خود اپنى ذات سے سوال كريں كيا وہ اپنی ماؤں بيٹيوں بہنوں كو كٹہرے ميں کھڑا كرنا گوارا كرتے ہيں؟ اگر ايك داعيہ دين خود اپنا دفاع نہيں كرتيں تو اس كا يہ مطلب نہيں كہ كوئى دوسرا بھی ان كا دفاع نہ كرے ۔
    اس فورم كے صفحات پر راقمہ کے مراسلے گواہ ہيں كہ علماء كرام كے متعلق عموما بھی كوئى ساقط بات برداشت نہيں كى ، اور بہت سے داعيان دين جن ميں علامہ البانى سے لے كر شيخ مقبل هادى الوادعى تك بہت سے نام شامل ہيں كا دفاع كيا ۔ الحمد للہ مسلكى تعصب ميں كسى كى ذات پر تمسخر نہيں كيا ، ڈاكٹر اسرار احمد ، مولانا مودودى ، طاہر القادرى ، جاويد غامدى سے نظرياتى اختلافات كے باوجود ان كا نام بگاڑنے يا ذات اور شكل پر طنز كرنے سے منع كيا ، وجہ صرف يہی ہے كہ دين اس بات كى قطعى اجازت نہيں ديتا ۔ جب كوئى شخص واضح طور پر ايك باوقار داعيہ دين كے متعلق گرى ہوئى بات كرتا ہے تو اس كو جواب دينا ميرا فرض ہے اور ان تمام اعتراضات كے جواب بھی دے دیے گئے ہيں جو اہل بدعت كى سائٹس س نقل كيے گئے اگر تحرير پڑھے بغير اعتراض كرنے والوں كو نظر نہ آئيں تو يہ تحرير كا قصور نہيں ۔
    بعض لوگوں كو خوش فہمى ہے كہ ان سے امتيازى سلوك كيا جا رہا ہے۔ حقيقت يہ ہے كہ مجلس مذہب اور مكتبہ اسلاميہ کے زمروں ميں اركان كے مراسلات موڈريشن کے بعد ہی ظاہر ہوتے ہيں ۔ البتہ ان كو يہ خصوصى رعايت ضرور دى گئی ہے كہ اب تك ان سے تعارف كروانے كا تقاضا نہيں كيا گيا ، ظاہر ہے نيٹ كى دنيا كی بے نام ونسب آئی ڈيز سے تعارف كا مطالبہ كون كر سكتا ہے؟ دينى علم نا معلوم ، ذاتى تعارف نا معلوم قسم كے ايك سوفٹوئير انجينئر "مفتى" اسى بات پر ايسا بگڑے كہ آج تك انتقام كى آگ ٹھنڈی نہيں ہوئى ۔
    بہر حال منصف مزاج افراد اعتراف نہ بھی كريں تو محسوس ضرور كر چکے ہوں گے كہ دلائل كا وزن كہاں ہے اور محض مردانگی كا زور كہاں ہے۔ خدا امت كو اس قحط "الرجال" سے نكالے تا كہ "مرد" خواتين كى كاميابيوں پر چيخم پكار كى بجائے اپنے "پيغام قرآن" كو اتنا موثر بنائيں کہ لوگ ان كى طرف كھنچے چلے آئيں ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں