لڑائی جھگڑا ہر جگہ کیوں‌نہیں۔۔۔!!!؟؟؟

ابومصعب نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 14, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم

    مجھے اپنے پروفشنل کیریر کو شروع ہوئے تقریبا 11 سال ہوچکے ہیں، 19 سال کی عمر سے لیکر شباب کی عمر تک پہنچتے میں‌نے کئی تجربات دیکھے، خود بھی کئی لوگوں سے الجھا ہوں، کئیوں‌کو الجھتے دیکھا، خاص طور پر خاندانوں‌کو الجھتے اور ٹوٹتے دیکھا، گھروں‌کی لڑائیں عام ہیں،محلے گلیوں‌میں‌ہرجگہ لڑائی جھگڑا ، تو تو میں‌ میں، کوئی کسی کو معاف کرنے تیار نہیں، کوئی کسی کو اڈجسٹ کرنے کے موڈ میں‌نہیں‌،کوئی کسی کے ساتھ تعاون کرنے تیار نہیں، کوئی کسی کو ریسپکٹ دینے تیار نہیں‌۔۔۔کہیں‌اسٹیٹس کے معاملے ، کہیں‌غریبی امیری کہ فرق ، کہاں‌پڑھے لکھے جاہل کا فرق، کہیں مذہب کو لیکر انسانیت سسکتی بلکتی نظر آتی ہے، کہیں‌مکاتب فکر کو لیکر عزت و ذلت کے درمیان کے سفر، عمروں‌کے تفاوت کے کہیں‌معاملے تو کہیں کچھ اور ۔۔۔بحرکیف، انسانیت ہر اس جگہ پر جہاں‌اسکا دل جیسا چاہے کر رہا ہے۔۔۔۔۔لیکن میں‌دیکھ رہا ہوں‌کہ جہاں‌جہاں‌میں‌کام کرتا ہوں، کسی کمپنی میں‌، کسی گروپ میں ، کسی بھی پروفیشنل وہ ضرورت کے تحت انسانوں‌سروں‌کے جمگھٹے جہاں ، پیسوں‌کی وجہ سے لوگ ایکدوسرے سے بنا مذہب و ملت ،بنا عمروں‌کے فرق، بنا خاندانوں‌کی یکسانیت کے، بنا کلر کے یکسانیت کے، بنا کسی خاص بیک گراونڈ کی مماثلت کے، بنا کسی خاص ذہن کو لئے ہوئے ، ایکدوسرے کے ساتھ۔۔۔۔ "واعتصمو ابحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا" کے مفہوم کے تحت ایک رسی سے جڑے ہیں، پروٹوکولز کا پورا خیال ہے، سیاست بھی ہوتی ہے، تو اخلاق کے دائرے میں‌، پروفیشنل لینگویج میں، کوئی کسی کی عزت پر ہاتھ نہیں‌ڈالتا، کوئی کسی کو گالی نہیں‌دیتا، کچھ کہنا بھی ہوتو ای-میل کے ذریعہ ریکوسٹ کی جاتی ہے، ٹی بوائے سے لیکر کلینر کے ساتھ اخلاق کا معاملہ مسکراہٹ سجے چہرے، ۔۔۔یہ سب اسلئے کہ ہر کسی کو ماہانہ اسی کمپنی سے کچھ روپے مل جاتے ہیں، جس سے کہ ان سب کی گذر بسر ہوتی ہے۔۔۔ بس اس سے بڑھکر کسی کا کسی سے لینا دینا نہیں، لیکن اصول اتنے سخت ہے کہ، اگر کوئی ایک اخلاقی طور پر دوسرے کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا کا خیال بھی کرلے، تب کمپنی اسکو کمپنی سے باہر کریتی ہے، کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرنا ہی نہیں‌چاہتا، ہر کوئی دوسرے سے مسکراہٹ سے ملتا ہے کہ امیج اچھا رہے، دل میں‌چاہے کسی کے بارے مٰں‌کتنی برائی رہے، ہر کوئی ہر دوسرے کو کسی نہ کسی مرحلے پر اڈجسٹ کرہی لیتا ہے، نہ نسل کا تعصب، نہ کوئی عمر کا، نہ کوئی مذہب کا، نہ کوئی جماعت کا، ہر فرد دوسرے کے ساتھ۔۔۔اخلاقی طورپر جڑکر ، چند روپوں‌کے فائدے کے حصول کے تحت۔۔۔۔مل جل کر، جڑکر مقصد کا حصول ممکن بنارہے ہیں، اور وہ مقصد ہے کہ "بزنس یونٹ" یا کمپنی چلتی رہے، اور ہمارے معاش کا معاملہ کا حل بنا رہے۔۔۔۔!!! لیکن جب یہی دوٹکے کا فائدہ ختم ہوجاتا ہے، اور ہم اپنے پروفیشنل سائیکل سے باہر آجاتے ہیں، تب۔۔۔۔۔نہ مسجد ہم کسی کو جانتے ہیں نہ مارکٹ میں، نہ پڑوس میں اور نہ کہیں‌پر، ہر کسی کے ساتھ لئے دئے کا تعلق، مفاد جہاں‌نظر آیا وہاں مسکراہٹ یا پھر، انجام بن جانے میں‌عافیت۔۔۔ی کیسی انسانیت ہم میں‌کوٹ کوٹ کر بھر گئی ہے۔۔۔!!! "واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا" کا سبق دینے والے ہم۔۔۔! کیا عملی طور پر واقعی ہم اس پر پورااترنے کی کوشش کرتے ہیں‌ہر محاذ میں۔۔۔!! ایک چبھتا ہوا سوال تھا، جسکا مجھے جواب نہ مل سکا، ہاں‌جو جواب ملا، اسکی تفصیل میرے اپنے الفاظ میں‌میں‌نے بیان کردی ہے۔۔۔!!!
     
  2. عیسیٰ ڈیپر

    عیسیٰ ڈیپر -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    165
    اسلام علیکم
    آپ نے جو بہ لکھا ہے ایسا سمجھ آتا ہے جیسے میں نے لکھا ہے واقعی میں ایسا ھی کچھ ہے یھاں
    پریہ جنگ ھمیشہ سے ہے اور رہے گی آپ نے قرآن المجید میں پڑھا ھوگا کہ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق کہ وقت ملائکہ کا کیا کھنا تھا ۔
    اس لئے جنگ ھوتی رہے گی۔پر جنگ جب بھی ھوگی حق اور باطل کہ درمیاں۔اب ھمیں یہ سمجھنا ہے کہ ھم کس کہ ساتھ ھیں حق کہ ساتھ یا باطل کہ ساتھ
    اگر حق والوں کہ ساتھ ھیں( اور مخالفت میں ھمارے اپنے ہی کیوں نہ ہوں (
    تو ہمیں خوش ھونا چاھیئے اور اگار باطل کہ ساتھ ھیں تو ھمیں توبہ کرنی چاہئے۔اور بیشک سکون نیکی میں ہے۔آپ کو سورہ العصر کی معنیٰ اور تفسیر پڑھنی چاہئے آپ کا جواب اس میں ہے۔
    جزاک اللہ
    غلطی ھوگئی ھو تو معافی چاھتا ھوں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں