لوگ کیا کہیں گے؟ عوام الناس کودین فطرت سے پرے ہٹاتاایک خطرناک جملہ

اہل الحدیث نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مئی 15, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    لوگ کیا کہیں گے…؟
    عوام الناس کودین فطرت سے پرے ہٹاتاایک خطرناک جملہ
    اگرہم لوگوں کی بجائے اللہ کی فکر کریں تو فلاح پاجائیں

    از جنید الرحمن

    وہ آج بہت خوش تھا‘مگراچانک ہنستے ہنستے اس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار آجاتے اوروہ افسردہ ہوجاتا… اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک افسردگی تھی جو چھپانے سے چھپ نہیں رہی تھی…وہ خوش کیوں نہ ہوتا‘آج اس کی اکلوتی بہن نے پیا گھر سدھارناتھا…وہ اپنی اکلوتی بہن کے چہرے پہ پریشانی نہیں دیکھ سکتاتھا…وہ اپنے والدین کو بھی خوش رکھنا چاہتا تھا… پورے گھر میں گہماگہمی تھی… سب دوست‘رشتہ دار جمع تھے… اس کے چہرے پہ ایک توبہن سے بچھڑنے کاغم تھا… مگر ایک اور وجہ بھی تھی…مگروہ کیا تھی…؟؟؟
    سوچتے سوچتے وہ کچھ ماہ پہلے ایک منظرمیں کھوگیا۔ جب وہ اپنی والدہ سے ایک بات پرجھگڑ رہاتھا۔ اس کی والدہ کہہ رہی تھی کہ یہ میری اکلوتی بیٹی ہے‘میں اس کے لیے سب کچھ قربان کردوں گی۔اس کے لیے فلاں چیز بھی خریدنی ہے اور میں اپنی بیٹی کو اتنا زیادہ زیوربھی پہناؤں گی۔اسے جہیز میں اس کے گھر کا پورا سامان لے کر دوں گی۔
    مگرماں! جب لڑکے والوں نے کہہ دیاہے کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے …توپھر آپ کیوں اتنا بوجھ اٹھارہی ہیں۔ وہ کہنے لگا: اب آپ کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں مگرپھر بھی آپ یہ سارا بوجھ فضول میں اٹھارہی ہیں۔اس کی والدہ بولی: اس دفعہ تمہاری یونیورسٹی کی فیس سے یہ کام ہوگا۔ مگرماں! اس دفعہ میرایہ سال بہت اہم ہے۔ میں اس سال ہرحال میں اپنی ڈگری ختم کرنا چاہتا ہوں۔ مگراس کی والدہ ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی اور بولی تم ابھی معاشرے کی روایات کونہیں سمجھتے۔ ’’لوگ کیاکہیں گے ‘‘کہ اکلوتی بیٹی تھی اور شادی پہ ماں نے خالی ہاتھ رخصت کردیا۔ بیٹیاں کو ن سا مستقل گھروں میں رہتی ہیں۔لوگ کیاکہیں گے کہ بیٹی کوماں نے چند چیزیں بھی نہ دیں۔ وہ فیس جو اس نے محنت مشقت سے جمع کی تھی آج جہیزجیسی لعنت کی صورت میں اس کی آنکھوں کے سامنے ایک غیراسلامی کام میں صرف ہورہی تھی۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔مگرذہن میں ایک ہی فقرہ تھا…’’لوگ کیاکہیں گے…؟‘‘
    جی ہاں قارئین! لوگ کیاکہیں گے…یہ ایک ایسا جملہ جس کی بازگشت آپ کو اپنے آس پاس بھی سنائی دے گی اور ہر بندہ آپ کو یہ الفاظ کہتا ہوانظرآئے گا۔ایساجملہ جس کا ہمارے ہر فیصلے میں ضرورت سے زیادہ عمل دخل ہے اور جو ہم سے ایسے فیصلے کروا لیتاہے جو ہم نہیں کرناچاہتے۔ دراصل یہ محض ایک فقرہ نہیںبلکہ پوری ایک سوچ ہے جس نے ہمیں پوری طرح جکڑا ہوا ہے اور یہ ایسا جن ہے جو ہمیں ہر وقت ڈرائے رکھتاہے۔
    قارئین کرام!آپ کو چند ایسے لمحات بتاتے ہیں جہاں آپ کو یہ جملہ سننے کوملتاہے اورایسے واقعات آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو ہمیں ان باتوں کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔
    ایک دوست کسی دوسرے دوست کی دعوت میں مدعوتھا۔ وہاں اور بھی کافی لوگ موجودتھے۔کھانے کاوقت آیا تواس نے آرٹیفیشل چیزوں کا استعمال نہ کیا۔مثلاًچھری ‘کانٹا وغیرہ اور اسی طرح سارا کھاناکھایا۔ جب دعوت سے فارغ ہوئے توکچھ دیر بعد اسے دوسرے دوست نے کہا:یارتم توبالکل پینڈؤوں کی طرح کھا رہے تھے۔ لوگ کیاکہیں گے کہ یہ کانٹے وغیرہ کااستعمال نہیں کرسکتا ۔
    میرے ایک دوست کے کزن کی شادی عید کے 10دن بعد تھی۔ شادی سے دودن پہلے وہ پریشان تھا کہ یار ابھی تک نئے کپڑے نہیں سلوائے ‘میں ایک دم چونکا اور پوچھاکہ ابھی عید پہ تو آپ نے دوتین نئے سوٹ سلوائے ہیںوہ کدھرہیں۔ وہ بولا یار وہ تو ایک دفعہ سب دوستوں نے دیکھ لیے ہیں۔اگرنیاسوٹ نہ سلوایا تو وہ کیاکہیں گے کہ پرانے سوٹ پہن کر ہی آگیا۔
    اس معاملے میں خواتین کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ’’حساس‘‘ ہوتی ہیں۔اپنے میاں کی جیب بے شک اجازت نہ دے رہی ہومگر ہرشادی پہ مہنگے مہنگے تین چارسوٹ جن میں ایک مہندی والے دن کا‘ایک بارات کے لیے‘ ایک ولیمے کے لیے ہونا ضروری ہے۔خاوند لاکھ کہتاہے کہ ایک سوٹ ہی سلوالو۔مگر نہیں۔ خواتین کیاکہیں گی کہ ایک ہی سوٹ تینوں دن پہناہواہے۔ لوگ کیا کہیں گے کہ اس کاخاوند دو‘تین ’’سستے‘‘ جوڑے بھی نہیں بنوا سکتا۔ کبھی کبھار تو شادی آتی ہے۔
    بندہ لاکھوں روپے کامقروض ہوجاتاہے۔ مگرشادی پہ اپنی بیٹی کے ساتھ لوگوں کو جب تک پورا ایک ٹرک نہیں دکھاتا اس کو سکون نہیں ملتا’’لوگ کیاکہیں گے‘‘کاجن شادی سے پہلے والدین کے سامنے اپنے خوفناک چہرے کے ساتھ آجاتاہے اور ڈراتاہے جس کی وجہ سے دین سے دور‘ اسلامی تعلیمات سے دور‘ صحابیات وصحابہکی زندگی کے شب وروز سے لاعلم اس جن کے خو ف میں آکر وہ کچھ کرجاتاہے کہ اگلی بیٹی کی عمر بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ شادی کی عمر سے بھی گزرجاتی ہے… مگرپہلی بیٹی کی شادی کا قرض تواترے۔ پھراگلی بیٹی کی شادی بھی اسی دھوم دھام سے کرنی ہے نہیں تولوگ کیاکہیں گے کہ پہلی بیٹی کو اتنا جہیزدیاہے مگر دوسری کوبالکل نہیں۔گوکہ دوسری بیٹی کی شادی کے وقت بات سمجھ میں آچکی ہوتی ہے کہ اتنازیادہ خرچہ نہیں کرنا۔مگر یہ فقرہ انہیں سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا۔
    والدین فوت ہوچکے ہوں تو اس کے بھائی اپنی اوقات سے بڑھ کر شادی کے انتظامات کرتے ہیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ والدین نہیں ہیں‘توبھائیوں نے اپنی بہن کوکچھ نہیں دیا۔باپ ہوتا تو آج بیٹی کو کسی چیز میں کمی نہ آنے دیتا۔
    خوشیاں تواپنی جگہ لوگوں کے ذہن میں عجیب وغریب بات ہے ‘کسی کاوالد یاوالدہ فوت ہوگئی ہے۔وہ اب ان کے لیے چالیسواں اور برسی منائے گا جوکہ قرآ ن وسنت سے کسی طورپر بھی ثابت نہیں ہے اور خود اس کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہوگی۔ مگرچالیسواں اور برسی میں وہ بہترین کھانوں کاانتظام کرے گا۔ صرف اس ذہن سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ والد ساری عمر کھلاتا پلاتا رہا‘آج اس کی برسی ہے تو اس نے صرف دال ہی بنائی ہے۔ اس ڈر سے وہ ضرورت سے کہیں زیادہ خرچ کرتاہے اور لوگ ‘ رشتہ دار ‘عزیزواقارب آتے ہیںاورکھاپی کرفوری چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اُس کی اِس مشکل کو جووہ دووقت کی روٹی بمشکل کھاتاہے‘ آسان کرنے کے لیے پورا سال نہیں آئے۔ آج کھاپی کر‘ ڈکار مار کر چلے جاتے ہیں کہ اگلے سال برسی پہ ملاقات ہو گی… اور یہ بے چارہ مزیدقرض کے نیچے دب جاتاہے۔ پھر اس قرض کو اتارنے کے لیے گھرکی چیزیں بیچتاہے…یااس کی خبرکسی دن اخبار کی زینت بنی ہوتی ہے کہ آج ایک آدمی نے اپنے چاربچوں سمیت خودکشی کرلی جوبھوک کا ستایا ہواتھا…خودکشی کی وجہ یہی ڈراؤنا فقرہ تھاکہ ’’ لوگ کیاکہیں گے۔‘‘
    ہمارے ایک عزیز ہیں جوایک بڑی کمپنی میں جاب کرتے تھے ۔کمپنی ملکی حالات کی وجہ سے ڈاؤن ہوگئی اور وہ بھی نوکری سے فارغ ہوگئے۔ اب پہلے وہ جس ٹھاٹھ بھاٹھ سے رہتے تھے‘اب ان کے لیے مشکل ہوتاجارہاتھا۔ ان سے ایک دفعہ پوچھاکہ آپ کے پاس اتنااچھاتجربہ ہے آپ کیوں کہیں اورجاب نہیں کرلیتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ چھوٹی موٹی جابز تومل رہی ہیں مگر لوگ کیا کہیں گے کہ اتنی بڑی جاب کے بعدچھوٹی سی نوکری کررہاہے۔حتی کہ ان کی یہ صورتحال ہوگئی کہ وہ اپنے گھرکے اخراجات قرض لے کر چلانے لگے۔
    ایک دفعہ میں اپنے ایک بھائی جوبہت زیادہ دین دارتھا‘ قرآن وسنت پہ عمل کرنے والا‘پکانمازی تھا‘کی یونیورسٹی میں گیا‘ دیکھا اس کی پینٹ ٹخنوں سے نیچے جارہی تھی۔ میں نے فوراً اس کی وجہ پوچھی توکہنے لگا:بھائی جان یہاں کے سارے لوگ ماڈرن ہیں‘عجیب وغریب قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ سیلاب آگیا ہے جو شلوار اوپرکی ہوئی ہے۔ٹیچرز بے عزت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ مسئلہ نہیں تھا۔ بلکہ بات یہ تھی کہ’’ لوگ کیا کہیں گے ‘‘مولویوں کی طرح پینٹ کا ستیاناس کیاہواہے۔ اتنی خوبصورت پینٹ فولڈ کرکے عجیب سی لگتی ہے۔بعض لوگ تویونیورسٹیز میں اس لیے شلوار قمیض پہن کر نہیں جاتے کہ کلاس کے لڑکے اورلڑکیاں کیا کہیں گے کہ یونیورسٹی میں مولوی آگیاہے ‘اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں‘ہم آگے بحث کریں گے۔
    ایک بھائی کوہم نے داڑھی رکھنے کے حوالے سے بالکل مطمئن کردیا‘اسے احادیث اور دلائل دکھائے‘وہ مکمل تیارہوگیا کہ داڑھی رکھنی ہے۔ مگرصرف وہ اس لیے نہیں رکھ رہاتھاکہ خاندان والے کیاکہیں گے کہ ابھی چھوٹی سی عمرہے اور داڑھی رکھ لی ہے۔ کتنا پیارا چہرہ ہے‘ داڑھی کے ساتھ عمرمیں بڑابڑا لگتاہوں۔ یہ سوچ 18 سال والے نوجوان کی بھی ہے اور آپ کو اکثر50یا 60سال والے بزرگ بھی شیوکرتے ہوئے نظر آئیں گے۔جن کی ٹانگیں قبر میں ہوتی ہیں مگرشاید یہ جوانی والی سوچ اور لوگ کیاکہیں گے والا ڈراؤنا فقرہ انہیں اپنے چہرے پہ سنت نبوی سجانے نہیں دیتا۔
    ہماراایک بھائی جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سمجھ دی اور اس نے سوچا آج کے بعد اپنی کزنز کے سامنے نہیں جاؤں گا۔کچھ دن بعد اس کے خاندان میں شادی تھی ‘وہ شادی میں گیااور خواتین والی جگہ پرنہیں جارہاتھا۔ اس کی والدہ نے اس سے پوچھا تم کیوں نہیں آرہے‘ اس نے وجہ بتائی کہ میں غیرمحرموں کی وجہ سے نہیں آرہا تو اس کی والدہ نے ڈانٹا کہ خاندان والے کیاکہیں گے کہ اتنا سخت مولوی بن گیاکہ ان میں بیٹھ ہی نہیں رہا۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ شادیوں میں کزنز کاآپس میں اختلاط کتنانقصان دہ ہوتا ہے۔کتنے واقعات بھرے پڑے ہیں جن سے خاندانی نظام تباہی کے دھانے پہ پہنچ رہاہے۔ چونکہ شادیوں میں ہر کوئی میک اپ وغیرہ کرکے آتا ہے تو ایسی حالت میں مزید اجتناب کرنا چاہئے کہ اختلاط نہ ہو۔ مگر لوگ کیا کہیں گے کہ سالوں بعد شادی آتی ہے ‘آپس میں ملتے ہیں اور اسے اس وقت ساری مولویوں والی حدیثیں یاد آگئی ہیں۔
    ہمارے کئی ساتھی دینی باتوں کاعلم رکھتے ہیں اوران کے سامنے جب برائی ہورہی ہوتی ہے تووہ اس وقت دعوت نہیں دیتے۔ حالانکہ حکمت عملی کے تقاضوں کومدنظررکھتے ہوئے وہ وہاں دعوت دے سکتے ہیں۔ مگر کیوں نہیں دیتے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اتنی مزیدار باتوں میں مولوی آگیاہے۔
    بیٹی جب پردے کی عمرمیں پہنچتی ہے اوراس کے لیے پردہ نہایت ضروری ہوجاتاہے تو صرف یہ بات ذہن کو تنگ کرتی ہے۔ ہائے ہائے لوگ کیاکہیں گے۔ اتنی چھوٹی عمرمیں پردہ !!بے چاری ابھی تو بڑی ہوئی ہے۔کچھ دیکھنے کے قابل ہوئی ہے۔ لوگ کہیں گے کتنے ظالم والدین ہیں‘کتنے ظالم بھائی ہیں‘ چھوٹی سی عمر میں اس کے جسم پہ اتنا’’وزن‘‘ ڈال دیاہے۔
    بیوٹی پارلرنہ گئی تولوگ کیاکہیں گے۔ غریب ہوگئے ہیں۔ مقابلے پہ جانا پھر سب میں بیٹھ کربتانا کہ کتنے مہنگے بیوٹی پارلرپرگئی تھی۔ایک طرف سستی چیز مل رہی ہے اوردوسری طرف وہی چیز شہر کی مشہور مارکیٹ میں پیکٹ میں بند مل رہی ہے ۔وہ چیز خریدنی ہے ‘ نہیں تولوگ کیاکہیں گے۔ اتنی سستی چیز خریدلی۔ بے چاروں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔
    یقین جانیے!ایسے والدین خود دیکھے ہیںجن کے اپنے بچے غلاظتوں میں لتھڑے ہوئے ہیں۔برائیوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔انہیں منع کرتے ہیں کہ مولویوں کے ساتھ‘ شلواریں ٹخنوں سے اوپررکھنے والوں کے ساتھ ‘داڑھی والوں کے ساتھ نہ پھرا کرو۔مجھے لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا بیٹا بھی لگتاہے مولوی بن رہاہے۔ اسے ان لوگوں سے بچاؤ اوریہ کہتے ہیں بیٹالوگ کیا کہیں گے کہ ہر وقت مولویوں کے ساتھ رہتاہے۔ ان کے ساتھ جو جینزکی پینٹ پہنے ہوئے ہوں گے ‘ان کے بال اس طرح کے ہوں گے جیسے پیدائش سے لے کر اب تک انہوں نے کبھی کنگھی نہیں کی۔بالوں میں سینگ بنے ہوئے ہوں گے۔ جنہیں جدید نام Spikes کا دیاجاتاہے۔ ایک بیگ جس میں ایک کتاب ہو کندھے پہ لٹکاہو۔Gangster والی شرٹ پہنی ہوئی ہو‘ پینٹ ایسی جگہ پرباندھی ہو کہ ہر وقت ڈرلگارہے کہ تھوڑا سا تیز چلا … یا جھٹکا لگ گیا تو…ایسے لوگوں کے ساتھ جب بیٹا نظر آئے تو والدین بہت خوش ہوتے ہیں کہ ان کابیٹا اب بہترین ہے۔
    قارئین کرام! ہمیں ایسے نوجوانوں سے نفرت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے بھائی ہیں۔ہمیں انہیں بھی دعوت دینی ہے۔ کلمے اور اسلام کی بنیاد پرہمارے دل میں ان کی ہدایت کے لیے بھی تڑپ ہے۔مگرہمیں ایسے کلچر سے نفرت ہے جوہمارے نوجوانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچارہاہے۔
    گاؤں اور دیہاتوں میں یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے جو بہت حیران کن ہے کہ جب کوئی فوت ہوجاتاہے توسارے علاقے کی خواتین اکٹھی ہوجاتی ہیں اور نوحہ کرتی ہیں۔ اس طرح رو رہی ہوتی ہیں جیسے ابھی انہیں بھی کچھ ہوجائے گا۔ یقین جانیے آنکھوں سے آنسوؤں کاایک قطرہ بھی نہیں نکل رہاہوتالیکن وہاں کا رواج ہے کہ اگر زور زور سے چیخیں نہ ماریں تولوگ کیاکہیں گے ‘اِسے افسوس ہی نہیں اور انہوں نے نوحہ نہیں کیا۔
    اپنے بہنوئی سے بہن پردہ نہیں کرے گی کیونکہ وہ بھی گھر کافردہے۔میں کیوں دیور اور جیٹھ سے پردہ کروں۔ لوگ کیا کہیں گے ‘مولون آگئی ہے۔ پورے خاندان میں اس لڑکی کی تذلیل کی جاتی ہے جوگھر میں پردے کاماحول پیدا کرناچاہتی ہے۔ بڑی آئی اسلامن۔اپنے گھرکی صورتحال کاپتہ نہیں ۔ادھر آئی اسلام نافذ کرنے اوربات شروع کہاں سے ہوئی کہ لوگ کیاکہیں گے۔اب ساری زندگی اسی گھرمیں ہی توگزارنی ہے۔اب بہنوئی اور باقیوں سے بندہ کتناپردہ کرے۔
    میراایک دوست جسے بہت اچھے دینی رشتے آرہے تھے مگر وہ مسلسل انکار کیے جارہا تھا۔ وجہ پوچھنے پراس نے بتایا کہ اب تک مجھے جتنے بھی رشتے آئے ہیں وہ برادری سے باہرکے تھے۔ جبکہ ہم برادری سے باہرشادی نہیں کرتے۔ ویسے میں اس رسم کو توڑناچاہتاہوں۔مجھے ان تمام باتوں کاعلم بھی ہے۔ مگرکیاکروں۔ والدصاحب سے جب اس موضوع پربات ہوتی ہے ‘انہیں سمجھاتا ہوں کہ اسلام میں برادری کاکوئی تصورنہیں۔ تووہ کہتے ہیں بیٹا دل تومیرابہت کڑھتاہے مگر خاندان والے کیاکہیںگے کہ برادری سے باہرچلے گئے ہیں۔
    نبی کا فرمان ہے کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے۔ لیکن!کتنے ہی تحائف ایسے ہیں جن کے تبادلے کے باوجود دل کاحسد اور بغض قائم رہتاہے حالانکہ تحفہ تودل کی محبت بڑھاتاہے مگر جب دکھاوے کے لیے اور لوگوں کی خاطر دیئے جاتے ہیں تومحبت کہاں رہے گی۔ مثلاً اس کی شادی میں اتنامہنگاتحفہ لے کر جانا چاہیے نہیں توہ کیاسوچیں گے کہ سستی سی چیزدے دی۔لوگ کتنا کتنا عرصہ کسی کے گھر اس لیے نہیں جاتے کہ اس کے گھر بچہ پیداہواتھا اورہم خالی ہاتھ جائیں گے ۔وہ کیاکہیں گے بچے کے ہاتھ میں کوئی چیز ہی نہیں دی۔
    قارئین !آئیے ان تمام باتوں کے محرکات کوجانتے ہیں۔ کون سے لوگ ہیں جن کی وجہ سے ہم بڑے بڑے کام کرجاتے ہیں جن کی اجازت اسلام نہیں دیتا۔وہ لوگ دراصل ہم خود ہیں۔
    ہمارے اذہان میں ایک انتہائی خوفناک چیز پیدا ہوجاتی ہے جو ہم سے یہ سارے کام کرواتی ہے اور نام ہم لوگوں کااستعمال کرتے ہیں اوروہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں نبینے ارشاد فرمایا:
    ’’مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ شرکِ اصغر کاہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیاہے توآپنے ارشادفرمایا:’’ریا‘ دکھلاوا۔‘‘(مسنداحمد)
    جی ہاں قارئین!یہ ہے دکھلاوا۔یہ جس میں آجاتا ہے اس کے ذہن میں یہ فقرہ گونجناشروع ہوجاتاہے کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ قرآن کریم میں ارشادہے۔
    ’’وہ لوگ اللہ کوناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ تووہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روزِ آخرت پر۔سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہو اسے بہت ہی بری رفاقت میسرآئی۔‘‘(سورۃ النسائ)
    یہ بات ہمیں اس مثال سے سمجھ میں آسکتی ہے ۔فرض کریں ایک شخص کاسردموسم میں آئس کریم کھانے کودل کررہا ہے وہ کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ حالانکہ اس شہر میں بہت حکیم‘ڈاکٹرہوں گے جوکہیں گے یہ اس موسم میں ٹھیک نہیں ہے اورباتیں بھی ضرورکریں گے۔ مگربات یہ ہے کہ آئسکریم پسنداس شخص کو ہے اوروہ خود سردموسم میں آئسکریم کھانے کو برا نہیں سمجھتا۔
    اس طرح توہمارے مذہب کوبہت سارے لوگ غلط سمجھتے ہیں۔ان کے خیال اور خوشی کاتقاضایہ ہے کہ ہم اپنامذہب چھوڑ دیں۔لوگ تویہ بھی کہتے ہیں یہ شراب نہیں پیتا ‘یہ سگریٹ نہیں پیتا یہ کیسے جیتاہے؟ یہ لڑکیوں کو دوست نہیں بناتا‘یہ بھی کوئی انسان ہے۔ یہ مسلمان ہے ‘دہشتگردوں والی قوم ہے۔پتہ نہیں کیاکیا لوگوں سے سنتے ہیں مگر ہم اپنااسلام چھوڑتے ہیں…؟؟؟
    کیاہم حق کے راستے پہ اپنے ضمیرکی بات مانتے ہیںیا اکثریت کی اور اکثریت کی کیوں مانتے ہیں‘ صرف دکھلاوا۔
    ہمیں ایک طرف ساری دنیاکہہ رہی ہوکہ تم نے ڈاکٹر بننا ہے مگرمیری صلاحیتوں کااندازہ مجھے ہے۔میں اگر انجینئرنگ کرنا چاہتاہوں تویہی کرتاہوں ‘کبھی یہ نہیں سوچاکہ لوگ کیاکہیں گے… کیونکہ یہ مجھے پسندہے۔
    نبینے فرمایا:تین آدمیوں سے اللہ سب سے پہلے جہنم کی آگ بھڑکائے گا ۔ایک ریاکارسخی‘ دوسرا ریا کار قاری اور تیسرا ریاکار مجاہد۔
    انتہائی احمق ہیں وہ لوگ جو اپنے حقیقی محسن اور قادرِ مطلق سے بے رخی برت کراپنے ہی جیسے بے بس‘ضعیف اور بے وفا انسانوں کی رضا جوئی کو اپنامقصد بنالیتے ہیں۔ اگر ساری دنیاکے لوگ ایک شخص کی تعریفیں کرنے لگ جائیں تو بہت جلد وہ وقت آئے گا جب نہ تووہ خود رہے گااورنہ ہی وہ لوگ ۔سب نے اپنی اپنی قبروں میں چلے جاناہے۔ لوگوں کی تعریف سننے کے لیے لوگ اپنی آنے والی ساری نسلوں کو تباہ کردیتے ہیں۔ یعنی اولاد کی ایسی تربیت کردیتے ہیں جس میں یہ بات سرفہرست ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    ہاں اس کاایک حل ہے۔ اگرہم واقعی لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرناچاہتے ہیں اوراللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں بھی اپنی مقبولیت بڑھاناچاہتے ہیں تواس کاایک حل ہے۔
    ایک صحابی اللہ کے نبی کے پاس آیااور پوچھاکہ میں کو ن سا ایساعمل کروں کہ مجھ سے لوگ بھی محبت کریں اور اللہ بھی۔ تونبی اکرم نے ارشادفرمایا :
    ازھد فی الدنیا۔
    ’’دنیاسے بے رغبتی اختیارکر‘‘اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کریں گے اور جوچیزیں لوگوں کے پاس ہیں‘ان سے بے رغبتی اختیار کر لوگ تجھ سے محبت کریں گے۔
    یقین جانئے!یہ اتنا پیارااور سادہ سااصول ہے جس پر صرف عمل کرنے کی دیرہے۔ معاشرے میں اس بندے کی حقیقی عزت بھی بنناشروع ہو جاتی ہے اور بندہ ازھد فی الدنیا کے پیش نظر ریاکاری اور دکھاوے سے بھی بچنا شروع ہوجاتاہے۔ آپ نے کافی دفعہ یہ سناہوگاکہ سادگی میں حسن ہے اور لوگ حسن کی طرف کھنچتے ہیں۔
    ان ساری باتوں سے جوچیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ قصہ لوگوں کانہیں ہے‘ہمارے اپنے ہی ذہن کاکوئی حصہ ہے جو دراصل ان کاموں کو براسمجھتاہے۔ ہاں جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اورجن لوگوں کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھناہے۔ہم ان کے احساسات و جذبات کاخیال بھی رکھیں لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس فقرے سے بچنے کے لیے ہم وہ کچھ کرجائیں جو نہ کرنا چاہتے ہوں۔
    اوریہ تب ممکن ہے جب ہم ’’لوگ کیاکہیں گے‘‘ نہیں بلکہ ’’اللہ کیا کہے گا‘‘ سوچیں گے اور اللہ رب العزت کاڈر ہماری اس فقرے سے جان چھڑوا دے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    جی ہاں۔ اخلاص ہی اساس اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ دے۔ آمین

    یہی چراغ جلیں گے تو (اسلامی) روشنی ہو گی۔

    ماشاء اللہ۔ بہت خوب
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاك اللہ خیرا۔
     
  4. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    بے شک
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بھائی:

    بہت ہی مفید مضمون شئیر کیا ہے۔، یقینا یہ ایک بہت ہی بڑا مسئلہ ہے البتہ پراکٹیکلی دیکھا جائے تب ماحول اسقدر خراب ہے کہ ذرا حکمت سے کام نہ لیں‌تب، اسلامی شعائر کو اپنے کی وجہ سے معاشرے سے کٹ کر رہنا پڑسکتا ہے، البتہ حکمت کے ساتھ چلیں تب دوسروں کی اصلاح بھی ممکن ہے اور اسلام پر جمے رہکر زندگی گذارنا بھی آسان ہوسکتا ہے۔۔۔جیسا کہ میرے ساتھ کل ہی ایک واقعہ ہے، اور ایسے کئی واقعات اسلامی مزاج رکھنے والوں‌کے ساتھ ہر دن پیش آتے ہونگے۔

    میرے پڑوس میں ایک صاحب کی دختر نیک اختر اپنی عمر کی پہلی منزل طئے کرنے میں ہے، مجھے انکا کال آگیا کہ بھائی اس تھرسڈے میری چھوٹی لڑکی کی برتھ ڈے پارٹی طئے ہے، اور آپ لوگوں‌نے اس میں ضرور آنا ہے، وتھ فیملی،۔۔۔! میں نے فوری طور پر تو کچھ نہیں‌کہا، صرف اتنا کہا کہ، شائد مجھے اس دن کہیں‌اور کمٹمنٹ ہے اور میں اپنی وائف سے چیک کرونگا، پھر نیک بخت سے جب بات ہوئی تب وہ بھی پریشان ہوگئی کہ پھر کیسا کرینگے؟؟؟ !!! وہ لوگ پہلے ہی جھٹ خفا ہیں، ہم نہں‌جائنگے تب کیا ہوگا، میں‌نے کہا کہ ہم تو اس چیز کو مکمل غیر اسلامی مانتے ہیں، اور پھر اس غیر اسلامی رسم میں شریک ہونگے تب ہم بھی اس میں برابر کے شریک ہونگے، اور صرف انکو یہ کہدینا کہ ہم تو ان معاملوں‌کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں (ایک بڑی لڑائی کھڑے کردینے کے مترادف ہے، ایک طرف تو وہ پڑوسی ہیں، دوسری طرف بڑے زبردست قسم کے گرین بیلٹ ہیں (بریلوی) اب ایسے میں یا تو ہمیشہ کی لڑائی، یا پھر ناراضی، یا پھر ۔۔۔۔! بہرحال فی الوقت تو ہم نے یہ طئے کیا کہ ان سے کہدیا ہم اس دن کسی اور جگہ پر انوائیٹیڈ ہیں (اور میں نے ایک دوست سے بات کرکے انکے پاس دعوت بھی پکی کرلی)۔۔۔۔!! ! بہرحال یہ ماحول ہے، ایسے میں ، صرف انکے عمل کو غیر اسلامی کہدینا بھی حکمت کے خلاف تھا، اور اس فنکشن میں شریک ہونا بھی غیر اسلامی تھا۔۔۔! سو۔۔۔۔۔
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاك اللہ خیرا۔
     
  7. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    بھائی ابو طلحہ میرا تو خیال ہے کہ آپ نے نیکی کی طرف دعوت کا ایک بہترین موقع گنوا دیا۔

    اگر ہم اس بات کو لیں کہ ہمارے بات کہنے سے وہ ناراض ہو جائے گا۔(یا اسے پتہ چل جائے گا کہ ہم وہابی ہیں:)) تو دعوت کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔
    وہ اسطرح کہ جب اس گرین بیلٹ بھائی نے آپ کو برتھ ڈے انوی ٹیشن دی تو آپ انہیں بہت اچھے انداز سے بتاتے کہ میرے میٹھے میٹھے بھائی ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی فضولیات سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوہ کو سچا ثابت کر نے کے لیے ضروری ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح الاسناد طریقوں سے پہنچی ہوئی ہر بات(صحیح حدیث) پہ سر تسلیم خم کر دیں۔ ایسی فضول رسموں (بدعات) سے خود بھی بچیں اور دوسرے احباب کو بھی اس سے منع فرمائیں۔

    اب اُس بھائی کی مرضی بات مان کر پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا ثبوت دے۔ یا پھر بدعت کے جواز میں تاویلیں گھڑے آپ کو وہابی کا خطاب دے۔ آپ کا شجرہ نجد(عراق) سے ملائے یا شیطان سے اور آپ کو گستاخ قرار دے وغیرہ وغیرہ:00010:

    اس کے بعد اگر وہ صاحب واقعی میں ناراض ہو جاتے ہیں تو آپ نے قطعاً ناراض نہیں ہونا بلکہ جہاں بھی ملیں سلام میں پہل کریں۔ ہو سکے تو ان کو اپنے گھر چھوٹی موٹی چائے وغیرہ کی دعوت دیں۔ اور کوئی نہ کوئی موقع ڈھونڈیں کہ دین کے بارے میں وہ آپ سے بات کریں۔ اور اُن کی جہالت کا پردہ گرنا شروع ہو۔

    آزمودہ نسخہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بالکل درست فرمایا بھائی آپ نے۔100 فی صد متفق ہوں‌میں۔
     
  9. نعمان الٰہی سلفی

    نعمان الٰہی سلفی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 29, 2011
    پیغامات:
    10
    السلام علیکم !

    بہت زبردست تحریر ہے بھائی ۔اس کو شاید اخبار طلباء سے لیا گیا ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں