وہ کون ہے جو بیوفائی نہیں‌کرتا؟

ساجد تاج نے 'ادبی مجلس' میں ‏جون 7, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    [​IMG]


    [​IMG]

    وہ کون ہے جو بیوفائی نہیں‌کرتا؟

    [​IMG]




    السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔




    انسان کے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ کون ہے جو اُس کو سب سے زیادہ پیار کرتا ہے یا یہ جاننا مشکل ہے کہ ایسا کون ہے جو اُس سے کبھی بیوفائی نہیں‌کرے گا؟

    انسان کے آگے جب یہ سوال رکھا جائے کہ بتائو تمہیں سب سے زیادہ پیار کون کرتا ہے یا وہ کون ہے جو تم سے کبھی بیوفائی نہیں کرے گا؟ تو انسان پہلے کسی سوچ میں گُم ہو جائے گا کچھ پل سوچنے کے بعد مختلف رشتوں کے نام لینا شروع کر دے گا۔ کوئی اپنے ماں باپ کا نام لے گا، کوئی اپنی بہن یا بھائی کا نام لے گا، کوئی مامو یا مامی ، کوئی خالو یا خالہ کا ، کوئی اپنے ہمسائے کا، کوئی اپنے دوست کا، کوئی کسی اجنبی کا یا پھر کوئی اپنے محبوب کا نام لے گا۔ لیکن انسان بھول جاتا ہے کہ یہ سب دنیاوی رشتے ہیں جو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی موڑ پر ساتھ چھوڑ ہی جاتے ہیں، دغا کر جاتے ہیں، وعدہ خلافی کر جاتےہیں ، بیوفائی کر جاتے ہیں یہ تمام رشتے جن کا نام انسان بہت اعتماد اور جذبات میں‌ آکر لیتا ہے اچھے حالات میں کچھ اور بُرے حالات میں کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔

    یہ سب جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کون ہے پھر جو آپ کو بغیر کسی لالچ کے پیار کرتا ہو اور کبھی بیوفائی نہ کرے بشرطیکہ کہ انسان بیوفائی نہ کرے۔ نہ دغا دے ، نہ دھوکہ دے ، نہ جھوٹ بولے ، نہ کبھی تنہا چھوڑے اور نہ کبھی وعدہ خلافی کرے۔ اس پوری کائنات میں‌ ایسا کوئی نہیں سوائے اللہ کے۔ ہاں اللہ ہی کی ذات ہے جو اپنے بندے سے بغیر کسی لالچ کے پیار کرتی ہے، اللہ ہی ایک ایسی ہستی ہے جو نہ دھوکہ دیتی ہے ، نہ دغا کرتی ہے ، نہ بیوفائی کرتی ہے ، نہ جھوت بولتی ہے اور نہ کبھی اپنے بندے کو مشکل وقت میں‌تنہا چھوڑتی ہے۔ انسان میں ہزاروں بُرائیوں ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے بندے کو لاکھوں نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے، اُس کو مصیبتوں سے دور رکھتا ہے اور اُس کی ہر خواہش کو پورا کرتا ہے کبھی سوچا ہے کہ وہ بدلے میں‌ہم سے کیا مانگتا ہے ؟


    گاڑی مانگتا ہے؟ “نہیں“

    پیسہ مانگتا ہے ؟ “نہیں“

    عیش و آرام مانگتا ہے ؟ “نہیں“

    گھر مانگتا ہے ؟ “نہیں‘

    کاروبار مانگتا ہے ؟ “نہیں“


    اس کا کیا مطلب ہو کہ وہ ایسی ہستی ہے جو بغیر لالچ کے اپنے بندے کو پیار کرتی ہے اور بدلے میں کچھ بھی نہیں‌مانگتی ہے۔ دنیاوی رشتوں کی قدر ہم کر نہیں‌پاتے تو اُس اللہ کی محبت کی قدر کیسے کریں گے۔ ایک انسان دوسرے انسان پر بھروسہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے کہ سامنے والے پر یقین کیا جائے کہ نہیں، وہ کہیں‌دھوکہ تو نہیں‌ دے گا، کہیں بیوفائی تو نہیں‌کرے گا، کہیں‌وعدہ خلافی تو نہیں کرے گا لیکن اللہ تعالی سے اگر محبت کی جائے تو اُس کو شاید سوچنے کی زحمت ہی نہ کرنی پڑے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا اپنے بندے سے جو رشتہ ہے اُس میں جھوٹ ، فریب ، دھوکہ ، خیانت ، بیوفائی اور وعدہ خلافی نہیں‌ ہے بشرطیکہ کہ انسان یہ سب کچھ نہ کرے تو۔

    ایک انسان دوسرے انسان کو دھوکہ دے سکتا ہے مگر اللہ تعالی کبھی دھوکہ نہیں‌دیتا
    ایک انسان دوسرے انسان سے وعدہ خلافی کر سکتا ہے مگر اللہ تعالی کبھی وعدہ خلافی نہیں‌کرتا
    ایک انسان دوسرے انسان سے جھوٹ بول سکتا ہے مگر اللہ تعالی کبھی جھوٹ نہیں‌بولتا۔

    بات سمجھنے کی ہے پر سمجھے کون؟

    تحریر : ساجد تاج​


    [​IMG]

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ماشاءاللہ ساجد بھائی !!!
    اللہ کرئے شعور ایماں اور بھی زیادہ ۔۔۔۔ آمین
    جھنجھوڑنے والی تحریریں ۔۔۔۔۔
    حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی یہ آیت [ar] وماقدرواللہ حق قدرہ[/ar]
    اس موضوع کی نسبت سے کتنا زیادہ ہم سے پُرشکوہ ہیں !!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    جزاک اللہ
     
  4. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    جزاک اللہ خیرا۔۔ بہت اچھی تحریر ہے!
     
  5. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,313
    میرے بھائی
    میرے دوست
    بہت پیاری تحریر ہے
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے
    اور
    ہم سب کو عمل کی توفیق دے
    اللھم آمین
     
  6. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    ماشاء اللہ۔
    جب میں نے تحریر پڑھنی شروع کی تو سوچ رہا تھا کہ
    جواب میں لکھوں گا ’’اللہ تعالیٰ‘‘

    لیکن

    جناب نے خود ہی یہ لکھ دیا ہے تو اب ’’اور‘‘ کیا لکھوں؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    پسند کرنے کا شکریہ جی
     
  8. فلاح کا راستہ

    فلاح کا راستہ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 22, 2011
    پیغامات:
    238
    جزاک اللہ خیرا۔۔ بہت اچھی تحریر ہے!
     
  9. shaikh babul

    shaikh babul -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    95
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  10. ام فارز

    ام فارز -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2011
    پیغامات:
    140
    بات سمجھنے کی ہے پر سمجھے کون؟؟
    اللہ ہم سبکو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
     
  11. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    رحمن و رحیم رب نےاب بھی ’’وفا‘‘ کی ہے کہ شاید ’’عوام و حکمران‘‘ اب بھی توبہ کر لیں۔ بے شک صرف اللہ تعالیٰ ہی وفادار ہے۔ ہم ہی اُس کے بے وفا ہیں۔
     
  12. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    بے شک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں