تکیہ کلام

الطائر نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏مارچ 18, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    تکیہ کلام
    تحریر مجتبیٰ حسین

    ’’تکیۂ کلام‘‘ سے یہاں ہماری مراد وہ تکیۂ کلام نہیں جو بات چیت کے دوران میں بار بار مداخلتِ جا و بے جا کرتا ہے، بلکہ یہاں تکیۂ کلام سے مراد وہ کلام ہے جو تکیوں پر زیورِ طبع سے آراستہ ہوتا ہے اور جس پر آپ اپنا سر رکھ کر سوجاتے ہیں، اور جو آپ کی نیندیں ’’حلال‘‘ کرتا ہے۔ پرسوں کی بات ہے کہ ہم نے ایک محفل میں غالب کا شعر پڑھا:
    نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیں
    تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں ہوگئیں

    اس شعر کو سُن کر ایک صاحب پہلے تو چونکے، پھر گہری سوچ میں غرق ہوگئے اور اپنا سر کھجاتے ہوئے بولے: ’’اگر میرا حافظہ خراب نہ ہوا ہو تو یہ شعر میں نے ضرور کہیں پڑھا ہے۔‘‘ ہم نے ان کی یادداشت کا امتحان لینے کے لیے پوچھا: ’’تب تو سوچ کر بتائیے کہ آپ نے یہ شعر کہاں پڑھا تھا؟‘‘ وہ کچھ دیر سوچ کر بولے: ’’بھئی! لو یاد آیا۔ یہ شعر ہم نے رحمان خان ٹھیکے دار کے تکیے کے غلاف پر پڑھا تھا۔ بھلا تمہیں یہ شعر کس طرح یاد آگیا؟ کیا تمہیں بھی اس تکیے پر سونے کا اتفاق ہوا تھا؟‘‘ ہم نے کہا: ’’آپ کیسی باتیں کرتے ہیں! یہ شعر تو دیوانِ غالب میں موجود ہے۔ رحمان خان ٹھیکے دار سے ہمارا کیا تعلق؟‘‘ اس پر وہ بولے: ’’بھئی! دیوانِ غالب سے ہمارا کیا تعلق! ہم تو شعر و شاعری صرف تکیوں پر پڑھ لیتے ہیں۔ جب شاعری آپ کو تکیوں کے غلافوں پر پڑھنے کو مل جاتی ہے تو اس کے لیے شعرا کے دواوین الٹنے پلٹنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ ان صاحب کے جواب کو سُن کر ہمیں پہلی بار احساس ہوا کہ جس زبان میں شعر و شاعری کی بہتات ہوتی ہے اس کا یہی حشر ہوتا ہے۔ شاعر کا ’’پیمانۂ صبر‘‘ جب لبریز ہوجاتا ہے تو اشعار چھلک کر تکیوں پر گرجاتے ہیں، چادروں پر بکھر جاتے ہیں، لاریوں کی پیشانیوں پر چپک جاتے ہیں، رکشائوں کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے ہیں، اور حد تو یہ ہے کہ دسترخوانوں تک کی زینت بن جاتے ہیں۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ ہم دسترخوان پر کھانا کھانے بیٹھے ہیں کہ اچانک دسترخوان پر چُنے ہوئے کسی شعر نے ہمیں چونکا دیا اور ہم کھانا کھانے کے بجائے سر دھنتے رہ گئے۔ بعض سخن فہم حضرات تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو دسترخوانوں پر فارسی میں اشعار لکھواتے ہیں، جیسے:
    شکر بجا آر کہ مہمانِ تو
    روزی خود می خورد از خوانِ تو

    نتیجہ ان فارسی اشعار کی اشاعت کا یہ ہوتا ہے کہ مہمان کھانا کم کھاتے ہیں اور شعر کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں، اور جب وہ معنی و مفہوم کے چکر سے آزاد ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ میزبان نے سارا کھانا خود ہی کھالیا ہے۔ دسترخوانوں کے اشعار کی بات چھوڑئیے، کیوں کہ اب ہم دسترخوانوں پر چُنی جانے والی اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹوں کے علاوہ اشعار کی ملاوٹ کے بھی عادی ہوگئے ہیں، لیکن یہاں بات تکیوں اور ان کے کلام کی چل رہی ہے۔ ہم نے ایسے معرکہ آرا شعر تکیوں پر دیکھے ہیں کہ اگر کوئی ان تکیوں پر سوجائے تو پھر زندگی ان تکیوں پر سے اُٹھنے کا نام نہ لے۔ ہمیں ایک بار سفر پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک شناسا کے ہاں مہمان ٹھیرے۔ چونکہ ہم حسب روایت بستر اپنے ساتھ نہیں لے گئے تھے، اس لیے میزبان نے ہمارے بستر کا انتظام کیا۔ اب جو ہم بستر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ تکیے پر نہایت جلی حروف میں یہ شعر لکھا ہوا ہے:
    کسی کے حسن کا جادو بسا ہے تکیہ میں
    جہانِ عارض و گیسو بسا ہے تکیہ میں

    اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ہمارے حق میں یہ بستر بسترِ مرگ ثابت ہوا۔ رات بھر کروٹیں بدلتے رہے۔ اختر شماری تک کرتے رہے۔ ہر بار یہی سوچتے رہے کہ آخر تکیہ میں کس کے حسن کا جادو ہے! آخر وہ کون مہ جبین ہے جس کا جہانِ عارض و گیسو اس تکیے میں پنہاں ہے! بار بار تکیے کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس تکیے نے ہم میں وہ سارے آثار پیدا کردئیے جو آغازِِ عشق کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ وفورِِ عشق نے اتنا سر اٹھایا کہ ہم بار بار تکیے پر اپنا سر پٹختے رہے۔ بالآخر ہم نے فیصلہ کیا کہ صبح ہوگی تو ہم اس نازنین کو ضرور دیکھیں گے جس کے حسن کا جادو اس تکیے کے توسط سے ہمارے سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔ صبح ہوئی تو ہم نے چوری چھپے اس نازنین کو دیکھ ہی لیا۔ اس نازنین کے ڈیل ڈول اور وضع قطع کو دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ محترمہ کو یہ شعر تکیے پر نہیں، گائو تکیے پر لکھنا چاہیے تھا،کیوں کہ ان کے حسن کا سمبل صرف گائو تکیہ ہی ہوسکتا تھا۔ اس واقعے کے بعد تکیے کے اشعار پر سے نہ صرف ہمارا ایقان اُٹھ گیا بلکہ جب بھی کوئی منظوم تکیہ ہمارے سر کے نیچے آیا تو ہم نے چپکے سے اس کا غلاف اتار لیا کہ کون اپنی نیند حرام کرے۔ آپ نے تکیوں کے وہ اشعار ضرور پڑھے ہوں گے جن پر سوکر آپ نہایت ڈرائونے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں:
    کونین تک سمیٹ لیے ہیں غلاف میں
    ٹکڑے جگر کے ٹانک دئیے ہیں غلاف میں
    چمن در چمن ہے غلاف آئیے تو
    ذرا اس پر آرام فرمائیے تو

    غور فرمائیے کہ ان اشعار پر کیا آپ ’’تکیہ‘‘ کرسکتے ہیں؟ گویا تکیہ نہ ہوا، الٰہ دین کا چراغ ہوا کہ کونین تک اس میں سمٹ کر آگئے۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے ایک دوست کو اُدھورے خواب دیکھنے کی بیماری تھی۔ وہ تھوڑا سا خواب دیکھتے کہ بجلی فیل ہوجاتی اور وہ نیند سے چونک پڑتے۔ ایک دن ہم سے بولے: ’’بھئی! عجیب بات ہے کہ مجھے اَدھورے خواب نظر آتے ہیں۔ آخر پورے خواب کیوں نظر نہیں آتے؟ میں خوابوں کے ’’ٹریلر‘‘ دیکھتے دیکھتے عاجز آگیا ہوں۔‘‘ ہم نے ان کے بستر کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ تکیے پر ایسا شعر لکھا ہوا ہے جو ’’بحر‘‘ سے خارج ہے۔ اس پر ہم نے کہا: ’’بھئی! اس کا راز یہ ہے کہ تم ایسے تکیے پر سوتے ہو، جس پر بے بحر شعر لکھا ہوا ہے اور اس تکیے کی کرامت سے تمہارے خواب بھی بحر سے خارج ہوجاتے ہیں۔ اس شعر کو بدلو تو تمہارے خوابوں کی صحت بھی بہتر ہوجائے گی۔‘‘ یہ تو ایک معمولی سا واقعہ ہے۔ ہمارے ایک اور دوست کا قصہ ہے کہ انہیں عرصے سے بلڈپریشر کی شکایت تھی۔ جب وہ بستر پر سوجاتے تو اُن کا بلڈپریشر آسمان سے باتیں کرنے لگتا۔ جب ایلوپیتھی علاج سے فائدہ نہ ہوا تو ایک حکیم صاحب کی خدمات حاصل کیں۔ حکیم صاحب نے ان کا بغور معائنہ کیا۔ زبان اتنی بار باہر نکلوائی کہ وہ ہانپنے لگے، مگر اسی اثنا میں حکیم صاحب کی نظر تکیے پر پڑی اور وہ تکیے کی جانب لپکے، شعر کو غور سے پڑھا اور تنک کر بولے: ’’اس تکیے کو ابھی یہاں سے ہٹائیے۔ بلڈ پریشر کی اصل جڑ تو یہ تکیہ ہے۔ واہ صاحب واہ! کمال کردیا آپ نے۔ آپ کو بلڈپریشر کی شکایت ہے اور آپ نے شاعرِ انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کا شعر تکیے پر طبع کروا رکھا ہے! جانتے ہو جوش کی شاعری میں کتنا جوش ہوتا ہے! جوش کے شعر پر آپ سوجائیں گے تو دورانِ خون نہیں بڑھے گا تو اور کیا ہوگا؟ اس تکیے کو اسی وقت یہاں سے ہٹائیے۔ خبردار جو آئندہ سے آپ نے جوش کے تکیے پر سر رکھا۔ اگر شعروں پر سونا ایسا ہی ضروری ہے تو داغؔ کے غلاف پر سوجائیے، جگرؔ کے غلاف کو اپنے سر کے نیچے رکھیے۔ ان شعرا کا کلام آپ کے بلڈپریشر کو کم کردے گا۔ آپ کو فرحت ملے گی۔ بھوک زیادہ لگے گی۔ آپ کے جسم میں خون کی مقدار میں اضافہ ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔‘‘ حکیم صاحب کے اس مشورے کے بعد ہمارے دوست نے نہ صرف ’’جوش کا غلاف‘‘ بدل دیا بلکہ اب وہ جوش کے کلام کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے ہیں کہ کہیں پھر بلڈپریشر کا عارضہ لاحق نہ ہوجائے۔ لیکن تکیوں کے کلام کی ایک افادیت یہ بھی تھی جس کا راز صرف اہلِ دل ہی جانتے ہیں۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں کہ ایک اہلِ دل کی شاعری صرف تکیوں کے اشعار کے باعث ہوئی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ یہ صاحب کہیں مہمان گئے ہوئے تھے۔ رات میں میزبان کے گھر میں سے ان کے لیے جب بستر آیا تو اس میں ایک تکیہ بھی تھا، جس پر یہ شعر لکھا تھا:
    شمیمِ طرۂ گیسوئے یار لایا ہوں
    میں اپنے ساتھ چمن کی بہار لایا ہوں

    آدمی چوں کہ ہوشیار تھے، اس لیے اُس غلاف کے شعر کا مطلب سمجھ گئے۔ دوسرے دن بازار گئے اور ایک ریڈی میڈ غلاف خرید لائے جس پر یہ شعر لکھا ہوا تھا:
    اُٹھا تو سر پٹک دیا تکیہ پہ بار بار
    شب بھر گواہ، یہ بھی مرے دردِ دل کا تھا

    انہوں نے چپکے سے تکیے کا پُرانا غلاف اتارا اور نیا غلاف اس پر چڑھا دیا۔ اب یہ تکیہ ان کا پیام لے کر اندر واپس ہوا۔ نہ جانے اس شعر نے کیا قیامت مچائی، شام کو جب تکیہ واپس ہوا تو اس پر ایک نیا شعر لکھا ہوا تھا:
    مرا جذبِ دل میرے کام آرہا ہے
    اب اُن کی طرف سے پیام آرہا ہے

    دوسرے دن اُن صاحب نے یہ غلاف بھی اتارلیا اور پھر ایک طبع زاد غلاف چڑھا دیا:
    رات بھر دیدۂ نم ناک میں لہراتے رہے
    سانس کی طرح سے آپ آتے رہے جاتے رہے

    غرض اس تکیہ بردار عشق نے وہ جوش مارا کہ سلام و پیام کا سلسلہ بڑھتا رہا اور بالآخر ان دونوں کی شادی ہوگئی۔ چنانچہ اب یہ دونوں ایک ہی شعر پر تکیہ کررہے ہیں، لیکن اب ان کے تکیوں کے اشعار کی ماہیت تبدیل ہوگئی ہے۔ چنانچہ ہم نے پرسوں ان کی خواب گاہ میں جو تکیہ دیکھا تھا، اس پر یہ شعر درج تھا:
    اُس سیہ بخت کی راتیں بھی کوئی راتیں ہیں
    خوابِ راحت بھی جسے خوابِ پریشاں ہوجائے

    یہ تو خیر عام آدمیوں کے تکیوں کی بات تھی۔ اگر آپ دانش وروں کے تکیوں کو دیکھیں گے تو یقینا دنگ رہ جائیں گے۔ اُن کے تکیوں پر ایسے صوفیانہ اور فلسفیانہ اشعار لکھے جاتے ہیں کہ اچھا خاصا آدمی بھی فلسفی بننے کی کوشش کر بیٹھتا ہے۔ مثلاً ایک انٹیلکچول نے اپنے تکیے پر یہ شعر لکھ رکھا تھا:
    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    سچ پوچھیے تو اس تکیے پر کوئی عام آدمی سو ہی نہیں سکتا۔ ایسے فلسفیانہ شعر پر تو صرف ایک دانش مند ہی سوسکتا ہے اور اسی کو ایسے فلسفیانہ تکیے زیب دیتے ہیں۔ آئیے، اب ذرا شعرا کے تکیوں کی بات ہوجائے جن کے لیے شاعری اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے، یعنی ان کے تکیوں پر شعر ہوتے ہیں۔ حد ہوگئی کہ ہم نے ایک شاعر کی مچھردانی پر بھی شعروں کا جنگل اُگا ہوا دیکھا۔ ہم نے ایک شاعر کے گھر میں ایک منظوم تکیہ دیکھا جس پر یہ شعر درج تھا:
    یار سوتا ہے بصد ناز، بصد رعنائی
    محوِ نظارہ ہوں، بیدار کروں یا نہ کروں

    ہم نے اس شعر کو پڑھ کر کہا: ’’بھئی واہ کیا خوب شعر کہا ہے، کس کا شعر ہے؟‘‘ ہمارے سوال کو سُن کر اُن کا چہرہ تمتما اٹھا اور بولے: ’’معاف کیجیے، میں کسی دوسرے کے کلام پر تکیہ نہیں کرتا۔ یہ شعر میرا ذاتی ہے، اور یہ بات میری خود داری کے خلاف ہے کہ میں دوسروں کے اشعار پر سوجائوں۔ آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں! بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ کوئی شاعر اپنے تکیے پر میرؔ کے تکیے کا شعر لکھ مارے:
    سرہانے میر کے آہستہ بولو
    ابھی ٹک روتے روتے سوگیا ہے

    ہم نے ان کا غصہ تاڑ کر معانی مانگ لی اور چپ ہورہے۔ بعد میں ان کے گھر کی اشیا پر جو نظر ڈالی تو ہر شے شعر میں لت پت نظر آئی۔ پھر بہت دنوں بعد پتا چلا کہ شاعر موصوف کی جو غزلیں مختلف رسالوں سے ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ قرار پاکر واپس آتی ہیں، انہیں وہ اپنے گھر کی چادروں پر چھپوا دیتے ہیں، تکیوں کے غلافوں پر چڑھادیتے ہیں اور میز پوشوں پر زیورِ طبع سے آراستہ کرتے ہیں۔ ہم تکیوں کے ذریعے سے ادب کی ترقی کے ضرور قائل ہیں، لیکن ہمیں یہ بات پسند نہیں کہ ناقابلِ اشاعت اشعار بھی تکیوں پر چھاپے جائیں۔ پھر جب ہماری شاعری میں نئے رجحانات آرہے ہوں تو تکیوں میں بھی نئے رجحانات کا آنا نہایت ضروری ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کوئی سخن فہم اپنے تکیے پر آزاد نظم لکھوائے۔ اگر تکیہ اس نظم کو قبول کرنے میں تنگ دامنی کا شکوہ کرے تو اس نظم کو دو تین تکیوں پر شائع کیا جائے۔ مثلاً نظم کا ایک بند تو ایک تکیے پر ہو اور اس کے نیچے یہ عبارت درج ہو: ’’براہِ کرم تکیہ الٹیے۔‘‘ اور تکیہ الٹنے پر بھی کام نہ چلے تو نیچے یہ عبارت لکھی جائے: ’’باقی نظم ملاحظہ ہوگائو تکیہ نمبر (1) پر۔‘‘ اور گائو تکیہ بھی اس طوالت کو برداشت نہ کرسکے تو اس کے نیچے لکھا جائے ’’باقی نظم شطرنجی کلاں پر ملاحظہ ہو۔‘‘ اور جب یہ نظم ختم ہوجائے تو اس کے نیچے ’’غیر مطبوعہ‘‘ کے الفاظ کا بھی اضافہ کردیا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ ’’منظوم تکیوں‘‘ کے شائقین اپنے تکیوں کو شاعری کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کی سعی فرمائیں گے۔ سب سے آخر میں ہم اس مضمون کے لیے ان خاتون کے تہ دل سے ممنون ہیں جن سے ہم نے تکیوں کے چند اشعار مانگے تو انہوں نے اپنے نوکر کو ہمارے گھر بھیجا۔ اس نوکر نے آتے ہی ہم سے کہا: ’’صاحب اپنے نوکر کو باہر بھیجیے، تاکہ وہ تکیے کے اشعار رکشے سے اتار سکے۔‘‘ ہم نے حیرت سے پوچھا: ’’تمہاری بیگم صاحبہ نے آخر اتنے اشعار کیوں بھیجے کہ انہیں رکشے میں ڈال کر ہمارے یہاں لانا پڑا؟‘‘ وہ بولا: ’’صاحب، آپ نے بیگم صاحبہ سے تکیے کے اشعار مانگے تھے، اور انہوں نے اپنے گھر کے سارے تکیے آپ کے پاس بھجوا دئیے ہیں۔ آپ ان تکیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد انہیں واپس بھیج دیجیے گا۔‘‘ ہم اس دھوبی کے بھی شکرگزار ہیں جو گھاٹ پر کپڑے دھورہا تھا۔ ہم نے اس دھوبی کو دیکھا کہ وہ ایک کپڑا پانی میں سے نکالتا ہے، اسے کھولتا ہے، پھر اپنی عینک آنکھوں پر لگاتا ہے۔ کپڑے پر کوئی عبارت پڑھتا ہے اور پھر اس کپڑے کو پتھر پر زور زور سے پٹخنے لگتا ہے۔ ہم نے اُس کی اس حرکت کا بغور مشاہدہ کیا تو پتا چلا کہ وہ بعض کپڑے تو زور سے پٹختا ہے اور بعض نہایت آہستگی سے۔ آخر یہ کیا راز ہے؟‘‘ اس نے بتایا: ’’صاحب! یہ دراصل تکیے کے غلاف ہیں، اور میں تکیے کے ہر غلاف کو دھونے سے پہلے اسے کھولتا ہوں اور اس پر لکھا ہوا شعر پڑھتا ہوں، یعنی ادبی اصطلاح میں ہوٹنگ کرتا ہوں اور اگر اتفاق سے کوئی شعر پسند آئے تو اسے نہایت سلیقے سے دھوتا ہوں کہ اچھا شعر ساری قوم کی امانت ہوتا ہے۔‘‘ ہم اُس ادب دوست دھوبی اور اس کے گدھے کے بھی، جو ان اشعار کا بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے پھرتا ہے، ممنون ہیں کہ اُس نے بعض اچھے اشعار ہمیں فراہم کیے جو اس مضمون میں شامل نہیں ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں