ایک علمی حقیقت (صرف مرد حضرات کے لیے)

عبد الرحمن یحیی نے 'طنزیہ و مزاحیہ نثری تحریریں' میں ‏مئی 7, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    اتنا كافى نہيں كہ يہ انسان ہيں ؟؟؟
     
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    ویسے میں نے

    عورت کی عظمت کا ایک پہلو

    کے نام سے ایک تھریڈ لگا دیا ھے۔ گوشہ نسواں میں
     
  3. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,062
    السلام علیکم

    بھائی، آپکا مشورہ بہن نے سر آنکھوں‌پر رکھا ہوگا، لیکن انکا کنسرن اور بہت سوں کا کنسرن یہاں‌پر بہت سنجیدہ ہے، کہ مذاق چاہے کچھ ہو، یہ فیملی فورم ٹائپ کی کوئی چیز ہے، جہاں‌واقعی ایسی کوئی بات ہو، جہاں‌مذاقا ہی صحیح ، نصف کمیونیٹی پر اس انداز سے ہوا کوئی مذاق ہورہا ہو، واقعی وہ غلط بات تھی، بلکہ رفی بھائی نے صحیح کہا یہ بھدا مذاق ہے، عین بہن نے مزید صحیح کہا، یہ شئیرنگ نہیں‌ بلکہ ترغیب ہے، اور کسی معصوم نے تو اس معاملہ میں‌، اس مذاقیہ تھریڈ میں‌یہاں‌تک لکھ دیا کہ، "ایسے حربہ کامیاب" ثابت ہوتے ہیں۔۔مجھے بہرحال ایسی ۔۔۔ باتوں پر کچھ کہنا نہیں۔۔۔! لیکن پھر سے یہی کہونگا کہ ۔۔۔ایسے موضوعات کو بند کردینا چاہئے۔۔ورنہ مزید تکلیف دینے والی باتیں‌سامنے آسکتی ہیں۔

    جزاک اللہ خیرا۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 8, 2012
  4. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    مذاق پر مذاق کیا ہے میں نے آپا :00002:
    اگر یہ اتنا ہی نا مناسب تھریڈ ہے تو حذف یا بند کردیا جاتا ۔
    غلطی ہوگئی مذاق کرکے :00002:
    کافی لیکچر ہوگیا اتنا بھی غیر ذمے دار نہیں‌ ہوں‌ میں :00039:
     
  5. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    الحمداللہ
    کون اس سے انکاری ھے
     
  6. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,062
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    اوہ معذرت بھيا مجھے احساس نہيں ہوا كہ آپ نے مزاحا كہا ہے ، اسى ليے ميں حيران تھی كہ خادم بھيا كو كيا ہو گيا ، ميرے الفاظ سخت لگے ہوں تو بہت معذرت ۔
    آپ كو معلوم ہے ميں عام طور پر تھريڈ مقفل يا حذف كرنے كے حق ميں نہيں ہوں ۔
    اسى ليے ميرى تجويز ہے كہ ايك مجلس حضرات ہونى چاہیے جہاں آپ سب خواتين كى چغلياں آزادى سے كر سكيں اور كسى بيلن يا ليکچر كا ڈر نہ ہو : )
     
  9. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    ویسے اس تھریڈ میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مزید لکھنا شاید کسی نئی بحث کو جنم نہ دے دے۔ لیکن چلتے چلتےمیں بھی ایک آدھ وضاحت کر نا چاہتا ہوں۔

    پہلی وضاحت یہ کہ عورت اور بیوی کی بحث کو خلط ملط نہ کیا جائے ۔ مردوں اور عورتوں دونوں کو اللہ تعالیٰ نے برابر بنایا ہے ۔ اُن میں کوئی کسی سے بہتر یا کمتر نہیں ۔ لیکن جب یہ مرد اور عورت ایک رشتے یعنی نکاح کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو اب بحیثیت میاں اور بیوی اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سرپرستی اور ماتحتی کا فرق رکھا ہے ۔ بلکل اسی طرح جیسے کسی ادارے کا سربراہ اپنی ذمہ داریوں کے باعث زیادہ اختیارات رکھتا ہے۔ لہٰذا یہ فرق واضح ہونا چاہیے کہ مرد کو عورت پر نہیں بلکہ شوہر کو بیوی پر ایک منظم نظام کے تحت نگران بنایا گیا ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ہر منظم ادارے کاایک نگران ضرور ہوتا ہے۔

    دوسری وضاحت یہ کہ جب کسی شخص کو کو ئی اختیار دیا جا تا ہے یا کسی اہم منسب پر فائز کیا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں بھی اپنے ماتحت کے مقابلے زیادہ ہوتی ہیں ۔ اور ادارہ اس کا حساب بھی سخت لیتا ہے۔ شوہر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیوی پر جو برتری ملی ہے تو یقیناً ایک دن اُس کا کڑا حساب بھی ہونے والا ہے۔ خاص حالات میں بیوی پر اگر سختی کی اجازت ہے تو وہ صرف اس لیے کہ کہ دینِ اسلام کسی بھی طرح اس ادارے یعنی نکاح کے بندھن کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور اسلام کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جب یہ بندھن قائم ہو جائے تو کسی بھی طرح طلاق کی نوبت نہ آئے ۔ اسی لیے اسلام نے شوہر کو حدود میں رہتے ہوئے مختلف حربوں کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اور بحیثیت مسلمان ہمیں کسی بھی درجہ میں یہ حق نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی دیے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کریں ۔

    اور آخری بات یہ کہ ہمارے معاشرے میں دین ِ اسلام کی اِنھیں تعلیمات کے فقدان کے تحت دو انتہائیں پائی جاتی ہیں ۔ ایک انتہا پر ظالم اور وحشی شوہر ہے جو اپنی بیوی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیتا ہے اور دوسری انتہا پر بزدل اور احمق شوہر ہے جو اپنی بیوی سے مار کھاتا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 8, 2012
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,354
    محترم ابوعمر بھائی،
    آپ نے بہترین وضاحت پیش کی ہے ۔
    گوش گزار ہوں کہ آئندہ بھی اسی طرح ہماری اصلاح کرتے رہئیے گا ، جزاک اللہ خیراً ورزقک زوجۃ صالحۃ مطیعۃ
     
  11. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    How to beat your wife?


    يہاں مرد عورت كى برابرى كى بات نہيں ہوئى چہرے پر مارنے كى بات ہے ، چہرے پر باپ بھی اولاد كو نہيں مار سكتا ۔
    قرآن مجيد نے جس آيت ميں مارنے كى اجازت دى ہے وہ آخرى حد ہے " نشوز " كى اصلاح كى ، صرف نشوز كى صورت ميں تين باتوں كى اجازت ہے: [AR]الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ 1فَعِظُوهُنَّ 2وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ 3 وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا[/AR] (34) سورة النساء
    1- وعظ و نصحيت
    2- هجر
    3- الضرب ، تيسرے درجے يعنى آخرى حد پر مار كى اجازت ہے كس قسم كى مار ؟ تفسير سنيں

    اور فرمايا [AR]فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا[/AR] جب وہ مان ليں تو ستانے كے بہانے نہ ڈھونڈو !
    كوئى مرد آپ كو آيت كا يہ حصہ نہيں سنائے گا الا من رحم ربى سب كو آيت كا ابتدائى حصہ فر فر ياد ہو گا الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ يا پھر اضربوھن ياد ہے يہ ياد نہيں اس سے پہلے دو درجے ہيں وعظ اور ھجر پھر بارى آتى ہے ضرب كى اور وہ بھی نشوز پر ، كھانے ميں نمك مرچ كم زيادہ ہونے پر نہيں !

    مردوں کے لیے مرد مفسر کی زبانی​

    http://www.youtube.com/watch?v=TJNU2xx83nw

    جو اس سے آگے بڑھے ، ان شروط كو پورا نہ كرے وہ ظالم ہے ، وہ ظالم ہے ، وہ ظالم ہے ۔
     
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    بيويوں سے مار كھانے والے خوش نصيب كہاں پائے جاتے ہيں ؟ كبھی سنا ہے كسى بيوى نے شوہر كے ناك كان کاٹ دیئے ؟ بيوى نے شوہر كو دھکے دے كربچوں سميت گھر سے نكال ديا ؟ نشے كے پيسے نہ دينے پر نشئی بيوى نے شوہر كو مار مار كر سارى تنخواہ چھين لى ؟
    مجھے تو يہ كافى مزاحيہ لگ رہا ہے۔
    بھائى ہم ڈرون حملوں پر بات كرتے ہيں تو بڑے اعداد وشمار اكٹھے كرتے ہيں پھر حقائق كى بنياد پر بات كرتے ہيں ليكن جينڈر ايشوز ميں اتنا تعصب كيوں؟ ہم سب تشدد كا شكار شوہروں اور بيويوں كے حقيقى تناسب سے باخبر ہيں پھر بھی ايسى باتيں كر رہے ہيں ؟ مجھے حيرت ہے ۔
    اس سے پہلے كہ حضرات مجھے فيمينسٹ قرار دے ديں مجھے خود اعتراف كر لينا چاہیے كہ پبلك فورم كا اسلام ايسا ہی ہو گا ، ليكن اگر يہ آپ سب كا اسلام ہے تو ميں كافر ہوں ۔ والحمدللہ ۔

     
  13. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    میرا خیال ھے یہ سلسلہ رکنے والا نھی ھے۔
    جینڈر اشو زیادہ مسلہ نھی ھے یہاں پر۔ عورت کا عورت کی دشمن ھونا زیادہ مسلہ ھے۔
    کبھی ساس کی شکل میں، تو کبھی بہھو کی شکل میں۔ ۔اک عورت مرد کو اتنا زچ کر دہتی ھے کہ مرد ایسے زالمانہ فعل پر مجبور ھو جاتا ھے۔ جو کہ بالکل صحیح نھی ھے۔ اس حقیقت کو بھی آپ کو ماننا پڑے گا۔
     
  14. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,940
    الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
     
  15. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    شیخ محترم اگر اردو ترجمہ بھی فرما دیں تو مجھ نا چیز کی سمجھ میں کچھ آ جائے۔
     
  16. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    میں نے بِلا تعصب ایک اصولی بات کی تھی اور اس بات کی وضاحت ضروری سمجھی تھی کہ میاں بیوی کے تعلقات کو جینڈر اِشو سے الگ رکھا جائے ۔ اسی لیے میں نے بالخصوص پاکستان نہیں بلکہ بالعموم دنیا کے چاروں کونوں میں بسنے والے مسلمانوں کے معاشرتی حالات کی بات کی تھی ۔

    پاکستان میں بدقسمتی سے عمومی طور پر طاقتور اور بااختیار شخص ، کمزور اور لاچار شخص پر ظلم کر رہا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ظلم کا شکار زیادہ تر گھریلو خواتین ہوتی ہیں ۔ اس ظلم کے نظام میں ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اپنے ماتحتوں پر ظلم کر رہا ہے۔ حکمران عوام پر ظلم کررہے ہیں ، جاگیدار کسانوں پر، پولیس غریب آدمی پر، اور غریب آدمی اپنی بیوی پر۔ جس کا بس جس پر چل جائے ۔ میں یہ پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اللہ کے دیے ہوئے ان اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک وجہ قرآنی احکامات اور سیرت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہے۔ وہ احکامات اور حدود کیاہیں ؟ کچھ اشارہ اوپر والی پوسٹ میں کیا گیا ہے لیکن ان کی تفصیل کے لیے ایک علیحدہ تھریڈ ضروری ہے۔

    جتنا پھُسپھسا راقم ِتھریڈ کا لطیفہ تھا جو اُن کے لیے عتاب کا باعث بنا ، میرے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بھدا اور پھسپھسا بیلن اور فرائنگ پین والا لطیفہ تھا۔ کسی عورت کے کسی مرد کو مارنے میں شاید کوئی عیب نہ ہو ، جیسے ہم سب نے اپنی اپنی امیوں سے مار کھائی ہو ئی ہے ، لیکن لطیفتاً ہی سہی کسی بیوی کا اس کے شوہر کا بیلن اور فرائینگ پین سے سر کھولنا مناسب بات نہیں۔

    باقی یہ بات کہ شوہروں کا اپنی بیویوں کے ظلم کا شکار ہونا کو ئی مزاحیہ بات ہے تو میں اس سے متفق نہیں ۔ یہ بلکل سہی ہے کہ اس طرح کے واقعات دیکھنے اور سننے کو کم ملتے ہیں لیکن ان کی بھی ایک حقیقت ہے۔ جس طرح جب ایک ظالم شوہر اپنی طاقت اور اختیارات کا غلط استعمال کر تے ہوئے بیوی کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ اختیارات کچھ عرصے بعد اس کی بیوی کے پاس چلے جاتے ہیں اور وہ پھر جوان بیٹوں کے ساتھ مل کر ایک ایک بدلا چکاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر کسی پوسٹ میں اس کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہاں تو چلیں حساب برابر ہوا۔ لیکن میں ذاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو واقعتا ً اپنی بیوی کے ظلم کا شکار ہوئے ہیں ۔ میرے ، میرے دوستوں یا میرے دور قریب کے کسی جاننے والے کے خاندان میں بھی میں نے کبھی یہ نہیں سنا اور نہ دیکھا کہ کسی شوہر نے دھکے دے کر بیوی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا ہو ، یا نشہ کی وجہ سے اس کے زیور بیچ دیے ہوں ۔ ایک دفعہ معلوم ہوا تھا کہ ہماری ماصی کو اس کا شوہر بلاوجہ مارتا ہے اور اس پر ناجائز تشدد کرتا ہے تو ہمارے بھائی سب مل کر گئے تھے اور اسے اچھا سبق سکھایا۔

    لیکن اس کےبرعکس میں نے اپنے جاننے والوں میں یہ ضرور دیکھا اور سنا ہے کہ ایک انتہائی شریف آدمی کے ساتھ اس کی بیوی نے اتنا برا سلوک کیا جو میں یہاں بیان نہیں کر سکتا ، اس کو اتنی بری بری گالیاں اور پر نامردی کے ایسے ایسے الزامات لگائے کہ اس بیچارہ کو بیوی کے نام سے نفرت ہو گئی ، اور بالآخر اس عورت نے شادی کے ایک مہینے بعد خلع لے کر چھوڑی ۔ اور جب میں نے ان خاتون تک شوہر کی عظمت کے مطالق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پہنچائیں تو انھوں نے کہا یہ سب نعوذباللہ جھوٹ ہے۔ لیکن اللہ کا کرم ہوا ہمارے اس ساتھی پر اور اس کی دوسری شادی ہوئی اور اب الحمدللہ وہ ایک بچے کا باپ ہے اور اپنی نیک سیرت بیوی کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کو ان کی بیگم گھنٹوں سزا کے طور پر باتھ روم میں بند رکھتی تھی۔ ایک اور واقعہ کہ میرے سامنے ایک دفعہ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو اتنی بری طرح ڈانٹا کہ وہ بیچارے منہ لٹکائے شرم سے پانی پانی ہوگئے ۔ اور حال ہی میں اپنے شوہرکو قتل کر کے اس کا قورمہ بنانے کی مثال بھی ہمارے سامنے آئی ۔ اور یہاں برطانیہ کی چند مثالیں تو ایسی ہیں جنھیں میں اس فورم پر بیان نہیں کر سکتا کہ کس طرح خواتین نے اپنے خاوندوں کو ذہنی اذیتیں پہنچائیں ۔ یہ رجحانات کم ہی سہی یا مزاحیہ ہی سہی لیکن ہمارے معاشرے کے تلخ حقائق ہیں ۔ اعتدال کا تقاضا یہی ہے کہ ہر غلط رجحان کی بلا خوف اور بلا تعصب حوصلہ شکنی کی جائے ۔
    اللہ تعالیٰ تعصب سے بالاتر ، حق بات کہنے کی توفیق دے آمین ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  17. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بھت اچھا تجزیہ ھے۔
    یہی تلخ حقائق بھی ھیں۔
    اسی لہے کہا تھا جوک کو جوک ھی رھنے دیں۔
    بہرحال اس بحث میں بھت کچھ سیکھنے کو بھی ملا ھے۔
     
  18. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,320
    بھائ جوک اور تضحیک میں فرق ہونا چاہیۓ۔ شائد یہ بات میں نے پہلے بھی کھیں اس مجلس میں تحریر کی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  19. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    :00001:
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  20. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    بھائی آپ کی بات بالکل بجا ھے۔ جوک اور تضحیک میں تھورا سا فرق ھے۔
    مگر فورم میں موجود لطائف سیکشن کا کیا کریں۔۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں