اولاد کی تربیت

جاسم منیر نے 'مجلس اطفال' میں ‏اپریل 12, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    شیخ سعدی سے پوچھا گیا کہ اولاد کی تربیت کیسے کرنی چاہیے۔ انہوں نے فرمایا:

    1۔ جب بچے کی عمر دس سال یا اس سے زیادہ ہو جائے تو اس کو نامحرموں اور ایروں غیروں میں نہ بیٹھنے دو۔
    2۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا نام باقی رہے تو اولاد کواچھے اخلاق کی تعلیم دے
    3- اگر تجھے بچے سے محبت ہے تو اس سے زیادہ لاڈ پیار نہ کر۔
    4- بچے کو استاد کا ادب سکھاؤ اور اس کو استاد کی سختی سہنے کی عادت ڈالو،
    5۔ بچے کی تمام ضرورتیں خود پوری کرو اور اس کو ایسے عمدہ طریقے سے رکھو کہ وہ دوسروں کی طرف نہ دیکھے۔
    6۔ شروع شروع میں پڑھاتے وقت بچے کی شاباشی اور تعریف سے حوصلہ افزائی کرو۔ جب وہ اس طرف راغب ہو جائے تو اس کو اچھے برے کی تمیز سکھانے کی کوشش کرو اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کرو۔
    7- بچے کو دستکاری یعنی ہنر سکھاؤ۔ اگر وہ ہنرمند ہو گا تو برے دنوں‌ میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے ہنر سے کام لے سکے گا۔
    8- بچوں پر کڑی نگرانی رکھو تاکہ وہ بروں کی صحبت میں نہ بیٹھیں۔

    اقتباس از حکایات سعدی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا بھائی
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
     
  4. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    جزاک اللہ خیرا بھائ۔ جاسم منیر۔
    بھائ بنیادی بات یہ ہے کہ آج کے زمانے میں ضروری نہیں ہے کہ وہ برے دوستوں کی صحبت میں جا کر بیٹھے اسے گھر بیٹھے ہی اس طرح کے بہت سے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ خصوصا کمپیوٹے اور انٹرنیٹ کے ذریعے۔ یہ آپ کی اور میرے ذمہ داری ہے کہ بچے کی تمام مصروفیات پر نظر رکھیں۔ اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ بچے پر بہت زیادہ سختی نہ کی جاۓ۔ سختی کریں گے تو اس کے ذہن میں باغیانہ خیالات پرورش پائیں گے۔ حتی الامکان نرم رویہ اپنائیں۔ جو بات آپ پیار سے کریں گے وہ بچے پر زیاد اثر کرے گی۔
     
  6. مخلص1

    مخلص1 -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 25, 2010
    پیغامات:
    1,038
    اولاد پر والدین کی تربیت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔۔۔جیسے والدین کی تربیت ہوگی ایسے ہی اولاد کی طرز ذندگی ہوگی۔۔۔۔۔
     
  7. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. سائرہ ساجد

    سائرہ ساجد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 3, 2011
    پیغامات:
    691
    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالی ھم سب کو اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین -
     
  10. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  11. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد ہمیشہ خوش رہے ، کبھی کوئی تکلیف اپنے بچوں کو نہ پہنچے، اور یہ فطری بات ہے۔ کیوں کہ بچپن سے اپنی اولاد کو اپنے سائے تلے پال پوس کر بڑا کیا ہوتا ہے، بلا ناغہ کھانا کھلاتے ہیں، پاک رکھتے ہیں ، اچھی تعلیم دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں، کبھی صحت خراب ہوجائے تو اپنی اولاد کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ یہ فطری محبت اپنے ہر بچے کے لیے والدین کے دل میں ہوتی ہے دنیا میں سب سے گہرا رشتہ اپنی اولاد ہی سے تو ہوتا ہے۔
    لیکن بیشتر والدین اپنے بچوں سے اتنے گہرے تعلقات کے باوجود ان کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دیتے، حالانکہ جب بچے اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو ان کو سب سے پہلے ان کے اخلاق سے ہی جانا جاتا ہے، ان کے کردار میں تھوڑا سا بھی نقص والدین کے لیے بدنامی کا باعث سمجھا جاتا ہے پھر بھی والدین اپنے بچوں کو صحیح تربیت دینے سے نہ جانے کیوں کتراتے ہیں۔
    ایک لڑکی جب سن بلوغت کو پہنچی ہے تو اس کے دل میں سیکڑوں ارمان ہوتے ہیں، لیکن اس عمر میں والدین اپنے بچوں پر نگاہ نہ رکھیں اور سمجھیں کہ ان کے ذاتی زندگی میں دخل دینا بے جا ہے یا لڑکی باشعور ہوگئی ہے اب اسے تربیت کی ضرورت نہیں تو یہ والدین کی بالکل باطل سوچ ہے، انہیں چاہیے کہ اپنی لڑکی کی روز مرہ کی مصروفیت کے متعلق پوچھتے رہیں، اسے کے ہنسی مذاق کو دلچسپی سے سنیں، اسے کوئی بات ہرٹ کرے تو اس کا ساتھ دیں، احساس رکھتے ہوئے احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ اس کے لیے فکرمند رہتے ہیں اور اس سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ جب والدین ان باتوں کی طرف توجہ دینا چھوڑدیتے ہیں تو لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ گھر والوں کو ان کی ذاتی زندگی سے کوئی غرض نہیں ہے اور وہ پیار نہیں کرتے اور گھر سے باہر محبت کو تلاش کرتی ہے، جو بھی لڑکا نظر آئے سمجھتی ہے کہ یہ اسے وہ محبت دے سکتا ہے جس کی وہ ہمیشہ سے خواہش رکھتی ہیں۔ ایسے لڑکے جن کی نیک پرورش نہیں ہوتی اور جو اپنے نفس کو مقدم رکھتے ہیں وہ ان لڑکیوں کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور محبت کے جال میں پھانس کر اس وقت تک تعلق رکھتے ہیں جب تک ان کا نفس مطمئن رہتا ہے ، بعد میں اتنے بے وفا ہوجاتے ہیں کہ لڑکیوں کو اپنے اوپر افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے محبت کے نام پر خود کو تکلیف کیوں دی۔ اس صدمے کے بعد کچھ لڑکیاں ایسی عجیب حرکتیں کرتی نظر آتی ہیں جسے دیکھ کر والدین افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے۔
    اس لیے ضروری ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے انہیں کم از کم بنیادی اسلامی معلومات کروائیں، ان کے سامنے فلمیں لگا کر دیکھنے کے بجائے قرآن مجید پڑھتے رہیں، سیرت کا مطالعہ کروائیں۔ صحیح غلط، اچھے برے، اپنے پرائے کی تمیز کرائیں۔ تاکہ اپنے اور اپنے بچوں کی زندگی میں کبھی کوئی رسوا کُن لمحہ نہ آئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں