طالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں۔ ریڈ کراس کی رپورٹ میں انکشاف

Innocent Panther نے 'خبریں' میں ‏مارچ 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    طالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں۔ ریڈ کراس کی رپورٹ میں انکشاف
    ​

    امریکی ادارے ریڈ کراس کی ویب سائٹ نے غیر ملکی فوجیوں کے مقابلے میں طالبان کے شہدا کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی ہےمذکورہ ادارہ جو مزار شریف میں مُردوں کوجمع کرنے اور انہیں دفنانے کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے،نے اس بات پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ نہ تو طالبان کی لاشیں خراب ہوتی ہیں اور نہ ہی ان سے بدبو آتی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا کہ اُس وقت ماہرین نے اس کی وجہ موسم کے سرد ہونے کو بتایاتھا،مگر ان ماہرین کی رائے اس وقت غلط ثابت ہوئی جب اسی لڑای میں شمالیاتحاد کے مردوں کو دیکھا گیا جن کی لاشیں گل سڑ گئی تھی اور ان سے سخت قسم کی بد بوآرہی تھی،رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب ماہرین اس خوراک کےبارے میں تحقیق کررہے کہ جو طالبان کے فوجی کھاتے ہیں،ماہرین اس بات کی تحقیق بھی کررہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ خوراک اور خون کے مابین رشتہ ہے یانہیں،کیونکہ بعض طالبان کا خون موت کے بعد بھی گرم رہتا ہے۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہاس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ سرکاری فوج سے بھاگنے کی ایک بڑی وجہ طالبان کے شہدا کی کرامات کو دیکھناہے۔صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل میں فوج سے بھاگ جانے والے ایک گروپ کےایک فوجی اپنے بھاگنے کیوجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ آمنے سامنے اور دوبدو جنگ میں طالبان نے پسپائی اختیار کی ،درحالکے دونوںجانب سے لاشیں میدان میں رہ گئی تھیں،ہمیں حکم دیا گیا کہ صبح تک وہاں پرقیام کریں،لیکن بہت ہی کم وقت گزرنے کے بعد ہماری فوجیوں کی لاشوں سےایسی بو آنے لگی جس سے وہان ٹھہرنا انسان کے بس میں نہیں تھا،اور دوسر جانب طالبان کی لاشوں سے انتہائی خوبصورت سہ مہلک اُٹھ رہی تھی، تو یہی بات تھی کہ ہمارے ساتھیوں [افغان آرمی] نے اپنا کام شروع کیااپنی لاشیں چھوڑ کر طالبان کی لاشوں کے پاس کھڑے ہوگئے،ان بھگوڑے فوجیوں کا کہنا تھا کہ جب صبح ہوئی ہم چند ساتھیوں نے سب کچھ چھوڑ دیاباوجود ہے کہ تنخواہ ملنے میں ابھی دو تین روز باقی تھے اور ہم اپنےگھروں کی طرف بھاگ نکلے۔

    http://www.ahwaal.com
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    ريڈ كراس كى اصل رپورٹ كا ربط كسى كو ملے تو ضرور شئير كريں۔
     
  3. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]الفضل ما شہدت بہ الأعداء[/font]
    (جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے)​
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    [qh]لم تثبت شهادة الأعداء بعد. أخشى أنه خبر زائف.[/qh]
     
  5. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    امریکی اور برطانوی ریڈ کراس، دونوں کی ویب سائیٹ یا ان کے آرکائیو پر ایسی خبر یا مواد موجود نہیں۔ یہ خبر دراصل عربی اخبار المصریون نے چلائی تھی اور پھر پھیلتی گئی۔ اس خبر کو طالبان کے نشریاتی ادارے نے بھی المصریون کے حوالے سے ہی جاری کیا تھا۔

    مزید تحقیق یہ ہے کہ چند سینیئر دوست کہتے ہیں کہ انھیں یاد پڑتا ہے کہ یہ خبر امریکی ریڈ کراس کی سائٹ پر غالبا 2098 یا 2009 کے لگ بھگ آئی تھی۔ اور عین ممکن ہے کہ امریکی حکومت اور اسلام سے مخاصمت کی بنا پر یہ مواد ہٹا دیا گیا ہو۔ مزید ان شاءاللہ بعد میں۔

    روابط :


    المصریون

    طالبان رپورٹ

    اگر ممکن ہو تو کوئی بہن بھائی عربی کا ترجمہ فراہم کردے اور دیے گیے صفحے کی ورق گردانی سے مزید معلومات اخذ کرنے کی درخواست بھی کی جاتی ہے۔ شکریہ


    تصحیح نوٹ فرما لیں :

    2098 نہیں 2008 پڑھیں
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 21, 2012
  6. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,921
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  7. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    اس بات سے قطع نظر ، کہ شہدا اور ان کے اجساد سے متعلق مسلمان کیا عقیدہ رکھتے ہیں، گزشتہ برس کی المصریون کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر پایا گیا ہے کہ ، 'امریکی ریڈ کراس کی کمیٹی نے اپنی ویب سائٹ پر طالبان کی لاشوں کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق شہیدطالبان کی لاشیں خراب نہیں ہوتیں'۔ جب تک یہ اصل رپورٹ یا اس سے متعلق کوئی مستندرابطہ دستیاب نہیں ہوجاتا، تو المصریون کے رپورٹر ، 'علی عبدل آل ' اور اس کی رپورٹ جس میں طالبان کی لاشوں سے متعلق د جوعوٰی کیا گیا ہے کی ثقاہت کو معتبر گردانا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس رپورٹر کو قابلِ اعتبار تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

    اگر ہم اس رپورٹ پر یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ مسلمانوں کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے، تو ہمیں قرآن، مستند احادیث کو رجوع اور اپنے علماء کی آراء کو مدِ نظر رکھنا ہو گا۔ اس ضمن میں ایک حدیث تو معلوم ہے کہ انبیاء کے اجسام بعد الموت کسی بھی بوسیدگی سے محفوظ، صحیح و سالم رہیں گے۔ تاہم مجھے کسی ایسی حدیث کا علم نہیں جس میں کہا گیا ہو کہ شہدا کے اجسام بھی بوسیدگی سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ جوکسی بھی ایسے نظریے کی تائدس کرتی دکھائی دیتی ہوں کہ اس دنیا میں شہدا کے اجساد بوسیدگی سے مامون رہیں گے۔ البتہ اس کا تعلق، شہدا کی روح سے ضرور ہو سکتا ہے جس کے بارے میں بیان ہے کہ وہ جنت الفردوس میں سبز پرندوں میں اڑتی پھریں گی نہ کہ ان کے اصل اجسام۔

    یہ کہنے کے باوجود، ایسی روایات و شواہد، نہ صرف صحابہ کرام سے، بلکہ عصرِ موجود کے حوالے سے بھی ہم تک پہنچی ہیں، کہ ایسے انسانوں (مجاہدین) کے جسم جو جہاد میں مارے گئے، ترو تازہ اور بوسیدگی سے محفوظ پائے گئے ہیں۔ اور ان سے ایک پر اسرار، فرحت بخش خوشبو آتی ہے۔ تاہم میرے خیال میں حتمی طور سے یہ کہنا کہ ہر شہید ہونے والے کی لاش بوسیدگی سے مامون رہے گی، درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ اپنے وقتوں میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ طالبان، جو قلعہ جنگی ، افغانستان میں لڑتے ہوئے مارے گئے ، اور ان شاء اللہ وہ شہید ہی ہوں گے، عرصہ بعد ان کی لاشوں کی بوسیدہ ہڈیاں پائی گئی ہیں۔ اور ایسی ہی لا تعداد بوسیدہ شہدا کی ہڈیاں اور لاشوں کے ڈھانچوں کی تصاویر اور ویڈیو ، افغانستان میں شمالی اتحاد کے درندوں کے ہاتھوں بے دردی سے دشتِ لیلی کے صحرا میں ہلاک کیے جانے والے طالبان کی میں دیکھ چکا ہوں۔ دردناک مناظر پر مبنی یہ شواہد مجھے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق جنگی جرائم کے مطالعہ کے دوران دیکھنے کو ملے۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ میں سے بہت کے علم و مشاہدہ میں بھی مذکورہ تصاویر اور فلمی رپورٹیں ضرور آئی ہوں گی۔ اور میرے خیال میں شہدا کے بھی مختلف درجات ہوتے ہوں گے اور یہ اللہ رب العزت کی مشیّت پر منحصر ہے کہ کن شہدا کے اجساد کو حشرات الارض کا رزق بننے سے مامون و محفوظ رکھے۔ سبحان اللہ وللہ اکبر

    حالیہ سانحہ قندہار والے تھریڈ میں کسی بھائی نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ کیا مارے جانے والے لوگ شہید ہیں یا شہید کہلائے جا سکتے وغیرہ۔ تو اس موقع پر میں نے شہادت اور شہدا کے موضوع سے متعلق کچھ معالعہ کیا اور معلومات اخذ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اُس تھریڈ میں میں نے شہادت اور شہدا سے متعلق کچھ پوسٹ کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں تھریڈ کو موضوع سے ہٹانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن میں اس بھائی کا مشکور ہوں کہ اس حوالے سے کچھ نئی معلومات کا اضافہ میرے علم میں ہوا۔ شاید۔

    ایک روایت پیشِ خدمت ہے :
    عبادہ بن صامت رضی اللہ(نام کی املا پر مجھے اطمینان نہیں۔ غلط ہو سکتا ہے اور یہ انگریزی مواد سے پڑھا ہے۔ براہِ کرم تصحیح میں سبقت کی کوشش فرمائیں) سے روایت ہے، رسول اللہ محمد صلی اللہ و علیہ و صلعم نے فرمایا کہ ، شہید کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے سات تحائف عطا کیئے جاتے ہیں :

    اسے، اس کے پہلے قطرہ خون بہنے پر معاف کر دیا جاتا ہے؛
    وہ قبل از موت اپنا درجہ(مقام) جنت میں دیکھتا ہے (یا اسے نظر آتا ہے)؛
    اسے خلعتِ ایمان میں ملبوس کر دیا جاتا ہے؛
    اسے قبر کے عذاب سے بخش دیا جاتا ہے؛
    وہ روزِ قیامت کے عظیم خوف سے آزاد کر دیا جاتا ہے؛
    اس کے سر پر عزت کا تاج پہنایا جاتا ہے ؛
    اور؛ اسے اپنے خاندان کے ستر افراد کی سفارش کی اجازت دے دی جاتی ہے۔
    واللہ اعلم ۔

    میں قران و حدیث سے متعلق اپنے ضعفِ اردو پر شرمندہ ہوں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری حالتِ حاضرہ کے مسائل کا اصل حل قرآن و حدیث میں ہی ہے جس پر میں سنجیدگی سے توجہ دے رہا ہوں اور آپ سب کی دعاؤں کا طلبگار ہوں ۔


    ' والسلام علی من اتبع الہدی '​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    اس حوالے سے میں اپنا تجربہ پیش کرنا چاہوں گا۔۔۔ تقریبا دو ڈھالی سال پرانی بات ہے۔۔۔ ایک جنازے کی تدفین کے سلسلے میں مکہ المکرمہ جانا ہوا میت کی نماز جنازہ حرم میں عصر کی نماز کے بعد ادا کی گئی پھر تدفین کے لئے مقبرہ المولٰی لے جایا گیا۔۔۔ دوران تدفین وہاں قبروں کی کھدائی پر مامور ایک شخص سے جو اردو جانتا تھا اُس سے پوچھا کے یہاں پر کبھی ایسا ہوا کے آپ نے کوئی قبر کھودی ہو اور اس میں جسم اُسی حالت میں موجود پایا جائے جیسا اُسے دفناتے وقت تھا۔۔۔ تو جواب میں اُس شخص نے کہا ایسی لاتعداد قبریں موجود ہیں مگر خوشبو وغیرہ کی بات اُس نے نہیں کی۔۔۔ اور ساتھ ہی اُس نے یہ بات بھی کہی کے ایک قبر میں اگر جسم صحیح حالت میں پایا جاتا ہے تو وہ اُس قبر کو سیل کردیتے ہیں یعنی دوبارہ نہیں کھودتے۔۔۔ اور ہر قبر کو دوسال بعد دوبارہ کھول کر دیکھا جاتا ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔

    اب یہ بات کہاں تک درست ہے اس بارے میں تو اس سلسلے میں بجوار بیت العتیق والے دوستوں سے ہی صحیح طور پر پتہ چل سکتا ہے۔۔۔اس بات میں کہاں تک صداقت موجود ہے۔۔۔
     
  9. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم!۔
    یہ ایک وڈیو ہے جس میں کسی قلندری بابا کو نو سال پہلے دفنایا گیا تھا اور نو سال بعد جب نکالا گیا تو اُن کا جسد خاکی اسی حالت میں موجود تھا۔۔۔ باقی کی کہانی خود دیکھیں۔۔۔ اور تبصرہ بھی کریں۔۔۔ یہاں
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 29, 2012
  10. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    وعلیکم السلام

    حرب بن شداد بھائی ویڈیو پیش کرنے کا شکریہ۔

    بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ممکن ہے کہ قلندری بابا اپنی حیات میں صالح العمل انسان ہوں اور اللہ کریم نے ان کے اعمال کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے ان پر اپنا رحم فرما دیا ہو۔ واللہ اعلم

    تاہم یہ بات افسوسناک ہے کہ ان کی قبر کو منتقل کرنے کے بعد پختہ کر دیا گیا ہے جو احکامِ نبوی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ میرا خاتمہ بالاسلام و الخیر ہو اور میری قبر احکامِ نبوت کے مطابق ہو۔ آمین:)
     
  11. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم!۔
    اس لنک کو یہاں پیش کرنے کا مقصد صرف یہ معلومات فراہم کرنی تھیں کے قبر میں جسم اصلی حالت میں پایا گیا ہے۔۔۔ اور بس رہی بات قبر کو پختہ کرنے یا نہ کرنے کی تو اس حوالے سے میں یہ ہی کہوں گا کے جب لوگوں کو اسلام وراثت میں ملتا ہے وہی اس کی تعلیمات سے زیادہ انحراف برتتے ہیں۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کے اس کا ذمہ دار ہم کس کو ٹھہرائیں۔۔۔ کیونکہ قرآن وحدیث تو وہی ہیں۔۔۔ اور جہاں تک بات ہے قبر کو پختہ کرنےکی تو اس بارے میں اہل علم حضرات ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔۔۔ کے آیا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔

    واللہ تعالٰی اعلم۔۔۔
    والسلام علیکم!۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں