ہم اور تسلی دل

ماہا نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏مارچ 17, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ماہا

    ماہا ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏نومبر 27, 2010
    پیغامات:
    352
    ارے بھئی کون کہتا ہے کہ جی ہم فیشن کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں
    دورکیوں جانا اپنی آج کی نسل کو دن رات اس ریس میں ہانپتے دیکھتے ہیں
    ادھر مسجد سے نماز ادا کر کے نکلے فورا سے پیشتر ہمارے بھائی شلوار کو ٹخنوں سے نیچے کیا مبادا کوئی ہمیں شریعت کا پابند نہ
    سمجھ لے
    اور صنف نازک کی طبع نازگی کی تو بات ہی کیا ہے
    کالج میں داخل ہوتے ہی سر سے دوپٹے کا بوجھ اتار دیتی ہیں کے جی ہم کونسا دقیانوسی دور کے لوگ ہیں ہمارا ہائی فائی سٹینڈر ہے جی

    اس سب کو باوجود ہمارے بزرگ ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور مان سے کہتے ہیں کہ جی
    ہمارے بچوں کو کیا پتہ آجکل کے فیشن کا بہت معصوم ہیں زمانے کے چال چلن سے نا بلد ہیں جی

    آپ کا کیا خیال ہے ویسے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    کیوں کہ دل کو تو تسلی دی ہوئی نہ ہم نے کہ بہت معصوم ہیں ہممممممم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,062
    بہت ہی ہلکے پھلکے انداز میں‌سوالیہ موضوع ہے، لیکن صورتحال اس سے بہت زیادہ سنگین ہے، یہ تو پھر بھی دل کو تسلی دینے کی باتیں‌، کوڈ کی گئیں ہیں، یہاں‌تو ساری کی ساری زندگی ہی دین سے کوسوں‌دور کا معاملہ ہی اکثریت لئے ہوئے ہے، کم از کم وہ جو ڈرے سہمے انداز میں‌اور چھپ چھپا کر، کچھ غلط کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر بھی بھلا ہو انکا، جہاں‌سرے سے اخلاقیات کا چیپٹر ہی خارج ہو وہاں کا کیا کریںگے۔۔۔ہم۔۔۔!!!

    کل ہی جیو ٹی پر لنچ کرتے ہوئے نیوز کے بجاے کوئی "ٹرو حقیقت" بتانے کی کوشش ہورہی تھی جہاں، ایک ظالم مرد کے ہاتھوں‌پسنے والی ایک مظلوم عورت کی داستان خود اسکی زبانی تھی، واقعی المیہ تھا، اور اس درندہ صفت انسان کو کورٹ یا قاضی واقعی ایسی سزا سنائے کہ دنیا کے لئے عبرت بن جائے، لیکن جیو انکرز کا اللہ بھلا کرے، عریانیت کاپیکر بنکر پہلے تو اس صنف نازک کے زخموں‌پر مرہم رکھتے رہے،اور پھر جاتے جاتے سبق دیا کہ، پاکستان کی عورتیں ، بلکہ ہر عورت پس رہی ہے، اور عورت کو کسی بھی لمحہ کوئی قربانی نہیں‌دینی چاہئے، اور کہ ۔۔۔معاشرہ ، صرف ظلم سے تعبیر ہے، وغیرہ۔۔۔، کہنے کا مقصد یہ کہ، کہیں‌ظلم ہے تو کہیں‌ظلم کو روکنے کی کوشش میں‌مخفی بے حیائیوں کا درس۔۔۔۔یعنی بیالنس ہی خراب ہو کر رہ گیا ہے۔۔!!!

    بہرحال اچھا موضوع ہے، مزید بات کی جاسکتی ہے۔۔۔!
     
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    بہت خوب، بہت اچھا لکھا ہے سسٹر۔
    صحیح کہہ رہی ہیں‌ سسٹر۔ :00002:
    اللہ ہمیں ہدایت دے۔
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,119
    ھماری اکثریت اورھما ری نوجوان نسل اسی کمپلیکس میں مبتلا ھے کہ کھیں دین پر عمل کرنے کیوجہ ان پر وقیانوسی کا لیبل نہ لگ جائے ۔اس کی بنیادی وجہ وہ لوگ ھیں جو دین پر عمل کرنے والوں کا مذاق اڑتے ھیں۔
    دعاھےاللہ ھمیں اورھمارےبچوںکو ھددایت دے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,062
    ویسے یہ بات کہ نوجوان نسل اگر دین پر عمل کرے تب اس پر کوئی لیبل نہ لگ جائے، صرف وہاں‌دیکھا جاتا ہے ، جہاں پیرنٹس کی طرف سے تربیت نہ کی گئی ہو، لیکن وہاں‌جہاں‌ابتدائی عمر سے انہوں‌نے مذہبی ماحول دیکھا، اور والدین کو نماز پڑھتے دیکھا، مذہبی محفلیں‌دیکھیں، دروس سنتے رہے، عمر کے ابتدائی دور سے چلڈرنس سرکلس کے نام سے یا بغیر کسی نام سے، انہیں‌بچوں‌کے گروپس میں اسلامک کلاسس وغیرہ کے ذریعہ انکی روحانی تربیت کی جاتی رہے، تب ویسی جنریشن کبھی بھی دین پر عمل کرنے کو دقیانوسیت نہیں‌سمجھیگی کہ وہ بچپن سے اسی ماحول میں‌اس نے آنکھ کھولی ہے، البتہ وہاں‌، جہاں کہ گھر کا ماحول ہی غیر اسلامی ہو، وہاں‌کی جنریشن واقعی اسلام پر عمل کرنے میں‌اجنبیت محسوس کرتی ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں